نعمتِ امن اور سانحہ نیوزی لینڈ - خطبہ مسجد نبوی

فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد اللہ بن عبد الرحمن بعیجان حفظہ اللہ نے 15 رجب 1440 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں "نعمتِ امن اور سانحہ نیوزی لینڈ" کے عنوان پر ارشاد فرمایا جس میں انہوں نے کہا کہ امن و خوشحالی اللہ تعالی کی بے پناہ نعمتوں میں ایک اہم ترین نعمت ہے؛ کیونکہ امن کے بغیر زندگی بے مزہ ہے، امن کے حصول میں تمام وسائل اور توانائیاں صرف کی جاتی ہیں۔ انسان اپنی جان، مال اور عزت کے متعلق مطمئن ہو تو راحت کا سانس لیتا ہے، اگر حالات پر خطر ہوں کلیجا منہ کو آئے تو اظہار ندامت کا کچھ فائدہ نہیں ہوتا، اس کا عملی مشاہدہ ہم متعدد اقوام اور ممالک میں دیکھ رہے ہیں۔ اللہ تعالی نے اس کی منظر کشی قومِ سبا کے واقعہ میں کرتے ہوئے ناشکری کو بنیادی سبب قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ: ملک میں انارکی سے ہمیشہ منفی نتائج حاصل ہوتے ہیں، اسی انارکی کی وجہ سے ہی ہم بے تحاشا نقصانات اپنی آنکھوں سے دیکھ چکے ہیں۔ ہمارے لیے انارکی پھیلانے والوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہونا لازمی ہے، اس کے لئے ہم اپنے حکمرانوں اور اہل علم کے ساتھ ناتا مضبوط رکھیں اور اپنے منہج پر ثابت قدم رہیں؛ کیونکہ حکمرانوں کی اچھے کاموں میں اطاعت کتاب و سنت کی رو سے واجب ہے، دوسرے خطبے میں انہوں نے پر فتن حالات میں کتاب و سنت پر کار بند رہنے کی تلقین کی اور نوجوانوں کو مخاطب کر کے کہا کہ تم ہی مستقبل کے روح رواں ہو، تمہاری بدولت دھرتی کا مستقبل روشن ہو گا اس لیے اپنی اس ذمہ داری کو نبھانے کے لئے بھر پور کوشش کرو، پھر انہوں نے نیوزی لینڈ میں دہشت گردی کا نشانہ بننے تمام متاثرین سے اظہار دکھ کرتے ہوئے کہا کہ ایک مسلمان کو تکلیف دینا سارے مسلمانوں کو تکلیف دینے کے مترادف ہے، اس سانحے میں معصوم مسلمانوں کا خون بہایا گیا اور اللہ کے گھروں کی حرمت پامال کی گئی، ہم اس پر اللہ سے بدلے کی امید رکھتے ہیں، پھر انہوں نے فوت شدگان کے لئے دعائے مغفرت فرمائی اور زخمیوں کی شفا یابی کی دعا کی اور پھر نماز جمعہ کے بعد حرمین شریفین میں ان کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی۔

خطبہ کی عربی ویڈیو حاصل کرنے کیلیے یہاں کلک کریں۔

ترجمہ سماعت کرنے کے لئے یہاں کلک کریں۔

پہلا خطبہ

یقیناً تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں، ہم اس کی حمد بیان کرتے ہیں اور اسی سے مدد طلب کرتے ہیں ، نیز ذاتی اور بُرے اعمال کے شر سے اُسی کی پناہ چاہتے ہیں، جسے اللہ ہدایت عنایت کر دے اسے کوئی بھی گمراہ نہیں کر سکتا، اور جسے وہ گمراہ کر دے اس کا کوئی بھی رہنما نہیں بن سکتا، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی بھی معبودِ بر حق نہیں اس کا کوئی شریک نہیں، بقا اور حمد اسی کے لئے ہیں، اسی کے ہاتھ میں تقدیریں اور فیصلے ہیں، آسمان سے زمین کے معاملات چلاتا ہے، جو چاہے کر گزرتا ہے، اس کی مشیئت کے بغیر؛ فقط تمہارے چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا۔ اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ جناب محمد ﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں ، آپ نے پیغام رسالت کی تبلیغ کر دی، امانت پہنچا دی، اور امت کی خیر خواہی فرمانے کے ساتھ ساتھ راہ الہی میں کما حقہ جہاد بھی کیا یہاں تک کہ آپ وفات پا گئے، اللہ تعالی آپ پر، آپ کی آل اور تمام صحابہ کرام پر رحمتیں نازل فرمائے۔

