مشاہداتِ معراج کے چند توجہ طلب پہلو (2) - مفتی منیب الرحمن

(6)’’ پھر آپ ﷺ کا گزر ایک ایسی قوم پر ہوا کہ اُن کے سامنے ایک طرف ہنڈیا میں تروتازہ پاکیزہ بھنا ہوا گوشت اور دوسری طرف خبیث (بدبودار سڑا ہوا) گوشت تھا، وہ پاکیزہ گوشت کو چھوڑ کر اُس خبیث گوشت کو کھا رہے تھے، آپ ﷺ نے پوچھا: اے جبریل! یہ کون لوگ ہیں؟ انہوں نے کہا: یہ وہ لوگ ہیں جن کے پاس (رشتۂ نکاح سے) حلال پاکیزہ عورت ہوتی ہے اور وہ اپنی جنسی خواہش کو بدکار عورت سے پورا کرتے ہیں، اور صبح تک اس کے ساتھ سوئے رہتے ہیں‘‘۔ حدیثِ پاک میں ہے: ’’رسول اللہ ﷺ نے حضرت عمر سے فرمایا: میں تمھیں سب سے بہترین نعمت کے بارے میں نہ بتاؤں جسے کوئی انسان حاصل کرے، (وہ) نیک بیوی ہے کہ جب اُس کی طرف دیکھے تو وہ اُسے سرور عطا کرے اور جب اُسے (کسی جائز کام کا) حکم دے تو اُس کا کہا مانے اور جب وہ (شوہر) موجود نہ ہو تو اس کی (امانت کی) حفاظت کرے۔ (ابودائود:1664)‘‘۔ شوہر کی ایک امانت تو گھر کا مال ومتاع ہے، لیکن بیوی کے پاس شوہر کی سب سے گراں قدر امانت اُس کی عفت اور پاک دامنی ہے، سو پاک دامن عورت اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت ہے اور یہ نعمت کسی سپر اسٹور یاڈیپارٹمنٹل اسٹور سے دولت کے عوض خریدی نہیں جاسکتی، یہ صرف اللہ کی عطا سے نصیب ہوتی ہے۔

(7) سفرِ معراج کے دوران رسول اللہ ﷺ کا گزر ایک ایسی وادی سے ہوا، جہاں سے نہایت خوشگوار، ٹھنڈی اور خوشبودار ہوا آرہی تھی، جس میں مشک کی خوشبو تھی اور وہاں سے آواز آرہی تھی، آپ ﷺنے پوچھا: اے جبریل! یہ مشک کی خوشبو والی پاکیزہ ہوا اور یہ آواز کیسی ہے؟ جبریل امین نے کہا: یہ جنت کی آواز ہے ،جو پکار رہی ہے: اے پروردگار! اپنے وعدے کے مطابق مجھے میرے باسی عطا کر، کیونکہ میری خوشبو، میرا ریشم، میرا سُندُس (باریک ریشم)، میرا اِستَبرق (دبیز ریشم)، میرا عمدہ فرش، میرے موتی، میرے مرجان، میرا سونا اور چاندی، میرے جام، میرے پھل، میرا شہد، میرا دودھ بہت زیادہ ہوگیا ہے، پس اپنے وعدے کے مطابق مجھے میرے اہل عطا فرما، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ہر مسلم اور مسلمہ، ہر مؤمن اور مؤمنہ جو مجھ پر اور میرے رسولوں پر ایمان لائے اور نیک کام کیے، نہ میرے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا، نہ میرے مقابل کوئی معبود بنایا، جن کے دلوں میں میری خَشیت تھی، پس وہ مجھ سے جو سوال کریں گے، میں انہیں عطا کروں گا، وہ مجھے جوقرض دیں گے، میں اُن کو جزا دوں گا اور مجھ پر جو توکل کریں گے، میں اُن کے لیے کافی ہوں، میں اللہ ہوں اور میرے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں ہے، میں وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔ (آپ ﷺ نے سورۂ مؤمنون کی ابتدائی چودہ آیات یعنی قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ سے لے کر تَبَارَکَ اللّٰہُ اَحْسَنُ الْخَالِقِیْنَ تک تلاوت فرمائیں)، تو جنت نے عرض کیا: میں راضی ہوگئی۔

