میں نے سراج الحق اور جماعت اسلامی کو کیسا پایا؟ احسن سرفراز

کسی کو نواز شریف پسند ہے، کسی کو بلاول اور کوئی عمران خان کی صورت میں مسیحا ڈھونڈتا ہے, اپنی اپنی پسند اور تجزیے کی بات ہے۔ نوازشریف ملک کے تین بار وزیراعظم رہ چکے ہیں، بلاول کے آباؤ اجداد کی حکمرانی کا مزا بھی یہ قوم چکھ چکی ہے جبکہ خان صاحب کو اپنی اننگ شروع کیے پون سال ہوا چاہتا ہے۔ وطن عزیز کے مقدر میں قرضوں کا بوجھ ہے جو کہ ہر آنے والے دن میں مزید بڑھتا جا رہا ہے جبکہ عام آدمی کے لیے ضروریات زندگی پورا کرنا مشکل سے مشکل تر ہو چکا ہے۔ مندرجہ بالا تمام جماعتیں محض ایک سیاسی ایجنڈا رکھتی ہیں اور ان کے پاس اپنے ورکر اور قوم کی اصلاح کا کوئی اخلاقی ایجنڈا بھی موجود نہیں، یہی وجہ ہے کہ ان کے دائیں بائیں وہی مفاد پرست و پیشہ ور ٹولہ جمع ہے جو ہر حکومت کا بیڑا غرق کرنے میں پیش پیش ہوتا ہے۔

جماعت کے دوسری بار امیر منتخب ہونے والے ترپن سالہ سراج الحق گراس روٹ لیول کے ایک غریب سیاسی کارکن تھے، طلبہ سیاست سے ملکی سطح کے قائد منتخب ہوئے۔ بطور سینئر وزیر اور وزیر خزانہ کارکردگی اور شفافیت کی مثال بنے، اب بھی عاجزی اور متانت کا حسین امتزاج ہیں۔ غربت کو قریب سے دیکھنے کی وجہ سے غریب کے درد سے واقف ہیں، اس ملک کی کرپٹ حکمران اشرافیہ کو اس غربت کی وجہ سمجھتے ہیں اور عام آدمی کو اس سے آگاہ کر رہے ہیں۔ اداروں کی مضبوطی، بے لاگ اور یکساں احتساب کے داعی ہیں، مضبوط قوت برداشت رکھتے ہیں اور انتہا پسندی و بدزبانی سے کوسوں دور رہتے ہیں۔ سراج صاحب عمر کے جس حصے میں ہیں ان کے پاس اپنی غلطیوں کی اصلاح اور زمانہ طالب علمی سے تنظیمی و حکومتی ایوانوں کا جو تجربہ موجود ہے، اس کی بنیاد پر جماعت کی پالیسیز کا از سر نو جائزہ لینے کا خاصا موقع موجود ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   جماعت اسلامی کراچی، جائزہ لینے میں کیا حرج ہے - حبیب الرحمن

جماعت اسلامی کے پاس تربیت یافتہ کارکنان کی ایک ٹیم ہے جو باقی پارٹیوں کے الیکٹیبلز کی طرح سیاست کو تجارت نہیں بلکہ عبادت سمجھ کر کرتی ہے۔ جماعت اسلامی کے ذیلی ادارے تعلیم، صحت و خدمت خلق کے شعبوں میں ایک کامیاب تاریخ رکھتے ہیں اور وطن عزیز پر پڑنے والی ہر قدرتی آفت میں ان اداروں کی سرگرمیوں کا ایک زمانہ معترف ہے۔ ملک کی نظریاتی جہت کے تحفظ کے لیے بھی قرارداد مقاصد سے لیکر تہتر کے آئین کی اسلامی دفعات کی منظوری اور دیگر آئینی شقوں کی حفاظت و منظوری میں بھی جماعت کا مضبوط سیاسی کردار رہا۔ مختلف ادوار میں جماعت سے وابستہ سینکڑوں لوگ بلدیاتی و پارلیمانی اداروں کے ممبر منتخب ہوئے لیکن ان کا دامن ہر طرح کی مالی و اخلاقی کرپشن سے پاک رہا۔ اس کے منتخب میئرز عبدالستار افغانی و نعمت اللہ خان جبکہ وزراء سراج الحق سے لیکر عنایت اللہ خان وغیرہ تک کی کارکردگی اور اہلیت کی ان کے ہمعصر اور مخالفین تک گواہی دیتے ہیں۔