حمد و صلاۃ کے بعد:

بہترین کلام ، اللہ کا کلام ہے، اور بہترین سیرت جناب محمد بن عبد اللہ ﷺ کی سیرت ہے، بد ترین امور بدعات ہیں، اور ہر بدعت گمراہی ہے، نیز ہر گمراہی جہنم میں لے جانے والی ہے۔

اللہ کے بندو! میں سب سامعین اور اپنے آپ کو تقوی الہی کی نصیحت کرتا ہوں، یہ اللہ تعالی کی اولین اور آخرین سب لوگوں کو نصیحت ہے: {وَلَقَدْ وَصَّيْنَا الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَإِيَّاكُمْ أَنِ اتَّقُوا اللَّهَ} تم سے پہلے جن لوگوں کو کتاب دی گئی تھی انہیں ہم نے تاکیدی حکم دیا اور تمہارے لیے بھی یہی حکم ہے کہ تقوی الہی اپناؤ۔[النساء: 131]

{يَاأَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءً وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا} لوگو! اپنے اس پروردگار سے ڈرتے رہو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا پھر اسی سے اس کا جوڑا بنایا پھر ان دونوں سے (دنیا میں) بہت سے مرد اور عورتیں پھیلا دیں۔ نیز اس اللہ سے ڈرو جس کا واسطہ دے کر تم ایک دوسرے سے اپنا حق مانگتے ہو اور قریبی رشتوں کے معاملے میں بھی اللہ سے ڈرتے رہو۔ بلاشبہ اللہ تم پر ہر وقت نظر رکھے ہوئے ہے۔ [النساء: 1]

مسلم اقوام!

اللہ تعالی نے ہم پر بے شمار نعمتیں برسائی ہیں، ہمیں اتنا نوازا ہے کہ ان کا شمار نہیں ہو سکتا، اللہ تعالی نے ہم پر امن و خوشحالی کے ذریعے کرم فرمایا، استحکام اور عنایتوں سے نوازا، ہمیں ہمہ قسم کے فتنوں اور آزمائشوں سے بچایا، مصیبتوں اور بدبختیوں سے نجات دی؛ یہ سب کچھ اللہ کے فضل کے بعد ہمارے اپنے عقیدے پر ڈٹ جانے نیز اہل علم اور حکمرانوں کی کاوشوں سے ممکن ہوا، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَاذْكُرُوا إِذْ أَنْتُمْ قَلِيلٌ مُسْتَضْعَفُونَ فِي الْأَرْضِ تَخَافُونَ أَنْ يَتَخَطَّفَكُمُ النَّاسُ فَآوَاكُمْ وَأَيَّدَكُمْ بِنَصْرِهِ وَرَزَقَكُمْ مِنَ الطَّيِّبَاتِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ} اور اس حالت کو یاد کرو! جب تم دھرتی پر قلیل تھے اور کمزور تھے۔ تم اس اندیشے میں رہتے تھے کہ لوگ تمہیں نوچ کھسوٹ نہ لیں، سو اللہ نے تم کو رہنے کی جگہ دی اور تم کو اپنی نصرت سے قوت دی اور تم کو پاکیزہ چیزیں عطا فرمائیں تاکہ تم شکر کرو۔ [الأنفال: 26]

اللہ کے بندو!

امن انسانی زندگی کا بنیادی ترین عنصر ہے، امن کی بدولت استحکام اور اطمینان حاصل ہوتا ہے۔

امن ایسا ہدف ہے جو ہر معاشرے کی چاہت ہے، امن کے لئے ہر طرح کے وسائل اور توانائی صرف کی جاتی ہے۔

امن کی قدر و قیمت اور اہمیت وہی جانتا ہے جو بدامنی کی آگ میں جھلس چکا ہو!

