قافلہ حیرت کے آخری چشم و چراغ - امیرجان حقانیؔ

گلگت بلتستان میں گہوارہ علم و ہنر جامعہ دارالعلوم دیوبند کے فضلاء کرام کی ایک معقول تعداد تھی جن میں اکثریت حضرت حسین احمد مدنیؒ کے تلامذہ کی تھی۔ پوری دنیا کی طرح علاقہ گلگت بلتستان میں بھی فاضلین دیوبند نے علم و عمل کے انمٹ نقوش چھوڑے۔ گلگت بلتستان میں اسی قافلہ حیرت کے آخری چشم و چراغ مولانا حبیب اللہ تھے جو خود کو قیام دارالعلوم دیوبند سے حبیب اللہ گلگتوی لکھتے تھے۔ ستر سال پہلے قصبہ ِ دیوبند میں انار کے درخت تلے علم کی موتیوں سے بہرہ ور ہونے والے 85 سالہ مولانا حبیب اللہ گلگتوی نے 16مارچ 2019ء کو دن دس بجے داعی اجل کو لبیک کہا۔ اناللہ وانا الیہ راجعون۔

مولانا حبیب اللہ 1935ء کو گلگت کشروٹ میں زرمست خان کے گھر پیدا ہوئے۔ عمر کے ساتویں سال ہی دارالعلوم دیوبند کے فاضل قاضی عبدالرزاق مرحوم سے مرکزی جامع مسجد گلگت میں تعلیم کا آغاز کیا اور ابتدائی صرف و نحو، فقہ و فلسفہ کی تعلیم حاصل کی۔ مولانا حبیب اللہ ؒ کی خوش قسمتی تھی کہ انہیں اولین استاد کی حیثیت سے قاضی عبدالرزاق جیسے نامور اور باعمل عالم دین کی شاگردی نصیب ہوئی۔ مولانا نذیر اللہ خان مرحوم آپ کے اس دور کے کلاس فیلو تھے۔ اس حوالے سے انٹرویو کے دوران مولانا مرحوم نے اپنے تمام تعلیمی سلسلوں کو مفصل بیان کیا۔ قاضی عبدالرزاق کی تحریک پر قیام پاکستان سے قبل اپنے دیگر دوستوں کی معیت میں دارالعلوم دیوبند کے لیے رخت سفر باندھا۔ استور و کشمیر سے ہوتے ہوئے ایک طویل عرصہ بعد دارلعلوم دیوبند پہنچے جہاں قاضی عبدالرزاق کے اولین شاگر مولانا گل شیر زیر تدریس تھے، انھوں نے مولانا حبیب اللہ مرحوم اور نذیر اللہ خان مرحوم اور مولانا عبدالحمید مرحوم کی سرپرستی فرمائی۔ ان تینوں حضرات نے بھی طویل عرصہ دارالعلوم دیوبند میں تعلیم و تربیت کے بعد سند فراغت حاصل کی۔ 1946ء سے 1955ء تک مسلسل آٹھ سال دارالعلوم دیوبند میں کبار اہل علم سے کسب فیض کیا جن میں مولانا حسین احمد مدنیؒ، شیخ الادب اعزاز علی ؒ، حکیم الامت قاری محمد طیبؒ، مولانا فخرالدینؒ، شیخ التفسیر مولانا ادریس کاندھلویؒ، مفتی محمودالحسن گنگوہی اور مولانا ابراہیم بلیاویؒ شامل ہیں۔

دارالعلوم دیوبند سے فراغت کے بعد عرصہ دو سال مغربی بنگال کے مدرسہ دارالحدیث دامائی پور کلکتہ میں شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی ؒ کی خصوصی تشکیل پر تدریس کے ساتھ نائب صدر مدرس کے طور پر خدمات انجام دیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ 1946ء سے 1957ء تک مسلسل انڈیا میں قیام کیا بغرض تعلیم و تدریس، اس پورے عرصے میں گھر اور علاقے کے ساتھ والدین اور بہن بھائیوں کی زیارت سے بھی محروم رہے، کوئی رابطہ بھی نہ ہو سکا۔ سچ ہے کہ جب تک اپنے آپ کو پورے کا پورا علم کے حوالہ نہ کیا جائے علم کے تھوڑے سے حصے کا حصول بھی ممکن نہیں ہوتا۔ مولانا نے بھی جوانی کی گیارہ حسین بہاریں حصول علم کے لیے وقف کی تھیں، تب انہیں دینی علوم سے شغف حاصل ہوا اور ہزاروں لوگوں نے ان سے فیض پایا۔

