’’قبر کے کتبے کے گلے میں ہار اور صدارتی گیٹ ہمیشہ کے لئے بند‘‘ مستنصر حسین تارڑ

کسی بھی ایوارڈ کی وقعت اور اہمیت کو پرکھنا ہو تو یہ دیکھیے کہ آپ سے پہلے وہ ایوارڈ کن کن ادیبوں کو مل چکا ہے۔ اگر تو ایسے ویسے ادیبوں کو بھی مل چکا ہے تو اسے قبول کر کے آپ بھی ایسے ویسے ہو جائیں گے۔ مجھے 2001ء میں یا شاید 2002ء میں دوہا قطر کا فروغ اردو ادب انٹرنیشنل ایوارڈ عطا کیا گیا اور یہ فیصلہ اس جیوری نے کیا جس کے چیئرمین مشتاق یوسفی تھے اور یوسفی صاحب کے بقول جیوری نے صرف چند منٹوں کے اندر متفقہ طور پر یہ فیصلہ سنایا تو یہ ایوارڈ میرے لئے اس لئے بھی مسرت اور اعزاز کا باعث بنا کہ اس سے پچھلے برس یہ ایوارڈ شوکت صدیقی صاحب کو دیا گیا۔ ان سے پہلے احمد ندیم قاسمی‘ اشفاق احمد اور قرۃ العین حیدر وغیرہ نے یہ ایوارڈ حاصل کیا۔ بلکہ جب جرمنی کی سرکاری ادبی تنظیم ’’لٹریٹر ورک سٹاٹ‘‘ نے میرے ناول ’’راکھ‘‘ کے حوالے سے جنوب مشرقی ایشیا کے نمائندہ ناول نگار کی حیثیت سے مجھے برلن مدعو کیا تو یہ بھی ایک بڑا اعزاز اس لئے تھا کہ مجھ سے پیشتر انتظار حسین اور قرۃ العین حیدر کے علاوہ جرمن ادیب تھامس مان جس نے ‘‘ٹن ڈرم‘‘ جیسا ناول تخلیق کیا تھا کو بھی یہ اعزاز دیا گیا تھا۔ یاد رہے کہ سلمان رشدی کا ناول ’’مڈ نائٹ چلڈرن‘‘ تھامس مان کے اس ناول کا ایک چربہ تھا۔

اور میں اس لحاظ سے بھی خوش قسمت ٹھہرا کہ 1992ء میں غالباً جب پرائڈ آف پرفارمنس ملا تو اس برس میں زبردست تخلیقی رفاقت میں تھا یعنی میرے ساتھ طارق عزیز‘ معین اختر ‘ شکیل ‘ نیر علی دادا اور منیر نیازی کو بھی یہ ایوارڈ دیا گیااور یہ سب کے سب عربی گھوڑے تھے۔ البتہ منیر نیازی کے مقابلے میں مجھے خدشہ ہوا کہ میں ایک خچر ہوں۔ میں نے قصر صدارت میں منیر نیازی اور ان کی اہلیہ کی ایک یادگار تصویر اتار کر ان کی خدمت میں پیش کی اور اس پر لکھا’’اَج دا دِن ایویں نئیں سی لنگھیا‘‘

جاپان کے ایک آرکی ٹیکٹ ہیں۔ اراتا آئسو ذاکی جنہیں دنیامیں سب سے بڑا آرکی ٹیکٹ مانا جاتا ہے۔ آئسو ذاکی نے اپنی عمارتوں میں قدیم جاپانی فن تعمیر کی آمیزش کی۔ ان کی عمر 86برس سے زیادہ ہو رہی ہے۔ اس برس انہیں آرکی ٹیکچر کا سب سے بڑا ایوارڈ جو نوبل انعام کا ہم پلہ ہے اور پرٹنس کر پرائز کہلاتا ہے عطا کیا گیا تو انہوں نے کہا’’اس عمر میں کسی کو ایوارڈ دینا ایسا ہے جیسے ایک قبر کے کتبے کے گلے میں ہار ڈال دیا جائے‘‘ چنانچہ براہ کرم جو ادیب اب رخصتی کے لئے اپنا سامان باندھ رہے ہیں۔ ان کی زندگی میں انہیں بلند ترین ایوارڈ عنائت کر دیجیے ورنہ بعد میں ان کے کتبوں کے گلے میں ہار ڈالنے سے فائدہ!

