سپریم کورٹ کا ایک اہم فیصلہ - ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

آج سپریم کورٹ نے ایک نہایت اہم فیصلہ سنایا ہے جس کی رو سے ایک فوجداری مقدمے میں جھوٹی گواہی دینے پر گواہ، جس کا تعلق پولیس سے تھا، کے خلاف کارروائی کا حکم دیا اور یہ اصول طے کیا کہ ایک امر میں جھوٹا ثابت ہونے پر گواہ کی ساری گواہی ناقابل اعتماد ٹھہرتی ہے۔ واضح رہے کہ عدالتیں بالعموم اس اصول پر عمل نہیں کرتیں اور اس وجہ سے مقدمات میں جھوٹی گواہی ایک عام روایت ہے کیونکہ گواہوں کو کارروائی کا خوف نہیں ہوتا۔

مجھے اس وقت اس نتیجے پر بحث نہیں کرنی بلکہ اس فیصلے کے ایک نہایت اہم پہلو کی طرف اہلِ علم کی توجہ دلانی ہے۔ وہ پہلو یہ ہے کہ اس نتیجے تک پہنچنے کےلیے سپریم کورٹ نے "اسلامی قانون کے اصولوں" کو بنیاد بنایا ہے اور یہ بھی واضح کیا ہے کہ وہ عدالتی فیصلہ جس میں اس اصول کو مسترد کیا گیا تھا، اس وقت دیا گیا تھا جب ابھی دستور میں یہ اعلان نہیں کیا گیا تھا کہ پاکستان میں کوئی قانون اسلامی احکام کے خلاف نہیں ہوگا۔

(واضح رہے کہ یہ فیصلہ نام نہاد سیکولر چیف جسٹس منیر نے دیا تھا جن کے فیصلوں نے پاکستان میں دستور اور قانون کا حلیہ بگاڑنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔)

میں بارہا اس بات پر تنقید کرچکا ہوں، اور آپ کو یاد ہوگا کہ پچھلے دنوں کانفرنس میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ صاحب کے سامنے بھی اس کا اظہار کیا، کہ ہماری اعلی عدالتیں قانون کی تعبیر اسلامی اصولوں کی روشنی میں کرنے سے گریز کرتی ہیں اور بسا اوقات یہ کہہ کر چان چھڑاتی ہیں کہ اسلامی احکام سے تصادم یا عدم تصادم کا فیصلہ کرنا وفاقی شرعی عدالت کا کام ہے، حالانکہ اسلامی احکام سے تصادم ایک مسئلہ ہے اور اسلامی احکام کی روشنی میں قانون کی تعبیر ایک بالکل ہی دوسرا مسئلہ ہے۔ یہ اپروچ عام طور پر جسٹس آصف سعید کھوسہ صاحب کے فیصلوں میں نظر آتی رہی ہے اور اس پہلو سے کھوسہ صاحب کے فیصلوں پر میں نے بارہا تنقید کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   لمبے خطبے، بڑے رتبے اور انصاف کی اصل کہانی - سید طلعت حسین

انتہائی خوش آئند بات یہ ہے کہ آج کا فیصلہ بھی جسٹس آصف سعید کھوسہ صاحب نے لکھا ہے اور قانون کی تعبیر اسلامی احکام کی روشنی میں کرنے کو ضروری قرار دیا ہے۔ انھوں نے بالخصوص دستور کی دفعہ 227 کا حوالہ دیا ہے جس میں تصریح کی گئی ہے کہ تمام قوانین کو اسلامی احکام سے ہم آہنگ بنایا جائے گا اور ان سے وہ تمام امور دور کیے جائیں گے جو اسلامی احکام سے متصادم ہوں۔ اسی طرح انھوں نے دستور کی دفعہ 2 کا حوالہ دیا ہے جس کی رو سے پاکستان کا ریاستی مذہب اسلام ہے۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ صاحب جب کبھی اپنے فیصلوں میں اسلامی احکام کا ذکر کرتے ہیں تو بالعموم صرف قرآنی آیات کا حوالہ دیتے ہیں۔ تاہم اس فیصلے کے حوالے سے یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ انھوں نے باقاعدہ طور پر احادیث کا حوالہ دے کر ان سے استدلال کیا ہے۔
قوانین کی تعبیر اسلامی اصولوں کی روشنی میں کرنے کی ضرورت پر زور دینے والے اہل علم کو ایسے فیصلوں پر خصوصی توجہ کی ضرورت ہے۔
-----------------------------
فیصلہ سپریم کورٹ کی ویب سائٹ سے ڈاؤن لوڈ کیا جاسکتا ہے جس کا لنک ذیل میں دیا جاتا ہے:

Comments

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی، اسلام آباد میں شریعہ اکیڈمی کے ڈائریکٹر جنرل ہیں، اس سے قبل شعبۂ قانون کے سربراہ تھے۔ ایل ایل ایم کا مقالہ بین الاقوامی قانون میں جنگِ آزادی کے جواز پر، اور پی ایچ ڈی کا مقالہ پاکستانی فوجداری قانون کے بعض پیچیدہ مسائل اسلامی قانون کی روشنی میں حل کرنے کے موضوع پر لکھا۔ افراد کے بجائے قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں اور جبر کے بجائے علم کے ذریعے تبدیلی کے قائل ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.