بہاولپور: جہالت کے ہاتھوں علم کی ہلاکت - محمد عاصم حفیظ

بہاولپور کے ایس ای کالج میں ایک معزز پروفیسر خالد حمید صاحب کے ایک طالب علم کے ہاتھوں قتل ہونے کے واقعے نے سب کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ ایک تعلیمی ادارے میں، ایک معزز استاد کو ایک طالب علم زندگی سے محروم کر دے تو اس سے بڑھ کر المیہ اور کیا ہو گا۔ اختلاف رائے کچھ بھی ہو، معاملہ کتنا بھی سنگین کیوں نہ ہو کسی بھی صورت میں یوں کسی کی جان لینے کی ہرگز اجازت نہیں دی جا سکتی۔

ابھی تک جو متضاد اطلاعات آئی ہیں، ان کے مطابق کالج میں ایک فنکشن کے انعقاد کے حوالے سے تلخ کلامی ہوئی تھی۔ کچھ لوگ یہ بھی دعوی کر رہے ہیں کہ یہ طالب علم فنکشن میں کچھ پرفارمنس کے حوالے سے اختلاف کرتا تھا۔ لیکن کسی بھی قسم کے اختلاف کی صورت میں ایک معزز پروفیسر کو چاقوؤں کے وار کرکے قتل کرنا ایک گھناؤنا جرم ہے۔ دراصل اس معاملے کو مذہبی رنگ دینا بھی مناسب نہیں کیونکہ یہ سراسر جہالت ہے۔ ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ ہمارے ہاں کے متشدد رویے، جاہلانہ رسومات، انا پرستی، برادری ازم اور کئی دیگر معاملات کو بھی مذہبی رنگ دیکر حمایت لینے کی کوشش کی جاتی ہے۔ جس نے خود کبھی مسجد کا رخ نہیں کیا ہوتا، فرض احکام تک کا خیال نہیں رکھتا، وہ بھی "عشق" اور اپنی مرضی کے معاملات میں مشتعل ہو کر اسے مذہبی رنگ دینے کی کوشش کرتا ہے۔

قانون کو ہاتھ میں لینے اور خود ہی کسی معاملے کا منصف بن کر فیصلہ کرنے کا اختیار دین نہیں دیتا۔ اگر ایسا ہوجائے تو پھر معاشرے کی اس سے بڑھ کر اور کیا تباہی ہو گی۔ ایسے واقعات کو مذہبی رنگ دینا انتہائی مناسب ہے۔ کوئی بھی صاحب شعور اس کی حمایت نہیں کر سکتا۔ کچھ ذہنی بیمار، اور مجرمانہ ذہنیت رکھنے والے شرپسند اپنی نفساتی کشمکش اور پریشانی میں کوئی حرکت کر بیٹھتے ہیں اور بعدازاں حمایت کے لیے مذہبی رنگ دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔ المیہ تو یہ بھی ہے کہ ہمارا نظام انصاف بھی ایسے عناصر کو سخت سزائیں دینے میں ناکام رہا ہے۔ ایسے واقعات کو عبرت بنا دینا چاہیے۔ سخت اور کڑی سزا فوری دی جائے۔ ایسے واقعات سے مذہب کی بھی بدنامی ہوتی ہے اور سیکولر، دین بیزار عناصر ان واقعات کو استعمال کرکے مذہب پر تنقید کرتے ہیں۔ شدت پسندی اور خودساختہ فیصلہ سازی معاشرے کے لیے زہر قاتل ہے۔

بہاولپور واقعہ ہویا کوئی بھی اور اس کو مذہبی رنگ دینے کی بجائے انصاف کے تقاضوں کے مطابق دیکھنا چاہیے۔ اس سے ایک سبق یہ بھی ملتا ہے کہ تعلیمی اداروں میں دین کی مستند، متوازن اور مثبت تعلیمات کو فروغ دینے کی کس حد تک ضرورت ہے تاکہ کوئی ذہنی بیمار، نفسیاتی مریض یا سفاک مجرم اپنی کسی مزموم حرکت کو دین کا نام نہ دے سکے۔ دوسری جانب ایسے واقعات کو لیکر مذہب کو تنقید کا نشانہ بنانا بھی مناسب نہیں کیونکہ اگر یہ مذہب کے تحت ہوتا تو پھر تو ہر گلی بازار میں قتل و غارت ہوتی۔

حالیہ دنوں میں کل ہی کریم ٹیکسی سروس کے بےہودہ اشتہار، مختلف شہروں میں عورت مارچ کے نام پر فحش ترین پوسٹرز اور نعروں کے واقعات ہوئے۔ معاشرے کے سب طبقات نے ان کی حوصلہ شکنی کی، سوشل میڈیا پر بات کی لیکن کہیں بھی کسی نے اشتعال و شدت پسندی کا مظاہرہ نہیں کیا۔ کسی نے تشدد کا راستہ اختیار نہیں کیا بلکہ مکالمے اور اظہار رائے کے ذریعے اس پر بات کی گئی۔ دین کی خوبصورتی تو وہی تھی کہ نیوزی لینڈ میں ایک متعصب نسل پرست مذہبی دہشت گرد کے ہاتھوں شہید ہونے والے 50 لاشیں اٹھا کر بھی مسلمان پرامن ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ نیوزی لینڈ کے شہری اور حکومت بھی محبتیں نچھاور کر رہے ہیں۔

حقیقت یہی ہے کہ ملک کا بڑا مذہبی طبقہ اعتدال اور رواداری پر عمل پیرا ہے۔ ہمیں باہم مل کر شدت پسندوں کا مقابلہ کرنا ہے، ان کی حوصلہ شکنی کرنے ہے کیونکہ اسی میں معاشرتی بھلائی ہے۔ آج ہمیں جہالت کا مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے، فرسودہ روایات، جھوٹی انا پرستی، شدت پسندی اور دیگر رویوں کے تدارک کی ضرورت ہے جو ایسے واقعات کے باعث بنتے ہیں۔ بہاولپور میں "علم" کی موت ہوئی ہے، "جہالت" کے ہاتھوں۔ ہمیں اسے روکنا ہے۔