ذوق ِ عمل- ھارون الرشید

تاریخ کا سبق یہ ہے کہ ہر امتحان اور ہر بحران میں مواقع چھپے ہوتے ہیں۔ ہر طوفان کے باطن میں ہیرے موتی۔ جینے والوں کے قرینے اور ہوتے ہیں‘ رونے والوں کے دوسرے۔ جینے والے سبق بھی سیکھتے ہیں‘ خود ترسی کے مارے محض گریہ!

پروردگار کو مسلمانوں پہ رحم آ ہی گیا۔ یکسوئی سے محروم‘ ژولیدہ فکری کے شکار امّتیوں پر۔ عصرِ رواں سے بے خبر جو بیتے زمانوں میں زندہ ہیں۔ جنہیں اپنے حال کا احساس ہے اور نہ مستقبل کے تقاضوں کا ادراک۔

نیوزی لینڈ کی النّور مسجد میں اڑنے والے خون کے چھینٹوں سے ‘احساس کی ایک لہر اٹھی تو ہے۔اگر باقی اور برقرار رہ سکے‘ اگر موجِ رواں بن سکے۔ احساس کی دولت ہی زندگی کا اصل زر اور سامانِ سفر ہے۔اگر اسے تھام لیا جائے اورتھامے رکھّا جائے۔ قلب و جگر میں کاشت کی جائے۔ آبیاری ہو سکے اور نگاہ داری کی جا سکے۔ رفتہ رفتہ بتدریج‘ اس پرشگوفے پھوٹتے ہیںغنچے کھلتے‘ پھول بنتے اور پھل لگتا ہے ؛آرزو کو اگر عمل میں ڈھالا جا سکے۔

سلیقے سے گندھی مٹی سے‘ کوزہ گر جیسے کوزہ بناتا ہے۔ آگ میں پکاتا اور صیقل کر دیتا ہے؛ حتیٰ کہ ظرف ڈھلتا اور دستر خوان پہ نعمتوں سے لبریز ہو جاتا ہے ؎


جوشِ کردار سے شمشیرِ سکندر کا طلوع

کوہِ الوند ہوا‘ جس کی حرارت سے گداز


وسوسے قطار اندر قطار آتے ہیں۔ خیالِ خیر برق کی طرح چمکتا ہے۔ اس کے بعد؟ مگر اس کے بعد؟ شہنشاہ جلال الدّین اکبر کے شیخ الاسلام کو شاہ حسینؒ نے ایک خط میں لکھّا تھا:


اندر آلودہ‘ باہر پاکیزہ تے توں شیخ کہاویں

راہ عشق دا سوئی دا نکّہ دھاگہ ہوویں تاں جاویں


خطاب‘ نغمہ اور رجز نہیں ‘زندگی ذوقِ عمل مانگتی ہے۔ جیتے جاگتے عمل میں جذبہ‘ اگر ڈھل نہ سکے تو فقط شاعری۔ایک صدی ہونے کو آئی‘ جب مشرق کے جلیل القدر مفکّر نے کہا تھا ؎


آہ‘ کس کی جستجو آوارہ رکھتی ہے تجھے

راہ تو رہرو بھی تو‘ رہبر بھی تو‘ منزل بھی تو


سلطنت اگرچہ تعمیر نہ کر سکا‘ آدھی دنیا سکندر نے تسخیر کر لی تھی۔ اس نے نہیں یہ خواب اس کے باپ ‘پیلّا کی بستی میں پیدا ہونے والے فلپ نے دیکھا تھا۔ ایک دن مے کدے میں فلپ جذبات سے فروزاں اٹھا‘ مگر ڈھے گیا۔ فرزند سکندر کو خبر ہوئی تو بھاگتا آیا ۔ پھر ملال سے یہ کہا: اے اہل ِمقدونیہ! یہ وہ شخص ہے‘ ساری دنیا کو جوفتح کرنا چاہتا تھا۔ آج ایک میز سے دوسری میز تک نہ پہنچ سکا‘ سلیقۂ عمل نہ ہو تو اس طرح جھوٹے عزائم مرتے ہیں۔ عزم و ہمت سے سپنا دیکھنے والا محروم ہو تو خواب شیشے کی کرچیاں بن جاتے ہیں۔ زخم لگاتے ہیں اور یہ زخم برقرار رکھتے ہیں۔ پھر پستی و پامالی‘ پھر ادبار‘ خود ترسی‘ یادِ ماضی اور وہ مستقل ملال‘ جسے قنوطیت کہا جاتا ہے‘ کفر!؎


