گستاخ رسول کو قتل کرنے والے شخص کا شرعی حکم - ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

زیر نظر مسئلے پر بحث کے دوران یہ بات مسلسل مد نظر رہے کہ کسی شخص کو باقاعدہ عدالتی کاروائی کے بغیر محض سنی سنائی بات پر یا محض الزام کی بنیاد پر ”گستاخ رسول“ نہیں قرار دیا جاسکتا۔ پس پہلا سوال یہ ہے کہ کسی شخص کو عدالت میں گستاخ رسول ثابت کرنے کے لیے ضابطہ اور معیار ثبوت کیا ہے؟ اس سوال کا جواب معلوم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے یہ متعین کیا جائے کہ توہین رسالت کے جرم کی نوعیت کیا ہے کیونکہ جرم کی نوعیت کے مختلف ہونے سے اس کے اثبات کا طریقہ بھی مختلف ہوجاتا ہے؟

توہین رسالت کے جرم کی دو مختلف صورتیں
فقہائے احناف کا مؤقف یہ ہے کہ ملزم کے مسلمان یا غیر مسلم ہونے سے اس جرم کی نوعیت پر فرق پڑتا ہے۔ اگر کسی مسلمان نے اس شنیع جرم کا ارتکاب کیا تو وہ مرتد ہوجاتاہے اور اس فعل پر ان تمام احکام کا اطلاق ہوگا جو ارتداد کی صورت میں لاگو ہوتے ہیں، جبکہ غیر مسلم چونکہ مرتد نہیں ہو سکتا اس لیے اگر غیر مسلم اس فعل کاارتکاب کرے تو اس کے اثرات بھی مختلف ہوں گے۔

ارتداد کے قانونی اثرات
پہلے اس شخص کا معاملہ لیجیے جو پہلے مسلمان تھا لیکن توہین رسالت کے نتیجے میں مرتد ہوگیا۔

۱۔ ارتداد کے احکام میں ایک اہم حکم یہ ہے کہ ارتداد کی سزا چونکہ حد ہے اس لیے اس کے اثبات کے لیے ایک مخصوص ضابطہ ہے، جو آگے ذکر کیا جائے گا۔ اس مخصوص ضابطے کے سوا کسی اور طریقے سے اس جرم کو ثابت نہیں کیا جاسکتا۔

۲۔ حد کی سزا شبھۃ سے ساقط ہوتی ہے۔ اب چونکہ حد ارتداد تکفیر کے بعد ہی نافذ کی جاسکتی ہے اس لیے کسی بھی ایسے قول یا فعل کی بنیاد پر یہ سزا نہیں دی جاسکتی جس کے کفر ہونے یا نہ ہونے میں اہل علم کا اختلاف ہو۔ اسی طرح اگر کسی قول یا فعل کی ایک سے زائد تعبیرات ممکن ہوں اور ان میں کوئی تعبیر ایسی ہو جس کی رو سے اسے کفر نہ قرار دیا جاسکتا ہو تو اسی تعبیر کو اپنایا جائے گا۔ چنانچہ ملزم سے پوچھا جائے گا کہ اس قول یا فعل سے اس کی مراد کیا تھی، الا یہ کہ وہ کفر بواح کا مرتکب ہوا ہو۔ اگر ملزم کفر سے انکاری ہو تو اس کے انکار کو قبول کیا جائے گا خواہ اس کے خلاف گواہ موجود ہوں کیونکہ اس کے اس انکار کو رجوع اور توبہ سمجھا جائے گا۔

۳۔ اگر اقرار یا گواہی کے بعد عدالت اس نتیجے پر پہنچے کہ ملزم کا متعلقہ قول یا فعل ارتداد کے زمرے میں آتا ہے تو عدالت اسے توبہ کے لیے تلقین کرے گی اور سوچ بچار کے لیے تین دن کی مہلت دے گی۔ اگر وہ اس کے بعد بھی اپنے اس قول یا فعل سے رجوع کرکے اس سے مکمل براء ت کا اظہار نہ کرے تب عدالت اسے سزا سنائے گی اور یہ سزا ناقابل معافی ہوگی۔

