سانحہ کے بعد نیوزی لینڈ قوم کا ردعمل، چند حقائق - فضل ہادی حسن

ہمارا مزاج اور رویہ ایسا بن گیا ہے کہ کسی کے مثبت رویے اور اچھائی پر یقین کرنے کو تیار نہیں، اور نہ خود مثبت رویہ یا اچھائی اختیار کرتے ہیں۔ مغرب کے بارے میں ویسا ہی یکطرفہ رویہ رچ بس گیا ہے جیسے مغرب "اسلاموفوبیا" کے مرض کا شکار ہو گیا ہے۔ اگر ایک دو جملے مغرب کے حق میں لکھ دیے جائیں تو مغرب سے متاثر ہونے اور نمک حلالی کے اتنے طعنے ملتے ہیں کہ ایران یا سعودی عرب کے لیے سرگرم لوگوں کو بھی نہیں ملتے ہوں گے۔

مشرق و مغرب کو ایک طرف رکھیں اور سفید فام یا سیاہ فام کے معاملات کو پسِ پشت ڈال کر ایک لمحہ کے لیے سوچیں کہ سانحہ کرائسٹ چرچ کے بعد نیوزی لینڈ حکام اور قوم کا رویہ نسل پرستانہ یا مذہبی منافرت پر مبنی تھا؟ کیا انہوں نے تارکینِ وطن یا مہاجرین کو اپنے سے کمتر قرار دیا یا ان کے لیے کوئی الگ قانونی تقاضے لاگو کیے گئے؟

مغرب میں بسنے والے مسلمانوں (اکثریت مہاجرین) کے ساتھ مغربی رویے پر تنقید کرنے والے ان پاکستانیوں (بالخصوص پختون) پر حیرت ہوتی ہے جنھوں نے ایک رنگ و نسل، مذہب اور تہذیب و ثقافت والے افغان مہاجرین کو ابھی تک قبول نہیں کیا۔ روزانہ کی بنیاد پر بے گناہ شہریوں کی ہلاکت، ذاتی دشمنیوں کی بھینٹ چڑھنے والے، انسان اور جانور کے قتل میں تمیز ختم ہونے اور ٹارگٹڈ قتل والے معاشرے میں بسنے والے ہم لوگ کسی مغربی ملک میں رونما ہونے والے ایک واقعہ پر انہیں "پُرامن ملک" قرار دینے سے گریزاں ہوتے ہیں۔ یقینا ہمارے معاشرے میں پوٹینشنل موجود ہے، بعض واقعات پر مجموعی طور پر قوم کا رسپانس اچھا ہوتا ہے لیکن طرزِ سیاست اور ہمارا کمزور نظام ایک اچھا معاشرہ بنانے میں رکاوٹ ہے۔

آخر ایسا کیوں؟
یورپ میں بستے ہوئے اس کا جواب تو بہرحال میں نہیں دے سکتا لیکن اتنا ضرور بتانا چاہوں گا کہ ہر معاشرے میں اچھے اور برے لوگ ہوتے ہیں، منافرت پھیلانے یا نفرت والے ہر جگہ مل جاتے ہیں لیکن کرائسٹ چرچ واقعہ کے بعد کیوی حکام اور قوم کا مجموعی رویہ کیسا رہا؟ کیوی وزیراعظم کی دوپٹہ والی تصویر کو تو ہمارے بعض "چہرہ شناس" لوگوں نے ڈرامہ قرار دیا، مرجھائے ہوئے چہرے کو 'سیاست' قرار دیا لیکن ظلم یہ ہے کہ ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کا مسلمانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے نکلنے کو بھی ہم نے اپنے سیاسی جلسوں اور دھرنے سے موازنہ کیا جہاں لوگ صرف 'بریانی' کی پلیٹ کے لیے جمع کیے جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   ملا کی اذاں اور ہے مجاہد کی اذاں اور - رومانہ گوندل