امن کے بغیر زندگی میں کوئی لذت نہیں، نہ ہی بدامنی میں قرار نصیب ہوتا ہے۔

پیارے پیغمبر ﷺ کا فرمان ہے: (تم میں سے جو شخص صبح اپنے آپ میں پر امن اٹھے، اس کا جسم صحت مند ہو، اس کے پاس اس دن کا کھانا ہو؛ تو گویا اس کے لئے دنیا سمیٹ کر جمع کر دی گئی) اس حدیث کو ترمذی نے روایت کیا ہے اور حسن قرار دیا ہے۔

جان، عزت اور دولت کے بارے میں انسان پر امن ہو تو یہ عظیم ترین نعمتوں میں شامل ہے، اس نعمت کی ہر انسان کو ہر جگہ اور ہر وقت ضرورت رہتی ہے؛ تا کہ انسان راحت اور سکون کا سانس لے سکے۔

لیکن اگر فتنے پھوٹ پڑیں، حالات غیر یقینی ہوں، ہر وقت جان، مال اور عزت کے متعلق خدشات منڈلاتے رہیں، پر خطر حالات میں لوگ گھبرائے رہیں، آنکھیں ششدر رہ جائیں، کلیجا منہ کو آئے، ایسے میں انسان ندامت کرے تو یہ ندامت کا وقت نہیں ہوتا کہ انسان امن اور دیگر نعمتوں کے متعلق کوتاہی برتنے پر افسوس کا اظہار کرے!

اپنی آنکھوں سے ایسے ممالک اور اقوام کو دیکھ لیں جو خوش و خرم اور اطمینان کی زندگی گزار رہیں تھیں، لیکن جب ان میں فتنے پھوٹ پڑے تو وہاں آگ بھڑک اٹھی، دھرتی ان پر تنگ ہو گئی، حالات تبدیل ہو گئے، کوئی بھی پر سکون نہ رہا۔ اس میں ذرہ برابر بھی ایمان رکھنے والوں کے لئے عبرت اور نصیحت ہے!

اللہ تعالی نے اس بارے میں تفصیلات بیان کیں اور بہترین مثالیں ذکر کرتے ہوئے فرمایا: {وَضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا قَرْيَةً كَانَتْ آمِنَةً مُطْمَئِنَّةً يَأْتِيهَا رِزْقُهَا رَغَدًا مِنْ كُلِّ مَكَانٍ فَكَفَرَتْ بِأَنْعُمِ اللَّهِ فَأَذَاقَهَا اللَّهُ لِبَاسَ الْجُوعِ وَالْخَوْفِ بِمَا كَانُوا يَصْنَعُونَ} اللہ تعالی ایسی بستی کی مثال بیان کرتا ہے جو امن و چین سے رہتی تھی اور ہر طرف سے اس کا رزق اسے کھلا پہنچ رہا تھا۔ پھر اس نے اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی تو اللہ نے ان کے کرتوتوں کا مزہ یہ چکھایا کہ ان پر بھوک اور خوف (کا عذاب) مسلط کر دیا۔ [النحل: 112]

