۲۳مارچ۲۰۱۹ء، یو م آزادی اور نیا پاکستان - میرافسر امان

۲۳ ؍مارچ ۱۹۴۰ء آل انڈیا مسلم لیگ کے تحت قائد اعظم ؒ کی ولولہ انگیز انتھک قیادت میں لاہور میں منعقد ہوا تھا۔ جس میں قراداد مقاصد پاس ہوئی تھی۔ جس نے مسلمانان برصغیرکو ایک صراط مستْقیم بتا دی تھی یعنی سیدھے راستے پر چلنے کا راستہ۔ وہ سیدھا راستہ کیا تھا۔ وہ یہ تھاکہ مسلمان ایک علیحدہ قوم ہے۔ اس کا اپنا مقصد حیات ہے ۔اس کی اپنی تہذیب، تمدن، ثقافت اور کلچر ہے۔ وہ اس مقصد زندگی پر آزادانہ چلنے کے لیے پاکستان کی مانگ کر رہی ہے۔ یہ وہ مانگ ہے جو شاعر اسلام علامہ شیخ محمد اقبال ؒ کے خوابوں کی تعبیر ہے۔ جو اس کا بنیادی حق ہے۔

اس وقت ایک سوال یہ بھی تھا مسلمانوں نے برصغیر پر ایک ہزار سال سے زاہدحکومت کی تھی۔ قائد اعظم ؒ نے کہا تھا کہ برصغیر میں ہندوئوں کی ایک عرصہ سے کوئی بھی مرکزی حکومت نہیں رہی۔ مسلمانوں کو حکومت چلانے کا ہزار سالہ تجربہ تھا جبکہ ہندو اس سے نابلد تھے۔ انگریز نے برصغیر میں ہندوؤں سے حکومت چھینی تھی یا مسلمانوں سے؟ اس لیے پاکستان کی مانگ ایک حقیقی مانگ تھی۔ مگر برصغیر کی بڑی آبادی ہندوؤں نے پاکستان بننے کی مخالفت کی اور کہا کہ ہنددستان میں ایک ہی قوم رہتی ہے اور قومیں وطن سے بنتی ہیں۔ لہٰذ قائد اعظم ؒ کی علیحدہ ملک کی مانگ کا خیال درست نہیں۔ اس پر کافی بحث ہوتی رہی۔ اللہ بھلا کرے مولانا سید ابو اعلیٰ مودودی ؒ کا کہ جس نے مسئلہ قومیت لکھ کر قائد اعظمؒ کی آل انڈیا مسلم لیگ کی مدد کی۔مولانا نے ثابت کیا کہ قومیں وطن سے نہیں مشترکہ نظریات سے بنتی ہیں۔ ان مسئلہ کو آل انڈیا مسلم نے خوب پھیلایا۔ جیسے علامہ اقبالؒ نے مسلمانوںسے خطاب کرتے ہوئے بہت پہلے فرمایاتھا:۔


اپنی ملت پہ قیاس اقوام مغرب سے نہ کر

خاص ہے ترکیب میں قومِ رسول ہاشمیؐ


پہلے پہل قائد اعظمؒ بھی کانگریس میں شامل تھے۔پھر تنگ نظر ہندوئوں کو قائد اعظمؒ، کانگریس میں راہ کر صحیح طرح سے سمجھ گئے تھے۔ لہٰذا اُن کی ہر چال کا بروقت توڑ کر کیا۔ پاکستان کلمے کی بنیاد پر حاصل کر لیا گیا۔ مسلمانان برصغیر نے ایک نعرہ مستانہ لگایا کہ پاکستان کا مطلب ’’کیالا الہ الااللہ‘‘ ۔لے کے رہیں گے پاکستان اور بن کے رہے پاکستان۔مسلم ہے تو مسلم لیگ میں آ۔ جب یہ نعرہ قائد اعظم ؒ کی دلیلوں کے زور کے ساتھ عام ہو گیا۔ تو اس کے سامنے ہندو اور انگریز حکمران سرنگوں ہو گئے۔ اور دنیا کے نقشے پر ایک آزاد اسلامی مملکت پاکستان قائم ہو گئی۔

