فہم اسلام ، ہمارا بڑا مسئلہ - ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

بظاہر ہمارا ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ عمومی طور پر ہمارا فہم اسلام تاریخی ہے، کتابی نہیں۔ "تاریخی" سے مراد پیغمبر اسلام ﷺ کی وفات کے بعد رونما ہونے والے وہ واقعات ہیں جن کے نتیجے میں اسلامی فکر اور مسلمانوں کی نفسیات پر گہرے نقوش مرتب ہوئے۔ اس میں بھی بڑا حصہ سیاسی و عسکری رجحانات سے عبارت ہے۔ کتاب و سنت اپنہ جگہ موجود تو رہے لیکن ان کی حیثیت یا تو علامتی ہو کر رہ گئی اور یا پھر کسی ماسوا کی تشریح کی محتاج۔ خدا اور رسول تو سب کے سنجھے ہیں لیکن تشریح کرنے والے تک بات آتے آتے یہ اتفاق باقی نہیں رہتا اور یوں تقسیم در تقسیم اور پھر اس تقسیم کو تقدس کا رنگ دینے کے لیے اس کی مذہبی تشریحات، مخالف کے لیے کفر کے فتاوی، اور تقسیم کو برقرار رکھنے کے لیے مارو یا مر جاؤ کے نظریات کا بھرپور پرچار گویا سونے پر سہاگہ ثابت ہوا۔

مخالفین تو اسلام پر تشدد پسند ہونے کا الزام لگاتے ہی تھے لیکن اس الزام کو حقیقت کا رنگ بہرحال مسلمانوں کی باہمی چپقلش نے دیا۔ پھر یہ بھی ہؤا کہ حقیقی یا مبینہ دین مخالف آوازوں کو دعوت کا میدان سمجھنے کے بجائے میدان حرب سمجھ کر ان سے معاملہ کرنے کا رجحان پیدا ہؤا۔ اس رویہ کی تحسین نے اسے مسلمانوں کی نفسیات میں مزید راسخ کر دیا۔

اس سب میں ہم یہ بھول گئے کہ دین کا ماخذ خدا کی کتاب اور اس کے رسولﷺ کی حیات طیبہ ہے۔ شاید ہم نے خال ہی کبھی غور کیا ہو کہ انسایت کی ہدایت کے لیے بھیجے گئے اپنے آخری نبی کو اللہ تعالی نے کیوں بار بار کہا "فاصبر" صبر کیجیے ۔۔۔۔ صبر کیجیے ان کی دل جلا دینے والی باتوں پر ، ان کی زیادتیوں پر ان کے الزامات پر۔ کیوں کہا کہ آپ ان کے پیچھے کیا (ان کی گمراہی کے ملال میں) خود کو ہلاک کر لیں گے ؟ یہ سب اس لیے کہ رسول خدا کو بھی ایسے ہی لوگوں کا سامنا تھا جو خدا پر اعتراض کرتے تھے اس کے احکامات ماننے سے منکر تھے ، جنت دوزخ کا ٹھٹھا اڑاتے تھے۔ لیکن آپ کے سامنے پورا قرآن ہے ۔۔۔ کہیں یہ ہے کہ کوئی ایسا کرے تو آپ اٹھکر اسے قتل کر دیں ؟ اگر ہے تو یہ کہ جہاں ایسا کام ہو رہا ہے ہو ، ایسی گفتگو جاری ہو آپ وہاں سے اٹھ جائیں اور وہاں مت لوٹیں جب تک اس قسم کی حرکت جاری رہے۔

دینی حمیت کا بوجھ دوسرے کی جان سے بہت پہلے اپنی جان پر اٹھانا ہوتا ہے۔ خدا کی راہ کی مزدوری کا یہی چلن ہے اور تمام انبیاء کی یہی سنت چلی آتی ہے۔ انہوں نے لوگوں کی کڑوی کسیلی باتیں سنیں، تشدد اور جلاوطنی کا سامنا کیا ۔۔۔۔ کس لیے ؟ وہ تو لوگوں کی خیرخواہی کر رہے تھے ۔۔۔۔ ان سے کوئی صلہ تو نہیں مانگ رہے تھے۔ یہ سب اس لیے کہ وہ اللہ تعالی کے اپنے بندوں سے کیے گئے اس وعدے کو پورا کر رہے تھے کہ "تمھارے پاس میری ہدایت آتی رہے گی" ۔ خدا کے دین کی حمیت خدا کے طے کردہ اصولوں سے آگے نہیں بڑھ سکتی ، ورنہ تمام تر اخلاص کے باوجود وہ بھلائی کے بجائے نقصان کا سامان بننے لگتی ہے۔