مولانا حبیب اللہ جب دیوبند جارہے تھے تب تقسیم ہند کا واقعہ رونما نہیں ہوا تھا۔ جب تعلیم سے فارغ ہوئے تب تقسیم کے بعد دس سال گزر گئے تھے، اور وہ اصولی طور پر انڈیا کے شہری بن چکے تھے لیکن انھیں اپنے وطن واپس آنا تھا۔ پاکستان آنے کی بہت ساری کوششیں رائیگاں گئیں، دفتری معاملات الجھتے گئے۔ بالآخر حضرت مدنی ؒ نے خصوصی رخصت کے بعد پاکستان واپسی کے لیے سوزناک دعا فرمائی۔ مولانا پھر امیگریشن آفس گئے، وہاں طویل سوچ بچار کے بعد ایک حل نکالا گیا۔ مولانا کو ایجنٹ قرار دیا گیا اور ۲۴ گھنٹوں کے اندر انڈیا چھوڑنے کے احکام جاری کر کے ملک بدر کر دیا گیا۔ یوں مولانا 1957ء میں بذریعہ واہگہ پاکستان پہنچے جہاں جامعہ اشرفیہ لاہور میں مقیم گلگت کے طالب علم مولانا عزیزالرحمان (فاضل دیوبند) نے استقبال کیا۔

گلگت آمد پر مولانا کے عزیز و اقارب اور ہم درس ساتھیوں کے ساتھ قاضی عبدالرزاق نے پرجوش استقبال کیا۔ گلگت پہنچنے کے بعد اس وقت کے تبلیغی مرکز میں درس و تدریس کا سلسلہ شروع کیا۔ پھر جامعہ نصرۃ الاسلام میں بھی اسکول کے بورڈنگ کے طلبہ کے نگران مامور ہوئے۔ گورنمنٹ ہائی سکول میں بھی بطور مدرس کام کیا۔ آپ سے ہزاروں طلبہ نے دینی اور عصری علوم حاصل کیے جن میں بڑے اہل علم اوت بڑے بیوروکریٹ ان کے شاگرد رہے ہیں۔ کچھ عرصہ پاکستان آرمی کے خطیب بھی رہے تاہم پروفیسر عثمان علی کی ایماء پر بطور سرکاری ٹیچر محکمہ تعلیم گلگت بلتستان کے ساتھ منسلک رہے۔ عرصہ بیس سال اسکول میں پڑھانے کے بعد ریٹائرمنٹ لی۔ پروفیسر عثمان علی گلگت بلتستان کے سب سے نامور محقق گزرے ہیں۔ وہ درجن بھر شہرت یافتہ کتابوں کے مصنف بھی ہیں۔ میرے بڑے کرم فرما تھے۔ وہ ’’عثمان استاد‘‘ کے نام سے ہی شہرت پا گئے تھے۔کسی ملاقات میں ان سے پوچھا۔ استاد آپ کے ہزاروں شاگرد ہیں۔ کون سا شاگرد ہے جس پر آپ کو فخر ہے؟ عثمان استاد مسکرائے، پھر کہا ’’مجھے ان شاگردوں پر فخر ہے جو مجھ سے علم و عمل کے ساتھ عمر میں بھی بڑے ہیں۔ ان کی علمیت اور للہیت کا ڈنکا پورے علاقے میں بجتا رہا۔ میں نے مزید تجسس کیا، تو عثمان استاد نے کہا کہ ’’بطور ایجوکیشن ٹرینر میں نے مولانا گل شیر خان، مولانا عزیزالرحمان، مولانا عبدالحمید اور مولانا حبیب اللہ کو تدریسی امور میں ٹریننگ دی ہے، اس لیے وہ میرے شاگر ہیں۔ مجھے اپنے ان شاگردوں پر فخر ہے‘‘۔ لاریب وہ شاگرد بڑے خوش قسمت ہوتے ہیں جن پر ان کے اساتذہ بھی فخر کریں۔ مولانا حبیب اللہ کی زندگی کا اکثر وقت دعوت و تبلیغ میں ہی گزار تاہم اپنے استاد محترم قاضی عبدالرزاق کے ساتھ تنظیم اہل سنت والجماعت گلگت بلتستان و کوہستان میں بھی کلیدی کام کیا۔ اسی طرح قیام امن کے لیے سماجی ہم آہنگی اور مذہبی رواداری کی خاطر بھی دیگر مسالک کے ساتھ ملک کر کام کیا اور فوج کی سرپرستی میں مختلف علاقوں میں اصلاحی وعظ کیے تاکہ علاقہ بدامنی سے بچ جائے۔