دیکھو کس طرح اللہ تعالی نے اس قوم پر نعمتیں کیں اور انہیں اپنے خزانوں سے خوب نوازا، تو ان پر قہر آن پڑا، فرمانِ باری تعالی ہے: {لَقَدْ كَانَ لِسَبَإٍ فِي مَسْكَنِهِمْ آيَةٌ جَنَّتَانِ عَنْ يَمِينٍ وَشِمَالٍ كُلُوا مِنْ رِزْقِ رَبِّكُمْ وَاشْكُرُوا لَهُ بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ (15) فَأَعْرَضُوا فَأَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ سَيْلَ الْعَرِمِ وَبَدَّلْنَاهُمْ بِجَنَّتَيْهِمْ جَنَّتَيْنِ ذَوَاتَيْ أُكُلٍ خَمْطٍ وَأَثْلٍ وَشَيْءٍ مِنْ سِدْرٍ قَلِيلٍ (16) ذَلِكَ جَزَيْنَاهُمْ بِمَا كَفَرُوا وَهَلْ نُجَازِي إِلَّا الْكَفُورَ (17) وَجَعَلْنَا بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ الْقُرَى الَّتِي بَارَكْنَا فِيهَا قُرًى ظَاهِرَةً وَقَدَّرْنَا فِيهَا السَّيْرَ سِيرُوا فِيهَا لَيَالِيَ وَأَيَّامًا آمِنِينَ (18) فَقَالُوا رَبَّنَا بَاعِدْ بَيْنَ أَسْفَارِنَا وَظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ فَجَعَلْنَاهُمْ أَحَادِيثَ وَمَزَّقْنَاهُمْ كُلَّ مُمَزَّقٍ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِكُلِّ صَبَّارٍ شَكُورٍ} قوم سبا کے لئے ان کے مسکن میں ہی ایک نشانی موجود تھی۔ اس مسکن کے دائیں، بائیں دو باغ تھے۔ (ہم نے انہیں کہا تھا کہ) اپنے پروردگار کا دیا ہوا رزق کھاؤ اور اس کا شکر ادا کرو۔ صاف ستھرا شہر ہے اور معاف فرمانے والا پروردگار ہے[15] مگر ان لوگوں نے سرتابی کی تو ہم نے ان پر زور کا سیلاب چھوڑ دیا۔ اور ان کے دونوں باغوں کو دو ایسے باغوں میں بدل دیا جن کے میوے بد مزہ تھے اور ان میں کچھ پیلو کے درخت تھے کچھ جھاؤ کے اور تھوڑی سی بیریاں تھیں۔ [16] ہم نے یہ سزا انہیں ان کی ناشکری کی وجہ سے دی تھی اور ہم ناشکروں کو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں [17] ہم نے ان کی بستی اور اس بستی کے درمیان جس میں ہم نے برکت رکھی تھی، کھلے راستے پر کئی بستیاں آباد کر دی تھیں اور ان میں چلنے کی منزلیں مقرر کر دی تھیں کہ ان میں رات دن بلا خوف و خطر امن سے سفر کرو۔ [18] مگر وہ کہنے لگے : ''اے ہمارے پروردگار! ہمارے سفر کی مسافتیں دور دور کر دے اور (یہ کہہ کر) انہوں نے اپنے آپ پر ظلم کیا۔ چنانچہ ہم نے انہیں افسانے بنا دیا اور تتر بتر کر ڈالا۔ اس میں یقیناً ہر صابر و شاکر کے لئے کئی نشانیاں ہیں۔ [سبأ: 15 - 19]

مسلم اقوام!

بد نظمی سے بلند اہداف حاصل نہیں ہوتے ، بلکہ ان سے فتنے اور بلائیں پیدا ہوتی ہیں کہ ان کے بعد مصائب، آزمائشیں اور بد بختی ہی جنم لیتی ہے۔ اسی بد نظمی کے باعث بہت سی اقوام اور ممالک پر جو بیتی ہم اس کا مشاہدہ اپنی آنکھوں سے کر چکے ہیں۔ کتنے ہی معصوم لوگ اس کی بھینٹ چڑھے! کتنی ہی محفوظ املاک تباہ کی گئیں، اور عزتوں کو لوٹا گیا! کتنے ہی لوگ در بدر ہوئے، خاندان بکھر گئے، بچے یتیم ہوئے، اور مکانات منہدم ہوئے!