مشکور حسین یاد لاہور کی ایک معروف ادبی شخصیت تھے۔ نہایت باغ و بہار نوعیت کے شخص تھے اور وہ اکثر اپنے باغ میں خود ہی نہایت دلچسپ گل کھلاتے رہے۔ ان کی ’’بیگم کی ڈائری‘‘ ان کی وجہ شہرت تھی۔ جن دنوں انشائیے کو فکشن کی سب اصناف کی والدہ صاحبہ ثابت کرنے کی غیر مذموم کوشش کی جا رہی تھی وہ بھی انشائیہ نگاری میں کود پڑے اور وزیر آغا کے پیچھے پڑ گئے اور دعویٰ کیا کہ صرف وہی اس صنف کے ساتھ انصاف کر سکتے ہیں۔ وزیر آغا کیا جانے کہ انشائیہ کس چڑیا کا نام ہے۔ ان کی گفتگو بہت دلچسپ اور بصیرت افروز ہوا کرتی تھی۔ قطعی اندازہ نہیں ہوتا تھا کہ موصوف سنجیدہ ہیں یا مزاح نگاری کے کمال دکھا رہے ہیں۔ ایک روز کہنے لگے تارڑ یہ تم لوگوں نے جانے کیوں اس یوسفی کو سر پر چڑھا رکھا ہے۔ مجھے ابھی ایک پنسل دو میں اس سے بہتر مزاح نہ لکھ کر دوں تو جو چور کی سزا وہ میری۔

ڈاکٹر سلیم اختر اگر زندہ ہوتے تو ان کی موشگافیوں کی کیا کیا داستانیں سناتے۔ یاد صاحب نے ایک بار غالب کے اشعار کی شرح لکھی اور بلاشک ایسی شرح اور کوئی نہیں لکھ سکتا تھا۔ میں نے شغل میلے کے لئے ان کے جواب میں ’’شرح غالب شرانگیز‘‘ لکھی مثلاً کہ یہ جو شعر ہے موت کا ایک دن معین ہے‘ نیند کیوں رات بھر نہیں آتی تو اس میں معیّن نہیں معین اختر مُراد ہے اور غالب پوچھ رہے کہ ابے معین اختر مجھے نیند رات بھر کیوں نہیں آتی۔ دن کو سویا رہتا ہے کیا۔ یا پھر موت کے لئے اگر دن معین ہے تو بھلا رات کو نیند کیوں نہیں آتی۔

یاد صاحب سے ملاقات ہوئی تو وہ بہت خوش تھے۔ کہنے لگے‘ تارڑ تم نے کمال کر دیا۔ کیا انوکھی شرح لکھی ہے ۔ میں نے ہنستے ہوئے کہا کہ یاد صاحب یہ سب آپ کی رفاقت کا کمال ہے۔ بہر طور یہ طے ہے کہ شاعری وہ بہت بلند پائے کی کرتے تھے۔ نہائت انوکھے خیال ان پر مسلسل اترتے تھے۔ جب میاں نواز شریف پہلی بار وزیر اعظم کے رتبے پر فائز ہوئے تو ازاں بعد ان کے بٹوے میں ایک پرانی تصویر مسلسل ہوتی تھی۔ یاد صاحب گورنمنٹ کالج میں اردو کے استاد تھے۔ اور اس بوسیدہ ہو چکی تصویر میں وہ لیکچر دے رہے ہیں اور کلاس کی آخری نشستوں پر ایک معصوم اور بھولو سا بچہ بیٹھا ہے جو کہ بقول ان کے نواز شریف تھا۔ یہ تصویر اکثر نمائش کی جاتی اور وہ کہتے۔ پڑھائی میں ذرا سست تھا لیکن بلا کا ذہین تھا۔ میرا طالب علم جو تھا۔

