ریاست ماں کے جیسی مگر…؟ ڈاکٹر محمد اجمل نیازی

سعدیہ قریشی کے کالم کا پہلا جملہ یہ ہے کہ ’’ریاست ماں کے جیسی‘‘ ہماری سرزمین پر یہ نعرہ لگتا رہا ہے اور اس کا عملی مظاہرہ ہمیں نیوزی لینڈ کی سرزمین پر دکھائی دیا ہے۔ جب نیوزی لینڈ کی وزیراعظم کرائسٹ چرچ کے مسلمان متاثرین کیلئے مجسم ماں کے روپ میں ڈھل گئی۔
پہلے پہل پاکستان میں کسی موقع پر اعتزاز احسن نے یہ نعرہ اپنی تقریر میں لگایا تھا ’’ریاست ہوگی ماں کے جیسی‘‘ جو بہت مقبول ہوا تھا۔ پھر لوگوں کو بھول گیا۔ خود اعترازاحسن کو بھی بھول گیا ہوگا۔ ہمارے حکمرانوں میں کسی کو یہ نعرہ یاد بھی نہ ہوگا۔ خاتون اول بشریٰ بی بی کو بھی اب یاد نہ ہوگا۔ شروع شروع میں کچھ ان کا شور مچا تھا۔ بشریٰ بی بی کچھ مختلف خاتون اول ہیں۔

کچھ امید تھی کہ عمران خان نیا پاکستان بناتے بناتے خواتین و حضرات کیساتھ کچھ نیا کر دکھائیں گے مگر پاکستان میں عوام کی امیدوں پر ہمیشہ پانی پھر جاتا ہے۔ یہاں تو پرانا ہی ہو رہا ہے جس کے اب لوگ عادی ہو گئے ہیں۔ اب حکمران جو بھی کر لیں‘ وہ لوگوں کا کچھ بگاڑ نہیں سکتے۔ وہ کتنا زور لگا لیں‘ اس سے زیادہ تو کچھ ظلم نہیں کر سکتے جو وہ کر چکے ہیں۔ وہ ظلم کرتے کرتے تھک چکے ہیں۔ لوگ بھی سہتے سہتے تھک چکے ہیں۔ وہ عادی بھی ہو چکے ہیں۔ انہیں اس کی پروا نہیں کہ حکمران بھی عادی ہو چکے ہیں۔

’’نئے پاکستان‘‘ میں سب کچھ پرانا ہو رہا ہے۔ کبھی تو ’’نئے پاکستان‘‘ میں کچھ نیا ہوتا۔ ’’نیا پاکستان‘‘ کچھ اپنا ہوتا؟ سب کچھ پرانا چل رہا ہے۔ لوگ سب کچھ جانتے ہیں۔ وہ ’’نئے پرانے‘‘ سے واقف ہیں۔ سب ایک جیسا ہے۔

زرداری صاحب اور بلاول زرداری نیب میں پیش ہوئے۔ ان کے ساتھ بہت دیر تک سوال وجواب ہوتے رہے۔ میں یہ پوچھتا ہوں کہ وہاں لوگ یعنی جیالے کیا کرنے آ ئے تھے۔ شہید بینظیر بھٹو کے جیالے تو جوان تھے۔ نوجوان بلاول بھٹو زرداری کے جیالے ’’بوڑھے‘‘ کیوں ہیں۔
زرداری صاحب کے ساتھ ایک زمانے میں بہت دوستی تھی۔ خدانخواستہ دشمنی تو اب بھی نہیں۔ دوستی ہو گی یا دوستی نہیں ہوگی۔ دنوں صورتوں میں دوستی کا لفظ ہوگا۔ یہ بھی کافی ہے۔

نیب کے دفتر کے سامنے کسی سیاسی جلسے کا گماں ہو رہا تھا۔ سیاسی طاقت کا مظاہرہ نیب جیسے ادارے کے دفتر کے سامنے کیوں ضروری ہے۔ بلاول کہتے ہیں کہ یہ کالا قانون برسراقتدار آ کے ختم کر دیں گے۔ یہ قانون کالا ہو گیا ہے۔ اب اس کا اطلاق بلاول اور زرداری صاحب کیلئے ہوا ہے تو پیپلزپارٹی اقتدار میں تھی تب بھی یہ قانون موجود تھا۔

کوئی قانون تو حکمرانوں کیلئے بھی ہو۔ سارے قوانین محکوموں کیلئے ہوتے ہیں۔ نیب والے شریف لوگوں کو تنگ کرتے ہیں۔ ان کے گھروں پر چھاپے مارے جاتے ہیں مگر کروڑوں روپے کے معاملات میں جو سیاسی لوگ ملوث ہوتے ہیں‘ وہ دندناتے پھرتے ہیں۔ ان پر کبھی ہاتھ نہیں ڈالا جاتا۔ نیب کے دفتر میں پیشی کے بعد گاڑیوں پر چڑھ کر تقریریں ہوتی ہیں اور یہ نیب والے بھی سنتے ہیں اور نعرے بھی لگاتے ہیں۔

ریاست ماں کے جیسا سلوک صرف انہی کرپٹ سیاستدانوں کیلئے کرتی ہے۔ سب کچھ انہی کو ملتا ہے۔ پیار بھی انہی کو ملتا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ جب ابا جی زندہ تھے تو ماں چولہے پر روٹیاں پکاتی تھی اور ہم سب بہن بھائی ایک چھوٹے سے کمرے میں جسے باورچی خانہ بنایا گیا تھا‘ ماں کے آس پاس بیٹھے اماں کی محبت کا انتظار کرتے تھے۔ اماںکی محبت سب کیلئے ہوتی۔ حیرت ہے کہ ابا جی بھی وہیں ہمارے ساتھ بیٹھے ہوتے۔ اماں ان کے ساتھ بھی ایسا ہی محبت بھرا سلوک روا رکھتی جو ہمارے نصیب میںہوتا تھا۔

مجھے یاد ہے کہ پہلی روٹی کیلئے ہم سب حق رکھتے۔ مگر پہلی روٹی ابا کوملتی۔ تو ہم سوچتے کہ اماں پہلے ابو جی کے ساتھ وہ سلوک کرتی ہے جس کے ہم حقدار ہوتے تھے۔ ہم چھوٹے ہوتے تھے۔ سوچتے کہ اماں سب کی اماں ہے۔ ابا جی پہلی روٹی مزے سے کھانے لگتے اور ہماری طرف مسکرا مسکرا کر دیکھتے۔
اب ہمیں سمجھ میں آیا ہے کہ ریاست جوماں کے جیسی ہے‘ سب سے پہلے اور سب سے زیادہ وزیراعظم عمران خان کا خیال کیوں رکھتی ہے۔ اب ہمیں خاتون اول بشریٰ بی بی کا معاملہ بھی سمجھ میں آرہا ہے اور ریاست کا بھی۔

یہ ٹھیک ہے مگر ہماری باری کب آئے گی؟