فتنوں کو بھڑکانے کی دعوت اندھی دعوت ہے، اس کی باگ ڈور بد ترین دشمنوں کے ہاتھ میں ہوتی ہے، غدار اور بیوقوف لوگ اس کی ترویج کا کام کرتے ہیں اور اوباش لوگ اسے مہمیز دیتے ہیں۔

تو ہمارے لیے ان کے سامنے کھڑے ہونا اور ایسے لوگوں کے خلاف آہنی دیوار بننا ضروری ہے جو اپنے آپ کو وحدتِ امت میں نقب زنی کے لئے تیار کریں، یا اسے نقصان پہنچائیں، یا امن کے لئے خطرہ بنیں، یا پھر ہمارے حکمرانوں کے خلاف بغاوت کریں۔

لہذا اپنے دین پر ڈٹ جاؤ، اپنے اتحاد کو مضبوطی سے تھامے رکھو، دشمنوں کے خلاف متحد رہو اور اپنے منہج پر ثابت قدم رہو۔

اور یہ بھی ذہن نشین کر لو کہ اللہ تعالی نے تم پر حکمرانوں کی اطاعت واجب قرار دی ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ} اے ایمان والو! تم اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو، نیز اپنے حکمرانوں کی بھی۔[النساء: 59]

چنانچہ نیکی کے کاموں میں حکمرانوں کی اطاعت ہمارے دین کا حصہ ہے اور دین ہی ہماری راہ نجات ہے، اسی میں ہماری دنیاوی بہتری ہے کہ یہاں ہماری معیشت ہے۔ جیسے عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہےکہ: "ہمیں رسول اللہ ﷺ نے انتہائی بلیغ وعظ فرمایا : اس سے دل پگھل گئے، اور آنکھیں اشکبار ہو گئیں، تو ہم نے کہا: "اللہ کے رسول! یہ تو کسی الوداع کہنے والے کا وعظ تھا، ہمیں کوئی وصیت کر دیں" تو آپ ﷺ نے فرمایا: (میں تمہیں تقوی الہی کی وصیت کرتا ہوں ، نیز سمع و طاعت کی وصیت کرتا ہوں چاہے کوئی غلام تمہارا امیر بن جائے، یقیناً میرے بعد زندہ رہنے والا بہت زیادہ اختلاف دیکھے گا، اس لیے تم میری اور ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت اپنانا، اسے اپنی داڑھوں سے پکڑ لینا، نیز اپنے آپ کو نت نئے [دینی]امور سے بچانا ؛ کیونکہ ہر بدعت گمراہی ہوتی ہے) " اس روایت کو حاکم نے مستدرک میں بیان کیا ہے۔

اس لیے اللہ تعالی سے اپنے دین پر ثابت قدمی کی دعا کرو، فتنوں سے بچو اور اپنے حکمرانوں کے ساتھ رہو، علمائے کرام سے رابطہ رکھو، اپنے دشمنوں اور تمہارے امن و اتحاد کو سبوتاژ کرنے والوں کے خلاف متحد رہو ۔

أعوذ بالله من الشيطان الرجيم: {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ إِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ذَلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًا} اے ایمان والو! اللہ کی اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور ان حاکموں کی بھی جو تم میں سے ہوں۔ پھر اگر کسی بات پر تمہارے درمیان جھگڑا پیدا ہو جائے تو اگر تم اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہو تو اس معاملہ کو اللہ اور اس کے رسول کی طرف پھیر دو۔ یہی طریق کار بہتر اور انجام کے لحاظ سے اچھا ہے ۔[النساء: 59]

اللہ تعالی میرے اور آپ سب کے لئے قرآن مجید کو خیر و برکت والا بنائے، مجھے اور آپ سب کو ذکرِ حکیم کی آیات سے مستفید ہونے کی توفیق دے، میں اسی پر اکتفا کرتے ہوئے اللہ سے اپنے اور تمام مسلمانوں کے گناہوں کی بخشش چاہتا ہوں، تم بھی اسی سے بخشش مانگو، بیشک وہی بخشنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔

دوسرا خطبہ

تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں اسی نے نعمتیں بہائیں اور زحمتیں ٹالیں، اور ہمیں بہترین امت قرار دیا، ہمارے دلوں میں ایمان جا گزیں فرمایا، اور ہمیں اپنے ملک میں امن و امان عطا کیا، اس پر آغاز و انتہا میں اللہ ہی کے لئے تعریفیں ہیں، فیصلے اسی کے ہوتے ہیں اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔

اللہ کے بندو!

