میں کیسے مسلمان ہوا؟ ایک نومسلم کی کہانی - ابومحمد مصعب

میرا تعلق یورپی ملک، رومانیہ سے ہے۔ بہت پرانی بات ہے میں اپنی بیوی کے ساتھ گھومنے پھرنے کی غرض سے ترکی گیا ہوا تھا۔ ترکی میں سیاحت کے دوران میں اپنے رہائشی ہوٹل کا راستہ بھٹک گیا، یہاں تک کہ سورج ڈھل گیا۔ میں نے ایک مقام پر پہنچ کر ایک شخص کو ہوٹل کا بروشر دکھایا اور پوچھا کہ میں اس ہوٹل تک کیسے پہنچ سکتا ہوں؟ اس شخص نے بروشر دیکھ کر کہا کہ بھائی اس گاؤں میں تو اس نام کا کوئی ہوٹل نہیں ہے۔ البتہ اگر آپ برا نہ مانیں تو میرے ساتھ میرے گھر چلیں، وہاں رات گزاریں، پھر صبح اپنا ہوٹل تلاش کر لیجیے گا۔

ہم اس شخص کے ساتھ چل دیے۔ وہاں بجلی نہیں تھی۔ سخت اندھیرا تھا جس میں مجھے صرف اس کے مکان کا داخلی دروازہ نظر آیا۔ وہ شخص ہمیں ایک کمرے میں لے کر گیا۔ اندر جاتے ہوئے میں نے پانچ بچے اور دو عورتوں کو دیکھا۔ اس نے ہمیں سادہ سا کھانا کھلایا، پھر کہا کہ آپ اسی جگہ پر سو جائیں، ہمارے پاس سونے کے لیے دوسری جگہ ہے۔

جس انداز سے انہوں نے ہماری خاطر تواضع کی تھی، ہم کسی قسم کا خوف محسوس نہیں کر رہے تھے اور بہت پرسکون تھے۔ لہٰذا ہم وہیں سو گئے۔
جب صبح اٹھے تو سورج نکل چکا تھا اور ہم اب گھر کا نقشہ صاف دیکھ سکتے تھے، جہاں کوئی دوسرا کمرہ نہیں تھا، بلکہ وہی ایک کمرہ تھا جو انہوں نے ہمیں دے دیا تھا۔ میں نے دیکھا کہ اس شخص نے اپنے پانچ بچوں، اپنی ماں اور بیوی کے ساتھ، سردیوں کی یخ بستہ رات ایک درخت کے نیچے سو کر گزاری تھی۔

میرا تعلق یورپی ملک، رومانیہ سے ہے۔بہت پرانی بات ہے میں اپنی بیوی کے ساتھ گھومنے پھرنے کی غرض سے ترکی گیا ہوا تھا۔ ترکی میں سیاحت کے دوران میں اپنے رہائشی ہوٹل کا راستہ بھٹک گیا، یہاں تک کہ سورج ڈھل گیا۔ میں نے ایک مقام پر پہنچ کر ایک شخص کو ہوٹل کا بروشر دکھایا اور پوچھا کہ میں اس ہوٹل تک کیسے پہنچ سکتا ہوں؟اس شخص نے بروشر دیکھ کر کہا کہ بھائی اس گاؤں میں تو اس نام کا کوئی ہوٹل نہیں ہے۔ البتہ اگر آپ برا نہ مانیں تو میرے ساتھ میرے گھر چلیں، وہاں رات گزاریں، پھر صبح اپنا ہوٹل تلاش کر لیجیے گا۔ہم اس شخص کے ساتھ چلے دیے۔ وہاں بجلی نہیں تھی۔ سخت اندھیرا تھا جس میں مجھے صرف اس کے مکان کا داخلی دروازہ نظر آیا۔وہ شخص ہمیں ایک کمرے میں لے کر گیا۔ اندر جاتے ہوئے میں نے پانچ بچے اور دو عورتوں کو دیکھا۔ اس نے ہمیں سادہ سا کھانا کھلایا، پھر کہا کہ آپ اسی جگہ پر سو جائیں، ہمارے پاس سونے کے لیے دوسری جگہ ہے۔جس انداز سے انہوں نے ہماری خاطر تواضع کی تھی، ہم کسی قسم کا خوف محسوس نہیں کر رہے تھے اور بہت پرسکون تھے۔ لہٰذا ہم وہیں سو گئے۔جب صبح اٹھے تو سورج نکل چکا تھا اور ہم اب گھر کا نقشہ صاف دیکھ سکتے تھے جہاں کوئی دوسرا کمرہ نہیں تھا، بلکہ وہی ایک کمرہ تھا جو انہوں نے ہمیں دے دیا تھا۔ میں نے دیکھا کہ اس شخص نے اپنے پانچ بچوں، اپنی ماں اور بیوی کے ساتھ، سردیوں کی یخ بستہ رات ایک درخت کے نیچے سو کر گزاری تھی۔ میں دم بخود رہ گیا اور اس کے پاس جا کر کہا۔ اے بھائی! کیا تمہاری عقل ٹھکانے ہے کہ نہیں؟ یہ حرکت تم نے کیوں کی؟اس نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔ نہیں، میں پاگل نہیں ہوں بلکہ مسلمان ہوں۔ آپ مسافر تھے۔ ہمارے مہمان تھے۔ اس لیے بحیثیت مسلم مجھے یہ سب کچھ کرنا تھا۔ یہ میری ذمہ داری تھی۔جب اس کے منہ سے یہ الفاظ نکل رہے تھے کہ ’’ میں مسلمان ہوں‘‘، تو اس کا مسکراتا چہرا آگ کے انگارے کی طرح روشن ہو کر دمک رہا تھا۔میں ایک بار پھر بھونچکا سا رہ گیا۔ میری بیوی کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ میں نے اس شخص سے پوچھا کہ آپ اسلام کے بارے میں کیا جانتے ہیں؟اس نے جواب دیا، میں تو ایک سادہ سا عام سا مسلمان ہوں۔ اگر اسلام کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں قرآن اور سنت کو پڑھیے تو آپ کو پتہ چل جائے گا۔وہاں سے نکلتے ہی میں فوراََ کتب خانے گیا، وہاں سے قرآن کا ایک نسخہ اور حدیث کی کتب خریدیں اور انہیں پڑھنا شروع کر دیا۔میں نے مسلسل دو ماہ تک قرآن اور حدیث کا مطالعہ کیا، جس سے میرا سینہ کھل گیا۔ اور میں نے کلمہ پڑھ لیا۔ وہ ۱۷ جنوری سنہ ۱۹۹۳ کا دن تھا۔مسلمان بننے کے بعد میں نے اول روز سے اسلام کی دعوت کا کام شروع کر دیا۔ میں اسلام کی دعوت لے کر ۱۱۲ ملکوں میں گیا جس کے نتیجہ میں اب تک ایک ہزار سے زائد لوگ مسلمان ہو چکے ہیں۔ جب میں نے دیکھا کہ میری کوششوں کے اچھے نتائج برامد ہو رہے ہیں تو میں نے فیصلہ کیا کہ اپنے ملک رومانیہ میں ایک اسلامی مرکز تعمیر کروں۔ ہمارے علاقے میں ۸۰ ہزار سے زیادہ مسلمان بستے ہیں۔اب وہ مرکز تقریباََ مکمل ہونے والا ہے۔ ارادہ ہے کہ ہم وہاں پر لوگوں کو قرآن اور سنت کی تعلیم دیں، پھر وہاں سے پوری دنیا میں دعوتی وفود بھیجیں۔میرا یقین ہے کہ جس نے بھی ایک بار، سوچ سمجھ کر قرآن اور حدیث کو پڑھ لیا، وہ ضرور ہدایت کا راستہ پا لے گا، وہ راستہ جو اللہ کے آخری رسول، حضرت محمدﷺ نے ہمیں بتایا تھا۔ویڈیو: بشکریہ محمد شبیر

