زبان کا استعمال - ندا عروج

کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ جب انسان اپنی ذات پر اور اپنے ارد گرد کی اشیاء پر غور و فکر کرتا ہے تو اسے کچھ چیزوں کا ادراک ہوتا ہے چاہے جلدی ہو یا دیر سے، سوچیں منتشر ہونے لگتی ہیں پھر ہاتھ حرکت کرنے لگتے ہیںاور قلم لکھنے لگتا ہے۔ ایک لفظ نے مجھے بھی سوچنے پر مجبور کر دیاکہ یہ ”بریک فیل“ کیا ہے۔ بہت غور فکر کے بعد علم ہوا کہ بریک فیل کسی چیز کا اوٹ آف کنٹرول ہونا ہے۔ جب بھی کوئی چیز کنٹرول سے باہر ہوتی ہے تو نقصان پہنچاتی ہے۔

جب کبھی گاڑی کے بریک فیل ہوتے ہیں تو جانی اور مالی دونوں نقصانات ہوتے ہیں۔ گویا کسی بھی چیز کے بریک فیل ہونا کوئی اچھی علامت نہیں۔ بریک فیل عام حالات کو خراب کرتا ہے، بے سکونی پیدا کرتا ہے۔ انسان کے اندر بھی ایک ایسا سسٹم ہے جس کے بریک فیل ہوں جائیں تو اگلے انسان کی روح تک کانپ جاتی ہے۔ انسان اذیت میں مبتلا ہو جاتا ہے اور اگر اس سسٹم کا استعمال اچھے سے کیا جائے تو دوسروں کو زندگی سے روشناس کروایا جاسکتا ہے۔وہ سسٹم انسان کی زبان ہے۔ زبان کے بریک خوشی میں بھی فیل ہوتے ہیں اور غصے میں بھی۔

خوشی میں تو اگر بریک فیل ہوں تو کوئی بات اتنی بری نہیں لگتی نہ ہی انسان کوئی ایسی تکلیف دہ بات کرتا ہے غلطی تب بھی ہوجاتی ہے۔ لیکن غصے میں جو انسان کی زبان کے بریک فیل ہوتے ہیں، تو انسان کو پتا نہیں چلتاکہ وہ کیا بول رہا ہے۔ کیا الفاظ زبان سے ادا ہو رہے ہیں اور وہ الفاظ کس طرح دوسروں کے دل دماغ پر اثر کر رہے ہیں وہ انسان اس سے سوچ سے عاری ہوتا ہے۔

انسان جو الفاظ غصے میں بولتا ہے وہ کسی تیر کی مانند دوسرے انسان کے دل میں لگتے ہیں اور پھر دل کو زخمی کرتے ہیں اور جب دل زخمی ہو جائے تو کیا ہوتا ہے، انسان دل کی دھڑکن کی وجہ سے زندہ ہوتا ہے جب دل تکلیف میں ہوتا ہے تو دل کی ڈھرکن کم ہونا شروع ہو جاتی ہے اور پھر انسان اندر سے مر جاتا ہے۔ بظاہر تو وہ ٹھیک نظر آتا ہے لیکن حقیقت میں وہ زندہ لاش کا روپ دھار لیتا ہے اور لاشیں ہر احساس سے محروم ہو جاتی ہیں۔
غصے میں انسان کو صحیح چیز بھی غلط معلوم ہوتی ہے۔ انسان اپنے خیر خواہ کو بھی دشمن سمجھنے لگتا ہے اگر کہا جائے تو بالکل غلط نہیں ہوگا کہ انسان غصے میں تمام حدیں توڑ دیتا ہے۔ غصہ انسان کو بے شمار وجوہات کی بنا پر آتا ہے کسی کے غلطی کرنے پر دھوکہ دینے پر اعتبار ٹوٹنے پر لیکن غصہ الفاظ کا طوفان ہے جو گولی کی طرح دوسروں انسان کے جسم میں سوراخ کرتے ہیں ہیں خون بہاتے ہیں اور یہ رستا ہوا خون پھر رکتا نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   باز خاں اور عمران خاں-عبدالخالق بٹ

کمان سے نکلا تیر واپس نہیں آ سکتا زبان سے نکلے لفظ کی بھی واپسی نہیں ہوتی۔ آپ غلط بولے گئے الفاظ کی معافی تو مانگ سکتے ہیں لیکن دیے گئے الفاظ کی اذیت کم نہیں کر سکتے۔ اس لیے کوشش کریں کہ زبان کے بریک فیل نہ کریں۔ صبر کا دامن تھام لیں اللّٰہ پر بھروسہ رکھیں غلطیوں کو معاف کر دیں معافی بہترین تحفوں میں سے ایک انمول تحفہ ہے۔

اگر آپ کے معاف کرنے سے دوسرا انسان پرسکون ہو سکتا ہے تو اسے سکون مہیا کر یں۔ بیشک یہ ایک انتہائی مشکل کام ہے لیکن کوشش کرنے سے آپ اسے سرانجام دے سکتے ہیں اعلیٰ ظرف ہونے کا مظاہرہ کریں۔ ہم اپنے پیارے نبی صلی علیہ وآلہ وسلم کی امت ہیں، ہمارے نبیصلی علیہ وآلہ وسلم نے بہت سی مشکلات کو تحمل بردباری سے برداشت کیا لوگوں کو ان کےی بڑی غلطیوں کے باوجود معاف کیا۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ہمارے لیے مکمل طور پر اسوہ حسنہ ہے۔ امتی ہونے کے ناتے ہمیں بھی دوسروں کی غلطیوں پر معاف کردینا چاہیے۔ اپنی زبان پر مکمل کنٹرول رکھنا چاہیے۔ یاد رکھیں یہ زبان ہمارے لیے سب سے بڑا فساد بھی بن سکتی ہے اور سب سے اچھی رہنما اور رہبر بھی۔ یہ ہمارے اوپر ہے کہ اپنی زبان کا استعمال کیسے کرتے ہیں۔

آج خود سے عہد کریں اگر کسی کو آپ الفاظ سے خوشی نہیں دے سکتے تو تکلیف بھی نہ دیں کسی کو تکلیف نہ دینا بھی نیکی ہے، اچھے الفاظ کا چناﺅ کریں، اس سے آپ کو دلی طور پر سکون ملے گا اور دوسروں کو بھی راحت پہنچے گی۔