صاحبو! جس سیدھے جمہوری راستے پرچل کر بانی پاکستان قائد اعظمؒنے، پاکستان حاصل کیا تھا۔ اسی سیدھے راستے پر چل کر ہی پاکستان کے مقاصد حاصل کیے جا سکتے تھے۔ قائد اعظم ؒ نے اس کی بنیاد بھی رکھ دی تھی۔ اس کی روداد کچھ اس طرح ہے۔ وقت ٹی وی کے پروگرام میںایکر پرسن سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر اسرار احمد صاحب سربراہ تنظیم اسلامی(مرحوم) نے جنگ اخبار میں ڈاکٹر ریاض علی شاہ جو کہ قائد اعظم کے معالج تھے، کی ڈائری کے حوالے سے کہا کہ موت کے آخری دنوں میں قائد اعظم ؒ بیماری سے بہت کمزور ہو چکے تھے اور زبان پر کچھ آتا تھا۔ مگر بول نہیں سکتے تھے ۔ہم نے اُن کو دوائی دی کہ کچھ نہ کچھ گفتگو کر لیں۔ جو کچھ بھی بولنا چاہتے ہیں وہ بول لیں۔ کیونکہ یہ قوم کی امانت ہے اور راہ جائے گی تو قومی نقصان ہو گا۔ ہم نے قائد اعظم ؒ کو اس مقصد کے لیے داوئی دی۔ اس کے استعمال کے بعد جو قائد اعظم ؒ نے جو جملے کہے وہ یہ ہیں۔ جو اخبار جنگ کی اا؍ستمبر ۱۹۸۸ء کی اشاعتِ قائد اعظم ؒ کی چالیسویں برسی کے موقع پر مضمون شائع ہوا تھا میں بیان کئے گئے ہیں۔’’ڈاکٹر پروفیسر ریاض علی شاہ کی ڈائری کا صفحہ‘‘ کے حوالے سے قائد اعظم کی گفتگو جو ڈاکٹر پروفیسر ریاض علی شاہ اور کرنل الہی بخش کی موجودگی میں قائد اعظم ؒ نے موت سے دو دن پہلے کہا تھا وہ یہ ہے’’آپ کو اندازہ نہیں ہو سکتاکہ مجھے کتنا اطمینان ہے کہ پاکستان قائم ہو گیا اور یہ کام میں تنہا نہیں کر سکتا تھا جب تک رسول ؐ ِ خدا کا مقامی فیصلہ نہ ہوتا۔ اب جبکہ پاکستان بن گیا ہے۔ اب یہ لوگوں کا کام ہے کہ خلفائے راشدین ؓ کا نظام قائم کریں۔‘‘ مگر قائد اعظم ؒ کی زندگی نے وفا نہ کی اور جلد اپنے اللہ کے پاس چلے گئے۔

