کیا بہاولپور پروفیسر کے قتل میں اسلامی جمعیت طلبہ ملوث ہے؟ راؤ اسامہ منور

کلاس میں بیٹھے تھے کہ جب کسی نے اپنے واٹس ایپ پہ آئے پیغام کو بآواز بلند پڑھ کر کہا: "گورنمنٹ ایس ای کالج کے سٹوڈنٹ نے اپنے ٹیچر کو اسلام مخالف باتیں کرنے پر قتل کر دیا" سب چوکنے ہوگئے۔ ایک اور لڑکے نے حاضرین کی معلومات میں اضافہ کرتے ہوئے کہا کہ جس نے قتل کیا ہے وہ "حافظ قرآن" بھی تھا۔ نفرت میں کچھ اور اضافہ ہوا۔

یہ وہ پہلی چیز تھی جو آج کے واقعہ کے بعد سامنے آئی، اس کے بعد فون کالز اور میسجز کا ایک سلسلہ چلا۔ "لڑکا جمعیت کا تو نہیں تھا؟" جس جس نے استفسار کیا، اسے بتایا کہ اس لڑکے کا جمعیت سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں۔ لیکن نام نہاد لبرلز کو تو بس ایسا موقع چاہیے ہوتا ہے، لہٰذا بڑے بڑے دانشور بھی دھڑلے سے جھوٹ پھیلاتے ہوئے اس لڑکے کو جمعیت کا کارکن ثابت کرنے پہ تلے نظر آئے۔ ان کے بس میں نہیں ورنہ ہابیل قابیل جھگڑے میں بھی جمعیت کا ملوث ہونا ثابت کر دیں۔ ویسے ان سے کیا بعید ہے؟ کیا معلوم کسی دن یہ بھی کر گزریں۔

فیس بک اور ٹوئٹر نظر دوڑائی تو کئی پوسٹس میں قاتل طالب علم کو اسلامی جمعیت طلبہ کا فعال ممبر بتایا گیا تھا، اور ایسی پوسٹس زیادہ تر اسلام بیزار لوگوں نے کی ہوئی تھیں، جنھیں اسلامی جمعیت طلبہ سے خدا واسطے کا بیر ہے۔

اب آجائیں حقائق کی طرف
واقعہ یہ ہوا کہ مقتول استاد سے خطیب نامی طالب علم کی تلخ کلامی ہوگئی، تلخ کلامی کی وجہ کچھ دن بعد ہونے والی ویلکم پارٹی تھی جس میں ہونے والے رقص کے پروگرام پر خطیب کو اعتراض تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ یہ پروگرام غیر اسلامی ہے، اور یہ پارٹی نہیں ہونی چاہیے۔ اس نے کالج انتظامیہ کے نام ایک درخواست بھی لکھی جس میں اس سارے پروگرام کی تفصیلات بتا کر اسے روکنے کی گزارش کی گئی تھی، لیکن اس درخواست پر کالج انتظامیہ نے کوئی ایکشن نہ لیا، یہاں تک بھی زحمت نہیں کی کہ طالب علم اور استاد کو بلا کر پوری بات کلیئر کر لی جائے۔

یہ بھی پڑھیں:   سٹوڈنٹ ایک شاپر ہوتا ہے - سعدیہ مسعود

مزید برآں خطیب نے اپنی ویڈیو میں یہ بھی بتایا کہ پروفیسر کلاس میں اسلام کے خلاف باتیں کیا کرتا تھا۔ اس سب کا نتیجہ آج صبح ظاہر ہوا جب خطیب ایک عدد بڑی چھُری سمیت کالج میں گیا اور خالد صاحب کے آفس جا کر انہیں چھری کے متعدد وار کر کے موت کی وادی میں دھکیل دیا۔

اس سارے واقعہ میں بنیادی سوال ہمارے نظام پر بھی اٹھتا ہے جس کی کمزوری یہ ہے کہ اس کو چلانے والے اسے ایک 'سمت' میں چلانا چاہتے ہیں، اور جن کو لے کر نظام چلانا یا جن پر قوانین کا اطلاق کرنا ہے، ان کی ذہنی 'سمت' اور ہے۔ اسی طرح یہ سوال بھی اہم ہے کہ کون لوگ ہیں جنہوں نے خطیب کو اس حد تک مشتعل کر دیا کہ وہ قتل جیسا بڑا قدم اٹھانے پر تیار ہو گیا۔

اس واقعے میں سب سے زیادہ تکلیف دہ چیز قاتل کا اسلام کے نام پر قتل کرنا ہے. اس پر لوگوں کا ردعمل انتہائی شدید تھا، کم از کم میرے سامنے جس جس نے بھی واقعہ سنا، اس نے انتہائی تکلیف دہ تبصرے کیے۔ اسلام امن و محبت کا درس دینے والا دین ہے، اس کے ہاں انسانی جان کی حرمت سب سے زیادہ ہے، یہاں تک کہ کعبہ سے بھی زیادہ، کوئی بھی صحیح العقیدہ مسلمان "ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل" کی زبانی بھی تردید نہیں کر سکتا کجا کہ عملاََ اسے سرانجام دینے نکل پڑے۔ ضروری ہے کہ اسلام کے نام پر پرتشدد ذہنیت کو روکا جائے۔

اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ اسلام کے خلاف پروپیگنڈے کا سلسلہ بھی بند کیا جائے تاکہ اس کے نام پر کسی کو نفرت پھیلانے یا تشدد پر اکسانے کا موقع نہ مل سکے۔ انسانوں کی سائیکالوجی بھی اس بارے میں رہنمائی کرتی ہے کہ آپ کسی چیز کے بارے میں نفرت پھیلانا چاہیں تو اس سے وابستہ ہر چیز کو قابل نفرت بنا دیں۔ یعین اگر اسلام کو ٹارگٹ کرنا ہے تو قرآن، مسلمان اور مولوی کو گالی بنا کر مطلوبہ نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں، اور اگر معاشرت کو نشانہ بنانا ہے تو اس کو تہہ و بالا کرنے والے اقدامات کریں۔ اور ایسا ہو بھی رہا ہے، لیکن فی الوقت اس کی تفصیلات میں نہیں جایا جا سکتا۔ بہرحال ایسے تکلیف دہ واقعات کی عملاََ روک تھام ایک مربوط نظام قانون جزا و سزا کے عمل میں آنے کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   سٹوڈنٹ ایک شاپر ہوتا ہے - سعدیہ مسعود

اللہ تعالیٰ مرحوم پروفیسر کی مغفرت فرمائے اور ہمارے حال پر رحم فرماتے ہوئے امن و سکون کی دولت سے سرفراز کرے۔ آمین