ان سے زندگی کا حق کیوں چھینا گیا - رمانہ عمر

آج واقعہ کرائسٹ چرچ کو پانچواں روز ہے۔ دماغ ماؤف اور زبان سن ہے۔ کیا کہوں اور کیسے کہوں؟ میں جب کبھی پرانے البم کھولوں تو اپنے پیاروں کی تصویریں دیکھ کے دل کی عجیب کیفیت ہوتی ہے۔ وہ پیارے جو کبھی ہنستے مسکراتے ہمارے درمیان ہوتے تھے اور آج نہیں ہیں۔ مگر آج جس تکلیف دہ البم کو کھول رہی ہوں، وہ سوشل میڈیا پہ آج کل گردش کر رہا ہے اور اس میں ڈھیروں مسکراتے چہرے ہیں۔ کس کس کو دیکھوں، کس کس کے لیے آنسو بہاؤں؟ وہ تو میرے کچھ نہ تھے، میں نے انہیں کبھی دیکھا نہ تھا مگر کیا کروں کہ درد کہیں اندر سے اٹھتا ہے اور دل چیر دیتا ہے۔ دکھ تو سب ہی کو ہوا مگر دکھ کے ساتھ یہ سوال بھی مجھے بے چین کر رہا ہے کہ “ان سے زندگی کا حق کیوں چھینا گیا”؟

اس اکہتر سالہ بزرگ سے جس نے اللہ کے مقدس گھر میں ناپاک ارادوں سے داخل ہونے والے کا بھی استقبال کیا، اس تین سالہ بچے سے جس کی چمکدار آنکھوں نے ابھی بہت کچھ دیکھنا تھا۔ کیوں ڈاکٹر امجد حامد کے دل کو سلا دیا جو ہر روز لوگوں کے دلوں کو دوبارہ دھڑکنا سکھاتا تھا، دو ننھی بچیوں کے قابل باپ ہارون محمود کا پی ایچ ڈی اب کیسے مکمل ہوگا؟ چودہ سالہ بیٹے کی ہائی اسکول گریجویشن تقریب میں ماں باپ اب کیسے شرکت کر سکیں گے؟ جب اس کی کلاس کے سارے طلبہ و طالبات ٹوپیاں اچھالیں گے تو ان پہ کیا بیتے گی؟

عطا تو ابھی نیا نیا باپ بنا تھا۔ اس نے اپنے بچے کو پاؤں پاؤں چلتا ہوا بھی نہ دیکھا تھا۔ اس کا بیٹا کس کی انگلی پکڑ کے پہلے روز اسکول جائے گا؟ انجینئیر سہیل شاہد، چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ سید اریب، پانچ گولیاں سینے پہ جھیلنے والے محسن الحربی؟ میں کس کس کو روؤں؟

سوشل میڈیا پہ چرچے ہیں۔ لوگ کہہ رہے ہیں نعیم رشید ہیرو تھے، ان کا بیٹا طلحہ بھی ہیرو تھا۔ اس درندے کو روکنے کی کوشش میں جام شہادت نوش کیا۔ اور وہ نازک سی حسنہ آرا جو شوہر کے آگے ڈھال بنی اور اپنے شوہر سے پہلے جنت طلب کرلی۔ بلاشبہ یہ سب بہادر تھے اور ایسے خوفناک لمحوں میں اپنوں کو بچانے کی کوشش یا حملہ آور کو روکنے کی کوشش بڑے جگرے والوں ہی کے نصیب میں ہوتی ہے۔ پر میں تو یہ سوچ رہی ہوں کہ یہ سب کیوں اور کیسے اور کب تک؟

میرا تو یہ مطالبہ بھی نہیں کہ اس درندے کی شہریت پہ انگلی اٹھائی جائے، میں تو ہرگز یہ نہیں کہوں گی کہ تمام آسٹریلین شہری جہازپہ چڑھنے سے روک دیے جائیں، ان کی تلاشی دوسروں سے زیادہ ہو اور ان کے بیوی بچوں کو ائیرپورٹ پہ اتنا زچ کیا جائے کہ ان کی اگلی فلائٹ ہی نکل جائے۔
میں یہ بھی نہیں چاہوں گی کہ اس درندے کے مذہب کا نام دہشت گردی کے ساتھ جوڑا جائے یا اس نام کو استعمال ہی کیا جائے۔ میں نہیں سمجھتی کہ آئندہ مہینوں میں دنیا بھر کے چرچ اور ان سے متعلقہ افراد کسی قسم کی بے چینی میں مبتلا رہیں گے اور طوعا” و کرھا” اپنے علاقے کے اسلامک سنٹرز یا مساجد میں جا جا کے سرمن دیں گے اور یوں صفائیاں پیش کریں گے کہ ہمارے مذہب کا درندگی اور سفاکی اور دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں اور ہم امن پسند لوگ ہیں۔ نہ تو وہ ایسا کریں گے اور نہ ہی انہیں ایسا کرنے کی ضرورت ہے۔ وہ اس لیے کہ معمولی عقل رکھنے والا انسان بھی اچھی طرح جانتا ہے کہ دنیا کا کوئی مذہب درندگی کی تعلیم نہیں دیتا اور کسی درندے کو مدرسہ کا کالج سے ڈگری حاصل کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔

