ایران کی متنازعہ خارجہ پالیسی- نذیر ناجی

دنیا کا ہر ملک اپنے مفادات مقدم رکھتا ہے اور اپنی خارجہ پالیسی اسی کے تحت ترتیب دیتا ہے۔خارجہ پالیسی بناتے وقت حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے مختلف ممالک سے تعلقات ‘ اس کے دوررس اثرات اورنتائج پر بھی نظر رکھی جاتی ہے۔یہ لازم نہیں ہوتا کہ ہر آنے والی حکومت پچھلی حکومت کی خارجہ پالیسیوں کو ساتھ لے کر چلے۔یہ قدرت کا قانون بھی ہے۔ ہر فرد اجتماعی سوچ کا حامل ہوتا ہے۔سیاسی پارٹیوں میں بھی وقت کے ساتھ بدلاؤآ ہی جاتا ہے اور ان کی سوچ تبدیل ہو سکتی ہے۔پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات کی تاریخ پر نظر دوڑائیں توایسے ادوار بھی گزرے ‘ جب دونوں ممالک کے درمیان جنگوں میں بے شمار فوجی مارے گئے اور پھرایسی خارجہ پالیسیاں بھی بنیں کہ دونوں ممالک کے درمیان امن کی بنیاد پر‘امن ٹرین اور بسیں چلیں۔ عالمی سیاست کے تیزی سے بدلتے حالات کے تناظر میں دنیا کا کوئی بھی ملک دعویٰ نہیں کر سکتا کہ اس کی خارجہ پالیسی ہمیشہ یکساں رہے گی اور اس میں تبدیلی ممکن نہیں۔

1979ء کے انقلاب کے بعد ایران کی خارجہ پالیسی ایک نظریے کے تحت واضح کی گئی ‘ اصل مقصد انقلاب کو فروغ دینا اورشرق اوسط کواپنے مفادات کو مقدم رکھتے ہوئے تبدیل کرنا تھا۔انقلاب کے بعد سے ہی اپنے جارحانہ طور طریقوں کے سبب ‘ ایران امریکا سے جنگ آزما ہے۔ اسرائیل اور عرب دنیا سے بھی محاذ آرائی جیسی کیفیت رہی‘یہ نظام ‘ ایران کے قومی مفاد اور ایرانی عوام کے مجموعی مفادات کے مخالف رہا۔ ممکن ہے‘ ایران عراق‘ شام اور لبنان میں ایک بالادست قوت بن چکا ہو‘ لیکن ایک کڑوا سچ یہ بھی ہے کہ ایران خود عشروں سے جاری ان پالیسیوں کی وجہ سے تباہ حالی کا شکار ہو چکا۔اپنی ان خارجہ پالیسیوں کے نتیجے میں اس کو بین الاقوامی سطح پر تنہائی کا سامنا رہا ‘ وہ اقتصادی اور ماحولیاتی طور پر زبوں حال بھی رہا ۔ایرانی حکومت پر عائد پابندیوں کے سبب‘ ایران اپنی توانائی کی صنعت کو جدید نہیں بناسکا‘نہ ہی اپنے تیل کو احسن طریقے سے عالمی منڈیوں میں فروخت کر سکا۔ یہ ممکن ہو سکتا تھا کہ کامیاب سفارتکاری اور بہترین طرز حکومت سے‘ وہ دیگر عرب ممالک کی طرح امیر ملک بن سکتا تھا ‘مگرایسا ہو نہ سکا۔ایران میں غربت کی شرح دن بدن بڑھ رہی ہے اور آیت اللہ علی خامنائی کا نظام شام‘ عراق اور یمن میں جنگوں پر اربوں ڈالرز لٹا رہا ہے۔

