پاک فضائیہ کے ہیروز سے محترم تقی عثمانی تک- انصار عباسی

یومِ پاکستان کے موقع پر درجنوں افراد کو اپنے اپنے شعبوں میں اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے پر سول و فوجی ایوارڈز سے نوازا گیا۔ ایوارڈز حاصل کرنے والے کئی افراد کے متعلق بہت سے لوگوں کو اعتراضات بھی رہے جو ایک معمول کی بات ہے کیونکہ پاکستان میں ان ایوارڈز کو سیاسی بنیادوں کے ساتھ ساتھ سفارش پر دیئے جانے کا رواج بھی رہا ہے اور یہ ہر سال کی کہانی ہے۔ مجھے جہاں اس بات کی خوشی ہوئی کہ حکومت نے نیوزی لینڈ میں دہشت گردی کے واقعہ میں نمازیوں کی جان بچانے کی کوشش میں شہید ہونے والے پاکستانی نعیم رشید کو نشانِ شجاعت کا اعلیٰ اعزاز دیا، وہیں یہ میرے لیے بہت حیرت کی بات تھی کہ ایوارڈز حاصل کرنے والوں کی فہرست میں پاکستان کے دو ہیروز کے نام شامل نہ تھے

۔ پاک فضائیہ کے اسکواڈرن لیڈر حسن صدیقی اور ونگ کمانڈر نعمان علی خان نے گزشتہ ماہ بھارت کے دو جنگی طیاروں کو مار گرا کر پاکستان کے لیے وہ خدمت انجام دی جس کی جتنی تعریف کی جائے، کم ہے۔ مجھے نہیں معلوم فوج اور حکومت کی جانب سے قوم کے ان دونوں ہیروز کو یومِ پاکستان کے موقع پر ایورڈز کیوں نہ دیئے گئے۔ ممکن ہے ان کو مستقبل میں قومی ایوارڈ سے نوازنے کا پروگرام ہو لیکن میری ذاتی رائے میں یہ بہترین وقت تھا کہ پاک فضائیہ سے تعلق رکھنے والے ان دونوں افسران کو بہترین طریقے سے خراجِ تحسین پیش کیا جاتا۔

ویسے تو آپ کسی سے بھی بات کر لیں، چاہے اُس کا تعلق حکومت سے ہو یا فوج سے، سب کا یہ ایمان ہے کہ جس طرح بھارت کی طرف سے پاکستان کے خلاف جارحیت کے دو دن کے اندر اندر پاک فضائیہ نے دو بھارتی جنگی جہاز مار گرائے وہ اللہ تعالیٰ کی پاکستان پر خاص مہربانی کا نتیجہ تھا، ورنہ کسی نے سوچا بھی نہ تھا کہ اتنی جلدی پاکستان کی طرف سے بھارت کو ایسا جواب دیا جائے گا جو نہ صرف بھارت کے غرور کو خاک میں ملا دے گا بلکہ دنیا بھر میں اُس کی فوج کا مذاق اُڑایا جائے گا اور پاکستان کی افواج کی برتری سب سے واضح ہو جائے گی۔ پاکستانیوں کے لیے وہ ایک دن جب بھارتی طیارے بالاکوٹ کے قریب جابہ کے علاقے میں بمباری کرکے واپس لوٹ گئے، بہت بھاری گزرا۔ باوجود اس کے کہ ایک کوے اور چند درختوں کے علاوہ بھارتی حملے سے کوئی نقصان نہیں پہنچا، ہر پاکستانی کو رنج اور دکھ تھا کہ چھ سات بھارتی جنگی طیارے پاکستان آئے اور بم گرا کر واپس چلے گئے اور کسی ایک جہاز کو بھی ہماری طرف سے نہیں مار گرایا گیا۔ لیکن میرے رب کے کرم سے اگلے دن ہی پاک فضائیہ نے وہ کر دکھایا جس نے دنیا بھر کو حیران و پریشان کر دیا جبکہ پاکستانیوں کی خوشی کا کوئی ٹھکانا نہ تھا۔ یہ ایسی خوشی ہے جو کسی قوم کو دہائیوں تک نصیب نہیں ہوتی۔

اس تاریخی کامیابی پر اگر ایک طرف ہمیں اپنے رب کا شکر ادا کرتے رہنا چاہئے تو دوسری طرف اُن ہیروز کو اُس انداز میں سراہنا چاہئے جس کے وہ مستحق ہیں۔ یومِ پاکستان کے موقع پر ایوارڈز پانے والے افراد کی فہرست میں پاک فضائیہ کے ان افسران کے نام نہ پاکر مجھے افسوس ہوا۔جب ہم بھارتی جارحیت کے جواب میں پاکستان کے لاجواب ردعمل کے حوالے سے یہ کہتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ہم پر اور پاکستان پر خاص مہربانی کی وجہ سے ہوا تو دو روز قبل کراچی میں بین الاقوامی شہرت کے حامل اسلامی اسکالر محترم مفتی تقی عثمانی پر قاتلانہ حملے کا ناکام ہونا بھی اللہ کی طرف سے مفتی صاحب کے ساتھ ساتھ پاکستان پر بہت بڑا کرم تھا۔ ورنہ سازش کرنے والوں نے تو پاکستان کے خلاف افراتفری اور انتشار پھیلانے کی بہت بڑی سازش تیار کی تھی۔ اس قاتلانہ حملے کے بعد میری دو بار محترم مفتی تقی عثمانی سے بات ہوئی۔

مفتی صاحب خود بھی حیران ہیں کہ جس طرح اُن کی گاڑی پر گولیوں کی بارش کی گئی اور جیسے آگے، پیچھے سے اُن پر فائرنگ کی گئی، یہ کسی معجزے سے کم نہیں کہ نہ صرف وہ خود محفوظ رہے بلکہ اُن کے پوتے، پوتی اور اہلیہ کو بھی اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ گولیاں مفتی صاحب کے آس پاس سے گزرتی رہیں لیکن وہ الحمدللہ بالکل محفوظ رہے۔ ایک طرف اگر اللہ تعالیٰ نے مفتی صاحب کی جان بچائی تو دوسری طرف پاکستان کو ایسے ممکنہ نقصان سے بچا لیا جو بہت سنگین ہو سکتا تھا۔ اسلام کے نام پر قائم ہونے والے پاکستان پر اللہ تعالیٰ کی لاتعداد عنایتیں ہیں جن کا شکر ادا کرنے کا سب سے بہترین طریقہ یہی ہے کہ ہم ہر لمحے اپنے رب کا شکر ادا کریں اور اس ملک میں اُس اسلامی نظام کو رائج کریں جو قیامِ پاکستان کی بنیاد بنا۔