نبی کریم ﷺ کی زندگی دیکھیے۔ انہوں نے اپنے بد ترین مخالفین کو کبھی پلٹ کر جواب نہیں دیا۔ طائف سے واپسی پر جب انہیں کہا گیا کہ کیا طائف والوں کو تباہ کر دیا جائے تو انہوں نے ایسا کرنے سے منع فرما دیا۔ جن لوگوں نے ان پر جنگیں مسلط کیں، شعب ابی طالب میں ان کا معاشی و سماجی مقاطعہ کیا انہیں فتح مکہ کے روز معاف فرما دیا۔ اس روز جبکہ روایت اور اختیار کے تمام پلڑے ان کے حق میں جھکے ہوئے تھے۔ فتح مکہ تو بعد کا واقعہ ہے ۔۔۔۔۔ آپ یہ دیکھ لیجیے کہ جس رات قریش آپ کے قتل کرنے کا ارادہ کر چکے تھے آپ نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو کیوں اپنے بستر پر سلایا ۔۔۔۔ تاکہ وہ مکہ والوں کی امانتوں کی بحافظت واپسی کو یقینی بنا سکیں۔ کیا ان کے پاس کافی جواز نہیں تھا کہ وہ اپنے قتل کے منصوبہ سازوں کا مال ضبط کر لیتے یا اسے چھوڑ کر صرف اپنی جان بچانے کا سوچتے؟

ہم اگر کتاب و سنت سے اپنے دین کی بنیادیں اٹھاتے تو ہمیں یہ معلوم ہوتا کہ خدا کے ہاں کبھی بھی آئمہ کفر کی کوئی اہمیت نہیں رہی۔ اس کے انبیاء اپنے کردار، اخلاق اور بردباری سے عامتہ الناس کے دلوں میں گھر کر لیتے ہیں ۔ سرداروں کی سرداری انہی عوام کے دم سے ہوتی ہے، جب آپ انہیں متاثر کر لیتے ہیں تو سب سرداریاں خود ہی ڈھے جاتی ہیں۔ یہی فرعون کے ساتھ ہؤا اور پھر یہی قریش کے سرداروں کا مقدر بنا۔ عوام کے دلوں تک رسائی صرف ان کی غم خواری سے حاصل ہو سکتی ہے۔

بہاولپور کا واقعہ اور ایسا کوئی بھی دیگر واقعہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ ہم کسی بھی صورت محض عقائد کے فرق یا اختلاف پر کسی پر ہاتھ نہ اٹھائیں، چہ جائیکہ کسی کی جان ہی لے لیں۔ اللہ تعالٰی نے تو اپنے نبی ﷺ کو بھی کہا کہ ہم نے آپ کو ان پر داروغہ بنا کر نہیں بھیجا ۔۔۔ تو مجھے یا کسی اور کو یہ ٹھیکہ کس نے دیا کہ ہم اسلام کے نام پر لوگوں کی جانوں کو خود پر ارزاں کر لیں؟ مقتول استاد صاحب کے متعلق اب یہ بات اب سامنے آ چکی کہ وہ ویسے نہیں تھے جیسا کہ قاتل نے ان پر الزام لگایا، لیکن بالفرض محال، اگر وہ ایک سو ایک فیصد بھی ویسے ہی ہوتے تب بھی یہ قتل اتنا ہی بے جواز، گھناؤنا اور غلط ہوتا جتنا کہ اب ہے۔ کسی کی انفرادی یا گروہی فیصلہ سازی، نظم اجتماعی کا متبادل نہیں بن سکتی خواہ مبینہ مقصد کتنا بھی ارفع کیوں نہ ہو۔

جسے اسلام کا درد ہے اس کے سامنے بس ایک ہی آپشن ہے، وہ اپنے نبیﷺ کا راستہ اپنائے۔ دیگر سب معاملات بشمول سزا و جزا اللہ تعالی کے ذمہ ہیں اور اللہ پر ایمان کا یہ اہم ترین حصہ ہے کہ وہ نہ صرف اپنا کام بخوبی کرتا ہے بلکہ یہ بھی کہ وہ اس میں کسی اور کی مداخلت ہرگز پسند نہیں کرتا۔

Comments

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش کی دلچسپی کا میدان حالاتِ حاضرہ اور بین الاقوامی تعلقات ہیں. اس کے علاوہ سماجی اور مذہبی مسائل پر بھی اپنا ایک نقطہ نظر رکھتے ہیں اور اپنی تحریروں میں اس کا اظہار بھی کرتے رہتے ہیں.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • ڈاکٹر عاصم اللہ بخش۔۔۔ آپکی راۓ تبصرہ کی حد تک تو خوب ہے لیکن دلیل اور شریعت کے اعتبار سے غیر منطقی ہے، اگرچہ انفرادی طور پر سزا و جزا کا حق ہرکس و ناکس کو حاصل نہیں ہے لیکن ریاست ایسے قوانین پر عمل درامد کی ذمہ دار ہے ۔ پاکستان میں توہین رسالت کا قانون ہونے کے باوجود کبھی کسی مجرم کو سزا نہیں ہوی جسکی وجہ سے ایسے واقعات جنم لیتے ہیں اور توہین رسالتﷺ کا قانون تعزیری بھی نہیں ہے کہ سزا دینے اور نہ دینے کا جج کو اختیار ہو یہ تو حدوداللہ میں سے ہے جب جرم ثابت ہو جاۓ تو سزا لازم ہے۔ لیکن بہاول پور کے واقعہ کی میں کوئ جسٹیفیکیشن نہیں دے رہا مجھے اس واقعہ کا پوری طرح علم نہیں ہے