میں آج کل بہت دکھی ہوں۔ میں کیا کروں کہ مجھ سے اتنا کہہ کے آگے بڑھا نہیں جاتا کہ اللہ ان شہیدوں کی قربانی قبول کرے ان کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔ میں سوچتی ہوں کہ اگر اس کھلی جاحیت کے آگے بند نہ لگایا گیا تو یہ یہیں پہ نہیں رکے گی۔ مسجدوں میں سکیورٹی لگانا تو اس کا قابل عمل حل ہے بھی نہیں۔ کہاں کہاں اور کب تک سیکیورٹی لگائیں گے؟

اسلام کے دیے ہوئے نظام میں اللہ کی طرف سے بڑے جرائم کی حد مقرر کر دی گئی ہے۔ اور بیچ چوک میں لا کے مجرم کی جان لینا public execution ان میں سے ایک سزا ہے۔ اس قسم کی سزاؤں پہ مخالفین اسلام ہمیشہ سے انگلی اٹھاتے رہے ہیں کہ یہ وحشیانہ ہیں جن کے دیکھنے سے عام شہریوں کے ذہنوں پہ منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ جبکہ میں کہتی ہوں کہ آج دنیا کے مختلف ممالک میں قید ان بدنام زمانہ دہشت گردوں میں سے پانچ چھ کو میڈیا کے سامنے انتہائی سزا دے دی جائے، جسے بچوں اور کمزور دل افراد کو نہ دکھانے کی ہدایت کے ساتھ دنیا بھر میں نشر کیا جائے تو یہ پرامن انسانوں کی جانب سے درندوں کے گینگ کے لیے بڑا واضح اور دو ٹوک پیغام ہوگا۔ ان درندوں کے مذہب سے کسی کو کوئی غرض نہیں۔ یہ چاہیں کسی مذہب کے پیرو ہوں یا لامذہب ہوں، انسانیت سوزی کا جو بازار انہوں نے گرم کر رکھا ہے اس سے روئے زمین کو نجات دلانا ہم زندہ رہ جانے والوں ہی کا کام ہے۔
لیکن سوال پھر یہیں پہ آکے ختم ہو جاتا ہے کہ کوئی حکومت بھی ایسا کیوں کرے گی؟

ہماری اس دنیا میں جو جنگل کا قانون چلتا ہے، اس میں مارنے والے کا بھی مذہب دیکھا جاتا ہے، رنگ نسل دیکھا جاتا ہے اور پاسپورٹ جانچا جاتا ہے، اور مرنے والے کا بھی۔ ابھی ہمیں انسانیت کے بنیادی تقاضے اور جرائم کو روکنے کے بنیادی اقدامات سیکھنے کی ضرورت ہے۔ آج کا ترقی یافتہ انسان مریخ کی خبریں تو لا رہا ہے لیکن فرد اور حکومتیں نہ صرف حد درجے متعصب ہیں بلکہ نسل پرستی، عدم برداشت اور نفسانیت کا بھی بری طرح شکار ہیں۔ مجھے مستقبل میں انصاف اور مجرموں کی بیخ کنی کی کوئی صورت نظر نہیں آرہی اور میرا وجدان کہہ رہا ہے کہ اسلاموفوبیا کی بلا، رنگ کی وجہ سے مجرم اور مجرم میں فرق کرنے اور کھلے دہشت گردوں کو انتہائی سزا سے بچا لینے، اور پھر مسلسل مسلمانوں کو دہشت گردی کا ذمہ دار ٹھہرانے کے واقعات بڑھیں گے، کم نہیں ہوں گے۔

میری رب تعالی سے دعا ہے کہ میرا وجدان بالکل غلط کہہ رہا ہو اور اتنے بڑے دردناک اور الم ناک واقعے کے شر سے خیر کی کوئی ننھنی سی کرن پھوٹ پڑے۔ آمین