۴۔ چونکہ ارتداد کی سزا حد ہے اس لیے اس کا نفاذ افراد کاکام نہیں، بلکہ حکومت کا کام ہے۔ اس کی مزید وضاحت آگے آرہی ہے۔

۵۔ کسی شخص کے مرتد ثابت ہوجانے کے بعد اس کی عائلی زندگی پر بھی دور رس اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ مثلاً اس کی بیوی اس کے لیے حرام ہوجاتی ہے اور ارتداد کے بعد وہ جس مال کا مالک بنا ہو وہ اس کی موت کے بعد اس کے ورثا کو نہیں ملے گا۔

اگر ذمی توہین رسالت کا ارتکاب کرے
اگر ملزم غیر مسلم ہو تو اس فعل کو کفر میں اضافہ کہا جائے گا لیکن ظاہر ہے کہ اس کو ارتداد نہیں کہا جاسکتا۔ چنانچہ فقہاء اس مسئلے کو ارتداد کے بجائے نقض ذمہ کے عنوان کے تحت ذکر کرتے ہیں اور یہ متعین کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ذمی کے اس فعل سے اس کا عقد ذمہ ٹوٹ جاتا ہے یا نہیں۔

فقہائے احناف کا مسلک یہ ہے کہ ذمی کے اس فعل سے اس کا عقد ذمہ نہیں ٹوٹتا۔ تاہم اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اس فعل شنیع کے ارتکاب پر ذمی کو سزا نہیں دی جاسکے گی۔ بہ الفاظ دیگر ان کا مؤقف یہ ہے کہ اس فعل سے ذمی کادار الاسلام میں سکونت کا حق ختم نہیں ہوجاتا لیکن چونکہ یہ فعل دار الاسلام کے ملکی قانون کے تحت جرم ہے اس لیے اسے سزا دی جاسکے گی۔ اس قسم کی سزا کو فقہائے احناف سیاسۃ کہتے ہیں۔

حد اور سیاسۃ میں فرق
حد اور سیاسۃ میں کئی فروق ہیں۔ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ یہاں چند اہم فروق واضح کیے جائیں۔ اسلامی قانون کی اصطلاح میں حد کی سزا کا تعلق حق اللہ سے ہے۔ حق اللہ قرار دینے کے کئی اہم نتائج ہیں:

۱۔ حد کی سزا قیاس و رائے سے نہیں بلکہ نص کے ذریعے مقرر کی گئی ہے جس میں کمی و بیشی کا اختیار ریاست کے پاس نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   کیا نیا چینل واقعی اسلام کو پیش کرے گا - حامد کمال الدین

۲۔ حد کی سزا شبھۃ سے ساقط ہوجاتی ہے اور شبھۃ سے مراد صرف یہ نہیں کہ جرم کے ثبوت کے متعلق جج کے ذہن میں کوئی ابہام پایا جاتا ہے جس کا فائدہ (Benefit of the Doubt) وہ ملزم کو دے دیتا ہے، بلکہ یہ بھی ہے کہ اگر ملزم کے ذہن میں اس فعل کے قانونی جواز کے متعلق کوئی ابہام، حقیقۃً یا فرضاً، پایا جاتا تھا تو اس کی وجہ سے اسے حد کی سزا نہیں دی جاسکے گی۔

۳۔ حد کی سزا کے اثبات کے لیے صرف دو ہی طریقے ہیں، کسی تیسرے طریقے سے اس جرم کو ثابت نہیں کیا جاسکتا : ایک مجرم کی جانب سے عدالت کے سامنے آزادانہ اقرار جرم اور دوسرا اس کے خلاف گواہی جو ایک مخصوص نصاب کے مطابق ہو۔ وہ مخصوص نصاب یہ ہے کہ حد زنا کے ماسوا تمام حدود میں کم سے کم دو ایسے مسلمان عاقل بالغ مرد گواہی دیں جن کا کردار بے داغ ہو۔ حد زنا کے اثبات کے لیے باقی شروط تو یہی ہیں لیکن گواہوں کی تعداد چار ہونی چاہیے۔

۴۔ حد کی سزا کی معافی کا اختیار نہ متاثرہ فرد کے پاس ہے اور نہ ہی حکومت یا ریاست کے پاس۔