اس وقت کیوی حکومت نے جو اقدامات اٹھائے ہیں، اور مسلمانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کی جو اعلی مثال قائم کی ہے، اس کی چند مثالیں ملاحظہ فرمائیں۔

1) کیوی وزیر اعظم نے واقعہ کو دہشت گردی قرار دیا نیز خود واقعہ کی جگہ، کشمیر سکول اور لواحقین سے ملنے گئیں۔

2) ہزاروں کی تعداد میں شہریوں نے مسجد النور کے سامنے پھول رکھ کر اظہار یکجہتی کیا، نیز کئی جگہوں پر شہری جمع ہو کر مسلمانوں سے تعزیت کرتے نظر آئے۔

3) واقعہ کے بعد پارلیمنٹ کے اجلاس کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے ہوا جبکہ وزیراعظم نے 'السلام علیکم' سے اپنی تقریر شروع کی، مسلمانوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار اور اپنائیت کا احساس دیا۔

4) مشہور کیوی براڈ کاسٹر کرس لینچ نے2017ء میں مسلمانوں کے خلاف تعصب پر مبنی کالم لکھنے پر معافی مانگتے ہوئے کہا کہ 'مسلمانوں کے خلاف جو لکھا اس پر وہ شرمندہ ہے اور معافی چاہتا ہے۔'

5) نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں گرجا گھر کے باہر سفید جوتوں کے 50 جوڑے رکھ کر مساجد میں فائرنگ کے شہدا کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔

6) وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن نے اِس جمعے کو نیوزی لینڈ کے تمام شہری مسلمانوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کی اپیل کی ہے۔

7) مسلمانوں سے اظہار ہمدردی کے لیے اس جمعے کو آذان ریڈیو اور ٹیلی ویژن سے براہِ راست نشر کی جائے گی۔

8) کیوی وزیرِاعظم نے حملے کو ’انتہا پسندی‘ قرار دیتے ہوئے کہا 'وائٹ نیشنل ازم یا سفید فام قوم پرستی ایک عالمی مسئلہ ہے۔'

9) اس وقت نیوزی لینڈ میں بسنے والے مسلمان وہاں کی حکومت اور شہریوں کی اظہار یکجہتی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، ان کے بقول پورا ملک سوگ میں ڈوبا ہوا ہے، تمام مذاہب والے مسلمانوں کے ساتھ اس غم اور دکھ میں شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   عورت کا تشخص مرد کےلیے مسئلہ کیوں؟ شہلا اسلام

10) نیز وزیر اعظم نے کہا 'وہ دہشت گرد ہے۔ وہ مجرم ہے۔ وہ انتہا پسند ہے۔ جو بے نام رہے گا، اسی لیے آپ کبھی مجھے اس کا نام لیتے نہیں سنیں گے۔'

11 ) وزیرِ اعظم جاسنڈا آرڈرن نے کرائسٹ چرچ حملے میں استعمال ہونے والے نیم خود کار ہتھیاروں کی تمام اقسام پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا، اس حوالے سے نئی قانون سازی 11 اپریل تک ہو جائے گی۔

یہ اقدامات کیوی حکام اپنے معاشرہ کو منافرت سے دور رکھنے، محفوظ اور پر امن فضا برقرار رکھنے کے لیے اٹھا رہے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن کی قیادت میں کیوی قوم کو خراج تحسین پیش کرنے اور سلام پیش کرنے میں کسی بھی لیت و لعل یا بُخل سے کام نہیں لینا چاہیے۔

Comments

فضل ہادی حسن

فضل ہادی حسن

فضل ہادی حسن اسلامک سنٹر ناروے سے وابستہ ہیں۔ جامعہ اشرفیہ لاہور اور بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد سے فارغ التحصیل ہیں۔ ائی آر میں ماسٹر اور اسلامک اسٹڈیز میں ایم فل کیا ہے۔ مذہب، سیاست اور سماجی موضوعات پر لکھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.