بیوروکریسی- حبیب اکرم

یہ طے ہے کہ پاکستان جس دلدل میں پھنسا ہوا ہے ‘اس سے نکلنے کے لیے بڑے پیمانے پر اصلاحات کی ضرورت ہے۔ ملک کے اندر اور باہر اب یہ طے شدہ امر ہے کہ ہماری بیوروکریسی‘ پولیس‘ فیڈرل بورڈ آف ریونیو‘ ریلوے‘ صحت‘ تعلیم‘ بندرگاہیں‘ ہوائی اڈے‘ سٹیل مل یا کسی بھی ادارے کا نام لیں‘ بربادی کی داستان کے ایک باب کا عنوان ہوگا۔ مسلسل تباہی میں کس کس کا کتنا حصہ ہے اس کا فیصلہ تاریخ پرہی چھوڑنا مناسب ہوگا ‘ہمیںیہ سوچنا ہے کہ معاملات اسی طرح چلنے دیں یا بہتری کی کوئی صورت ڈھونڈیں۔پیچھے کی طرف منہ کرکے گالیاں دیتے رہیں یا آگے کی طرف دیکھتے ہوئے کوئی نیا راستہ کھوجیں۔ کچھ کیے بغیر بھی اگر اس دلدل میں ہمیں ڈوبنا ہے تو پھر بہتر ہوگا کہ اس میں سے نکلنے کی کوشش کرتے ہوئے عزت کی موت مریں۔
اصلاحات کے فیصلے پر پہنچ جائیں تو پہلا سوال اٹھتا ہے کہ اس کا آغاز کہاں سے کیا جائے۔ اس سوال کا متفق علیہ جواب ایک ہی ہے اور وہ ہے ''بیوروکریسی‘‘۔

بیوروکریسی کسی بھی ملک کی انتظامیہ کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ سیاسی حکومتیں لاکھ پالیسیاں بناتی رہیں جب تک ان کے نفاذ کے لیے ایک چابک دست بیوروکریسی میسر نہیں ہوگی ‘ اس وقت تک پالیسیاں کاغذوں میں ہی پڑی سڑتی رہیں گی۔اگر اچھی پالیسی نالائق افسروں کے ہاتھ میں دے دی جائے گی تو وہ اسے تباہی کا نسخہ بنا دیں گے ۔ پاکستان میں گزشتہ پینتیس برسوں سے یہی ہورہا ہے کہ پالیسیاں اچھی خاصی ہوتی ہیں لیکن جب اعلیٰ سرکاری افسر انہیں نافذ کرتے ہیں تو اپنی نالائقی اور نااہلی کی وجہ سے اسے عوام کے لیے زہر بنا دیتے ہیں۔اس میں ان بے چاروں کا بھی قصور نہیں‘ مسئلہ یہ ہے کہ یہ لوگ منتخب ہی نوآبادیاتی دور کی خدمت کے لیے ترتیب دیے گئے نظام میں کیے جاتے ہیں‘ پھر جعلی افسری کا خناس ان کے دماغوں میں اس طرح بھرا جاتا ہے کہ اپنی جہالت کے باوجود باقی ساری دنیا کو جاہل سمجھنے لگتے ہیں۔ ان اللہ لوکوں کے تربیتی نظام میں دنیا جہان کی باتیں موجودہ ہیں سوائے پاکستان کے زمینی حقائق کے۔

ان لوگوں کو سرے سے علم ہی نہیں کہ پاکستان کے سماج میں تبدیلیاں کس طرح آرہی ہیں ‘ان تبدیلیوں کی روشنی میں بدلتی ہوئی ضروریات کیا ہیں اور معاشرہ مستقبل کے لیے اپنا راستہ کیسے بنا رہا ہے۔ اگر آپ ان سے بات کریں تو سطحی سی معلومات کے زور پر فتوے جاری کرنا شروع کردیں گے یا سیاستدانوں کے بارے میں یاوہ گوئی دلیل کے طور پر استعمال کرنا شروع کردیں گے۔یہ اقتدار کے ایوانوں کی دراڑوں میں چھوٹے چھوٹے گروہ بنا کررہتے ہیں اور کسی نہ کسی صاحبِ اختیار کو شیشے میں اتار کر ریاستی نظام میں ہر ایسی اصلاح کی مخالفت پر تیار کرلیتے ہیں‘ جس کا نشانہ یہ خود بننے والے ہوں۔ پاکستان کے اندر بیوروکریسی میں اصلاحات کے لیے بننے والے درجنوں کمیشنوں کی سفارشات ان لوگوں نے اسی طریقہ واردات سے فائلوں کے انباروں میں دبوا دیں اور اب تو یہ اتنے چالاک ہیں کہ جو حکمران بھی اصلاحات کی بات کرتا ہے‘ فوراً اس کی ہاں میں ہاں ملاتے ہیں‘ پھر خود ہی اصلاحاتی کمیشن بناتے ہیں‘ خود ہی اس کے ممبر بنتے ہیں اور خود ہی فضول سی رپورٹ لکھ کر ردّ ی میں ڈال دیتے ہیں۔