چنانچہ اگلے برس ان کا نام سول ایوارڈز میں شامل تھا شاید یہ ستارہ امتیاز تھا جو پرائڈ آف پرفارمنس سے افضل ہوتا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ کیش رقم نہیں ہوتی یاد صاحب بہت طیش میں آئے کہ یہ تو زیادتی ہے اور کہا جاتا ہے‘ شنید ہے کہ انہوں نے بھاگ دوڑ کر کے ستارہ واپس کیا اور پرائڈ حاصل کر لیا رقم کے ساتھ۔ اور مطمئن ہو گئے اور میں ان کو مورد الزام نہیں ٹھہراتا کہ خالی خولی ایوارڈ کے ساتھ اخروٹ تو نہیں توڑنے۔

ویسے دیکھا جائے تو بنیادی طورو پر بیشتر ایوارڈز صرف اہل اقتدار کے احساس جرم کی تلافی کرتے ہیں کہ یہ لو دھات کا ایک ٹھیپہ۔ پھر نہ کہنا حکومت نے تمہاری پذیرائی نہیں کی۔ میں پھر اپنے پرائڈ آف پرفارمنس کی کہانی کی جانب لوٹتا ہوں۔ صدر غلام اسحاق خان سے تمغہ وصول کرنے کے بعد ایوارڈ یافتگان کے اعزاز میں ’’صدارتی کھانا‘‘ سجا دیا گیا جہاں اہل اقتدار کی پوری فوج بھی تھی۔ مرکزی وزراء سیکرٹری اور افواج کے سربراہ وغیرہ۔ یہاں پر میری اہلیہ نے کچھ پیا اور کچھ چکھا اور پھر ناک چڑھا کر بولی! روح افزا کی ایک بوتل سے سینکڑوں لوگوں کے لئے شربت گھولا گیا ہے اور کھانا بھی بدذائقہ اور ٹھنڈا۔ یہ صدارتی طعام ہے؟ لاہور واپسی پر میاں جی کے ہوٹل سے تنوری پراٹھے اور دال کھا لیں گے۔ اسے ہاتھ نہ لگائو۔ میمونہ تو میرا لحاظ بھی نہ کرتی تھی۔ صدر پاکستان کا کہاں کرتی۔

جب ہم سرشام پریذیڈنٹ ہائوس سے نکل رہے تھے تو ہمارے پیچھے صدارتی محل کے بڑے بڑے آہنی گیٹ بند ہو رہے تھے تب میمونہ نے ایک یادگار بیان دیا تھا’’دیکھو تم پر اب یہ آہنی گیٹ ہمیشہ کے لئے بند کئے جا رہے ہیں۔ اب یہ تم پر کبھی نہیں کھلیں گے۔ تم لاکھ مصیبت میں ہو۔ تمہاری جان پر بنی ہو۔ تم ان گیٹوں سے سر ٹکرا ٹکرا کر مر جائو گے یہ نہیں کھلیں گے۔ یہی اہل اقتدار کے فریب ہیں۔ تمہاری پوری حیات کی مشقتوں ‘ قربانیوں اور تخلیقی ریاضتوں کے بدلے میں تمہارے سینے پر دھات کا ایک ٹھیپہ آویزاں کر کے کہا گیا کہ اور کیا چاہتے ہو۔ اب دفع ہو جائو یہاں سے۔ تمہیں اور کیا چاہیے۔ اقتدار ہمارا حق ہے‘ تم پر سب در آج سے بند کئے جا رہے ہیں۔جاؤ!‘‘