سیاسۃ کی سزا کو اسلامی قانون کی اصطلاح میں حق الامام کہتے ہیں۔ حق الامام قرار دینے کے اہم نتائج یہ ہیں:

۱۔ اس سزا کی کوئی کم یا زیادہ حد شریعت نے مقرر نہیں کی ہے بلکہ اس کی حد مقرر کرنے کا اختیار حکومت کو دیاہے اور حکومت اس کی بعض شنیع صورتوں میں سزائے موت بھی مقرر کرسکتی ہے۔

۲۔ یہ سزا فعل کے قانونی جواز کے متعلق ملزم کے ذہن میں پائے جانے والے ابہام کی بنا پر ساقط نہیں ہوسکتی۔

۳۔ اس جرم کے اثبات کے لیے کوئی مخصوص ضابطہ نہیں ہے بلکہ جس طرح کا ثبوت عدالت کو فعل کے وقوع کے بارے میں مطمئن کردے وہ قابل قبول ہے اور اس کی بنا پر مناسب سزا دی جاسکتی ہے۔

۴۔ اس سزا کی معافی کا اختیار حکومت کے پاس ہے۔

اس ساری بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ گستاخ رسول کی سزا ایک صورت میں حد ہے اگر فعل کا مرتکب اس فعل کے ارتکاب سے پہلے مسلمان ہو، اور دوسری صورت میں سیاسۃ اگر اس فعل کا مرتکب پہلے ہی سے غیر مسلم ہو۔

اب آئیے توہین رسالت کے جرم کی ہر دو صورتوں کی سزا کے نفاذ کی طرف۔

حدود کا استیفاء حکمران کا حق ہے۔
فقہاء نے تصریح کی ہے کہ حدود کا استیفاء حکمران کا حق ہے۔ اس لیے اصولی طور پر حدود کا نفاذ حکمران کے ماسوا کوئی اور شخص نہیں کرسکتا۔
اسی اصول پر طے کیا گیا ہے کہ اگر ملک کا سب سے برتر حکمران حد کے جرم کا ارتکاب کرے تو اسے حد کی سزا نہیں دی جاسکے گی کیونکہ وہ خود اپنے اوپر حد کا نفاذ نہیں کرسکتا اور کسی اور کے پاس یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ حد نافذ کرے۔

تاہم اگر عدالت میں ثابت ہوجائے کہ کسی شخص نے حد کے جرم کا ارتکاب کیا ہے اور اس کے بعد کوئی اور شخص اپنی جانب سے اس مجرم پر سزا کا نفاذ کرے تو اس صورت کو فقہاء افتیات کے عنوان کے تحت ذکر کرتے ہیں۔ افتیات سے مراد یہ ہے کہ اس شخص نے اپنی جانب سے حد کا نفاذ کرکے حکمران کا حق ضائع کردیا ہے اور اس طرح فساد کا مرتکب ہوا ہے۔ اس کی تعبیر کے لیے آج کل ہم ”قانون کو اپنے ہاتھ میں لینا“ کی ترکیب استعمال کرتے ہیں۔

قانون کو اپنے ہاتھ میں لے کر حد کی سزا کا نفاذ
اگر کسی شخص نے قانون اپنے ہاتھ میں لے کر حد کے مجرم کو سزا دی تو فقہاء یہاں دو صورتیں ذکر کرتے ہیں:

ایک یہ کہ اس نے حد کے بجائے کچھ اور سزا دی تو ظاہر ہے کہ وہ فساد کا مرتکب ہوا اور اس لیے مناسب سزا کا مستحق بھی ہے؛

دوسری صورت یہ ہے کہ اس نے حد کی مقررہ سزا ہی دی اور سزا کے نفاذ کی شروط کا لحاظ رکھا، تب بھی افتیات کے مرتکب اس شخص کو حق الامام کی پامالی، یا بہ الفاظ دیگر فساد کے ارتکاب، پر حکمران مناسب سزا دے سکتا ہے۔

یہ سزا چونکہ حق الامام میں دی جائے گی اس لیے اس پر ان تمام احکام کا اطلاق ہوگا جو سیاسۃً دی جانے والی سزا کے لیے ہیں۔

