حرمین کا بلاوا - بشارت حمید

ہمارے ہاں‌اکثر یہ بات کہی جاتی ہے کہ بندہ عمرہ، حج یا مقامات مقدسہ کی زیارات کو تب ہی جا سکتا ہے اگر وہاں‌ سے بلاوا آیا ہوا ہو۔ پھر اس پر یہ عقیدہ بھی ہوتا ہےکہ جو وہاں‌چلا گیا وہ تو بس بخشا ہی گیا اب جو مرضی کرتا رہے۔ جیسے چاہے زندگی بسر کرے۔ نماز پڑھے چاہے نہ پڑھے۔ حقوق اللہ اور حقوق العباد چاہے پورے کرے یا نہ کرے۔ کیونکہ اس نے خانہ کعبہ کے غلاف کو چھو لیا ہے۔ اس نے حجراسود کو بوسہ دے لیا ہے۔ اس نے روضہ رسول صل اللہ علیہ وسلم کی زیارت کر لی ہے۔ اس نے ریاض الجنتہ میں‌ نوافل ادا کر لیے ہیں‌۔ حرمین میں ایک نماز کا لاکھوں‌ نمازوں‌ کی صورت ثواب جمع کر لیا ہے۔ بس اب تو جیسے دودھ سے نہا کر پاک صاف ہو گیا ہے اب اسے مزید کسی عمل کی حاجت ہی نہیں۔ ہاں‌نام کے ساتھ حاجی صاحب لگ گیا ہے۔ کیونکہ آخر اسے بلاوا جو آ گیا تھا۔ یہ تو خدا کا منتخب کردہ بندہ ہے۔

دوسری طرف جو بے چارہ تمام تر تیاری اور زاد راہ میسر ہونے کے باوجود کسی ناگہانی بیماری یا مصیبت کا شکار ہو کر نہ جاسکا۔ وہ تو بہت گنہگار ہے بہت بدنصیب ہے۔ پتہ نہیں اللہ نے کس جرم کی وجہ سے حرمین پہنچنا نصیب ہی نہیں کیا۔ اسے تو بلاوا ہی نہیں‌ تھا۔ یہ باتیں‌ ہمیں‌ عام طور پر اپنے اردگرد کے ماحول میں دیکھنے سننے کو ملتی رہتی ہیں۔

پتہ نہیں‌کیوں‌ہم نے یہ فرض کر لیا ہے کہ صرف حرمین کا سفر اللہ کو منظور ہو تب ہی ہوتا ہے جبکہ یورپ امریکہ اور دیگر ممالک سمیت اندرون ملک کے سفر میں معاذاللہ کہیں‌ اللہ کی منظوری معطل ہوتی ہے اور دوسرے اسفار کے لیے یہ منظوری نافذ نہیں ہوتی۔ سفر کوئی بھی ہو۔ کام کوئی بھی ہو۔ یہاں‌تک کہ ہاتھ میں پکڑے گلاس سے پانی کا گھونٹ پینا ہو یا کھانے کا نوالہ منہ میں‌ڈالنا ہو۔ معمولی سے معمولی کام بھی اللہ کے اذن اور اس کی اجازت کے بنا وقوع پذیر ہو ہی نہیں‌سکتا۔ اگر اللہ نہ چاہے تو ہم پانی کا گھونٹ منہ میں‌ بھر کر بھی اسے نگل نہ پائیں۔ لقمہ منہ میں‌ڈال کر بھی اسے چبا نہ سکیں۔

یہ بھی پڑھیں:   امن کا شہر اور سلامتی کا سفر - ڈاکٹر میمونہ حمزہ

فوڈ پوائزن کیا ہے۔ وہی خوراک جو ہم روٹین میں کھاتے ہیں‌ جب تک اللہ کا حکم ہوتا ہے وہ ہمارے لیے باعث صحت بنتی رہتی ہے اور جب اللہ کا حکم ہوتا ہے تو وہی خوراک ہمارے لیے زہر بن کر بیماری اور موت کا سبب بن جاتی ہے۔ وہی چیزیں‌ جو ہم بنا سوچے سمجھے کھاتے رہتے ہیں‌ بیماری کی وجہ سے ڈاکٹر انہیں‌ کھانے سے روک دیتے ہیں۔

