"چچا جی" - سعود عثمانی

بے شمار تعظیمی اور تکریمی القابات کے ساتھ ان کا نام لکھنے، انہیں بلانے اور یاد کرنے والے تو بلا شبہہ کروڑوں کی تعداد میں ہیں۔ انہیں چند لمحوں کے لیے قریب سے دیکھنے، مصافحہ کرنے اور چند جملوں کی بات کر لینے کی خواہش رکھنے والے بھی ان گنت ہیں۔ دور سے ایک نظر دیکھنے کے آرزو مند بھی بہتیرے ہیں۔ لیکن کتنے لوگ ہیں جنھوں نے بچپن سے آج تک انہیں قریب سے دیکھا، سنا اور ان سے سیکھا۔ کتنے لوگ ہیں جو انہیں چچا جان اور چچا جی کے زبان پر مٹھاس چھوڑتے اور کانوں میں رس گھولتے الفاظ سے بلانے اور یاد کرنے کے حق دار ہیں۔ گنتی کے چند لوگ۔ اور یہ کتنا بڑا شرف ہے کہ سعود عثمانی انھی چند گنے چنے لوگوں میں شامل ہے۔

کوئی مقام ایسا ہوتا ہے کہ تمام محبت، عقیدت، احترام کے ممکنہ لفظ مقدور بھراستعمال کیے جائیں تب بھی یہ لفظ رسمی اور بےجان سے لگتے ہیں۔ کوئی شخصیت ایسی ہوتی ہے کہ اس کے لیے آئیڈیل، رہنما اور استاد کے الفاظ کہہ دینے کے بعد بھی وہ بات بیان نہیں ہو پاتی جو دل میں ہوتی ہے۔ لفظوں کی اپنی حدود اور اپنی استطاعت ہے۔ اگرمعنی کا بارِ گراں ان کی ہمت سے زیادہ ہو تو اظہار کا راستہ ہی بند ہوجاتا ہے۔ مجھے اپنے چچا جان مفتی جسٹس محمد تقی عثمانی کے بارے میں کچھ بھی کہتے ہوئے اور لکھتے ہوئے ہمیشہ ایسا ہی لگا ہے کہ میرا اظہار کا ہر ایک راستہ بند ہے۔

جمعہ 22 مارچ کے چند گھنٹے قیامت کے تھے۔ میں جمعہ کی نماز پڑھ کر دفتر آیا ہی تھا کہ ٹی وی پر کراچی میں دو گاڑیوں پر فائرنگ کے ٹکرز چلنے شروع ہوئے۔ جیسے ہی دارالعلوم کورنگی کا نام آنا شروع ہوا، گھبراہٹ شروع ہوگئی۔ اس وقت تک عم مکرم کا نام سکرینوں پر نہیں آیا تھا۔ دل حلق میں اٹکا ہوا تھا۔ فورا ہی عزیزوں سے رابطہ کیا۔ خدا خوش رکھے میرے ہم عمر چچا زاد بھائی، اور بہنوئی خلیل اشرف عثمانی کو، کہ اس افراتفری اور ہنگامے کے وقت میں بھی انہوں نے فون اٹھا لیا۔ خلیل کی بیٹی چچا تقی صاحب کی بہو بھی ہے۔ وہ اس وقت تک لیاقت نیشنل ہسپتال پہنچ چکے تھے اور چچا کے ساتھ ہی تھے۔ انہوں نے یہ تو اطمینان دلا دیا کہ چچا بھی بالکل خیریت سے ہیں اور چچی اور بچے بھی۔ لیکن تفصیل کا موقع تھا ہی نہیں۔ بعد میں ان سے اور کئی دیگر عزیزوں سے تفصیلات معلوم ہوتی رہیں۔ چچا جان سے محبت کرنے والے ، ہر ملک، ہر زبان، اور ہر نسل میں کروڑوں کی تعداد میں ہیں۔ اور ایسی ہر دل عزیز شخصیت کے بارے میں لوگوں کی پریشانی فطری تھی۔ بہت امکان تھا کہ افواہیں پھیلنی شروع ہوجائیں اور صحیح صورت حال علم میں نہ آئے، چنانچہ میں نے ابتدائی معلومات حاصل کرتے ہی فیس بک پر اس واقعے اور چچا جان کی خیریت کا احوال (سٹیٹس) لکھ دیا۔ اس کا یقینا بہت فائدہ ہوا ۔اور ہزاروں لوگ اس سے باخبر ہوئے۔ لیکن جیسے جیسے لوگوں کو اطلاع ملتی گئی، فون کالز اور پیغامات کا تانتا بندھ گیا۔