ایرانی توسیع پسندانہ عزائم کے حامل اس انقلابی نظام کیخلاف بغاوت بھی دیکھنے کو ملتی رہی ہے۔ ایرانی عوام شاہراہوں پر نظام کے خلاف احتجاجی مظاہرے کررہے ہیں ‘ وہ شام‘ لبنان اور غزہ اور اس سے ماورا علاقوں میں‘ ایران کی مہنگی مداخلت کے خاتمے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ایرانی سڑکوں پر یہ نعرے بھی سننے کو ملتے ہیںکہ ''میری زندگی ایران کے لیے ہے‘شام اور لبنان کے لیے نہیں‘‘۔ ان کا ایک اور مقبول نعرہ یہ بھی ہے ''حقیقی دشمن تو یہاں ایران میں ہے‘وہ جھوٹ بولتے ہیں جب یہ کہتے ہیں کہ یہ امریکا ہے‘‘۔ایسے نعروں سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ایرانی عوام بھی تبدیلی کے خواہاں ہیں۔
ایرانی عوام زیادہ دیر تک پرانی اصلاحات قبول کرنے کو تیا ر نہیں۔وہ مصنوعی قسم کی سفارتی سرگرمیوں کو بھی نہیں مانتے ‘جن کی بدولت حکومت کو اپنے اقتدار کو طول دینے کا جواز ملتا ہو۔وہ عوامی مفادات کے منافی کام کرنے والے سیاسی نظام کے خاتمے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ایرانی عوام میں بڑھتا ہوا شعور اور تبدیلی کے خواب؛ اگر شرمندہ تعبیرہوں تویہ نشاۃ ثانیہ ہوسکتی ہے ‘اس کے امریکااورعرب ممالک کیساتھ تعلقات میں بھی ڈرامائی تبدیلی رونما ہوسکتی ہے۔

ایران کو کامیابی کے لیے اپنے انقلابی نظریے پردوبارہ غور کرنا ہوگا اورنئے سرے سے خارجہ پالیسی ترتیب دینا ہوگی‘ جن میں اقتصادی ترقی‘ غیر ملکی سرمایہ کاری‘ ماحول کے تحفظ‘ ہمسایہ ممالک کے ساتھ امن اور ایک حقیقی دفاعی خارجہ پالیسی شامل ہو۔ایران اور دوسرے ممالک ایک دوسرے کے ساتھ باہمی مفاد کوملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ‘ مختلف شعبوں میں تعاون بڑھاسکتے ہیں۔ ایران کے ساتھ پانی کے بحران اور انتہا پسندی سے نمٹنے کے لیے تعاون ممکن ہے۔
ایران اگر انقلابی نظریے اور اپنی علاقائی تنظیموں سے دستبردار ہوجاتا ہے‘ تو اس کے سعودی عرب اور دوسری عرب ریاستوں کے ساتھ تعلقات میں ڈرامائی انداز میں بہتری دیکھنے کو مل سکتی ہے۔تاریخ کے اوراق کو الٹ کے دیکھیںتوایرانیوں اور عربوں کے درمیان کوئی ہزارسال سے مخالفت چلی آرہی ہے ‘لیکن موجودہ خطرناک مخاصمت کوایران کے انقلابی ایجنڈے سے مہمیز ملی ۔ایران‘عرب تعلقات بہتر ہوسکتے ہیں‘کھلی مارکیٹوں‘ تجارت‘ سرمایہ کاری میں تعاون کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔

ایران جب اقتصادی طور پر مضبوط ہوگا تو وہ اپنی تباہ شدہ روایتی فوجی قوت کی تعمیر نو کرسکے گا ۔ وہ 1960ء اور 1970ء کے عشروں میں امریکہ سے خرید کردہ اپنے فوجی آلات کو بھی نئے آلات میں اپ گریڈ کرسکے گا۔ایرانیوں کو ملک کے جوہری پروگرام کی اربوں ڈالرز کی صورت میں قیمت ادا کرنا پڑی ۔ انہیں پابندیوں اور ایران کی بین الاقوامی تنہائی کا خمیازہ بھگتنا پڑا۔ایران شرق اوسط میں ایک بڑی قوت کے طور پر سامنے آ سکتا ہے۔اس کی تاریخ‘حجم اور اقتصادی صلاحیت ایک اہم علاقائی ‘ عالمی کھلاڑی بناسکتی ہے۔ایران اور اس کے ہمسایہ ممالک کا ہر بات پر اتفاق نہیں ہوسکتا‘ لیکن ان میں باہمی تعاون ‘ مسابقت کو پُرامن انداز میں اور ایرانی عوام کی فلاح وبہبود کے لیے مواقع مل سکتے ہیں۔بہترین سفارتکاری اور اقدامات سے ایک پُرامن اور خوش حال ایران کو حقیقت کا روپ دیا جاسکتا ہے۔