یہ امّت روایات میں کھو گئی! اختر شریف

ایک زمانہ تھا جب سارے عالَم پر جہالت اور بےعلمی کی تاریکی چھائی ہوئی تھی۔ ہر طرف ظلم کا دور دورہ تھا۔ نا انصافی اپنے عروج پر تھى۔ انسان، انسانوں کے غلام بنے ہوئے تھے۔ انسانی خواہشات کو خدا بنایا گیا تھا۔ لوگ خدا کو بھول گئے تھے۔ اللہ‎ کی حکمرانی کے بجائے، خواہشات و جذبات کی حاکمیت تھی۔ انسانیت زوال کا شکار تھى۔ انسانیت کو مذہب کے نام پر یرغمال بنایا جا چکا تھا۔ لوگوں کو ذات پات کی بنیاد پر تقسیم کیا گیا تھا۔ کئی معاشروں میں عورت کو انسان کیا بلکہ حیوانوں سے بدتر سمجھا جاتا تھا اور اکثر انسانی حقوق سے محرم رکھا گیا تھا۔

دنیا کا نظم و ضبط، انسانی عقل کے مطابق چل رہا تھا۔ جس کا کوئی مقصد اور نہ ہی کوئی منزل نمایاں تھا۔ خالق کائنات سے مجموعی طور قطع تعلقی کی جا چکی تھی۔ ساری نظام زندگی، خالق کائنات کے احکامات کے بر عکس چل رہی تھی۔ چاہے وہ عبادات ہو، سیاست ہو، معاشرت ہو، عدالت ہو یا پھر وہ معیشت ہو، غرض ہر چیز سماوی علم کی اطاعت سے خالی تھى۔

مگر پھر اسلام کا آغاز جہالت میں ڈوبی ہوئی اس سرزمین سے ہوتا ہے، یعنی جزیرہ عرب سے۔ اسلام جزیرہ عرب میں ایک نمایاں انقلاب برپا کرتا ہے۔ انسان کو انسانوں کی غلامی سے نجات دلا کر، ایک اللہ‎ کی غلامی کا تابع بنا دیتا ہے۔ جاہلیت کی رسوم و رواجات کو ختم کر کے قرانی تعلیمات سے روشنی پھیلا دیتا ہے۔ زندگی کے ہر ایک شعبے میں ایک انقلاب برپا کر دیتا ہے۔ انسان کو ایک پاکیزہ نظام حیات سے نواز دیتا ہے۔ تجارت، سیاست، معیشت، عبادت اور عدالت غرض ہر ہر شے کو بدعت و خرافات سے پاک کر کے سماوی علوم کا تابع بنا دیتا ہے۔ یوں اسلام ایک پاکیزہ معاشرہ تعمیر کر دیتا ہے۔ یہ اسلامی تعلیمات ہی تھیں جنہوں نے جاہل اور بے روح عربوں میں ایک نئی روح پھونک دی۔ جنہیں ایک ڈرامائی انداز میں پست ترین سطح سے اونچی مقام تک پہنچا دیا۔ یوں مسلمان ایک امّت بن کر ابھر گئے۔ ساری دنیا کے لئے ایک مثال قائم کر گئے۔ ہر چیز میں ترقی کرنے لگے ۔ آدھی دنیا کے حکمران بن گئے۔ اللہ‎ کی ملکیت پر اللہ‎ کا حکم چلنے لگا۔ آدھی زمین كو شرک، خرافات، کفر اور بدعتوں سے پاک کیا گیا۔ انسانوں کو انسانوں کے بنائے گئے غلامانہ قوانین اور رسومات سے آزاد کیا گیا۔ پوری دنیا پر اسلام کا روب و دبدبہ چھا گیا۔ بادشاہوں اور مذہبی پیشواہوں کے ہاتھوں یرغمال بنے مظلوموں کو اسلام کی صورت میں ایک مدد اور نصرت ملنے لگی۔

یہ بھی پڑھیں:   نرم روی، اسلامی تعلیمات کیا ہیں - ڈاکٹر میمونہ حمزہ

تاریخ نے ایسے مناظر بھی دیکھے کہ صرف ایک عورت کی پکار پر پوری کی پوری فوجیں تشکیل دی گئی۔ "کنتم خیر امت" کے مصداق بن کر لوگوں کو برائیوں، کفر اور ظلم کے نظام سے آزادی دلا کر اللہ‎ کا نظام نافذ کرنے لگے۔ حتی کہ ایک ایسا دور بھی آیا کہ بر اعظم افریقہ میں کوئی زکوۃ لینے والا نہیں تھا۔ علم و حکمت اپنے عروج کو پہنچ گئی۔ یوں لگا جیسے دنیا صدیوں سے جمود کا شکار تھی اور ایک دم اس میں جان آگئی اور وہ حرکت کرنے لگی۔ حالات و واقعات سے یہی لگ رہا تھا کہ اسلام کی روشنی جس تیزی کے ساتھ پھیل رہى ہے، پوری دنیا پر چھا جائے گى۔ باوجود اس کے درمیان میں بہت سے اونچ نیچ آئے مگر ان سب کے باوجود ریاست اسلامیہ مسلسل رفتار کے ساتھ پھیلتی جا رہی تھی۔ وقت کے سپر طاقتوں کو زیر کر گئی تھی۔ اس وقت کے عیسائی سلطنت روم اور آتش پرست ایران میں اسلام کا بول بالا ہوگیا تھا۔