کشتیاں ٹوٹ چکی ہیں ساری

اب لیے پھرتا ہے دریا ہم کو


ملائیشیا‘ مشرق ِبعید میں وہ سر سبز جنگلوں اور ابرو باراں کی سر زمین‘ کبھی ہماری ہی طرح ماند تھی۔ افلاس‘ انتشار اور نا امیدی۔ ساٹھ فیصد مسلمان اور چالیس فیصد اجنبی۔ بدھ‘ عیسائی اور ہندو۔ آہنگ اور اتحاد سے تہی۔ پھر ادراک کی لہر اٹھی۔ پھر قومی اتحاد کا خواب دیکھا جانے لگا۔ دو اڑھائی سو ڈالر فی کس آمدن۔ بیس برس میں‘ اس کا شمار دنیا کی مہذب معیشتوں میں ہونے لگا۔ عہدِ جدید کی سوغات انفارمیشن ٹیکنالوجی سے ایک والہانہ پن کے ساتھ روشناس ہوئے۔ ٹیلی ویژن اور کمپیوٹر کے پرزے جوڑنے سے اس پسماندہ قوم نے حیاتِ نو کا آغاز کیا۔

مسافر چل پڑے تو سفر کٹنے لگتا ہے۔ پاکستان کا چھٹا حصہ کل آبادی ہے‘ بلکہ اس سے بھی کچھ کم۔ آج وہ دنیا کے بازاروں میں دو سو ارب ڈالر کی جدید مصنوعات بیچتے ہیں۔ کبھی ناریل کے تیل اور درختوں سے نچوڑی ربڑ کے سوا‘ ان کی کھیسے میں کچھ بھی نہ تھا۔ اب الیکٹرانک کی دنیا میں معتبر اور ممتاز ہیں‘ کار کشا‘ کار ساز! ایک چیز وہ بناتے ہیں‘ چھوٹا سا مختلف شکلوں کا پرزہ؛ Integrated Circuit ہر کمپیوٹر میں لازم ہے۔ صرف اسی سے 32 بلین ڈالر سالانہ کی آمدن ہے۔ ہماری‘ بائیس کروڑ کے پاکستان کی کل برآمدات 25 ارب ڈالر ہیں۔ چند برس ہوتے ہیں‘ معاشی بحران اٹھا۔ یہودی جارج سورس نے‘ جس کا پاکستانی نمائندہ‘ نواز شریف کا ذاتی دوست ہے‘ ملائیشیا کی معیشت کو تباہ کرنے کی ٹھانی۔ مشرق ِبعید کے ہر بازارِ حصص کو اس نے برباد کر کے رکھ دیا۔ آئی ایم ایف آگے بڑھی اور امداد کی پیشکش کی‘ تاکہ ایک اور مسلم قوم غلامی کے جال میں جکڑی جا سکے۔ مہاتیر محمد نے انکار کر دیا۔

اپنے بل پر قومیں زندہ ہوتیں‘ اپنے تضادات کے بوجھ اور انحصار کی روش سے زمیں بوس ہوتی ہیں۔ پھر اس مردہ قوم کا کشکول بردار شاعر گاتا ہے؎