انگریزاور انگریزی کے پروردہ ان افسروں نے مکڑی کے جالے کی طرح اس نظام کو اس طرح قابو کررکھا ہے کہ وزیراعظم کو بھی ایسا لگتا ہے کہ اس نظام کو بدلنا ممکن ہی نہیں۔ حالانکہ حقیقت میں یہ صرف مکڑی کا جالا ہی تو ہے جو ہوا کے ایک جھونکے سے غائب ہوجائے گا۔ صرف تین ایسے اقدامات ہیں جو اگر لے لیے جائیں تو پاکستان کو ایسی بیوروکریسی میسر آسکتی ہے جس کی جڑیں اور مزاج بھی پاکستانی ہوگا۔ پہلا فیصلہ یہ کرنا ہے کہ وزارتوں کے سربراہ یعنی سیکرٹری صرف وہی لوگ ہوں گے جو متعلقہ وزارت میں ہی کام کرتے رہے ہوں۔ وزارتِ تعلیم کا سیکرٹری وہی ہوگا جو استاد رہا ہو‘ صحت کی وزارت کا سربراہ کوئی ڈاکٹر ہی ہو‘ بجلی و پانی کی وزارت کی سربراہی کسی انجینئر کے پاس ہی ہونی چاہیے‘ وزارتِ تجارت کا سیکرٹری وہ ہو جسے پاکستان کے تجارتی مفادات اور یہاں موجود صنعتوں کا علم ہو۔یہ نہ ہو کہ جو کل تک بجلی دیکھ رہا تھا آج پاکستان کے تجارتی معاہدے بنا رہا ہو۔ اگر صرف یہ ایک قدم ہی اٹھا لیا جائے تو چند ماہ کے اندر اس تبدیلی کا راستہ ہموار ہوسکتا ہے جس کے نام پر موجودہ حکومت نے ووٹ لیے تھے۔

بیوروکریسی میں اصلاحات کا دوسرا قدم ہے اس کی بھرتی کے نظام میں تبدیلی۔ اس وقت ہم اعلیٰ ملازمتوں کے لیے ایک ایسا امتحان لیتے ہیں جس کے مقاصد نامعلوم ہیں۔بظاہر پیشہ ورانہ نظر آنے والے اس امتحان میں امیدوار کی کامیابی دراصل دو یا تین اشخاص کی پسند نا پسند کے معیار پر پورا اترنے پر منحصر ہے۔اس امتحان کا ظالمانہ پہلو یہ ہے کہ سال دو سال تیاری کے بعد کوئی نوجوان پاس بھی ہوجائے تو یہ ضروری نہیں کہ اسے نوکری ملے اور اس کے بعد اس امتحان کے لیے کی گئی تیاری اس کے کسی کام کی بھی نہیں رہتی گویا صرف وقت ضائع ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ اس امتحان کی عجیب بات یہ ہے کہ اگر کسی کا ایک نمبر زیادہ آگیا تو انتظامی افسروں میں سے ہو جائے گا‘ ایک کم ہوگیا تواس کی زندگی ریلوے میں گزرے گی‘ ایک مزید کم ہوگیا تو ڈاک کے محکمے میں مغزماری کرتا رہے گا۔ گویا یہ امتحان اتنا نکمّا ہے کہ کسی کی میلانِ طبع کا بھی درست اندازہ نہیں لگا پاتا۔ ہو سکتا ہے آج سے سو برس پہلے ملازمت کے امیدوارو ں کی چھانٹ پھٹک کے لیے یہ بڑا مؤثر طریقہ ہو لیکن آج کے زمانے میں اس کے بے محل اور لغو ہونے میں کوئی دوسری رائے قائم نہیں کی جاسکتی۔ اس امتحان میں بنیادی تبدیلی یہ ضروری ہے کہ پبلک سروس کمیشن اعلیٰ ملازمتوں کے ہر گروپ کے لیے الگ امتحان لے۔ یعنی اگر کوئی ریلوے میں آنا چاہتا ہے تو اس سے صرف اسی کے متعلق سوالات پوچھے جائیں۔ کسی کا مقصد وزارتِ خارجہ میں آنا ہے تو اسی کے بارے میں اپنی معلومات پیش کرے ۔ نمبروں کی معمولی کمی بیشی کسی محکمے میں اس کے ابتدائی گریڈ یا آئندہ ترقی پر اثر انداز ہونی چاہیے نہ کہ پورے کیرئیر کو ہی بدل کر رکھ دے۔

تیسرا قدم ہے کہ بھرتی کے لیے امتحانات میں سے انگریزی کی لازمی حیثیت ختم کی جائے اور اسے عربی ِ‘ فارسی یا دیگر غیر ملکی زبانوں کی طرح اختیاری حیثیت میں رکھا جائے ۔ بنیادی امتحان اردو میں ہو اور ایک پرچہ غیر ملکی زبان کا ہو اور اس کا فیصلہ امیدوار خود کرلے۔ انگریزی کی لازمی حیثیت کے خاتمے سے یہ ہوگا کہ ملک کے دور دوراز کے تعلیمی اداروں میں پڑھنے والے بھی ملازمتوں میں اپنا جائز حق حاصل کرسکیں گے۔ اس وقت تو عام طور پر بیرون ملک یا اندرون ملک کے بڑے شہروںکے پڑھنے والے صاحب حیثیت لوگ ہی اس امتحان میں حصہ لے پاتے ہیں۔ وہ نوجوان جو ساری تعلیم ہی کسی بھی صوبے کے دور افتادہ ضلعے سے حاصل کرتے ہیں ‘ ان کے لیے ممکن ہی نہیں کہ وہ لاکھو ں روپے خرچ کرنے والے لاہور‘ کراچی‘ ملتان‘ پشاور‘ حیدرآبا د‘ سکھر یا کوئٹہ کے طالب علم کا مقابلہ کرسکیں۔ لاکھوں روپے سے پیدا ہونے والا فرق صرف انگریزی کا ہے۔ انگریزی دیگر زبانوں کے ساتھ اپنی جگہ پر چلی جائے تو دیکھیے کہ کس طرح ہر طبقہ ریاست پاکستان میں اپنا حصہّ وصول کرتا ہے۔
نوٹـ: اس کالم میں تجویز کردہ تینوں تبدیلیوں کے لیے کسی قانون سازی کی نہیں ‘ صرف انتظامی احکامات کی ضرورت ہے۔