مگر پھر یوں ہوا، وہ عظیم الشان امّت زوال اور پستی کا شکار ہونے لگی۔ اسلام سے دور ہونے کے نتیجے میں علم و حکمت سے دور ہوتی چلی گئی۔ زمین پر جو مالک الملک کا خلیفہ بن کر آیا تھا اور جس کے ذمے دنیا کی حکمرانی تھی، وہ خلافت اور حکمرانی سے دستبردار ہو کر سکونت اختیار کرنے لگا۔ وہ جو تلوار کے سائے میں نمازیں ادا کرتے تھے اب پہاڑوں میں جا کر روحانیت کے لیے روہبانیت اختیار کرنے لگے۔ زوال و پستی کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ اسلام کا فہم بطور ایک نظریہ اور ضابطہ حیات کمزور ہونے لگا۔ جس کی وجہ یہ تھی کہ امّت عربی زبان سے دور ہوتی چلی گئی۔ اور عربی امّت کے لیے اجنبی زبان بن گئی۔ چونکہ، قرآن عربی میں نازل ہوا تھا۔ اکثر مسلمان قرآن کو سمجھنے سے قاصر ہوگئے۔ قرآن کا علم و فہم کمزور ہوگیا۔ امّت جمود کا شکار ہوگئی۔ اجتہاد کے دروازے بند ہوگئے۔ یوں ایک عظیم الشان دین، جو کہ ساری عالم کے لئے نظام حیات کا نسخہ بن کر اترا تھا، عبادت و رسومات تک محدود ہو کر رہ گیا۔ پھر نئے نئے رسومات دین میں داخل ہوتی چلی گئیں جن کا سرے سے اسلام سے کوئی تعلق ہی نہیں تھا۔

یہ بھی پڑھیں:   مدرسہ ڈسکورسز کا فکری اور تہذیبی جائزہ - محمد دین جوہر

اسلام کے زوال کی صورت میں دنیا پر رہبری اور حکمرانی کی کمان مسلمانوں سے چھن کر کفار کے ہاتھوں میں چلی گئی۔ خلافت اسلامیہ ٹکڑوں میں تقسیم در تقسیم ہوگئی۔ مسلمان بے یار و مدد گار ہو گئے۔ کفار کے ہاتھوں لوٹ مار اور ظلم کا شکار ہونے لگے۔ غلامی اور بدنامی انکی مقدار بن گئی۔ پوری دنیا پر کفر کا غلبہ ہونے لگا۔

آج پھر جاہلیت سرگرم ہے بلکہ ایک جدید شکل میں۔ بلکہ آج کی جاہلیت پہلے سے ہزاروں گناہ شدید اور تاریک تر ہے۔ ظلم و بربریت اپنے عروج پر ہے۔ خواتین کا جو مقام اس زمانے میں تھا آج اس سے ابتر ہے۔ پوری دنیا کو مٹھی بھر سرمایہ داروں نے یرغمال بنایا ہوا ہے۔ دنیا میں اخلاقیات ناپید ہو چکی ہے۔ ہر چیز کو مادی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ مالک کائنات کی حاکمیت و ملکیت کو کھلے عام چیلنج کیا جا رہا ہے۔ شراب، زنا، جھوٹ، فریب، ملاوٹ، دھوکہ اور حرام خوری جیسے چیزیں کوئی برائی نہیں سمجھی جاتی۔ مسلمان آلو اور گاجر کی طرح کاٹے جا رہے ہیں۔ بالآخر، دنیا آج پھر تباہی کی دہانے پر آ کھڑی ہے۔ دنیا کو آج پھر اسلام کی ضرورت ہے۔ آج پھر امّت مسلمہ کو "کنتم خیر امّت" کا مصداق بننا پڑےگا۔ آج پھر امّت کو جاگنا پڑےگا۔ کیوں کہ اب کی بار جاہلیت کو ختم کرنے اور اسلام کے نفاذ کے لیے کوئی نبی یا رسول نہیں آنے والا، بلکہ اسی امّت کو اٹھنا پڑےگا!