بہاولپور میں علم اور دلیل کی موت - حافظ یوسف سراج

اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے ایک پروفیسر دوست سے بات ہوئی۔ یہ اسلامیات کے پروفیسر تھے۔ بے حد غم میں ڈوبے ہوئے تھے، سوشل میڈیا پر ہونے والے استاد کے بارے منفی تبصروں سے شدید دل برداشتہ تھے، ابھی ابھی جنازے سے لوٹے تھے، ان کے مطابق پورا شہر جنازے میں امڈ آیا تھا، ہر شخص سوگوار تھا اور پروفیسر کے سلجھے کردار پر گواہ۔ چھ ماہ تک وہ ریٹائرمنٹ پا لیتے۔ پورا کیرئیر ان کا خوش اسلوبی سے تمام ہونے والا تھا، مگر خادم رضوی صاحب جیت گئے۔ ان کی فکر اور فلسفہ جیت گیا۔ پروفیسر صاحب کے متعلق ساری معلومات اجلی اور سارے کولیگز گواہ ہیں۔ وہ ایک دھیمے مزاج کا، دین دوست، طلبہ سے محبت کرنے والا اور متحرک پروفیسر تھا۔ کولیگز اور شاگرد جس سے ہمیشہ شاد رہے۔ یہ بچہ مگر اپنے علاقے منڈی یزمان میں تحریک لبیک کا سرگرم رکن تھا، کچھ دن پہلے واٹس ایپ پر ہنسنے کے حرام ہونے کا فتوی بھی شئیر کرتا پایا گیا ، چپ چاپ اور گم سم رہا کرتا تھا۔ ناچ گانے کی نہیں، یہ ایک سالانہ سٹوڈنٹ پارٹی تھی، اچانک جس کے خلاف اردو میں پوسٹر لگا دیے گئے۔ اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ ہنسنے کو حرام سمجھنے والا کسی بھی پارٹی کو کیونکر غیر اسلامی نہ سمجھ لیتا۔ بہرحال پروفیسر صاحب کا کردار اجلا اور بےداغ ہے۔ اس کی میت نوچنے کی کوئی وجہ نہیں۔ سراسر طالب علم کی زیادتی ہے۔ اس نے سر پر پتھر مارا، پروفیسر کا گلا کاٹا اور پروفیسر کسی بھی مدد سے پہلے 'ریٹائر' ہو گیا۔

بہاولپور کے اساتذہ کو چاہیے، جلد حقیقت حال واضح کرنے کے لیے پریس کانفرنس کریں۔ پروفیسر کے کردار کی گواہی دیں، مجرم کے جلد کیفر کردار تک پہنچائے جانے کا مطالبہ کریں۔ دراصل استاد سہم گئے ہیں، خصوصا اسلامیات کے استاد۔ وہ اپنے شاگردوں کا ذہن نہیں پڑھ سکتے۔ وہ ڈریں گے کہ جانے کب کس شخص کو ان کے کسی لفظ سے اختلاف ہو جائے، اور کوئی پلر کے پیچھے سے ان پر ٹوٹ پڑے۔ سارا معاملہ شدت پسندی کا ہے، قصور وار خطیب نامی شخص بھی ہے، مولانا خادم رضوی بھی اور اس فکر اور شخصیت کے پشت پناہ بھی۔

یقینا یہ واقعہ شقاوت اور سماج کے اندر تک اتری ایک گھمبیر بیماری کا مظہر بن کے سامنے آیا ہے۔ استاد پر ہی نہیں یہ سماج پر بھی ظلم ہوا ہے۔ تعلیم اور طلبا پر بھی ظلم۔ بات مگر اتنی سی ہی نہیں کہ ماتم کر لیا جائے، اور ایک خاص لے میں رو لیا جائے۔ دراصل ہم نے اپنی قسمت ادھورے اور منافقانہ تجزیے سے کھوٹی کر رکھی ہے۔ ہماری اصلی خوبی ماتم بن کے رہ گئی ہے۔ ہم نے دھڑے بانٹ رکھے ہیں،اور مقابلہ جاری ہے۔ دیکھنا یہ ہوتا ہے کہ اب کے رگڑنا کس دھڑے کو ہے اور اپنا دفاع کس دھڑے کو کرنا ہے۔ ہمیشہ میں دیکھتا ہوں، کہ محرکات کی کھوج اور اسباب کے سدِ باب سے زیادہ ہمیں اپنے دھڑے کا ڈھول پیٹنے سے غرض ہوتی ہے۔ لبرل اور اسلامسٹ جب تک معاملات کو انسانی اور زمینی سطح پر نہیں لیتے، یہ اپنے مشن پر معاشرے کی اصلاح اور سچ قربان کرتے رہیں گے۔

اب، مثلا استاد قتل ہوا، اس قتل کا کیا جواز؟ نہ اسلام قانون ہاتھ میں لینے کا کہتا ہے، اور نہ سماج اور اخلاق ہی۔ نہ بچے ہی اس لیے تعلیم گاہوں میں بھیجے جاتے ہیں، کہ وہ علم سے دل و دماغ روشن کرکے آنے کے بجائے،اپنے ہی استاد کے خون سے ہاتھ رنگ کے گھر آجائیں۔ ایسا مگر ہوگیا، تو سوچنا چاہیے کہ آخر کیسے اور کیوں؟

