مولانا عبدالحق بلوچ (مرحوم )کی یاد میں- حافظ محمد ادریس

پیارے دوستوں کی حسین یادیں بھی کتنابڑا سرمایہ ہوتا ہے۔ وہ بچھڑ جاتے ہیں‘ مگر یادوں کے دیپ ان کے بعد بھی روشن رہتے ہیں۔ ہمارے مخلص دوست اور خطۂ بلوچستان کی عظیم شخصیت مولانا عبدالحق بلوچ آج سے نو سال قبل 16؍ مارچ 2010ء بروز منگل صبح دس بجے اسلام آباد کے ایک ہسپتال میں 63 سال کی عمر میں دارِ فنا سے دارِ بقا کو سدھار گئے۔ اناللہ و انا الیہ راجعون۔ ایک عالمِ حق کا اٹھ جانا محض ایک فرد کی موت نہیں ہوتی‘ بلکہ ایک پوری دنیا اور پورے عالم کو موت کے گھاٹ اتار دینے کے مترادف ہوتا ہے۔ ''مَوْتُ الْعَالِمِ‘ مَوْتُ الْعَالَمِ‘‘ اس شخص کی موت سے ہم ایک انجمن سے محروم ہو گئے ہیں‘ ایک گلستان ویران ہو گیا ہے اور ایک محفلِ علم و عرفان اجڑ گئی ہے۔

مولانا عبدالحق مرحوم و مغفور گوناگوں خوبیوں کے مالک تھے۔ انہوں نے جفا کشی میں زندگی بسر کی اور ہمیشہ خوش و خرم رہے۔ ذوقِ لطیف سے مالا مال یہ شخص بیک وقت بندئہ صحرائی بھی تھا اور مردِ کوہستانی بھی۔ مولانا سے پہلی مرتبہ 1985ء میں تعارف ہوا۔ اس وقت آپ بیک وقت قومی اسمبلی اور بلوچستان کی صوبائی اسمبلی کے ممبر منتخب ہوئے تھے۔ میں انہی دنوں بارہ سال بعد بیرونِ ملک سے وطن واپس آیا تھا۔ مولانا بلوچ لاہور تشریف لائے ہوئے تھے‘ منصورہ ابھی پوری طرح بنا نہیں تھا‘ مگر جماعت کے مرکزی دفاتر‘ چند رہائش گاہیں اور ایک مہمان خانہ تعمیر ہو چکا تھا اور جماعت کا ہیڈ کوارٹر اچھرہ سے منصورہ منتقل ہو گیا تھا۔ مولانا سے میری یہ ملاقات البدر پبلی کیشنز میں ہوئی تھی۔ وہ کتابوں کے شوقین تھے اور کتابوں کی تلاش ہی میں اردو بازار آئے تھے۔ میں نے ان کا نام انہی دنوں انتخابات کی مہم کے دوران سنا تھا۔ معلوم ہوا کہ وہ بھی مجھ سے ہفت روزہ ''ایشیا‘‘ کے ذریعے غائبانہ تعارف رکھتے تھے۔

پہلی ہی ملاقات میں مولانا کا ایک گہرا تاثر دل میں ثبت ہو گیا۔ اس اولین ملاقات ہی کے دوران معلوم ہوا کہ مولانا کثیر المطالعہ شخص ہیں اور ان کا ذوقِ مطالعہ محض چند دینی و فقہی موضوعات تک محدود نہیں‘ بلکہ ادب کی ہر صنف اور بالخصوص عربی‘ اُردو اور فارسی شعر و شاعری سے انہیں گہرا شغف ہے۔ اندازہ ہوا کہ نظم و نثر اور جدید و قدیم علوم کے میدان میں متنوع جہتوں میں ان کا علمی سفر جاری رہتا ہے۔ اس وقت تک میری چند کتب شائع ہو چکی تھیں اور حسنِ اتفاق سے وہ سب اس زمانے میں البدر پبلی کیشنز ہی نے چھاپی تھیں۔ ان میں کچھ تراجم بھی تھے۔ مولانا کو میں نے یہ کتابیں ہدیتاً پیش کیں اور عرض کیا کہ یہ کتب تو آپ کو میں نے دے دی ہیں ‘مگر آپ بلوچستان کے دور دراز علاقے سے تشریف لائے ہیں‘ میرا جی چاہتا ہے کہ کوئی اور تحفہ بھی آپ کی خدمت میں پیش کروں۔ مولانا نے مسکراتے ہوئے فرمایا کہ کتاب سے بہتر کوئی تحفہ‘ کوئی دوست کسی دوست کو کیا پیش کر سکتا ہے۔ الشیخ عمر تلمسانیؒ کی کتاب ''شہید المحراب‘ عمر ابن الخطاب‘‘ کا اُردو ترجمہ اس وقت ان کے ہاتھ میں تھا۔ فرمانے لگے کہ آپ نے یہ اتنا بڑا ہدیہ مجھے دیا ہے کہ میں اسی سے زیربار ہوا جا رہا ہوں۔

