ایجاد اور بنیاد، ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ نثار موسی

ایجاد انسانی تہذیب و تمدن کے چیلنج کا جواب ہے۔ انسان جب بھی کسی مسئلے کا شکار ہوتا ہے، اس کے حل کے لیے اپنی دماغی صلاحیتوں کو استعمال کرتے ہوئے کوئی نہ کوئی حل تلاش کرتا ہے۔ ہم عموما ایجاد کو سائنسی انجینئرنگ والی چیزوں تک محدود کر دیتے ہیں، حالانکہ چیزوں، آلہ جات اور سامان کی ایجادات کے ساتھ انسان سماجی آئیڈیاز، معاشی ماڈلز، ریاست کی تنظیم، انتظامات، تعلیمی نظریات بھی ایجاد کرتا ہے۔

دوسری طرف یہ انسان کچھ نہ کچھ بنیاد ضرور رکھتا ہے۔ بنیاد سے میری مراد وہ اخلاقی ڈھانچہ ہے، وہ روایات وہ ثقافت کے دائرے ہیں، جو ہمیشہ سے انمول رہے ہیں۔ وہ انسان کو مضبوط کردار عطا کرتے ہیں۔ دوستی، محبت، بھائی چارہ، ایثار و قربانی اور فلاح و بہبود ہماری بنیاد ہیں۔

ایجاد زندگی کی مادی ضرورتوں کے حل کو آسان بنا دیتا ہےبنیاد انسان کو معاشرے میں انسان بنا کر رکھتے ہیں۔ ایجاد انسانی زندگی کو باسہولت بنا دیتا ہے اور بنیاد انسانی زندگی کو بااصول بنا دیتا ہے۔ انسان سہولت اور اصولوں سے معاشروں کو خوشحالی اور خوشی دے سکتا ہے۔ ایجاد خوشحالی لاتی ہے، اور بنیاد خوشیاں۔ الغرض ایجاد دماغ کی دنیا ہے اور بنیاد انساں کے دل اور روح کی دنیا۔ ایجاد انساں کو "کارآمد" بنا دیتی ہے اور بنیاد انساں کو "اچھا"۔

معاشرے کی ترقی، تعلیم اور عروج اس بات پر منحصر ہے کہ اس کے پاس کتنے ایجاد کرنے والے اور اس کی بنیادوں کو مضبوط کرنے والے کتنے ہیں۔
آج ہم جس قسم کے مسائل کا شکار ہیں، اس میں ایک بات بہت ہی زیادہ واضح ہےکہ ہم نے ایجاد کو صرف اور صرف ماضی کے قصے سمجھ کر درسی کتاب تک محدود کر دیا ہے۔ ہمارے بچے ایجادات کے متعلق صرف پڑھتے ہیں جانتے ہیں، مگر بہت ہی کم، بلکہ نہ ہونے کے برابر کوئی چیز ایجاد کرتے ہیں۔ وہ ایجادات کے مصرف (consumer) ہیں، میکر (maker) نہیں۔

جو قوم اپنی نسل کو ایجادات کے لیے نہ اُبھارے، سہولیات نہ دے رہنمائی نہ کرے، ماحول مہیا نہ کرے تو وہ غربت، زوال، کمزوری اور ناکامی کو ایجاد کرتی ہے۔ ہم اگر اس بات کا جائزہ لیں کہ کیوں دوسری اقوام ہم سے آگے نکل گئیں تو یہ بات بہت واضح ہو جاتی ہے کہ ہم نے اس طرح کا کوئی "تعلیمی پلان" منصوبہ تیار ہی نہیں کیا تھا۔ ہمارے تعلیمی اداروں کے ڈیزائن، مقاصد، ترتیب اور انتظام میں کبھی بھی 'ایجاد' شامل نہیں رہی ہے۔ ہم اگر ذرا آنکھیں اور ذہن کھول کر تھوڑی بہت تحقیق کر لیں تو یہ پتہ چل جائے گا کہ ہمارا سارے کا سارا نظام تعلیم و تربیت "نوکریاں" ڈھونڈھنے والے تیار کرنا تھا۔ اور اب بھی، جی ہاں! اکیسویں صدی میں بھی ہم بیسویں صدی میں چل رہے ہیں۔ ایجاد بہت سے مسئلوں کا حل ہے، اس سے نہ صرف علم و تحقیق کی جستجو میں اضافہ ہوگا بلکہ ہماری قومی پیداوار میں بھی خاطر خواہ ترقی ہوگی۔ ہم نہ صرف چیزیں بنائیں گے بلکہ لاکھوں بچوں کو منفرد انداز میں مصروف عمل بھی رکھیں گے۔ ایک زبردست قسم کی زندگی کا آغاز بھی ہوگا۔ معاشرتی، سماجی، معاشی، انتظامی بہت سارے مسائل کا ہمیں ”لوکل“ حل بھی ملنا شروع ہو جائے گا۔

بنیاد ہمیشہ لازوال ہوتی ہے۔ یہ انسانی معاشروں کی اقدار ہوتی ہے۔ یہ ہمارے وہ اصول ہوتے ہیں جو زندگی کی دوام، خوشی، امن، محبت، بھائی چارہ، سکون، طمانیت بخشتے ہیں۔ بنیاد مذہب بھی دیتا ہے، ہر تہذیب و تمدن، کلچر اور سماجی معاہدے بنیاد کو ضرور پروموٹ کرتے ہیں۔

ہمارے تعلیمی اداروں بالخصوص اسکولوں میں ایجاد اور بنیاد پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ وہ چیزیں ہیں جو ہمیں تعلیم، ترقی اور سکون کی طرف لے جاتی ہیں۔ ہمارے بچے اپنی مذہبی، سماجی، ثقافتی اور تہذیبی بنیادوں سے نہ صرف واقف ہوں بلکہ ان کے اوپر عمل کرنے والے بھی ہوں گے۔ ہم سماجی جانور نہیں بلکہ اشرف المخلوقات ہیں جس کا بنیادی مقصد انسانیت کی تعظیم و ترقی ہے۔ انسان اگر بنیادی انسانی اخلاقیات سے خالی ہو گیا تو وہ صرف ایک ذہین اور چالاک شکاری بن جائے گا جو مختلف ہتھیاروں، آلہ جات اور آئیڈیاز سے مسلح ہو کر انسانیت کی بربادی کے لیے میدان میں کود پڑے گا۔ اس انسان کو اخلاقیات، مذہبی تعلیمات، تہذیبی روایتوں سے انسان دوست بنایا جا سکتا ہے۔ اس کام کا آغاز ہمیں اسکولوں سے ہی کرنا پڑے گا۔ یہاں سے ہی وہ مائنڈ سیٹ لے کر آگے بڑھیں گے۔ اس کے لیے ہمیں اپنی ترجیحات اور مقاصدکو ری ڈیزائن یعنی دوبارہ سے ترتیب دینا ہوگا۔
آئیے ایک ایسے معاشرے کی تعمیر کریں جہاں "کارآمد" اور "اچھے" انسان ہماری قیادت کریں۔