یوم پاکستان کا سبق - محمد عنصر عثمانی

ہم دور جدید اور گلوبائزیشن کی دنیا میں رہنے کے باوجود 23مارچ کا سبق نہیں بھولے ۔ہم میں پاکستانیت ویسی موجود ہے جیسی 23 مارچ 1940ء کوتھی ۔پاکستانی قوم ہر سال23مارچ کے دن کو تاریخ کے عظیم ترین دن کے طور پر مناتی ہے ۔اس دن قائد اعظم محمد علی جناح کی خداد اد قابلیت ،سیاسی فہم وفراست، عزم و جرات ، یقین محکم اور عمل پیہم سے ایک نئی مملکت نے دنیا کے نقشے کو اپنے وجود سے روشناس کرایا تھا۔23 مارچ وہ دن ہے جب ہم نے انگریز کی غلامی سے نجات پائی اور ایک قوم بن کر تاریخ کا رخ موڑنے کے لیے متحد ہوئے تھے۔ تب بر صغیر کے مسلمانوں کو زمین کے ایک ایسے ٹکڑے کی ضرورت تھی جہاں وہ مکمل آزادی کے ساتھ ایک آزاد ریاست کے سائے میں اپنی زندگی گزار سکیں ۔ جہاں انہیں واضح اسلامی نصب العین ملے ۔

مسلمان ایسی مٹی میں جینے کے خواہاں تھے جس کی خوش بو موت تک ان کی زندگیوں میں رہے اور ان کی آنے والی نسلوں کو غلامی کی زنجیروں سے بچا سکے۔مسلمان ایسی سرحد کے متمنی تھے جس کی جغرافیائی ، نظریاتی لکیروں کی حفاظت کے لیے وہ خون کا آخری قطرہ تک بہا دینا عین عبادت سمجھتے ہوں۔اسی جذبے سے سرشار مسلمان یک جا ہوئے ۔ مسلمان جو تتر بترتھے۔ٹولیوں میں بٹے ہوئے تھے۔23 مارچ 1940 ء مسلمانوں نے قومی نظریے کی تکمیل کی۔مسلمان ایک قوم بن کر سامنے آئے۔بادشاہی مسجد کے قریب ایک وسیع و عریض میدان کا انتخاب کیا گیا۔مسلمانوں کو اپنے فیصلے کے دورس نتائج و ثمرات نظر آرہے تھے ۔23 مارچ 1940 کے دن بنگال کے مولوی فضل حق نے لاکھوں مسلمانوں کی موجودگی و تائید سے قرارداد پاکستان پیش کی ۔اس قرارداد سے مسلمانوں کی قسمت کا پانسہ پلٹ گیا۔ادھر مسلمانوں نے آزادخطے کی جد وجہد کا اعلان کیا اور ادھر آل انڈیا مسلم لیگ کے رہنما ء تکمیل پاکستان کے لیے سر جوڑ کربیٹھے گئے ۔یہ بڑے کٹھن لمحات تھے کیوں کہ پوری دنیا جنگ عظیم دوئم کی لپیٹ میں تھی اوربرصغیر کے مسلمان خود مختاری کی جنگ لڑ رہے تھے۔

قرارداد پاکستان کی منظوری سے وائے سرائے ہند ’’لارڈ ویول‘‘ نے جب پاکستان کی مضبوط بنیادیں دیکھیں تو سیاسی فساد سے بچنے کے لیے انتخابات کرادیے۔مسلم لیگ فتح حاصل کرکے حصول پاکستان کے قریب ہو گئی۔مسلمانوں کو خان لیاقت علی خان اور قائد اعظم محمد علی جناح کی صورت مضبوط رہنما میسر تھے ۔ان رہنمائوں کی روحانی استعداد کی آب یاری بر صغیر کے علماء کررہے تھے ۔اکتوبر 1946ء کو عبوری حکومت کے قیام کے بعد مسلمانوں کی قیادت لیاقت علی خان صاحب کے سپرد کردی گئی ۔سیاسی محاذوں پر قائد اعظم محمد علی جناح سینہ سپر تھے ۔ان کے دست بازو علماء ہند کی سیاسی بصیرت نے اس تحریک کو چار چاند لگا دیے۔ 3 جون کو تقسیم ہند کے منصوبے کااعلان ہوا اور بالآخر 1857 سے 23 مارچ 1940ء تک آزادی کے لیے شہیدہونے والوں کا خون رنگ لایا ۔مسلمانوں کی امیدیں بر آئیں ۔اور 14 اگست 1947ء کودنیاکے سامنے مسلمانوں کی نمائندہ اسلامی ریاست معرض وجود میں آئی۔