Posted by ‎ابو محمد مصعب‎ on Thursday, March 21, 2019

میں دم بخود رہ گیا اور اس کے پاس جا کر کہا۔ اے بھائی! کیا تمہاری عقل ٹھکانے ہے کہ نہیں؟ یہ حرکت تم نے کیوں کی؟ اس نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔ نہیں، میں پاگل نہیں ہوں بلکہ مسلمان ہوں۔ آپ مسافر تھے۔ ہمارے مہمان تھے۔ اس لیے بحیثیت مسلم مجھے یہ سب کچھ کرنا تھا۔ یہ میری ذمہ داری تھی۔ جب اس کے منہ سے یہ الفاظ نکل رہے تھے کہ ’’ میں مسلمان ہوں‘‘، تو اس کا مسکراتا چہرا آگ کے انگارے کی طرح روشن ہو کر دمک رہا تھا۔ میں ایک بار پھر بھونچکا سا رہ گیا۔ میری بیوی کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔

یہ بھی پڑھیں:   ترکی کو F-35 طیاروں کی فروخت رکوانے میں اسرائیل کا ہاتھ ہے

میں نے اس شخص سے پوچھا کہ آپ اسلام کے بارے میں کیا جانتے ہیں؟ اس نے جواب دیا، میں تو ایک سادہ سا عام سا مسلمان ہوں۔ اگر اسلام کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں قرآن اور سنت کو پڑھیے تو آپ کو پتہ چل جائے گا۔ وہاں سے نکلتے ہی میں فوراََ کتب خانے گیا، وہاں سے قرآن کا ایک نسخہ اور حدیث کی کتب خریدیں اور انہیں پڑھنا شروع کر دیا۔

میں نے مسلسل دو ماہ تک قرآن اور حدیث کا مطالعہ کیا، جس سے میرا سینہ کھل گیا۔ اور میں نے کلمہ پڑھ لیا۔ وہ 17 جنوری سنہ 1993 کا دن تھا۔ مسلمان بننے کے بعد میں نے اول روز سے اسلام کی دعوت کا کام شروع کر دیا۔ میں اسلام کی دعوت لے کر 112 ملکوں میں گیا جس کے نتیجہ میں اب تک ایک ہزار سے زائد لوگ مسلمان ہو چکے ہیں۔

جب میں نے دیکھا کہ میری کوششوں کے اچھے نتائج برامد ہو رہے ہیں تو میں نے فیصلہ کیا کہ اپنے ملک رومانیہ میں ایک اسلامی مرکز تعمیر کروں۔ ہمارے علاقے میں ۸۰ ہزار سے زیادہ مسلمان بستے ہیں۔ اب وہ مرکز تقریباََ مکمل ہونے والا ہے۔ ارادہ ہے کہ ہم وہاں پر لوگوں کو قرآن اور سنت کی تعلیم دیں، پھر وہاں سے پوری دنیا میں دعوتی وفود بھیجیں۔ میرا یقین ہے کہ جس نے بھی ایک بار، سوچ سمجھ کر قرآن اور حدیث کو پڑھ لیا، وہ ضرور ہدایت کا راستہ پا لے گا، وہ راستہ جو اللہ کے آخری رسول، حضرت محمدﷺ نے ہمیں بتایا تھا۔