23مارچ اور آزادی کا اصل مقصد - شاہدمشتاق

1930ء میں علامہ محمد اقبال نے الہ آباد میں مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے باضابطہ طور پر بر صغیر کے شمال مغرب میں جداگانہ مسلم ریاست کا تصور پیش کیا ۔ چودھری رحمت علی نے اسی تصور کو 1933ء میں پاکستان کا نام دیا ۔ سندھ مسلم لیگ نے 1938ء میں اپنے سالانہ اجلاس میں بر صغیر کی تقسیم کے حق میں قرارداد پاس کی۔

23 مارچ 1940ء کے دن لاہور میں منٹو پارک میں مسلمانان ہند کا ایک عظیم الشان اجتماع منعقد ہوا جس میں ہندوستان کے مختلف علاقوں سے مسلمانوں نے قافلوں کی صورت سفر کرکے شرکت کی اور ایک قرار داد منظور کی جس کے مطابق مسلمانان ہندنے انگریزوں سے آزادی کے ساتھ ہندوؤں سے بھی علیحدہ ریاست حاصل کرنے کا مطالبہ کیا۔

1947ء سے پہلے بھارت، پاکستان اور بنگلہ دیش برطانوی مقبوضہ علاقےتھے اور برّصغیر کے نام سے جانے جاتے تھے۔ ہندوستان کی آزادی کی تحریک کے دوران ہندوستان کے مسلمانوں نے اپنے لیے ایک علیحدہ ملک کا مطالبہ کیا۔ "پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ" اس تحریک کا مقبول عام نعرہ تھا۔ اسی مطالبے کے تحت تحریک پاکستان وجود میں آئی۔ اس تحریک کی قیادت محمد علی جناح نے کی۔اور27رمضان المبارک 14اگست 1947ءکو پاکستان معرض وجود میں آیا یوں دنیا میں دوسری اسلامی نظریاتی مملکت وجود میں آئی جبکہ پہلی اسلامی نظریاتی ریاست مدینہ المنورہ کی بنیاد نبی کریم ﷺ نے ہجرت مدینہ کے وقت رکھی تھی۔

پاکستان مدینہ شریف کے بعد دوسری ایسی اسلامی ریاست ہےجس کی بنیاد لاالہ الااللہ کی بنیاد پہ رکھی گئی تاکہ مسلمان پوری آزادی سے اسلامی احکامات پہ عمل کرسکیں ، وطن عزیز کے حصول کے لئے لاکھوں مسلمانوں نے اپنے گھربار مال مویشی چھوڑے، ہزاروں بیٹیوں بہنوں کی عصمتیں لوٹ لی گئیں، معصوم بچے نیزوں میں پرودیئےگیے، تقریباََ پانچ لاکھ سے زائد شہداء کےمقدس لہونے اس ارض پاک کی بنیادیں مستحکم کیں، پوری پوری ٹرینیں لاشوں کی بھری ہوئی پاکستان پہنچیں، سینکڑوں مساجد کو مندروں میں بدل دیا گیا جہاں توحید کی اذانیں گونجتی تھیں وہاں بھجن اور اشلوک گائے جانے لگے، ہندو اور سکھوں نے بربریت کی ایسی مثالیں قائم کیں جن کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی، خود راقم کا آدھے سے زیادہ خاندان مٹا دیا گیاہمارے دادا جان اپنے خاندان کی حفاظت کرتے ہوے بےدردی سے شہید کر دییے گیے لٹا پٹا خاندان کس طرح سے پاکستان پہنچا یہ ایک المناک داستان ہے ایسی ہزاروں لاکھوں داستانیں ہمارے اردگرد بکھری ہوئی ہیں۔ ہمارے بزرگوں نے کتنی قربانیوں سے یہ پاک وطن حاصل کیا اور ان کے نزدیک اسکی قدر و اہمیت کیا ہے شائدآج کی نوجوان نسل اس سے نابلد ہے۔ مادر وطن کی یہ دگرگوں حالت دیکھ کے ان بزرگوں پہ کیا گزرتی ہوگی، جنہوں نے اس وطن کو حاصل کرنے کے لئے اپنا سب کچھ قربان کردیا ۔ یہ ارض پاک جس نظریے اورمقصدکےلئے حاصل کیاگیا تھا آج وہ نظریہ اور اس کے ماننے والے مفقود ہوتے جا رہے ہیں، ہندوستانی فلموں کا لچرپن اور بے حیائی بڑی تیزی سے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے، ٹیلی ویژن پہ بیہودہ ڈرامے، ذومعنی مکالمے اورگھٹیا اشتہارات ہماری تہذیب کو نگلتے جارہے ہیں۔ گراں فروشی، جسم فروشی، سود ، رشوت اور جھوٹ جیسی لعنتیں ہماری زندگی کا حصہ بن چکی ہیں۔ لسانیت اورصوبائیت کا ناگ ایک بار ڈس چکا مزید شعلوں کو ہوادی جارہی ہے ایک اللہ ایک نبی اور ایک کتاب کے ماننے والے پنجابی پٹھان سندھی اوربلوچی تو ہیں مگر مسلمان اورسچے پاکستانی کیوں نہیں؟

یہ بھی پڑھیں:   بدل جاتی ہیں تقدیریں، لیکن … رسول بخش رئیس

اسلام کے نام پہ حاصل کئے گئے اس ملک میں اسلام ہی اجنبی بنتا جارہا ہے گھرگھر میں بجتے ہندی گانے اورفلمیں نظریہ پاکستان اوربانیان پاکستان کا مذاق اڑا رہے ہیں ہمارے بزرگ اپنے لہو سے آزادی کی تاریخ رقم کرکے یقیناََ سرخروٹھہرے مگر کیا ہم نے انکی قربانیوں کا حق ادا کیا؟ کیا ہم نے اس زمین پہ اللہ ورسول کا نظام لانے کے لئے جدوجہدکی؟ کیا ہم نے اسے رشوت جھوٹ سودجیسی لعنتوں سے پاک کرنے کا عزم کیا؟ ہم ہر سال جوش وخروش سے اپنے قومی تہوار منانے کا اہتمام کرتےہیں مگر کیا ہم نے کبھی یہ سوچا کہ آخر ہمارے بزرگوں نے تاریخ کی سب سے بڑی ہجرت اور قربانی آخر کس مقصد کے لئے دی تھی؟ ہمیں اپنے آباء و اجداد کی قربانیوں کے اس ثمر(پاکستان ) کی قدر ومنزلت کا احساس کرنا ہوگا۔ یاد رکھیے! آزادی حاصل کرنا بڑا کٹھن کام تھا اور وہ ہمارے بزرگوں نے حاصل کرلی، اب ہمیں اس آزادی کو قائم رکھنا ہے اور آسان کام یہ بھی نہیں۔