23 مارچ ایک داستاں رقم تاریخ ہے ۔یہ دن اقوام پاکستان کی آزادی کا سجدہ گاہ ہے ۔اس دن پاکستان کے خد خال ترتیب پائے گیے۔لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ اکابرین قوم نسل ِ نو کو قرارداد پاکستان کا مآخذ بتائیں۔اس دن کا مفہوم و مقصد سمجھائیں۔ تا کہ ستاروں پہ کمند ڈالنے والے یہ نوجوان اپنی تاریخ سے صحیح معنوں میںآگاہ ہو سکیں ۔ وطن عزیز کے ان ہنرمندوں کو قائد کے اقوال، اقبال کے افکار اور شہیدوں کی قربانیوں کے قصے سنائے جائیں ۔ ان ستاروں کو تابندہ رکھنے کی اشد ضرورت ہے ۔انہیں بتایا جائے کہ ہمارے بزرگوں نے ہمیں آزاد وطن کی آزد فضاؤں میں آزادی کی سانسیں دینے کے لیے قیامت نما تکالیف برداشت کی۔ آزادی کی خاطر انہوں نے سب سے پہلے فکری، نفسیاتی، جذباتی محاذوں پر جنگیں لڑیں۔ ان کی جاں گسل محنتوں ، شب و روز کی قربانیوں اور روح فرسا مشکلات و مصائب کا اندازہ لگا نا محال اور چشم تصوررونگٹے کھڑے کر دیتا ہے ۔وطن کی ترقی و کامرانی انہیں اپنی جان سے زیادہ عزیز تھی۔ آج کے پاکستان کا مسلمان جس طرح مذہبی، ثقافتی اور تہذیبی سطح پر متصادم ،آپسی عتاب کا شکار ہے کیاان کو ایک قوم کہنا قرینِ انصاف ہوگا؟

وہ خواب جو ہماری قیادت نے پاکستان کے لیے دیکھا تھا اس کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لیے اپنے ساتھ نوجوان نسل کو بھی تیار کرنا وقت کا تقاضا ہے ۔پاکستان کے وجود کی بقاء اور اس کی ترقی کو بامِ ِعروج پہ لے جانے کے لیے ناممکنات کو دور پھینکنا ہوگا ۔عملی میدان میں ہر فرد واحد کو ارض وطن کے گوشے گوشے، ذرے ذرے کی خاطر خود کو پیش کرنا ہوگا ۔حصولِ علم کے ذرائع کو اسلامی تعلیمات سے آراستہ و پیراستہ کرنا ہوگا کیوں کہ اسلامی تعلیم ہی اس ملک کی حفاظت کی ضامن ہے ۔سیاسی قیادت کو محاذ آرائی اور اقربا پروری سے چھٹکارا پانا ہو گا۔ ہمیں ایسی’’ ایڈیشن نیشنل‘‘ پاکستانی سوچ پر فکری عمل کرنا ہوگا جس میں بلا تفریق ہرپاکستانی ،پاکستانی ہو۔تاکہ آج کے پاکستان کی بقاء مضبوط سے مضبوط تر کی جا سکے۔ہم سیاسی ، مذہبی ، ثقافتی، تہذیبی جھگڑوں کو بھلا کر ہی 23 مارچ کا سبق یاد کر سکتے ہیں۔وگرنہ ہم آندھی میں اخبار کا کاغذ بن جائیں گے۔