ہمارے دوست عبدالحفیظ صاحب (البدر) مولانا سے کافی پہلے سے متعارف تھے۔ انہوں نے گرہ لگائی کہ حافظ صاحب آپ اپنے لیے ریڈی میڈ سوٹ خریدنے جا رہے ہیںاور مولانا بھی چونکہ شلوار قمیص پہنتے ہیں تو انہیں بھی کپڑوں کا ہدیہ پیش کریں۔ مجھے ان کی تجویز بہت پسند آئی۔ البدر کے قریب ہی عبدالحفیظ صاحب کا کوئی جاننے والا ریڈی میڈ کپڑوں کے نفیس جوڑے تیار کرتا تھا۔ ہم نے وہاں سے کپڑے خریدے اور مولانا کو جب میں نے ہدیہ پیش کیا تو کمال بے تکلفی اور خوب صورت مزاحیہ انداز میں فرمانے لگے: ''کتابوں کا ہدیہ تو مکمل تھا‘ یہ نامکمل ہے۔‘‘ میں نے پوچھا کیسے تو اپنے کندھے پر ڈالی ہوئی چادر کی طرف اشارہ کر کے کہنے لگیـ: ''اس کے بغیر لباس ادھورا ہوتا ہے‘‘۔ میں نے کہا: ''اس کا بھی اہتمام کیے دیتے ہیں‘‘ تو فرمانے لگیـ: ''نہیں یہی کافی ہے‘‘۔ اس زمانے میں مولانا کندھے پر چادر ضرور رکھا کرتے تھے‘ بعد میں انہوں نے چادر ترک کر دی۔
میں اس دوران میں مستقل طور پر منصورہ میں مقیم ہو گیا۔ مولانا کی آمد و رفت اب باقاعدگی سے ہونے لگی اور ان سے ملاقاتیں ہوتی رہیں۔ چند برسوں بعد جب میں کوئٹہ گیا تو مولانا مجھے اپنے ساتھ لے کر ایک بازار میں چلے گئے۔ وہاں سے مجھے ایک قالین خرید کر دیا۔ میں نے کہا: ''مولانا نہ تو مجھے اس کی ضرورت ہے‘ نہ ہی میں اسے ہوائی جہاز میں ساتھ لے جا سکتا ہوں‘‘۔ فرمانے لگے: ''بھئی! ہدیہ کبھی مسترد نہیں کیا جاتا؛ اگر آپ نہ لے جا سکیں تو میں اسے لاہور لے آئوں گا‘‘۔ مولانا بڑے وضع دار انسان تھے۔ یہ قالین لاہور لے آئے اور مجھے ہدیہ کر دیا۔

