کیا واقعی انسانیت سب سے بڑا مذہب ہے؟ ابو محمد مصعب

جب بھی دنیا میں کہیں، نسلی و مذہبی تعصب کی بنیاد پہ کوئی ظلم و زیادتی ہوتی ہے تو ایک گروہ، جو دراصل لبرل اور مذہب بیزار افراد پر مشتمل ہوتا ہے، لوہا گرم دیکھ کر، اسلام سمیت ہر مذہب کی نفی کرتے ہوئے، “انسانیت، سب سے بڑا مذہب” کا چورن بیچنا شروع کر دیتا ہے۔

اگر کوئی، ان افراد پر تحقیق کرے تو اس نتیجے پر پہنچے گا کہ ان میں سے زیادہ تر لوگ، دہریے (Atheist)، لا ادری/مذبذبین (Agnostic)، لادین (Secular)، اشتراکی (Socialist)، اشتمالی (Communist) یا پھر صوفی ازم کے علمبردار ہوں گے یا ماضی میں رہے ہوں گے۔

ایک مزید دلچسپ حقیقت یہ کہ ایسے افراد، زندگی میں پٹڑیاں بدلتے رہے ہوں گے۔ اگر کوئی ماضی میں مشہور ملحد، اشتراکی یا دہریہ رہا ہوگا تو (ہزاروں انسانوں کو گمراہ کرنے کے بعد)، بڑھاپے میں صوفی بن گیا ہوگا۔

اب آتے ہیں اس سوال کی طرف، کہ کیا واقعی “انسانیت” ایک “مذہب” ہے یا وہ “وصف” ہے جو انسان کو بنانے والے نے اس کے اندر رکھ دیا ہے؟

اس سوال کے جواب کے لیے ضروری ہے کہ ہم، کچھ مزید نکات کو ذہن نشیں کر لیں۔

اوّل یہ کہ آج کی دنیا میں پائے جانے والے مذاہب کو ہم دو اقسام میں تقسیم کر سکتے ہیں۔ پہلی قِسم، آسمانی مذاہب کی ہے (جو اللہ کی طرف سے آئے) جیسے، یہودیت، عیسائیت اور اسلام (حالانکہ آسمانی مذہب صرف اسلام ہی ہے، باقی مذاہب، اس کی بگڑی ہوئی شکلیں ہیں)۔ الدین عنداللہِ الاسلام۔

اور دوسری قسم، شخصی مذاہب کی ہے (جو کسی نہ کسی انسان نے بنائے ہیں یا انسانوں سے منسوب ہیں)، جیسے بُدھ مَت، جین مت، سکھ مذہب، کنفیوشزم، مجوسیت وغیرہ۔

تو پہلا سوال یہ ہے کہ اگر انسانیت ایک مذہب ہے تو اس کی تاریخ کیا ہے، یہ کب بنا، اس کا بنانے والا کون ہے، اللہ پاک یا کوئی انسان؟

یہ بھی پڑھیں:   انسانوں کا انسانوں سے تعلق - محمد فہد صدیقی

ہر مذہب کے اندر، پھر چاہے وہ سماوی ہو یا انسانی، عبادت، پوجا پاٹ یا پرستش کے کچھ طریقے مخصوص ہوتے ہیں۔ ان کے کچھ مقدس مقامات ہوتے ہیں، جہاں ان کے ماننے والے جا کر عبادت کرتے ہیں۔ جیسے، مسجد، مندِر، کلیسا، گوردوارہ وغیرہ۔۔

تو دوسرا سوال یہ کہ اگر “انسانیت” ایک “مذہب” ہے تو اس مذہب کے مقدس مقامات کا کیا نام ہے؟

ہر مذہب کے اندر، انسانوں کی معاشرتی زندگی کے حوالہ سے کچھ نہ کچھ احکام، ہدایات یا کم از کم رسوم و رواج ہوتے ہیں۔ مثلاً، ہر مذہب کے اندر مرد اور عورت کے درمیان نکاح کا کوئی نہ کوئی طریقہ ہوتا ہے۔۔۔ ہر مذہب کے اندر، مرنے والے کی لاش کو ٹھکانے لگانے کا کوئی نہ کوئی طریقہ ہوتا ہے۔۔۔

تو تیسرا سوال یہ ہے کہ مذہبِ انسانیت”، اپنے ماننے والوں کو نکاح اور میَّتوں کو ٹھکانے لگانے کے حوالہ سے کیا رہنمائی کرتا ہے؟

ہر مذہب، اپنے ماننے والوں کو، موت کے بعد کی زندگی کا کوئی نہ کوئی تصور دیتا ہے پھر چاہے وہ تصور، درست ہو، مجہول و مبہم ہو یا کلیتاً غلط۔۔۔۔

ہمارا چوتھا سوال یہ ہے کہ “مذہبِ انسانیت”، دنیا سے رخصت ہونے کے بعد کی زندگی کے بارے میں کیا نظریہ رکھتا ہے؟

ہر مذہب کے پاس تصورِ خدا ہے، پھر چاہے اس کی جو بھی صورت ہو۔۔۔۔

تو ہمارا پانچواں سوال یہ ہے کہ “مذہبِ انسانیت” کے نزدیک، خدا کا کیا تصور ہے؟

اگر “انسانیت سب سے بڑا مذہب” کا نعرہ بلند کرنے والوں کے پاس مندرجہ بالا پانچ سوالات کے جوابات ہیں تو برائے مہربانی، یہاں عنایت فرما دیں، اگر نہیں ہیں، تو پھر مان لیں کہ “انسانیت” مذہب نہیں بلکہ انسان کا شرف اور “وصف” ہے۔

نیز، جوابات سے پہلوتہی اور اعراض کے رویہ سے ہم سمجھیں گے کہ یہ نعرہ ایک دھوکے کے سوا کچھ نہیں جس کا واحد مقصد، دنیا میں اسلام کی تیزی سے بڑھتی ہوئی مقبولیت کو کاؤنٹر کرنا اور انسانوں کے سامنے ایک مجہول سا متبادل مذہب پیش کرنا ہے۔