اس سے قبل جن کو قائد اعظم ؒ نے ایک موقعہ پر کھوٹے سکے کہا تھا وہ واقعی کھوٹے سکے ثابت ہوئے۔ اور وہ صراط مستقیم گم کر دی گئی۔ اس میں وہ تمام اسلام اور پاکستان مخالف عناصر شامل ہو گئے تھے۔ جو تحریک پاکستان کے دوران دھوکے سے مسلمانوں کے بناوٹی لیڈر بن گئے تھے۔ وہ قائد اعظم ؒ کی وفات کے بعد کھل کر سامنے آ گئے۔ کبھی کہا پاکستان مسلمانوں کی اقتصادی حالت سدھارنے کے لیے حاصل کیا گیا تھا ۔کیونکہ ہندو برصغیر کی تجارت پر قابض تھے۔ اورکبھی کہا گیا کہ سیکورلزم کی بنیاد پر پاکستان حاصل کیا گیا تھا وغیرہ ۔جھوٹ موٹ سے قائد اعظم ؒ کو سیکولر ثابت کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زرو لگا دیا اور پاکستان کی سیدھی راہ کو گم کرنے کی کوشش کی جو کوششیں اب بھی جاری ہے۔ مگر اب عمران خان کی حکومت نے قائد اعظم ؒ وژن کے مطابق پاکستان کے مدینے کی فلاحی اسلامی ریاست بنانے کو اعلان کر رکھا ہے بلکہ اس پر عمل بھی شروع کر دیا ہے۔ پاکستان کی عوام نے انتھک کو شش کر کے پاکستان کا نام دنیا میں روشن کیا۔ اگر اندرون ملک معاش نہ مل سکی تو دنیا کے ملکوں میں جا پہنچے اور کثیر زر مبادلہ کما کر پاکستان بھیجا جس سے پاکستان نے ترقی کی۔

پاکستان کی مسلح افواج نے بھی ملک کی ترقی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ ہر مشکل اور قدرتی آفات کے موقعے پر عوام کی خدمت کی شامل ہوئے۔ وہ سیلاب ہو یا زلزلہ ہو۔ فوجیوں کی فلاح بہبود کے لیے لا تعداد ارے قائم کئے۔ جو آج بھی مسلح افواج کے ریٹائرڈ افراد کی مدد کر رہے ہیں۔ پاکستان کے سائنسدانوں نے کم وسائل اور دشمن قوتوں کی مخالفت کے باوجود پاکستان کو اسلامی دنیا کی پہلی اور دنیا کی ساتویں اعلانیہ ایٹمی قوت بنا دیا۔ پاکستان کی مسلح افواج نے چین کی مدد سے خود تھنڈر لڑاکا جہاز تیار کیے جو پاکستان کی سرحدوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ بھارت کے جہازوں کو اسی تھنڈر جہاز نے مار گرایا ہے۔ میزائل ٹیکنالوجی میںترقی کے منازل طے کرتے ہوئے ۔پھر اس ملکِ پاکستان میں غوری میزائل بنا پھر شاہین میزائل کی سیریز حتف ون حتف ٹو اور پھر یہ سلسلہ جاری ہو گیا۔ سائنسدانوں نے ملک کو ناقابل شکست بنا دیا۔

اس سال بھی ۲۳؍ مارچ کو پاکستان نے اپنی قوت کامظاہرہ کرکے اپنے دشمنوں کو خوف زدہ کیا۔ کچھ دن پہلے بھارت نے لائن آف کنٹرول پر بھارت چھیڑ چھاڑ کے ساتھ پاکستان پر حملہ بھی کر دیا۔ ہماری بہادر فضائی فوج نے بھارت پر جوابی وار کر کے اس کے دو ہوائی جہاز مار گرائے۔ ایک پائلٹ کو گرفتار کر یا۔بھارت نے منہ کی کھائی۔ اب بھی دہشت گرد مودی پاکستان پر پھر حملے کی دھکمیاں دے رہا ہے۔ بھارت کی اپوزیشن کہتی ہے مودی الیکشن جیتنے کے لیے خود پلومہ کی طرز کا کوئی دہشت گردانہ کاروائی کرے گا۔ پاکستان دشمنی میں اپنی سیٹیں بڑھائے گا۔وزیر اعظم نے اعلان کیا ہے کہ اگر پھر حملہ کیا گیا تو اسی طرح جواب دیا جائے گا۔ اللہ کا شکر ہے اب فوج اور حکومت اور پوری قوم ایک پیج پر ہے۔ پاکستان نے امریکا سے بھی کہہ دیا گیا کہ ہم پرائی جنگ نہیں لڑیں گے۔ ہم نے دنیا میں سب سے زیادہ قربانیوں دیں ہیں اب دنیا ڈو مور کرے۔