مولانا حبیب اللہ سے میری نیازمندی تب سے ہے جب میں جامعہ فاروقیہ میں درجہ سادسہ کا طالب علم تھا۔ مشاہیر علمائے گلگت بلتستان کے نام سے میری تحقیقی کتاب کا کام سالوں سے جاری ہے۔ جلد اول میں صرف فاضلین دیوبند کو جگہ دی گئی ہے۔فاضلین دیوبند کے سوانح عمریوں پر کام کے سلسلے میں میرے لیے سب سے بنیادی اور اولین ماخذمولانا حبیب اللہ اور مولانا نذیراللہ خان رحمہم اللہ تھے۔ میں قلم کاپی لے کر2008ء کو دونوں صاحبان کی خدمت میں حاضر ہوا۔ مولانا نذیراللہ خان ؒسے جامعہ نصرۃ الاسلام میں چار گھنٹوں پر مشتمل ایک تفصیلی انٹرویو کیا جو سہ ماہی نصرۃ الاسلام کے خصوصی شمارے میں شائع ہوا۔ مخدوم مولانا حبیب اللہ صاحب سے بھی دو انٹرویو کیے۔ ایک انٹرویو پرانی تبلیغی مسجد کشروٹ میں 2008ء کو کیا۔ دوسری دفعہ قاضی نثاراحمد کے ایماء اور مولانا مرحوم کے بیٹے برادرم اخلاق احمد کی چاہت پر ان کے گھر میں ایک ویڈیو انٹرویو کیا ۔ اسی انٹرویو کی بنیاد پر مولانا کی سوانح عمری پر مشتمل کتاب ’’حیبب السوانح‘‘ منظر عام پر آئی۔ 19 کتوبر2008ء کو پرانی تبلغی مسجد کشروٹ کے برآمدے میں مفصل انٹرویو کے بعد مولانا مرحوم کے سامنے اپنی ڈائری رکھہ کہ راقم کے متعلق دعائیہ کلمات تحریر کریں۔ حضرت مولانا حبیب اللہ نے جو تحریر کیا وہ من و عن آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں: ’’بسیم اللہ الرحمان الرحیم، آج بتاریخ 19کتوبر2008ء ء کو میری ملاقات بھائی امیرجان حقانی سے ہوئی، مل کر بڑی خوشی ہوئی۔ امیرجان بھائی بڑے زندہ دل آدمی ہیں۔ کام کے آدمی ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس کو دو جہانوں میں کامیابی دے دے۔ یہ اس حقیر کی دعا ہے‘‘۔ فقط مولوی حبیب اللہ عفی عنہ، فاضل دیوبند، خطیب پرانا تبلیغی مسجد کشروٹ گلگت‘‘۔