واضح رہے کہ یہ حکم وہاں ہے جہاں پہلے سے ہی ثابت ہو کہ قانون ہاتھ میں لے کر جس شخص کو سزا دی گئی اس نے حد کے جرم کا ارتکاب کیا تھا۔ اگر پہلے یا بعد میں اس کا جرم ثابت نہیں کیا جاسکا تو پھر قانون ہاتھ میں لینے والا یہ شخص اس عدوان کے لیے الگ سزا کا مستحق ہوگا جو اس نے اس شخص پر کیا تھا۔

گستاخ رسول کے معاملے میں چونکہ حد ارتداد کا اطلاق ہوتا ہے اس لیے مقررہ حد سزائے موت ہے۔ پس اگر افتیات کے مرتکب شخص نے کسی شخص کو گستاخ رسول سمجھ کر قتل کردیا اور اس نے عدالت میں مقررہ ضابطے پر ثابت کردیا کہ مقتول واقعی گستاخ رسول تھا، تو اس صورت میں اسے قصاصاً سزائے موت نہیں دی جاسکے گی کیونکہ مقتول مرتد ہونے کی وجہ سے مباح الدم تھا۔ البتہ افتیات کے ارتکاب کی وجہ سے قاتل کو مناسب تادیبی سزا دی جاسکے گی۔

یہ بھی پڑھیں:   کیا مسلمان دوبارہ عروج حاصل کر سکتے ہیں؟ پروفیسر جمیل چودھری

اگر مقتول کو مقررہ ضابطے پر گستاخ رسول اور مرتد ثابت نہ کیا جاسکا تو قاتل کو مومن کے قتل عمد کا ذمہ دار ٹھہرا کر قصاصاً سزائے موت دی جائے گی۔ نیز اسے فساد کے ارتکاب کی وجہ سے سیاسۃً کوئی اور مناسب سزا بھی دی جاسکے گی۔

سیاسۃ کا استیفاء بھی حکمران کا حق ہے۔
سیاسۃ کی سزا چونکہ حق الامام میں دی جاتی ہے اس لیے اس کا استیفاء بھی حکمران ہی کا حق ہے۔ جیسا کہ اوپر مذکور ہوا، اگر توہین رسالت کا ارتکاب کرنے والا پہلے ہی سے غیر مسلم تھا تو اسے دی جانے والی سزا حد ارتداد نہیں، بلکہ سیاسۃ ہے۔ یہ بھی مذکور ہوا کہ سیاسۃً دی جانے والی سزا کی کوئی مقررہ حد نہیں ہے بلکہ اسے حکمران اور عدالت کی صوابدید پر چھوڑا گیا ہے، اس لیے ضروری نہیں کہ اس غیر مسلم کو سزائے موت ہی دی جائے۔ باقی اصول وہی ہیں جو اوپر حد کے سلسلے میں ذکر ہوئے۔

چنانچہ اگر کسی شخص نے کسی غیر مسلم کو گستاخ رسول قرار دیتے ہوئے قتل کردیا تو دیکھا جائے گا:
اگر مقتول کا جرم ثابت تھا اور اسے سزائے موت سنائی گئی تھی تو اس کے قاتل سے قصاص نہیں لیا جاسکے گا لیکن قانون اپنے ہاتھ میں لینے پر اسے مناسب تادیبی سزا دی جاسکے گی۔

اگر مقتول کا گستاخ رسول ہونا ثابت نہیں کیا جاسکا، یا اسے سزائے موت کے بجائے کوئی اور سزا دی گئی تھی، یا اس کی سزا میں تخفیف یا معافی کی گئی تھی، اور اس کے باوجود اسے قتل کردیا گیا، تو ان تمام صورتوں میں چونکہ وہ مباح الدم نہیں تھا اس لیے اس کے قاتل سے قصاص لیا جائے گا اور اسے سیاسۃً مزید سزا بھی دی جاسکے گی۔

خلاصۂ بحث
آخر میں مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ان تمام مباحث کا خلاصہ چند نکات کی صورت میں پیش کیا جائے:

