اظہار تشکر نیوزی لینڈ و دیگر غیر مسلموں کے لیے - ابوحسن

سنن ترمذی میں یہ حدیث درج ہے کہ سیدالاولین و الاخرین ﷺنے فرمایا: مَنْ لاَّ یَشْکُرِ النَّاسَ لَا یَشْکُرِ اللّٰہَ ’’جو لوگوں کا شکریہ ادا نہیں کرتا وہ اللہ کا شکر بھی ادا نہیں کرتا۔‘‘

لوگوں کے شکر نہ ادا کرنے کو اپنے شکر کے ساتھ منسوب کرنے کی وجہ کیا ہے ؟ اس کےمتعلق بتایا گیا ہے کہ اس انسان نے لوگوں کا شکریہ ادا کرنے میں اللہ کی اطاعت نہیں کی، حالانکہ لوگ اس پر اللہ کی نعمتیں پہنچانے کا واسطہ ہیں، شکر اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری سے مکمل ہوتا ہے چنانچہ جس نے اس کی فرمانبرداری نہ کی، وہ ناشکرا ہے،شکر کا فائدہ نعمتوں کو اطاعت میں صرف کرنا ہے، وگرنہ یہ کفر ان نعمت ہے۔

نعمتوں کی بنیاد اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتی ہے اور مخلوق واسطہ اور اسباب کا کام دیتی ہے چنانچہ حقیقی منعم اللہ تعالیٰ ہی ہے اسی کے لیے حمد اور شکر ہے۔ حمد، اس کے جلال کے متعلق اور شکر، اس کے انعام و احسانات کے متعلق خبر ہے لیکن اس نے لوگوں کا شکریہ ادا کرنے کی اجازت بخشی ہے کیونکہ اس میں محبت و الفت کی تاثیر پنہاں ہے اور یہی بات سنت میں وارد ہوئی اور اسی کو اپنانے کی ہر مسلمان کو ضرورت ہے اور اپنی زندگی کو خوشحال بنانے کا بھی آسان نسخہ ہے۔

پوری دُنیا کے ان غیر مسلموں کا شکر گزار ہوں جنہوں نے نیوزی لینڈ کے شہداء کی شہادت پر اظہار تعزیت اور اپنے خوبصورت الفاظ سے مسلمانوں کی دل جوئی کی اور اس " دہشت گردی" کی بھرپور مذمت کی۔ خاص طور پر وزیراعظم نیوزی لینڈ کا شکر گزار ہوں جنہوں نے شہداء اور زخمیوں کے اہل خانہ اور پوری دنیا کے مسلمانوں سے اس دہشت گردی پر تعزیت کی، اس المناک واقعہ سے لیکر آج تک جو سلوک اور کردار وزیراعظم اور انکی حکومت اور نجی اداروں نے کیے ہیں وہ سب قابل تحسین ہیں ، کہاں پارلیمنٹ میں السلام علیکم کہہ کر اور پھر قرآن مجید کی تلاوت سے آغاز کیا گیا اور آج وزیراعظم نیوزی لینڈ نے وہ معروف حدیث پڑھی جس میں کہا گیا کہ مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں ،پھر خطبہ جمعہ کو بھی بروڈکاسٹ کیا گیا

یہ بھی پڑھیں:   مولانا فضل الرحمٰن کا دھرنا - اعزاز سید

پھر نیوز پیپر پر واضح عربی میں "سلام" لکھا ہوا اور نیوز کاسٹر سے لیکر سکول کی طالبات تک، ہر کسی نے حجاب پہن کر اظہار یکجہتی پیش کیا بلکہ بعض سکولوں اور نیوز کاسٹرز نے باقاعدہ حجاب اوڑھنے کے متعلق تفصیلات بتائیں اور اس جمعہ کو اکثر عورتوں اور لڑکیوں نے حجاب پہنا، حتی کہ لیڈی پولیس بھی حجاب پہنے پہرہ دیتی دکھائی دی۔

کھانا لانے کی بات چلی تو لوگ اتنی وافر مقدار میں کھانا لانے لگے کہ کہنا پڑا کہ بس کردو بھائی، مزید کی ضرورت نہیں۔ کسی نے لواحقین کے لیے فنڈز اکٹھا کرنے کی آواز اٹھائی تو اس قدر لوگ ویب سائٹ پر آن ہوئے کہ ویب سائٹ ہی کریش کر گئی۔ پھر لوگوں کو دیکھا گیا کہ مساجد میں پیچھے کھڑے ہوتے کہ آپ نماز ادا کریں ہم پہرہ دیتے ہیں۔ کہیں مسجد میں قرآن کا ترجمہ اور تفسیر جاننے کیلئے لوگ جمع ہیں اور ان ورکشاپ سے اسلام کے بارے میں مزید معلومات جان رہے ہیں۔ کہیں پولیس کا وفد بھی اسی طرح اسلام کے متعلق مزید معلومات حاصل کرتا نظر آتا ہے تو کہیں یونیورسٹی کی طالبات کو مسلمان عورتوں کے گلے لگ کر روتے پایا گیا۔ بہت سے سکول کے بچوں کے ٹرپ مسجد میں آئے اور انہوں نے معصومانہ سوال پوچھے اور اپنی محبت کو مسلمانوں سے بانٹنے کی کوشش کی اور انکی آنکھیں اور معصوم چہرے اس اندوہناک واقع پر غمگین تھے