مولانا حبیب اللہ ؒ ایک ولی اللہ اور مرنجان مرنج انسان تھے۔ کسی کی غیبت کرنا، برا بھلا کہنا اور کسی کو زک پہنچانا قطعا نہیں جانتے تھے۔ مولانا بہت ٹیکسالی اردو بولتے تھے۔ ریڈیو پاکستان گلگت سے آج بھی ان کی ریکارڈ شدہ تقریریں باقاعدگی کے ساتھ نشر کی جاتی ہیں۔ میرے پاس ملک بھر سے علماء کی آمد ہوتی ہے۔ ان کی ایک چاہت ہوتی تھی کہ گلگت کے بڑے اور بزرگ علماء سے ملاقات کریں۔ میں پہلی فرصت میں ان کو مولانا حبیب اللہ ؒ کے پاس لے جاتا۔ بہت سارے علماء مولانا سے اجازت حدیث بھی لیتے۔ کراچی کے ڈاکٹر صلاح الدین ثانی کو خصوصیت کے ساتھ مولانا حبیب اللہ کے پاس لے گیا۔ انہوں نے مولانا مرحوم سے بہت سارے سولات کیے جو قیام دارلعلوم دیوبند، اکابرین دیوبند اور گلگت میں علماء دیوبند کے خدمات کے متعلق تھے۔ مولانا انتہائی خندہ پیشانی اور متانت سے جوابات دیتے رہے۔ جامعہ نصرۃ الاسلام کے سالانہ پروگراموں میں مولانا حبیب اللہ صدر محفل ہوا کرتے تھے۔ کئی سال اسٹیج سیکرٹری کے انتظامات میرے پاس ہوتے تھے۔ جب بھی مولانا تشریف لاتے میں ان کا مکمل تعارف سامعین سے کروا دیتا۔ سامعین حیران رہ جاتے کہ گلگت میں بھی اتنے پرانے اور بزرگ علماء موجود ہیں۔ مضافات سے آئے بہت سارے لوگ بعد میں خصوصی طور دفتر آتے اور مولانا کے متعلق سوالات کرتے۔

مولانا حبیب اللہ ؒ فاضل دیوبند مولانا قاضی عبدالرزاق کے اخص تلامذہ میں تھے۔ اسی طرح بقول مولانا مرحوم کے قاضی نثاراحمد مولانا حبیب اللہؒ کے سب سے چہیتے شاگرد ہیں۔ مولانا حبیب اللہؒ اپنے استاد قاضی عبدالرزاق ؒ سے متعلق بہت ساری واقعات مجھے نوٹ کروا چکے ہیں۔ اور پھر قاضی نثار احمد کے متعلق بھی ہمیشہ دعائیہ کلمات کہتے جب بھی ملاقات ہوتی۔ قاضی نثاراحمد بھی اپنے استاد کو ٹوٹ کر چاہتے تھے۔ حالات و واقعات کا میں چشم دید گواہ ہوں۔ مولانا حبیب اللہ ؒ نئے علماء اور ہم جیسے طالب علموں کے لیے ماڈل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ مولانا بنیادی طور پر تبلیغی جماعت سے وابستہ تھے۔ پوری عمر وعظ و نصیحت اور خطابت میں گزاری مگر وہ گلگت بلتستان کے تمام علماء، مذہبی و دینی جماعتوں اور مدارس و جامعات کے لیے ہمیشہ دعائے خیر کہتے اور سرپرستی فرماتے۔ تنظیم اہل سنت والجماعت ہو کہ جمیعت علمائے اسلام، اہلسنت والجماعت ہو کہ جماعت اشاعۃ التوحید و السنہ، دینی مدارس و مکاتب ہوں کہ اقراء روضۃ الاطفال اور دیگر دینی سوچ رکھنے والے اسکول و کالجز ہوں، مولانا کے پاس سب کے ذمہ دار لوگ حاضر ہوتے اور مولانا دل کھول کر دعائیں دیتے۔

مولانا حبیب اللہ کو اللہ نے سات دفعہ حج کی سعادت نصیب فرمائی اور ایک دفعہ آخر میں عمرہ۔ 2012ء میں عمرہ کے دوران اپنے کفن کو آب زمزم میں بھگویا اور گلگت پہنچ کر اپنے کفن کی خود سلائی کی اور محفوظ رکھا تھا اسی کفن میں مدفون ہوئے۔وزارت حج کی طرف سے انہیں حجاج کے لیے ماسٹر ٹرینر مقرر کیا گیا۔ تین دھائیاں مولانا نے حجاج کرام کو گلگت میں بطور حج ٹرینر مناسک حج کی تربیت دی۔ مولانا کا اصلاحی تعلق مولانا حسین احمد مدنی سے تھا۔ حضرت مدنی نے مولانا کو اپنی محبت و معرفت اور استقامت و حسن خاتمہ کی’’ سند بیعت‘‘ بھی مولانا کا نام لکھ کر عنایت کیا تھا۔ اورانہیں بیعت ہونے پر شجرہ مبارکہ رشیدیہ، قدوسیہ، چشتیہ صابرہ منثورہ کی سند بھی حضرت مدنی نے عطاء کی تھی۔ حضرت مدنی کے جمع کردہ وظائف کی کتاب ’’سلاسل طیبہ‘‘ جن میں مذکورہ سلسلوں کے وظائف و اعمال نافعہ درج ہیں بھی زندگی بھر مولانا حبیب اللہ کیساتھ رہی۔ میں جب بھی حاضر ہوتا تویہ کتاب مولانا ضرور دکھاتے۔مولانا کی وفات کے بعد ان کے بیٹے نے بھی اس کتاب کی خصوصی زیارت کروائی۔ مولانا اوراد و اذکار پر پابندی سے کاربند رہتے تھے۔اسی طرح دارالعلوم دیوبند کے سندِفراغت کے علاوہ حضرت مدنیؒ،شیخ الحدیث مولانا فخرالدین داالعلوم دیوبند کی سند حدیث کی خصوصی اسناد کیساتھ جامعہ اشرفیہ لاہور کی اعزازی سند بھی مولانا کے پاس محفوظ تھی جنہیں میں نے خود دیکھا۔