۱۔ کسی شخص کو اس وقت تک ”گستاخ رسول“ قرار نہیں دیا جاسکتا جب تک مقررہ شرعی ضابطے پر اس کا جرم ثابت نہ ہو۔

۲۔ اگر گستاخ رسول اس جرم سے پہلے مسلمان تھا تو اس کے اس جرم پر ارتداد کے احکام کا اطلاق ہوگا اور اگر وہ پہلے ہی غیر مسلم تھا تو پھر اس فعل پر سیاسۃ کے احکام کا اطلاق ہوگا۔

۳۔ حد ارتداد کو ملزم کے اقرار یا دو ایسے مسلمان مردوں کی گواہی، جن کا کردار بے داغ ہو، سے ہی ثابت کیا جاسکتا ہے، جبکہ سیاسۃ کو عورتوں اور غیر مسلموں کی گواہی، نیز قرائن اور واقعاتی شہادتوں سے بھی ثابت کیا جاسکتا ہے۔

۴۔ پہلی صورت میں سزا بطور حد موت ہے لیکن سزا کے نفاذ سے پہلے عدالت مجرم کو توبہ کے لیے کہے گی اور اگر عدالت اس کی توبہ سے مطمئن ہو تو اس کی سزا ساقط کردے گی۔ دوسری صورت میں کوئی مقررہ سزا نہیں ہے بلکہ جرم کی شدت و شناعت اور مجرم کے حالات کو دیکھتے ہوئے عدالت مناسب سزا سنائے گی، جو بعض حالات میں سزائے موت بھی ہوسکتی ہے۔ سیاسۃً دی جانے والی سزا کو حکومت معاف کرسکتی ہے اگر مجرم کا طرز عمل تخفیف کا متقاضی ہو۔

۵۔ حد ارتداد حق اللہ ہے اور سیاسۃ کی سزا حق الامام ہے، اور حنفی فقہاء کے مسلمہ اصولوں کے مطابق حقوق اللہ اور حقوق الامام دونوں سے متعلق سزاؤں کا نفاذ حکومت کا کام ہے۔

۶۔ اگر کسی شخص نے قانون کو اپنے ہاتھ میں لے کر ایسے شخص کو قتل کیا جو پہلے مسلمان تھا لیکن توہین رسالت کے نتیجے میں مرتد ہوگیا تھا اور اس کا جرم مقررہ ضابطے پر ثابت ہوا تھا، تو قاتل کو قصاص کی سزا نہیں دی جائے گی لیکن قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے پر اس قاتل کو سیاسۃً مناسب سزا دی جاسکے گی۔ اگر مقتول کا جرم مقررہ ضابطے پر ثابت نہیں ہوا تھا تو سیاسۃ کے علاوہ قاتل کو قصاص کی سزا بھی دی جائے گی۔

۷۔ اگر مقتول پہلے سے ہی غیر مسلم تھا اور اس کے خلاف الزام ثابت نہیں ہوا تھا، یا اسے عدالت کی جانب سے سزائے موت نہیں سنائی گئی تھی، یا اس سزا میں تخفیف کی گئی تھی، تو قاتل کو قصاص کی سزا بھی دی جائے گی اور سیاسۃً کوئی اور مناسب سزا بھی سزا بھی دی جاسکے گی۔ اگر مقتول کا جرم بھی ثابت تھا اور اسے سزائے موت بھی سنائی گئی تھی، تو قاتل کو قصاص کی سزا نہیں دی جائے گی لیکن قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے پر تادیب کے لیے اسے سیاسۃً مناسب سزا دی جاسکے گی۔

Comments

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی، اسلام آباد میں شریعہ اکیڈمی کے ڈائریکٹر جنرل ہیں، اس سے قبل شعبۂ قانون کے سربراہ تھے۔ ایل ایل ایم کا مقالہ بین الاقوامی قانون میں جنگِ آزادی کے جواز پر، اور پی ایچ ڈی کا مقالہ پاکستانی فوجداری قانون کے بعض پیچیدہ مسائل اسلامی قانون کی روشنی میں حل کرنے کے موضوع پر لکھا۔ افراد کے بجائے قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں اور جبر کے بجائے علم کے ذریعے تبدیلی کے قائل ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.