یہ بھی پڑھیں:   نظریاتی سرحدوں کے جرنیل - مجیب الرحمن شامی

ملک نے خاص طور پر کراچی نے بد امنی، قتل و غارت اور غنڈہ گردی کا ایک طویل دور دیکھا ہے۔ کتنے ہی علماء، اور قیمتی جانیں اس بھیانک دور کی نذر ہوئی ہیں۔ ہمیں بھی ہر لمحہ اپنے پیارے چچاؤں مفتی اعظم پاکستان مولانا محمد رفیع عثمانی اور مولانا محمد تقی عثمانی کی فکر رہتی تھی۔ ان اندیشوں کے سائے اس لیے مزید گہرے ہو جاتے تھے کہ یہ علم میں آتا رہتا تھا کہ انھیں مختلف گروہوں کی طرف سے قاتلانہ دھمکیوں کا سامنا ہے۔ ایجنسیز بھی اس کی تصدیق کرتی تھیں اور محتاط رہنے کے مشورے دیتی تھیں۔ لوگ جانتے ہیں کہ یہ حضرات کتنی متوازن فکر، کیسی اصابت رائے اور کیسی غیر جذباتی سوچ رکھتے ہیں۔ نمود و نمائش کبھی ان کا مسئلہ نہیں رہا۔ اپنی ذات کو پس پشت ڈال کر پاکستان اور ملت کی خیر خواہی، امت مسلمہ کا اجتماعی مفاد اور مسلمانوں کا باہمی اتحاد اس خانوادے کا ہمیشہ سے طرز عمل ہے اور ان مقاصد کے لیے اس کی قربانیاں بھی ان گنت ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ حق گوئی، بےخوف، بےخوشامد طرزِ زندگی بھی اس کا شعار رہا ہے۔ جہاں ضرورت ہوتی ہے وہاں یہ حضرات ڈٹ کر بات کرتے رہے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ متعصب ذہن اورپاکستان دشمن فکرنے انھیں ہمیشہ اپنے لیے خطرہ سمجھا ہے۔ چنانچہ مختلف جہات سے خطرہ قابل فہم ہے۔

اسی کے ساتھ ساتھ پاکستان کے لیے آبائی وطن سے ان کی ہجرت، پاکستان سے ان کی محبت، قیام پاکستان میں ان کی جدوجہد اور تعمیر پاکستان میں ان کی خدمات بے مثال ہیں۔ یہ بات پاکستان کے لیے کم فخر کی بات نہیں ہے کہ امت مسلمہ کی مؤثر ترین شخصیات میں مفتی جسٹس محمد تقی عثمانی کا نام ابتدائی چند ناموں میں آتا ہے۔ اہل عرب ان کے دیوانے ہیں اور مسلم دنیا میں ہر ایک کی نظر انھی کی طرف اٹھتی ہے۔ چنانچہ ملک دشمنوں اور اسلام دشمنوں کی نظر میں وہ ہمیشہ کھٹکتے رہے ہیں۔