کوئی پکارو کہ اک عمر ہونے آئی ہے

فلک کو قافلۂِ روز و شام ٹھیرایے


مہاتیر محمد نے انکار کر دیا تھا‘ ہم نے سر جھکایا اور جھکا ئے رکھّا۔ تمام انسانوں کو اللہ نے 1300 سی سی کا دماغ بخشا ہے۔ ہر ایک کے لیے فطرت مواقع ارزاں کرتی ہے۔ مگر بے عمل‘ مگر یکسوئی سے محروم ذہنی اپاہج کا کیا مستقبل‘ کیا امکان۔ آدمی کے حق میں وقت مہربان بھی ہے‘ فیاض بھی بہت‘ مگر بے رحم اور نامہربان بھی ہمہ وقت۔ یہ آدمی کے اندازِ فکر پہ ہے‘ یہ اس کے طرزِ عمل پر ہے۔

نیوزی لینڈ کی پارلیمان میں پڑھی جانے والی آیات کا ترجمہ یہ ہے: ''اے وہ لوگو جو ایمان رکھتے ہو! صبر اور نماز سے مدد مانگو۔ اللہ کی راہ میں جو مارے گئے‘ وہ زندہ ہیں‘ مگر تم اس درجہ شعور سے بہرہ ور نہیں۔ ہم تمہیں آزمائیں گے‘ کچھ خوف اور کچھ بھوک سے۔ کچھ جانوں کے نقصان اور کچھ باغوں کی بربادی سے۔ صبر کرنے والوں کو خوش خبری دے دو‘‘۔

ترکی‘ یورپ کا مرد ِبیمار تھا۔ ڈنکے کی چوٹ پر آج اس کا لیڈر مغرب سے معافی کا مطالبہ کرتا ہے۔ قوموں کے باہمی مراسم کی بنیاد طاقت پہ ہوتی ہے اور ترکی اب مردِ بیمار نہیں‘ شمشیر بکف ہے۔ معاشی قوّت سے مالا مال۔ قوّت نفسیاتی بھی ہوتی ہے‘ علم اور احساس کی‘ ایمان اور ایقان کی۔ رہے بھکاری تو ان کا حّقِ انتخاب نہیں ہوتا۔

مغربی میڈیا اور لیڈروں کی عشروں کی کمائی برباد ہوئی۔ النّور مسجد میں خون کی بارش نے‘ اس غبار کو دھو ڈالا ہے‘ عشروں کی ریاضت سے جو اُڑایا گیا‘ اڑائے رکھّا گیا۔ فضا اب شفاف ہے۔ ہر منظر اب آشکار ہے۔ اسلامی دہشت گردی کا فلسفہ آک لینڈ کے قبرستانوں میں دفن ہو چکا۔

روئے پیٹے تو سبھی۔ درد کی لہر ہر سینے میں اٹھّی۔ صبر و قرار اور ہوش و حکمت کا مظاہرہ بھی کسی نے کیا؟ جی ہاں‘ پاکستانی شہید کی بیوہ نے۔ ٹھہرا ہوا شیریں لہجہ‘ رفتگاں کی شیریں یادیں‘ مگر اپنے مالک پہ بھروسہ۔

تاریخ کا سبق یہ ہے کہ ہر امتحان اور ہر بحران میں مواقع چھپے ہوتے ہیں۔ ہر طوفان کے باطن میں ہیرے موتی۔ جینے والوں کے قرینے اور ہوتے ہیں‘ رونے والوں کے دوسرے۔ جینے والے سبق بھی سیکھتے ہیں‘ خود ترسی کے مارے محض گریہ!

پس تحریر: سرخ لکیر بلاول بھٹو نے عبور کر لی ہے۔ دنیا بھر کو وہ پیغام دے رہے ہیں کہ دہشت گردی میں سب سے زیادہ زخم سہنے والا پاکستان دراصل دہشت گردی کا سرپرست ہے۔ اقتدار کے لیے لڑکا دیوانہ ہو رہا ہے۔ محترمہ نصرت بھٹو نے کہا تھا ''Bhutto's are born to rule‘‘۔ بھٹو خاندان کے بچے حکومت فرمانے کے لیے پیدا ہوتے ہیں۔