بولنے سے پہلے سوچنا کہاں سے ہے؟ انس اسلام

کہتے ہیں؛ بولنے سے پہلے سوچو لیکن سوچنے سے پہلے کیا کریں؟ یعنی سوچنا ''کہاں سے'' اور ''کس چیز'' سے ہے؟ آپ کی سوچ جو بھی ہے، وہ کہاں سے بنی ہے؟ اس کا مصدر و مرجع کیا ہے؟

بلاشبہ سوچ مطالعے سے بنتی ہے، اور سوچ اُس چیز سے بنتی ہے جو آپ صبح دوپہر شام دیکھتے ہوں، یا آپ کی سوچ وہاں سے بنتی ہے جسے آپ بہت سنتے رہتے ہیں، یعنی سننا اور دیکھنا۔ اور آپ اگر مطالعہ کرتے ہیں تو کس قسم کا مطالعہ کرتے ہیں؟ اور جو آپ مطالعہ کرتے ہیں، وہ کیوں کرتے ہیں؟ کس لیے کرتے ہیں؟ اسی طرح جو آپ دیکھتے اور سنتے رہتے ہیں، اسے دیکھنے اور سنتے رہنے کی کیا وجہ اور مقصد کیا ہے؟

بولنے سے پہلے سوچو، ایک ناقص و نامکمل و ادھورا قول ہے محض، کیونکہ اعمال معانی رکھتے ہیں اور نہ الفاظ۔ اعمال و افعال، حرکات و الفاظ اور کلمے و جملے، یہ سب تو دراصل آپ کی سوچ کی پیداوار اور آپ کے تصورات و خیالات، افکار و نظریات اور ایمانیات و عقائد کا مظہر و اظہار اور نتیجہ و تخلیق ہوتے ہیں۔ لہذا بولنے سے پہلے سوچو ضرور، لیکن بولنے سے پہلے اپنی بصارت و سماعت کا استعمال درست کرلو۔ ''جہاں سے'' آپ کی سوچ بنتی ہے، اُسے۔

لوگوں کا بنایا ہوا دیکھ دیکھ کر، لوگوں کا سنایا ہوا سن سن کر، لوگوں کا لکھا ہوا پڑھ پڑھ کر، طرزِ زندگی تشکیل اور تعمیر و ترتیب دینا، یہ بنیادی طور پر کسی بھی انسان کے ناکارہ و ناکام، بے ڈھنگے و جاہل اور احمق و بیوقوف ہونے کی علامت و پہچان ہے۔ یہی وجہ ہے کہ علامّہ محمد اقبال رح اپنی آخری عمر میں اکثر فرمایا کرتے تھے: میرے لیے قرآن کے علاوہ کہیں اور سے ذہنی تخلیق کروانا، سب سے بڑا جرم اور سب سے بڑا گناہ کہلاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   قلم کی امامت - صائمہ نسیم بانو

آپ بس اپنے خالق کو سننا سیکھو، اپنے مالک کو دیکھنا اور اپنے رازق و ربّ کو پڑھنا سیکھو۔ اس سب کو فلسفے کی زبان میں کہتے ہیں Metaphysical Position یعنی مکمل اور درست قول یہ ہونا چاہیے کہ؛ بولنے سے پہلے،۔۔۔۔ اور،۔۔۔۔۔ زندگی میں کچھ بھی کرنے سے قبل اپنی Metaphysical Position درست کرو۔ اور وہ پوزیشن عین فطری و حقیقی اور اصل و جینوئن ہو۔

ماڈرنزم و جدیدیت و پراگریس ایسی اشیاء؛ مادّہ پرستی و ہوس اور نفس و عقل پرستی کے سوا کسی شے کا نام نہیں۔ اور یہ درحقیقت انسانی فطرت کو مسخ کرنے کا ایک مکمل ڈسکورس و نظام اور پیراڈائم و اسٹرکچر ہے۔ جسے اھواء کی ماری آرٹسٹ نفوس نے ڈیزائن کیا تھا۔ ھواء جن کا باقاعدہ الٰہ تھا۔ وہ جو علی الاعلان خدا پرستی کی جگہ انسان پرستی کا عقیدہ لےکر اٹھے تھے۔

علامّہ اقبال رح فطرت اور خودی کی بات کرتے ہوئے دراصل انسان کی ایمانیات و عقائد، نظریات و تصورات اور انسانی سوچ و اپروچ کو اعلی و افضل، ابتر و اشرف اور اکرم و اطہر رکھنے کی بات کرتے ہیں۔ وہ فطرت پر رہنے اور سادہ فطری لائف اسٹائل اختیار کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔ اسی کو وہ انسانیت کی معراج و کامیابی و کامرانی و فلاح کا نام دیتے ہیں۔ یعنی فطرت کے خالق سے اپنی فطرت سمجھنا، اور پھر فطرت پر ہی جینا مرنا۔ فطرت کے عین مطابق عِلمیت سے اپنی دماغی و ذہنی پرورش کروانا۔ اور ہر اُس مطالعے سے، نظر آنے اور سنائی دینے والی اُن سب چیزوں سے، جو آپ کو آپ کی فطرت سے اور فطرت کے خالق و مالک سے دور کردیں، پھر وہ آپ کی فطرت کو مسخ کردیں، ہمیشہ پرے رہنا۔