چچا جان (اللہ تعالیٰ انہیں صحت اور سلامتی کے ساتھ لمبی عمر عطا فرمائے ۔آمین) نماز جمعہ گلشن اقبال کراچی کی بڑی جامع مسجد بیت المکرم میں پڑھاتے ہیں۔ یہ سال ہا سال کا معمول ہے۔ یہ بلاشبہ کراچی میں نماز جمعہ کے بڑے اجتماعات میں سے ایک ہوتا ہے۔ گلشن اقبال میں چچا جان کی صاحبزادی کا گھر بھی ہے۔ چنانچہ بہت بار چچی جان اور گھر کے بچے بھی چچا کے ساتھ ان سے ملنے چلے جاتے ہیں۔ اس دن بھی ایسا ہی تھا۔ ان کا دیرینہ اور جاں نثار ڈرائیور حبیب گاڑی چلا رہا تھا اور سرکاری محافظ فاروق اس کے ساتھ اگلی نشست پر تھا۔ دوسری گاڑی میں دارالعلوم کا دیرینہ خدمت گار محافظ صنوبر اور ڈرائیور عمر شہاب موجود تھے۔ اس گاڑی پر فائرنگ ہوئی۔ محافظ صنوبر شہید ہوگیا اور عمر شہاب شدید زخمی ہوگیا۔ راشد منہاس روڈ پر پل کے نیچے چچا جان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ ہوئی۔ ایک گولی محافظ کو اور ایک گولی ڈرائیور حبیب کے بازو پر لگی لیکن وہ زخمی ہوجانے کے باجود گاڑی بھگاتا رہا۔ حملہ آور دور نکل گئے لیکن انھیں اندازہ ہوا کہ اصل ہدف ابھی محفوظ ہے، چنانچہ وہ دوبارہ پلٹ کر آئے اور دوبارہ گولیاں برسائیں۔ اس بار حبیب کے شانے پر گولی لگی اور بازو ناکارہ ہوگیا۔ جس طرف چچا جان بیٹھے تھے اس دروازے پر بھی گولی لگی اور آر پار ہوگئی۔ حبیب کی ہمت اور بہادری پر آفرین ہے کہ وہ اسی حالت میں گاڑی چلاتا رہا۔ چچا جان نے اس سے کہا کہ تم اتر جاؤ گاڑی میں چلاتا ہوں۔ لیکن اس نے کہا کہ آپ ہرگز باہر نہ نکلیں اور میری فکر نہ کریں۔ بہتے خون اور ایک بازو کے ساتھ وہ نیپا چورنگی سے گاڑی چلا کر لیاقت نیشنل ہسپتال تک لایا۔ محافظ اس سے پہلے ہی جاں بحق ہوچکا تھا۔ شیشے کے کچھ ٹکڑے چچی جان اور بچے کو لگے لیکن اللہ کا شکر ہے کہ کوئی بڑا زخم نہیں آیا۔ اسے معجزہ ہی کہہ سکتے ہیں کہ پچھلی نشست کے سب افراد محفوظ رہے۔

یہ بھی پڑھیں:   نظریاتی سرحدوں کے جرنیل - مجیب الرحمن شامی

سرکاری طور پر یہ بات کہی گئی ہے کہ اس واقعے میں غیر ملکی ایجنسیوں کے ملوث ہونے کا کافی امکان ہے۔ یہ بات درست لگتی ہے۔ پچھلے دنوں پاک بھارت کشیدگی اور 27 فروری کے فضائی معرکے کے بعد ٹویٹس میں چچا جان نے کھل کر افواج پاکستان کو سراہا تھا اور بھارت کی سخت مذمت کی تھی ۔ پھر اس واقعے کی ٹائمنگ اہم ہے جب غیر ملکی مہمان آئے ہوئے ہیں اور 23 مارچ کی تقریبات ہونے والی تھیں۔

درست صورت حال تو کچھ وقت کے بعد ہی سامنے آئے گی۔ لیکن یہ مجھے مذہبی اور نظریاتی عدم برداشت کی کارروائی نہیں لگتی۔ اگرچہ اس واقعے کو یہی لیبل لگا کر اس سے مذہب کو مطعون اور ذمے دار ٹھہرانے کا مقصد حاصل کرنے والے بھی اپنے کام میں لگ گئے ہیں۔ میں اس گھٹیا اور بدبودار سوچ کی سخت مذمت کرتاہوں جو مسلمانوں میں عدم برداشت کا رونا روکر دراصل عدم برداشت ظاہر کرتے ہیں۔ یہ اختلاف کی بظاہر نفی کر کے دراصل اختلافات کو ہوا دینے کی کوشش ہوتی ہے ۔

بے بہا زمین ہو، قیمتی نظریات ہوں یا ہیرے جیسے اشخاص۔ ان اثاثوں کی حفاظت ہمیں کرنی ہے۔ کیا ہم یہ کام کر رہے ہیں؟ کیا آپ یہ کام کر رہے ہیں؟

Comments

سعود عثمانی

سعود عثمانی

سعود عثمانی منفرد اسلوب اور جداگانہ لہجے کے حامل شاعر کے طور پر پہچانے جاتے ہیں۔ 10 متفرق تصانیف و تراجم اور تین شعری مجموعے قوس (وزیراعظم ادبی ایوارڈ)، بارش (احمد ندیم قاسمی ایوارڈ) اور جل پری، شائع ہر کر قبولیت عامہ حاصل کر چکے ہیں۔۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.