اور میں شکر گزار ہوں ان نیوزی لینڈ کے" بائیکرز گروپ" کا جنہوں نے اس افسوس ناک واقعے کے بعد مساجد کے باہر پہرہ دینے کی خدمت کے لیے اپنے آپ کو پیش کیا۔ اور نیوزی لینڈ کے ان بچوں کا بھی شکر گزار ہوں جنہوں نے "مسجد النور" کے باہر پھول رکھے اور معصومانہ انداز لیے راستوں پر پینٹنگ کرکے اظہار محبت اپنے انداز میں پیش کی اور ہر چھوٹے بڑے نے اپنی اپنی محبت کا اظہار اپنی تعلیمات کے مطابق کیا۔

اور میں کینیڈا میں اپنے علاقے کے میئر، پولیس اور کرسچن کمیونٹی کا بھی شکر گزار ہوں جنہوں نے علاقے کی مساجد کی انتظامیہ کو فون پر رابطہ کرکے اپنی ہر قسم کی مدد اور خدمات کو پیش کرنے کی یقین دہانی کروائی۔ اور میں کینیڈا کی اس لیڈی کا بھی شکر گزار ہوں جو خبریں دیکھ کر فوری کینیڈا کی اس مسجد کے باہر آکر ہاتھ میں پلے کارڈ اٹھائے کھڑی تھی جہاں 2018 میں نمازیوں کو شہید کیا گیا اور وہ اپنی اظہار محبت نمازیوں کو پیش کر رہی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:   مولانا فضل الرحمٰن کا دھرنا - اعزاز سید

آج بھی بعض مساجد کے باہر مناظر دیکھنے کو ملے کہ غیر مسلم اپنی محبت کا اظہار کرتے دکھائی دیے اور نمازی مسجد میں جمعہ کے لیے داخل ہورہے ہیں اور یہ لوگ احتراما باہر کھڑے ہیں۔ وزیراعظم نیوزی لینڈ اور نیوزی لینڈ کی عوام کے اس اظہار محبت نے بعض لوگوں کے سینوں پر سانپ لوٹا دیے ہیں اور ان کالے دلوں کے مالک لوگوں کے دل غم و غصہ سے ابل رہے ہیں چاہے وہ غیر مسلم ہوں یا دیسی لبرل۔ ایسوں کو میں کہنا چاہتا ہوں کہ آپ لوگوں میں اور ہمارے نبی ﷺ کی تعلیمات میں نمایاں فرق یہ ہے کہ ہم مجرم کو مجرم مانتے ہیں نہ کہ مجرم کی پوری قوم کو بھی اس بات کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔

اور میں واضح طور پر اس سانحے کے مجرم اور اس کے معاونوں کو اس کا ذمہ دار ٹھہراتا ہوں نہ کہ پوری کرسچن قوم کو مجرم گردانتا ہوں جیسے آپ لوگ کسی ایک مسلمان کی مجرمانہ حرکت پر سبھی مسلمانوں کو شریک جرم گردانتے ہو۔ اور دیسی لبرل کا یہ حال ہے کہ ایک داڑھی والے کی غلطی کو سب مدرسوں سے منسوب کردیتے ہیں اور جب یہی کوئی لبرل کرے تو انھیں سانپ سونگھ جاتا ہے ؟ واہ رے منافقت

اور اختتامی بات میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ وزیراعظم نیوزی لینڈ اور نیوزی لینڈ کی عوام کے لیے میں بھی دعا کرتا ہوں اور آپ سب سے بھی التماس کرتا ہوں کہ ان کے اس اچھے عمل کے بدلے میں آپ لوگ بھی ان کے لیے دعا کیجیے کہ اللہ تعالیٰ ان سب کو ایمان کی دولت سے مالا مال فرمائے اور اللہ تعالیٰ شہداء کی شہادت کو قبول فرمائے اور ان کے لواحقین اور اُمت مسلمہ کو صبر جمیل عطاء فرمائے اور شہداء کی اس عظیم قربانی کو ان لوگوں کی ہدایت کا ذریعہ بنادے۔ آمین