سانحہ کرائسٹ چرچ کی شام لاہور میں رقص و موسیقی کی محفل - محمد عرفان ندیم

15 مارچ 2019ء کی شام کرائسٹ چرچ سانحے کو ابھی چند گھنٹے ہی گزرے تھے، دنیا کے ساڑھے سات ارب انسان کرائسٹ چرچ سانحے کے سوگ میں ڈوبے ہوئے تھے، کمزور سے کمزور ایمان والے مسلمان بھی کرب اور اضطراب میں مبتلا تھے۔ ہر طرف غم و غصہ تھا اور دنیا کے دو ارب مسلمانوں کے دل کرائسٹ چرچ میں شہید ہونے والے مسلمانوں کے لیے دھڑک رہے تھے۔ اس شام میں لاہور کی ایک پرائیویٹ یونیورسٹی میں موجود تھا، یونیورسٹی انتظامیہ کی طرف سے فیکلٹی ممبرز اور اسٹاف کے لیے سالانہ ڈنر کا اہتمام کیا گیا تھا، میں کسی وجہ سے ڈنر میں شریک نہیں ہو سکا، اگلے دن پروگرام کی ویڈیوز دیکھیں تو دل ڈوب گیا۔ پروگرام میں میوزک بھی چلا اور رقص و سرود بھی جاری رہا، ڈرامے بھی پیش کیے گئے اور میوزک کی دھنوں پر شور بھی مچتا رہا۔ اس محفل میں شریک کسی ایک فرد نے بھی یہ کیوں محسوس نہیں کیا کہ دنیا کے ساڑے سات ارب انسان اس وقت سوگ کی کیفیت میں مبتلا ہیں اور ہمیں یہ سب زیب نہیں دیتا، میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ اس رات اس طرح کی تقریبات پاکستان کے دیگر اداروں میں بھی جاری و ساری رہی ہوں گی۔ ایک ادارے کی مثال دے کر دیگ میں سے چاول کا ایک دانہ نکال کر آپ کے سامنے رکھ دیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہم وہ دکھ، درد، کرب اور اضطراب کیوں محسوس نہیں کر سکے جس میں پوری دنیا مبتلا تھی، جواب میں آپ کو بعد میں دوں گا۔

آپ دوسری مثال دیکھیں ، 15 مارچ کو کرائسٹ چرچ کا سانحہ ہوا اور 16 اور 17 مارچ کو ساری دنیا شہید ہونے والے مسلمانوں سے اظہار یکجہتی کے لیے باہر نکل آئی، نیوزی لینڈ میں ہزاروں لوگ متاثرہ مساجد کے باہر پھول لے کر جمع ہو گئے دعائیہ تقریبات ہوئیں اور ان میں نیوزی لینڈ کے ہزاروں غیرمسلموں نے شرکت کی، فرانس نے ایفل ٹاور کی روشنیاں گل کر دیں ، یورپ اور امریکہ میں لوگ مسلمانوں کی حمایت میں سڑکوں پر نکل آئے۔ دنیا کے ساڑھے سات ارب انسان غم اور سوگ کے سمندر میں ڈوبے گئے لیکن دنیا کی واحد اسلامی ایٹمی طاقت میں پی ایس ایل کے نام پر رقص و سرود جاری تھا، بے ہنگم میوزک تھا، اسٹیج پر جسم تھرتھرا رہے تھے اور سارا اسٹیڈیم بے خود ہو کر رقص میں شریک ہوا جاتا تھا۔ رہی سہی کسر صدر پاکستان، آرمی چیف اور وزیر اعلیٰ کی شرکت نے پوری کر دی تھی۔ مقننہ اور انتظامیہ کی نمائندہ شخصیات کی شرکت نے گویا حسن ظن کے لیے کوئی جگہ نہیں چھوڑی تھی۔ ثابت ہو گیا تھا کہ اس تقریب میں جو کچھ ہوا اسے ریاستی سرپرستی حاصل تھی اور کرائسٹ چرچ میں قیامت صغری برپا ہونے کے باوجود ہم ریاستی سطح پر اس سے لاتعلق تھے۔