اللہ تعالی نے لوگوں کو مختلف مراتب میں پیدا کیا، ان کی صلاحیتوں اور ان پر عنایتوں میں فرق روا رکھا، علماکو انبیائے کرام کا وارث بنایا، ان کی عزت اور درجات بلند فرمائے، اور یہ اللہ تعالی کا فضل ہے وہ جسے چاہے عطا کرتا ہے۔ پھر لوگوں کی علما سے رجوع اور ان کی اقتدا کے لئے رہنمائی فرمائی۔ علمائے کرام حاملین علم اور دین کے محافظ ہیں، وہی اخلاقیات کے چوکیدار بھی ہیں، نبی ﷺ سے صحیح ثابت ہے کہ: (اس علم کو بعد میں آنے والوں میں سے عادل افراد حاصل کریں گے ، جو غالی لوگوں کی تحریفوں، جھوٹوں کی حیلہ کاریوں اور جاہلوں کی تاویلات سے اس علم کو صاف رکھیں گے)

لہذا جب فتنے عام ہو جائیں، بدعت اور سنت کا فرق مٹنے لگے، نکمے لوگ امور عامہ پر رائے زنی کریں۔ حق و باطل ، عالم و جاہل اور گدھے گھوڑے میں فرق مٹ جائے تو ایسے میں اپنے عقیدے کو مضبوطی سے تھامے رکھنا، اپنے علما اور حکمرانوں پر بھر پور اعتماد رکھنا، اپنے بارے میں اور پوری امت کے بارے میں اللہ سے ڈرنا، بلند دعوے کرنے والوں کے پیچھے مت چلنا، نیز اگلوں اور پچھلوں میں فرق رکھنا۔

{يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا لَقِيتُمْ فِئَةً فَاثْبُتُوا وَاذْكُرُوا اللَّهَ كَثِيرًا لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ (45) وَأَطِيعُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَلَا تَنَازَعُوا فَتَفْشَلُوا وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ وَاصْبِرُوا إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ } اے ایمان والو! جب تم کسی گروہ سے بھڑ جاؤ تو ثابت قدم رہو اور بکثرت اللہ کی یاد کرو تاکہ تمہیں کامیابی حاصل ہو [46] نیز اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور آپس میں جھگڑا نہ کرو ورنہ بزدل ہو جاؤ گے اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی۔ اور صبر سے کام لو۔ اللہ تعالی یقیناً صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے [الأنفال: 45، 46]

اے نوجوان!

تم امت کی روح اور مستقبل ہو، تمہی سے ملک کی زندگی اور خوبصورتی وابستہ ہے، شہری اور دیہی علاقوں میں تمہاری بدولت ترقی ہوگی، نیز گمراہ اور فسادیوں کی کمر ٹوٹے گی۔

اس لیے تم فتنوں سے خبردار رہو اور ان کے پیچھے لگنے سے بچو؛ کیونکہ تم پر دینی فرائض ہیں انہیں ادا کرو، تمہارے اسلاف کے تم پر حقوق ہیں انہیں پورا کرو، تمہارے ملک کی تم پر ذمہ داریاں ہیں انہیں نبھاؤ، اور اللہ سے ڈرو، نیز یہ جان رکھو کہ تم اس سے ملنے والے ہو۔

{يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ وَأَنَّهُ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ (24) وَاتَّقُوا فِتْنَةً لَا تُصِيبَنَّ الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْكُمْ خَاصَّةً وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ} اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانو جبکہ رسول تمہیں ایسی چیز کی طرف بلائے جو تمہارے لیے زندگی بخش ہو۔ اور یہ جان لو کہ اللہ تعالی آدمی اور اس کے دل کے درمیان حائل ہو جاتا ہے اور اسی کے حضور تم جمع کئے جاؤ گے[24] اور اس فتنے سے بچ جاؤ جو تم میں سے صرف ظلم کرنے والوں کے لئے مخصوص نہ وہ گا۔ اور جان لو کہ اللہ تعالی سخت سزا دینے والا ہے۔ [الأنفال: 24، 25]

ان تمام تر تفصیلات کے بعد: مسلم اقوام!