اگر ہمیں‌ اللہ پر یقین ہے تو جان لیجیے کہ ہماری زندگی میں‌ ہونے والا ہر معمولی سے معمولی معاملہ بھی اللہ کے اذن سے ہی واقع ہوتا ہے، اگر اس واقعے کی چین آف ایونٹس میں‌ سے کوئی ایک کڑی بھی واقع ہونے سے رہ جائے تو معاملہ بدل جاتا ہے۔ ہم ہر حال میں‌اللہ ہی کے محتاج ہیں۔ اسی کا فضل اور کرم ہے کہ وہ ہر کام کے لیے ماحول کو سازگار کرتا ہے اور ہم زندگی کو روٹین میں‌بسرکرتے کرتے آج اس مقام تک پہنچ چکے ہیں۔ جب تک وہ چاہے گا تب تک اس زندگی کا سلسلہ چلتا رہے گا اور جب وہ نہیں‌چاہے گا تب دنیا کی کوئی طاقت کوئی بڑے سے بڑا ڈاکٹر ہمیں مرنے سے نہیں‌ بچا سکے گا۔

حضور صل اللہ علیہ وسلم ہجرت مدینہ کے چند سال بعد عمرہ کے لیے صحابہ کرام کی جماعت کے ساتھ احرام باندھ کر سفر مکہ پہ روانہ ہوئے۔ لیکن حدیبیہ کے مقام پر مشرکین مکہ نے آپ کے قافلے کو روک دیا اور وہیں‌ پہ پھر معاہدہ طے پایا کہ اب آپ عمرہ پہ نہیں‌جا سکتے۔ اگلے سال آپ عمرہ کر سکیں گے۔ یہی وہ معاہدہ ہے جس نے آگے چل کر فتح‌ مکہ کی راہ ہموار کی۔ اب اس معاملے میں‌بلاوا آنے پر ایمان رکھنے والے احباب کی کیا رائے ہوگی۔ کہاں‌ حضور صل اللہ علیہ وسلم اور کہاں‌ہم گنہگار، کمینے اور گھٹیا لوگ۔ کوئی تقابل بنتا ہے بھلا۔ہرگز بھی نہیں۔ لیکن وہی ہوتا ہے جو اس رب کو منظور ہوتا ہے۔ اس نے جس کا جہاں رزق کھانا پینا لکھا ہوتا ہے وہ بندہ ہر صورت وہاں‌ پہنچ کر رہتا ہے اور اگر کسی کا رزق کہیں‌ لکھا ہوا نہیں‌ ہوتا تو وہ پوری کوشش کے باوجود وہاں‌ پہنچ نہیں‌ پاتا۔ ہمیں‌اپنے رب پر بھروسہ رکھنا چاہیے اس کی حکمتیں‌ ہماری عقل کی سمجھ میں‌ آ ہی نہیں‌ سکتیں۔ وہ جو بھی فیصلہ فرماتا ہے اس میں‌ ہمارے لیے خیر ہی خیر ہوتی ہے چاہے وہ ہماری سمجھ میں‌آئے چاہے نہ آئے۔

یہ بھی پڑھیں:   امن کا شہر اور سلامتی کا سفر - ڈاکٹر میمونہ حمزہ

یہ زندگی بندہ مومن کے لیے امتحان ہے اس میں‌جو بھی آزمائش آئے اس پر صبر کرنا چاہیے اور جو بھی خوشی ملے اس پر شکر کرنا چاہیے کہ یہی صبر اور شکر کا ردعمل ہماری اس امتحان میں‌ کامیابی اور ناکامی کا باعث بنے گا۔

Comments

بشارت حمید

بشارت حمید

بشارت حمید کا تعلق فیصل آباد سے ہے. بزنس ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی . 11 سال سے زائد عرصہ ٹیلی کام شعبے سے منسلک رہے. روزمرہ زندگی کے موضوعات پر دینی فکر کے تحت تحریر کے ذریعے مثبت سوچ پیدا کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.