پھر کچھ ایسے دانشور بھی سامنے آئے جنہوں نے اس ریاستی موقف کو فکری و نظریاتی بنیادیں فراہم کیں کہ دنیا کے کسی کونے میں اگر کوئی سانحہ رونما ہوتا ہے تو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ ہم اپنی روٹین کو بدل ڈالیں۔ دنیا کے ایک کونے میں ایک سانحہ رونما ہوا،ہم اس پر اظہار افسوس کر چکے اور بس۔ہمیں اس سانحے کو لے کر اپنی رقص و سرود کی محفلوں کو ختم نہیں کر دینا چاہئے۔سوال یہ ہے کہ ہم ریاستی سطح پر وہ اخلاقی اور ذمہ دارانہ پوزیشن کیوں نہیں لے سکے جس کی ضرورت تھی اوراس سے بڑھ کر یہ کہ ہم نے کرائسٹ چرچ سانحے کے متاثرین کے ساتھ ہمدردی کی بھی تو ہم نے دعا کی بجائے ایک منٹ کی خاموشی کیوں اختیار کی، ہم ان کے لیے ہاتھ ا ٹھا کر دعا کیوں نہیں کر سکے ، ہماری ریاستی سطح کی یہ سوچ اور نفسیات کیا ظاہر کرتی ہیں اور ہم ایک مہذب اور مسلمان ملک کے شایان شان رویے کا مظاہرہ کیوں نہیں کر سے ان سب سوالوں کے جواب بھی میں آپ کو بعد میں دوں گا۔

آپ تیسری مثال دیکھیں، اس مثال کا تعلق کرائسٹ چرچ سانحے سے نہیں ہے لیکن موضوع کی مناسبت سے میں اسے یہاں ذکر کر رہا ہوں ، کچھ دن قبل میں نے ٹک ٹاک کے عنوان سے ایک کالم لکھا جس میں واضح کیا کہ کس طرح ٹک ٹاک ایپ کے ذریعے ہماری سوسائٹی اور نوجوان نسل کو دین سے دوری اور بےحیائی و فحاشی میں مبتلا کیا جا رہا ہے۔ کس طرح اس ایپ کے ذریعے دین کا مذاق اڑایا جاتا ہے اور نوجوان نسل اپنا وقت اور اپنی جوانیاں ضائع کر رہی ہے۔ میرا یونیورسٹی اور کالجز کے اسٹوڈنٹس سے واسطہ رہتا ہے، اس کالم کو پڑھنے کے بعد کچھ اسٹوڈنٹس نے بےزاری کا اظہار کیا کہ آپ نے ٹک ٹاک پر کیوں کالم لکھا، یہ اتنی اچھی ایپ ہے جس میں آپ اپنی مرضی کے ایکٹر اور ایکٹرس کی نقل اتار سکتے ہیں، اپنی پسند کے گانے پر ڈانس کر سکتے ہیں اور اپنی چھپی صلاحیتوں کو منظر عام پر لا سکتے ہیں۔ رہا بے حیائی اور فحاشی کا سوال تو یہ سب فضول تصورات ہیں اور اس سے ہمیں کیا فرق پڑتا ہے۔ ان کا کہنا یہ تھا کہ یہ ایک بہترین ایپ ہے جسے نوجوان نسل بہت انجوائے کر رہی ہے اور اس پر کسی قسم کی کوئی قدغن نہیں ہو نی چاہیے۔