تمام مسلمان ایک جسم اور ایک عمارت کی طرح ہیں، ان میں سے کسی ایک پر جارحیت تمام مسلمانوں پر جارحیت ہے، نبی ﷺ کا فرمان ہے: (مسلمانوں کی باہمی محبت، شفقت اور انس کی مثال ایک جسم جیسی ہے، جب اس کا کوئی عضو بیمار ہو تو سارا جسم بے خوابی اور بخار کی سی حالت میں مبتلا رہتا ہے۔) مسلم

[نیوزی لینڈ میں]عہد شکنی اور دہشت گردی پر مبنی سانحہ ہم سب مسلمانوں کے لیے بہت دکھ کا باعث بنا، اس میں ہمارے مسلمان بھائیوں کو نشانہ بنایا گیا، نماز پڑھتے لوگوں کا خون بہایا گیا، پر امن لوگوں کو دہشت زدہ کیا گیا، اللہ کے گھروں کی بے حرمتی کی گئی صرف اس لیے کہ وہ مسلمان تھے اور اللہ پر ایمان رکھتے تھے، یہ بہت ہی بڑا سانحہ ہے اور درد ناک وقوعہ ہے، ہم اس کے بدلے کی اللہ سے امید رکھتے ہیں ، اللہ کے پاس جو کچھ ہے وہ بہترین اور دائمی ہے۔

تو ہم انا للہ و انا الیہ راجعون! کہتے ہیں، اللہ تعالی ہمارے بھائیوں کی بہترین انداز میں ڈھارس باندھے، انہیں عظیم ترین اجر عطا فرمائے، نیز انہیں صبر و تحمل عطا کرے، اور بہترین نعم البدل سے نوازے۔

اللہ تعالی زخمیوں کو شفا یاب فرمائے، فوت شدگان کو بخش دے، اور علیین میں ان کے درجات بلند فرمائے۔ یا رب العالمین!

یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما، یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما، یا اللہ! اپنے موحد بندوں کی مدد فرما۔

یا اللہ! اس ملک کو اور دیگر تمام اسلامی ممالک کو پر امن اور مستحکم بنا دے، یا رب العالمین!

یا اللہ! ہمیں ہمارے وطنوں میں امن و امان عطا فرما، اور ہمارے حکمرانوں کی اصلاح فرما۔

یا اللہ! ہمارے حکمران خادم حرمین شریفین کو خصوصی توفیق سے نواز، ان کی خصوصی مدد فرما، یا اللہ! ان کے ذریعے دین اسلام کو غلبہ عطا فرما، انہیں اور ان کے ولی عہد کو تیری رضا کے حامل کام کرنے کی توفیق عطا فرما، یا سمیع الدعاء!

اللہ کے بندو!

اللہ تعالی نے تمہیں نبی ﷺ پر درود و سلام پڑھنے کا حکم دیتے ہوئے فرمایا: {إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا} اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود و سلام بھیجا کرو۔ [الأحزاب: 56]

اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، اَللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ.

یا اللہ! ہدایت یافتہ خلفائے راشدین : ابو بکر ، عمر، عثمان، علی اور دیگر تمام صحابہ سے راضی ہو جا؛ یا اللہ! اپنے رحم و کرم کے صدقے ہم سے بھی راضی ہو جا، یا ارحم الراحمین!

پی ڈی ایف فارمیٹ میں ڈاؤنلوڈ /پرنٹ کرنے کیلیے کلک کریں۔

Comments

شفقت الرحمن مغل

شفقت الرحمن مغل

شفقت الرحمن جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ سے بی ایس حدیث کے بعد ایم ایس تفسیر مکمل کر چکے ہیں اور مسجد نبوی ﷺ کے خطبات کا ترجمہ اردو دان طبقے تک پہنچانا ان کا مشن ہے. ان کے توسط سے دلیل کے قارئین ہر خطبہ جمعہ کا ترجمہ دلیل پر پڑھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.