جماعت کی سب سے بڑی خوبی اس کا نصب العین ہے جس کے مطابق جماعت اسلامی دین کو زندگی کے ہر شعبے میں رہنما دیکھنا چاہتی ہے اور اس کے لیے عملی جدوجہد کے ذریعے اللہ کی رضا حاصل کرنا اس کے ہر کارکن کا مطمح نظر ہے۔ جماعت اسلامی کا لٹریچر اس کے نصب العین کی مکمل تشریح پیش کرتا ہے اور جماعت اپنے پروگرامات، دروس قرآن و سٹڈی سرکلز کے ذریعے مسلسل یہ نصب العین اپنے کارکن کے ذریعے عوام الناس تک پہنچانے کے لیے کوشاں رہتی ہے۔

عام جماعتوں میں تو کسی سیاسی کارکن کی تمام تر سرگرمیاں اپنی جماعت اور لیڈر کی بڑائی بیان کرنے تک ہی محدود رہتی ہیں لیکن جماعت کے کارکن کی اصل متاع قرآن و سنت کی تعلیمات سے جڑے رہنا اور ایک صاف ستھری اجتماعیت کا حصہ ہونا ہے، یہی وجہ ہے کہ کوئی بھی انتخابی کامیابی یا شکست اس کی منزل کو کھوٹا نہیں کرتی، کیونکہ اللہ کے ہاں جواب دہی کا احساس ہر دم اس کے سامنے رہتا ہے۔ اسی لیے اب دوسری بار سراج الحق صاحب کو جماعت کے چالیس ہزار کے قریب ارکان کی اکثریتی رائے سے امیر چنا گیا تو احساس ذمہ داری بہتے ہوئے آنسوؤں کی جھڑی کی صورت نمایاں تھا، جبکہ دنیا دار جماعتوں میں عہدوں کا حصول ہی مطمح نظر ہوتا ہے اور اس کے لیے جوڑ توڑ اور رشوتیں تک دی جاتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   اہل کشمیر نڈھال مت ہوجانا - سید مصعب غزنوی

میں مندرجہ بالا وجوہات کی بناء پر ہی سراج الحق اور جماعت اسلامی کے ساتھ ہوں ورنہ تو سراج الحق اور نہ ہی جماعت اسلامی میرے لیے کوئی بت ہیں، اسی بنیاد پر میں سمجھتا ہوں کو اب عوام کو جماعت اسلامی کو ووٹ اور سپورٹ کرنا چاہیے۔ خیبرپختونخوا کی سطح پر جماعت اس وقت بلدیات میں دوسری بڑی حکمران جماعت ہے، جہاں پانچ اضلاع اور 28 کے قریب تحصیلوں میں جماعت کے منتخب ناظمین و نائب ناظمین کام کر رہے ہیں۔ جبکہ کراچی میں بھی جماعت کا سیاسی کام کافی منظم ہے۔

گو کہ ان انتخابات میں جماعت کو کوئی خاص کامیابی حاصل نہیں ہو پائی لیکن میرا یقین ہے کہ جوں جوں جمہوری نظام کا تسلسل ہوگا اور سراج الحق و جماعت اسلامی کا ہر سطح کا کارکن محنت اور جذبے سے عام آدمی تک جماعت کا دعوتی و سیاسی پیغام پہنچائے گا، صورتحال بتدریج بہتر ہوگی۔ میں جماعت کو عام آدمی کی آواز بنتا دیکھنا چاہتا ہوں اور اس کے دینی و سوشل ایجنڈے کی پزیرائی کا خواہش مند ہوں، اس کا دینی و تربیتی ایجنڈا ایک صاف ستھری قیادت اور معاشرے کی تیاری میں ایک خاص مقام رکھتا ہے۔ آپ بھی جماعت کو قریب سے دیکھ کر اپنی رائے بنا سکتے ہیں، لیکن اس کے لیے شرط ہے کہ ذہن کو ہر قسم کے تعصب سے پاک کر کے جماعت کو پرکھا جائے۔

Comments

احسن سرفراز

احسن سرفراز

احسن سرفراز لاہور کے رہائشی ہیں. سیاست اور دیگر سماجی موضوعات دلچسپی کا باعث ہیں. ان کے خیال میں وہ سب کی طرح اپنے رب کی بہترین تخلیق ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ رب کی تخلیق کا بھرم قائم رہے.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.