اس معاملے کا واضح اور غالب پہلو تو آشکار ہے کہ بچے میں برداشت اور اسلام کی سچی فہم کی کمی تھی۔ چنانچہ اس پر ضروری غور ہونا چاہیے، اس پہلو کا کامل ازالہ ہونا چاہیے۔ ایک عقلمند کا تجزیہ مگر یہیں تمام نہیں ہو جاتا۔ سوچنا چاہئے، قلم کا حامل ایک کچی عمر کا طالب علم آخر چھری کیوں پکڑ لیتا ہے۔ آپ کہتے ہیں، اس کا فہم اسے اکساتا ہے۔اچھا تسلیم، مگر وہ گھر تو نہ بیٹھا تھا،وہ تو استاد کے پاس سیکھنے آگیا تھا، تو یہ بھی مانیے کہ استاد اسے سکھانے میں ناکام اور مشتعل کرنے میں کامیاب رہا۔کیا ایک استاد کو پتہ نہیں ہونا چاہئے، کہ وہ کس عمر کے ذہن سے مخاطب ہے؟ جس مسئلے پر بچہ یا بچے مشتعل تھے،وہ درخواست لکھ لے اپنی بات کہتے پھرتے تھے، کیا استاد نے اس مسئلے پر اس بچے اور کلاس کو اپنے دھیمے دلائل سے قائل کرنے کی کوشش کی تھی یا اس عمر ، ذہن اور سوچ کا تمسخر اڑایا دیا، اپنا فیصلہ سنا دیا تھا؟ اور وہ مخاطب کی تضحیک پر اتر آیا تھا؟ جس کے نتیجے میں پھر ممکن ہے، اسلام کے لیے نہیں اپنے موقف اور انا کے تحفظ کے لیے کچی عمر نے چھری پکڑ لی ہو؟ سر یہ علم کی موت ہی نہیں، یہ استاد کے پروفیشن، دلیل اور تحمل کی بھی موت ہے۔

ضرور ہمیں یہ بھی جائزہ لینا چاہیے، کہ کس سطح پر کون سی اور کتنی بات استاد کو کرنی ہے، ایسی بات کہ شاگرد شانت ہوں، نہ کہ مشتعل۔ آپ اگر ایف ایس سی کے طلبا کے آگے ایم اے یا پی ایچ ڈی کی ڈیبیٹ، زندگی یاآزادی رکھ کے رواداری کا درس دیں گے تو آپ بھی قصور وار ہی ہوں گے۔
دوسری بات وہ آپ کے قانون کے متعلق بڑی قابلِ غور بات کہتا ہے-وہ کہتا ہے،''قانون کو کون پوچھتا ہے۔'' مجھے بتائیے، اس ایک جملے میں کیا ہماری اصل خرابی اور اس کی جڑ مضمر نہیں؟ آپ جتنی مرضی روا داری اور قانون پسندی کے درس دے لیجئے، لیکن اگر لوگوں کا قانون سے اعتماد ہی اٹھ جائے تو ان کے پاس پھر یہی راستہ بچتا ہے۔ کمزور کا قانون بھی اگر ساتھ نہ دے تو وہ طاقتور کے خلاف خود قانون بن جاتا ہے۔ یہ راستہ پھر پورے سماج کی تباہی کا راستہ بن جاتا ہے۔ اس پر بھی آپ کو بات کرنی چاہیے۔ دراصل ماتم حل نہیں، یہ ہم ہمیشہ کرتے ہیں، آپ طلبا کو ان کا دائرہ کار سمجھائیے اور اس پر بہت محنت کیجیے، آپ مگر اساتذہ کو بھی ان کا دائرہ کار، نصاب ،بچوں کی نفسیات سمجھائیے۔نصاب کا جائزہ لیجیے اور اسے تشدد اور تفریق پیدا کرتی غیر نصابی سرگرمیوں سے روکیے۔ شاگرد کو بھی اور ساتھ ہی استاد کو بھی۔ بچوں کی بات سنیے اور انھیں دلیل سے قائل کیجئے،جب آپ ایک قسم کے تشدد پر آمادہ ہوں گے تو وہ دوسری قسم کا تشدد شعار کر لیں گے۔ جوابا پھر ایسے واقعات ہوں گے۔ اور ہاں، آپ جہاں ایک استاد کی جسمانی موت پر افسردہ ہیں، وہیں آپ کو اس استاد کی ناکامی کا بھی اعتراف کر لینا چاہیے، جو اپنے لفظ ،لہجے اور تربیت سے شاگرد کو نہ شاگرد بنا سکا اور نہ انسان۔

Comments

حافظ یوسف سراج

حافظ یوسف سراج

ادب اور دین دلچسپی کے میدان ہیں۔ کیرئیر کا آغاز ایک اشاعتی ادارے میں کتب کی ایڈیٹنگ سے کیا۔ ایک ہفت روزہ اخبار کے ایڈیٹوریل ایڈیٹر رہے۔ پیغام ٹی وی کے ریسرچ ہیڈ ہیں۔ روزنامہ ’نئی بات ‘اورروزنامہ ’پاکستان‘ میں کالم لکھا۔ ان دنوں روزنامہ 92 نیوز میں مستقل کالم لکھ رہے ہیں۔ دلیل کےاولین لکھاریوں میں سے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.