نوٹ: اللہ کو قرض دینے کے معنی ہیں: اللہ کی راہ میں خرچ کرنا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ’’اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو اور اللہ کو قرضِ حسن دو اور جو اعمالِ خیر تم آگے بھیجو گے، اُسے اللہ کے پاس بہتر اور عظیم ترین جزا (کی صورت میں) پاؤ گے۔ (المزمل:20)‘‘۔ نیز اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ’’کون ہے جو اللہ کو قرضِ حسن دے، تو اللہ اُس کو بڑھا کر اُس کے لیے کئی گنا کر دے گا۔ (البقرہ: 245)‘‘۔ صحیح مسلم: 2569 کا خلاصہ یہ ہے : ’’قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے حضور ایک شخص پیش ہوگا اور اللہ تعالیٰ اس سے سوال کرے گا: میں بیمار تھا تو نے میری عیادت نہ کی، میں نے تجھ سے کھانا مانگا تو نے مجھے نہ کھلایا، میں نے تجھ سے پانی مانگا، تو نے مجھے نہ پلایا، بندہ عرض کرے گا: اے اللہ! یہ سب تو بندوں کی حاجات ہیں، تیری ذات تو ان سے پاک ہے، تو رب العالمین ہے، میں کیسے یہ سب کچھ تجھے پیش کرتا، اللہ فرمائے گا: اگر تو ان حاجت مندوں کی حاجتیں پوری کرتا تو مجھے ان کے پاس ہی پاتا‘‘۔

(8) پھر آپ ﷺ کا گزر ایک وادی پر ہوا جہاں آپ نے نہایت بھیانک اور مکروہ آوازیں سنیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ آوازیں کیسی ہیں؟ جبریلِ امین نے عرض کیا: یہ جہنم کی آواز ہے ،جہنم کہہ رہا ہے: (اے اللہ!) اپنے وعدے کے مطابق مجھے میری باسی عطا کر، کیونکہ میری زنجیریں، میرے طوق، میرے شعلے، میرا زقّوم (تھوہر کا کڑوا پھل)، میری تپش، میرے پتھر، میری پیپ، میرا بہتا ہوا لہو، میری گہرائی، میری حرارت بہت زیادہ ہوگئی ہے، اپنے وعدے کے مطابق مجھے میرے اہل عطا فرما دیجیے، اللہ نے فرمایا: ہر مشرک و مشرکہ، ہر کافر و کافرہ، ہر خبیث و خبیثہ، ہر جابر و ظالم جو یومِ حساب پر ایمان نہیں رکھتا، (وہ سب تیرے اہل ہیں)، جہنم نے عرض کیا: میں راضی ہو گیا‘‘۔

(9) حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں نے شبِ معراج جنت کے دروازے پر یہ تحریر دیکھی: ’’صدقے کا ثواب دس گنا اور قرض کا اٹھارہ گنا ہے۔‘‘، میں نے پوچھا: اے جبریل! قرض کے صدقے سے افضل ہونے کا سبب کیا ہے؟ جبریلِ امین نے عرض کیا: عام سوالی جب سوال کرتا ہے تو اُس کے پاس کچھ نہ کچھ ہوتا ہے، اور قرض خواہ حاجت کے بغیر قرض نہیں مانگتا۔ (ابن ماجہ:2431)‘‘۔ امام احمد رضا قادری رحمہ اللہ تعالیٰ کے سامنے قرض خواہوں کی نادہندگی کا ذکر ہوا، آپ نے فرمایا: میرے بھی لوگوں پر پندرہ سو درہم قرض ہیں، نہ وہ دیتے ہیں، نہ میں تقاضا کرتا ہوں، آپ سے پوچھا گیا: اگر آپ تقاضا نہیں کرتے، تو معاف کیوں نہیں کر دیتے، آپ نے جواب دیا: میرے پیشِ نظر یہ حدیث ہے: ’’نبی ﷺ نے فرمایا: جو کسی تنگدست (مقروض) کو مہلت دے گا، تو اُسے ہر روز (قرض کی رقم کے برابر) صدقے کا اجر ملے گا اور جو شخص قرض کی ادائیگی کا مقررہ وقت آنے کے بعد مقروض کو مہلت دے گا، تو ہر روز اُسے اتنی ہی رقم کے برابر صدقے کا اجر ملے گا۔ (سنن ابن ماجہ:2418)‘‘۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ لوگ قرض لے کر استطاعت کے باوجود قرض ادا نہ کریں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’غنی کا (قرض کی ادائیگی میں) ٹال مٹول کرنا ظلم ہے، (صحیح البخاری: 2400)‘‘، نیز آپ ﷺ نے فرمایا: ’’مالدار کا قرض کی ادائیگی میں ٹال مٹول کرنا اُس کی آبرو اور سزا کو حلال کر دیتا ہے۔ (سنن ابن ماجہ: 2427)‘‘۔

(10) شبِ معراج رسول اللہ ﷺ کے لیے سواری لائی گئی اور آپ اس پر سوار ہوئے، اُس سواری کی رفتار کا عالَم یہ تھا کہ ہر قدم حدِّ نظر پر پڑتا تھا، آپ ﷺ جبریلِ امین کے ساتھ چلتے رہے، یہاں تک کہ آپ کا گزر ایک قوم پر ہوا جو ایک دن فصل کاشت کرتے اور ایک دن تیار فصل کاٹتے، جونہی اُس فصل کو کاٹتے ہیں، وہ پہلے کی طرح تیار شکل میں آجاتی ہے، آپ ﷺ نے پوچھا: جبریل! یہ کون لوگ ہیں؟ جبریلِ امین نے کہا: یہ اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والے ہیں، جن کی ہر نیکی کا اجر سات سو گنا تک بڑھا کر دیا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’اور تم جو کچھ بھی (اللہ کی راہ میں) خرچ کرو گے تو وہ اس کا بدل مہیا کردے گا اور وہ سب سے بہتر رزق دینے والا ہے۔ (سبا: 39)‘‘۔