چلتے چلتے ایک اور مثال دیکھ لیں، چند دن قبل اسلام آباد سے ہمشیرہ کی کال آئی کہ وہ اپنی بیٹی لائبہ جو پہلی کلاس کی اسٹوڈنٹ ہے، اس کی تربیت کے بارے میں کچھ فکرمند ہیں، کہنے لگیں کہ کہیں نہ کہیں مجھے ایسا لگتا ہے کہ اس کی صحیح رخ پر تربیت نہیں ہو رہی حالانکہ میں نے اسے ایک اچھے سکول میں داخل کروایا ہے، سکول چلانے والی خاتون رشتہ دار بھی ہیں اور قابل اعتماد بھی۔ میں نے پوچھا اسکول کی سرگرمیوں کے بارے میں کچھ بتائیں اور بتائیں بیٹی کس طرح کی سرگرمیوں میں حصہ لیتی ہے۔ کہنے لگیں کہ بیٹی ابھی چھوٹی ہے، پہلی کلاس میں ہے، کبھی کبھار سکول فنکشنز میں حصہ لیتی ہے، پچھلے سال رزلٹ ڈے کے موقع پر ایک ٹیبلو میں بھی حصہ لیا تھا جس میں تھوڑا بہت ڈانس بھی شامل تھا لیکن یہ تو بچی ہے اس کو ان چیزوں کا کیا پتا۔ میں نے عرض کیا کہ فی الحال آپ ایسا کریں بچی کوسکول میں صرف پڑھنے کے لیے بھیجیں، اس کے علاوہ باقی ہر قسم کی سرگرمیوں میں شرکت پر پابندی لگا دیں، میں نے ان کو یہ مشورہ کیوں دیا اس کا جواب دینے سے پہلے میں چند مزید سوالات آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔

کیا ہم نے کبھی سوچا کہ آج کل ہمارے اور ہماری نوجوان نسل کے ہیروز کون ہیں؟ ہماری نوجوان نسل آج کس کو اپنا ہیرو سمجھتی اور اس جیسے زندگی اپنانے کی خواہش مند ہے؟ ہمارے لٹریچر میں کن شخصیات کو ہیرو بنا کر پیش کیا جا رہا ہے؟ ہمارا ڈرامہ ، فلم انڈسٹری کس طرح کے کلچر کو پروموٹ کر رہی ہے؟ ہمارے مارننگ شوز میں کس طرح کی گفتگو ہوتی ہے؟ ہمارے ایف ایم ریڈیوز اور ان کے پروگرامز میں کس طرح کی زبان استعمال کی جاتی ہے؟ گفتگو کے موضوعات کیا ہوتے ہیں؟ کس طرح کے مہمانوں کو ان پروگرامز میں بلایا جاتا ہے اور کن شخصیات کو ہیرو بنا کر پیش کیا جاتا ہے؟ لائیو کالز میں کس طرح کی گفتگو ہوتی ہے اور کس طرح کے گانے چلائے جاتے ہیں؟ ہمارے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا میں جو ڈرامے اور پروگرامز پیش کیے جاتے ہیں ان میں مرد و عورت کے جو کردار ہوتے ہیں ان کا لباس، ان کی وضع قطع اور ان کے فیشن کا انداز کیا ہوتا ہے؟ ہمارے ہاں مروج فیشن کا تصور کیا ہے اور یہ کہاں سے آرہا ہے؟ ہماری نوجوان نسل خصوصا لڑکیوں میں فیشن کے جو جدید تصورات آئے ہیں جس میں ناخنوں کو بہت حد تک بڑھانا، تنگ لباس پہننا، بال کٹوانا اور خوبصورت دکھنے کے لیے طرح طرح کے فیشن اختیار کرنا، یہ سب تصورات کیوں اور کہاں سے آئے؟ اسی طرح لڑکوں کے فیشن کا تصور جس میں سر کے بالوں کا انداز، ڈاڑھی اور خط کا فیشن، تنگ اور پھٹی ہوئی جینز کا عام ہونا اور شادی بیاہ کے لباس کا فیشن یہ سب تصورات کہاں سے آئے اور اس کے نتائج کیا نکل رہے ہیں؟ چند مزید سوالات اور ان کے جوابات میں آپ کو اگلے کالم میں دوں گا ۔

Comments

محمد عرفان ندیم

محمد عرفان ندیم

محمد عرفان ندیم نے ماس کمیونیکیشن میں ماسٹر اور اسلامیات میں ایم فل کیا ہے، شعبہ تدریس سے وابستہ ہیں اور او پی ایف بوئز کالج اسلام آباد میں بطور لیکچرار فرائض سرانجام دے رہے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.