قومی زبان کے فروغ میں سوشل میڈیا کا کردار - مریم صدیقی

دور حاضر میں سوشل میڈیا کی اہمیت سے کون واقف نہیں۔ بچہ ہو یا بوڑھا، مرد ہو یا خواتین سوشل میڈیا ہر ایک کی زندگی کا جزو لازم بن چکا ہے۔ دیگر چیزوں کی طرح سوشل میڈیا کے بھی مثبت و منفی اثرات ہیں جو سراسر اس کے استعمال پر منحصر ہیں۔ سوشل میڈیا کے فوائد و نقصانات سے قطع نظر اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ سوشل میڈیا دور حاضر کی اہم ضرورت ہے۔ اسی ضرورت کو مد نظر رکھتے ہوئے سوشل میڈیا پر کئی ادبی فورمز کا قیام عمل میں آیا جنہوں نے اردو ادب کو فروغ دینے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ اس سے قبل اردو زبان فقط اسکولز اور کالجز کے نصاب تک محدود ہوکر رہ گئی تھی یا فقط اخبارات و رسائل میں باقاعدہ لکھنے والوں کی اس تک رسائی تھی لیکن سوشل میڈیا نے جہاں روز مرہ کے کئی معمولات و تجارتی مقاصد میں آسانیاں فراہم کی ہیں وہیں اردو ادب کو فروغ دینے اور نئے لکھاریوں کو متعارف کروانے کا باعث بھی بنا ہے۔

سوشل میڈیا پر ادبی خدمات کی بات کی جائے تو کسی حد تک اس کے سبب اردو ادب کی ساخت کو نقصان بھی پہنچا ہے اور معیاری و غیر معیاری مواد کی تفریق کسی حد تک ختم ہوگئی ہے لیکن اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ مختلف ادبی پلیٹ فورمز کے قیام نے اردو ادب کی ترویج و اشاعت میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان فورمز کے ذریعے ہی نوجوان نسل میں ذوقِ مطالعہ پیدا ہوا ہے، انہوں نے سینئر اور کہنہ مشق لکھاریوں کی کتب کا مطالعہ شروع کیا ہے اور باقاعدہ طور پر لکھنے سے قبل سیکھنے کی طرف متوجہ ہوئے ہیں۔

ہم جیسے کئی نوآموز قلم کار جو صحافت اور ادب کے شعبے میں نئے نئے وارد ہوئے ہیں چاہتے ہیں کہ کوئی ایسا ادبی پلیٹ فارم ہو جو ہمارے لکھے ہوئے کی اصلاح کرے، ہماری غلطیوں کی نشاندہی کرے نیز ہمیں دیگز ادبی اصناف سے متعارف بھی کروائے۔ ہمیں ہمارے لکھنے کے مقاصد سے آگاہ کرے اور وقتاً فوقتاً اصلاحی ورکشاپس کا انعقاد بھی کیا جائے تاکہ سیکھنے سکھانے کا یہ سلسلہ آگے بڑھتا رہے۔ یوں اردو زبان مقبولیت کے مدارج طے کرتی رہے۔ کئی نو آموز قلم کار حضرات سے بات چیت کے دوران اس بات کا ادراک ہوا کہ نئے لکھاری کسی ایسے ادبی فورم کا قیام چاہتے ہیں جو ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کا سب بنے۔ جو ان کے لکھے پر تنقید برائے اصلاح کرے اور انہیں درست لکھنے کا طریقہ اور قواعد و ضوابط سے آگاہ کرے۔
بذات خود سوشل میڈیا پر مختلف فورمز کا حصہ بننے کے بعد ایک ایسے ہی فورم بنام رائٹرز کلب پاکستان پر آکر یہ تلاش ختم ہوئی۔ اس فورم کا قیام انہی مقاصد کے تحت آج سے چار سال قبل کیا گیا تھا۔ رائٹرز کلب پاکستان کا بنیادی مقصد لکھاریوں کے لکھے ہوئے کالمز، مضامین، آرٹیکلز، کہانیاں وغیرہ کی اصلاح کرنا، انہیں ملک کے معروف جرائد میں شائع کروانا اور لکھاریوں کو لکھنے کا مقصد فراہم کرنا ہے اور وہ مقصد ملک و قوم کی فلاح و بہبود سے جڑا ہے۔ کیوں کہ جب تک کوئی بھی کام کسی مقصد کو پیش نظر رکھ کر نہ کیا جائے انسان اس کام سے جلد یا بدیر اکتا جاتا ہے اور بالآخر اس سے کنارہ کشی اختیار کرلیتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   سوشل میڈیا اور صحابہ کرام کی اہانت - محمد اسماعیل آزاد

ایسے ادبی فورم کا ملنا یقیناً ہفت اقلیم ہاتھ لگ جانے سے کم نہیں۔ آج کے اس دور میں جہاں لوگ فقط شوق یا خود نمائی کی خاطر لکھتے ہیں وہیں بانی رائٹرز کلب پاکستان محترم عارف رمضان جتوئی صاحب خلوص نیت سے اردو ادب کی خدمت کرنے کے ساتھ ساتھ نو آموز قلم کاروں کی نہ صرف حوصلہ افزائی کرتے ہیں بلکہ انہیں آگے بڑھنے کا موقع بھی فراہم کررہے ہیں۔ فیس بک پر رائٹرز کلب کے نام سے شروع کیا جانے والا چند نفوس پر مشتمل گروپ آج باقاعدہ ایک ادارے کی شکل اختیار کرچکا ہے۔ چند ماہ قبل جس کی ویب سائٹ بھی لانچ کی گئی اور اردو اور انگلش ای میگزین کا اجراء بھی کیا گیا تاکہ لکھاریوں کو آگے بڑھنے کے زیادہ سے زیادہ مواقع میسر آسکیں اور وہ قومی اور بین الاقوامی سطح پر بحیثیت لکھاری اپنی پہچان بناسکیں۔ مارچ کے ماہ میں ہی اس فورم کی جانب سے نئے قلم کاروں کے آرٹیکلز، کہانیوں اور کالمز پر مشتمل کتاب (سالنامہ 2018) بنام ”قلم کا قرض“ شائع کروائی گئی۔ اس فورم کی یہ وہ چند چیدہ چیدہ ادبی خدمات ہیں جو اسے کئی دیگر فورمز سے مختلف بناتی ہیں۔ اس دور جدید میں جب کہ معاشرہ تیزی سے بے حیائی کی نذر ہوچکا ہے سوشل میڈیا پر بنا کسی ذاتی مفاد کے ادبی خدمات انجام دینا یقینا سراہے جانے کے قابل ہے۔

سوشل میڈیا ہماری زندگیوں میں اس قدر سرائیت کرچکا ہے کہ اس بغیر سونا جاگنا محال ہے۔ ایسے حالات میں جب ہم ففتھ جنریشن وار میں داخل ہوچکے ہیں اور نسل نو کو لبرلزم کی جانب گھسیٹا جارہا ہے سوشل میڈیا کا مثبت استعمال ہی اس کا بہترین استعمال ہے اور یہ اپنے آپ میں ایک جنگ ہے۔ کسی بھی جنگ کے لیے بہترین ہتھیار قلم اور مثبت انداز فکر ہی ہوا کرتا ہے ایسے حالات میں ہر قلم کار پر یہ ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے قلم کا مثبت استعمال کرے اپنے ملک، قوم اور اپنی قومی زبان کے لیے۔