(11) پھر آپ ﷺچلے یہاں تک کہ بیت المقدس پہنچ گئے، آپ سواری سے اترے اور اپنی سواری کو ایک چٹان کے ساتھ باندھ دیا، پھر بیت المقدس میں داخل ہوئے اور نماز پڑھی تو آپ کے ساتھ فرشتوں نے بھی نماز پڑھی، جب نماز ادا ہو گئی تو فرشتوں نے کہا: اے جبریل! آپ کے ہمراہ یہ کون ہیں؟ جبریلِ امین نے کہا: ’’محَمّد رسول اللّٰہ ﷺ اور خاتم النبیین ہیں‘‘، فرشتوں نے پوچھا: کیا انھیں بلایا گیا ہے، جبریلِ امین نے کہا: ہاں، انھوں نے کہا: اس نہایت ہی اچھے بھائی اور جانشین کو ہماری طرف سے تحیّت پیشِ خدمت ہے، نہایت اچھے جانشین اور کیا ہی عمدہ آنے والے ہیں، پھر آپ ارواحِ انبیاء کے پاس آئے اور اُن سب نے اپنے رب کی ثنا بیان کی ۔

ابراہیم علیہ السلام نے کہا: تمام تعریفیں اُس اللہ کے لیے ہیں جس نے ابراہیم کو خلیل بنایا، اُس نے مجھے عظیم ملک دیا، مجھے اللہ سے ڈرنے والی امت بنایا، میری پیروی کی جاتی ہے، مجھے آگ سے بچایا اور اس آگ کو میرے لیے ٹھنڈک اور سلامتی کر دیا۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا: تمام تعریفیں اُس اللہ کے لیے جس نے مجھے ہم کلامی کا شرف عطا فرمایا، اپنی رسالت و کلام کے لیے مجھے چنا اور مجھ سے سرگوشی کی، مجھ پر تورات نازل کی، آلِ فرعون کو میرے ذریعے ہلاک کیا اور بنی اسرائیل کو میرے ذریعے نجات عطا کی۔

حضرت داؤد علیہ السلام نے کہا: تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھے حکومت کی نعمت دی، مجھ پر زبور نازل کی، لوہے کو میرے لیے نرم کردیا، پرندوں اور پہاڑوں کو میرے لیے مسخر کردیا، مجھے حکمت دی اور فیصلہ سنانے کا منصب عطا فرمایا۔

حضرت سلیمان علیہ السلام نے کہا: تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے میرے لیے ہواؤں، جنّوں اور انسانوں کو تابع کر دیا، شیاطین کو میرے لیے مسخر کر دیا جو عمارتیں اور مجسمے بناتے تھے، مجھے پرندوں کی بولی اور ہر چیز سکھائی، میرے لیے پگھلے ہوئے تانبے کا چشمہ بہایا، مجھے ایسا عظیم ملک دیا جو میرے بعد کسی اور کے لیے سزاوار نہیں ہے۔

پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے کہا: تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں جس نے مجھے تورات اور انجیل کی تعلیم دی اور میں اللہ کے اذن سے مادر زاد اندھوں اور برص کے مریضوں کو صحت یاب کرتا ہوں اور مردوں کو زندہ کرتا ہوں، اس نے مجھے آسمان پر اٹھایا اور کفار سے نجات دی، مجھے اور میری والدہ کو شیطان رجیم کے شر سے اپنی پناہ میں رکھا اور شیطان کا ان پر کوئی بس نہیں چلتا۔

پھر حضرت سیدنا محمد ﷺ نے اپنے رب کی ثنا کرتے ہوئے فرمایا: تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں جس نے مجھے رَحْمَۃً لِلْعَالَمِیْن بناکر بھیجا، تمام لوگوں کے لیے بشیر اور نذیر بنایا اور مجھ پر قرآن نازل کیا، اس میں ہر چیز کا واضح بیان ہے، میری امت کو خیرُالاُمَم بنایا، میرا سینہ کھول دیا اور مجھ سے بوجھ اتار دیا، میری خاطر میرا ذکر بلند کیا اور مجھے (نبوت میں) اول و آخر بنایا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کھڑے ہو کر فرمایا: انھی فضائل کی وجہ سے تم سب پر محمد ﷺ کو فضیلت دی گئی ہے‘‘۔ نوٹ: یہ روایات ’’دَلَائِلُ النُّبُوَّۃ لِلْبَیْہَقِی،ج:2،ص:397‘‘ میں درج ہیں۔