مولانا مرحوم کی نماز جنازہ کشروٹ میں ان کے بیٹے مولانا حسین احمد مدنی نے پڑھائی، مولانا نے اپنے استاد کی یاد میں اپنے بیٹے کا نام بھی حسین احمد مدنی رکھا تھا۔ مولانا حسین احمد مدنی ایک متحرک شخص ہیں جو یتیموں کی تعلیم و تربیت کے ساتھ منسلک ہیں۔ مرکزی عیدگاہ کے پاس سب سے بڑے قبرستان میں اپنے استاد اور دارالعلوم دیوبند کے ساتھیوں کے پہلو میں دفن کیے گئے۔ ان کی نماز جنازہ میں وزیراعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمان، وزراء و ممبران اسمبلی، کمشنر گلگت ولی خان، بڑی تعداددیگر سرکاری افسران، سینکڑوں علماء و طلبہ اور ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ قاضی نثار احمد اور جامعہ نصرۃ الاسلام کے اساتذہ و طلبہ ایک بڑے قافلے کی شکل میں جنازے میں شریک ہوئے۔ میں نے ایک ہی محلے کے ایسے لوگ بھی دیکھے جو مولانا کے جنازے پر بغل گیر ہو رہے تھے۔ قطع رحمی کرنے والوں کے لیے بھی مولانا ؒ کی موت صلح رحمی کا سبب بن رہی تھی۔ بڑے بڑے سیاسی اور قبائلی مخالفین بھی جنازہ گاہ میں ایک دوسروں سے سر جھکائے مل رہے تھے۔ سچ یہ ہے کہ مولانا حبیب اللہ جیسے لوگ ہی ہوتے ہیں جو جاتے جاتے بھی دیگر لوگوں کے سینے اور ہاتھ ملانے کے سبب بن جاتے ہیں۔

میری گزارش ہوگی کہ مولانا کے پسماندگان اور جامعہ نصرۃ الاسلام کے ذمہ داران مولانا کی حیات و خدمات پر ایک تعزیتی ریفرنس کا انعقاد کریں جس میں اہل علم و قلم کو لب کشائی کی دعوت دی جائے اور جمع شدہ مقالات اور تقریروں کو کتابی شکل دی جائے۔ مولانا حبیب اللہ نے پسماندگان میں پانچ بیٹے، پانچ بیٹیاں اور ہزاروں تلامذہ چھوڑے۔ اللہ مولانا کو غریق رحمت کرے، پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے، اور ملت کو مولانا کا نعم البدل عطاکرے۔ آمین

Comments

امیر جان حقانی

امیر جان حقانی

امیرجان حقانیؔ نے درس نظامی کے علاوہ کراچی یونیورسٹی سے پولیٹیکل سائنس اور جامعہ اردو سے ماس کمیونیکشن میں ماسٹر کیا ہے۔ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے شعبہ اسلامی فکر، تاریخ و ثقافت کے ایم فل اسکالر ہیں۔ پولیٹیکل سائنس کے لیکچرار ہیں۔ ریڈیو پاکستان کے لیےپانچ سال سے مقالے اور تحریریں لکھتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.