مولانا نے ضلع کیچ کے ایک گائوں زامران میں 15؍ جنوری 1947ء کو ایک معزز علمی گھرانے میں آنکھ کھولی۔ آپ کے والد محترم مولانا محمد حیات بلوچ بیک وقت قبیلے کے سردار بھی تھے اور مستند عالمِ دین بھی۔ وہ تحریک پاکستان کے بہت بڑے حامی تھے۔ آپ کا تعلق بلوچوں کے ایک قبیلے زہروزی سے تھا۔ مولانا کے آبا و اجداد اپنے علاقے میں فصلِ خصومات کے فرائض سرانجام دیتے تھے۔ ان کے فیصلوں کو ہر پنچایت اور جرگہ بخوشی قبول کر لیتا تھا‘ کیونکہ وہ قبائلی روایات کے ساتھ ساتھ دینی علوم پر بھی دسترس رکھتے تھے۔ مولانا کے والد خود ایک بہت بڑے معلم تھے۔ انہوں نے علاقے کے بہت سے نوجوانوں کو دینی علوم سے بہرہ ور کیا اور پھر کراچی کی مختلف بڑی بڑی درسگاہوں میں اعلیٰ تعلیم کے لیے بھیجتے رہے۔ مولانا عبدالحق صاحب نے بھی ابتدائی دینی تعلیم گھر سے حاصل کی‘ پھر تربت ہائی سکول سے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ اس کے بعد کراچی میں مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحبؒ کی مشہور درسگاہ دارالعلوم کورنگی کراچی میں دورئہ حدیث کے لیے چلے گئے۔ یہاں قیام کے دوران دارالعلوم سے آپ 1973ء میں فارغ ہوئے۔ آپ نے درسِ نظامی کا امتحان بھی پاس کیا اور اس کے ساتھ کراچی یونیورسٹی سے بی اے کی ڈگری بھی حاصل کی۔

کراچی میں قیام کے دوران انہیں اسلامی جمعیت طلبہ اور جماعت اسلامی سے بھی تعارف حاصل ہوا۔ مولانا مودودیؒ کی تحریروں کو پڑھنے کا موقع ملا تو ان سے بہت متاثر ہوئے اور کئی سال خاموشی سے مطالعہ میں مصروف رہے۔ جمعیت میں تو محض ایک حامی کی حد تک دلچسپی لیتے رہے‘ مگر 1980ء میں جب تربت آئے تو جماعت اسلامی میں سرگرم عمل ہوگئے۔ یہاں بیک وقت ایک سکول اور مدرسے کی بنیاد رکھی اور یہاں درس و تدریس کا سلسلہ شروع کر دیا۔ اس سے قبل 1973ء سے اپنے علاقہ کیچ میں کئی سالوں تک گورنمنٹ ہائی سکول میں انگریزی پڑھاتے رہے۔ تربت میں آنے کے بعد مقامی جماعت اسلامی کے ساتھیوں نے مولانا کو متوجہ کیا کہ آپ جماعت اسلامی کی رکنیت اختیار کریں اور جماعت کی قیادت فرمائیں؛ چنانچہ 1981ء میں جماعت کے باقاعدہ رکن بن گئے اور کچھ ہی عرصے کے بعد ضلع تربت کے امیر مقرر کیے گئے۔ 1985ء میں اسی علاقے سے جماعت کی طرف سے انہیں قومی اور صوبائی اسمبلی کے لیے امیدوار منتخب کیا گیا‘ وہ دونوں نشستوں پر کامیاب ہوئے۔ یہ انتخابات غیر جماعتی تھے۔ جماعتی فیصلے کے مطابق آپ نے قومی اسمبلی کی نشست برقرار رکھی اور صوبائی اسمبلی کی نشست چھوڑ دی۔

1988ء میں مولانا عبدالحمید مینگل صاحب نے مسلسل علالت اور کمزوری کی وجہ سے جماعت کی صوبائی امارت سے معذرت کی تو مولانا عبدالحق بلوچ صاحب کو امیرِ صوبہ بلوچستان مقرر کیا گیا۔ یہ ذمہ داری انہوں نے ستمبر 2003ء تک مسلسل پندرہ سال نبھائی۔2004ء میں انہیں جماعت اسلامی پاکستان کا نائب امیر مقرر کیا گیا۔ یہ ذمہ داری بھی انہوں نے مئی 2009ء تک ادا کی۔ قومی اسمبلی کے رکن کے طور پر مولانا نے اسلام آباد میں ایک بہت اچھا حلقہ احباب بنا لیا تھا۔ اس اسمبلی کے اکثر و بیش تر ارکان سے مولانا عبدالحق بلوچ صاحب نے ان کے مسلک اور خیالات کے اختلاف کے باوجود‘ اچھے مراسم اور دوستانہ تعلقات قائم کیے‘ جو دعوت کے میدان میں داعی کے لیے بہت بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ بلوچستان ایک ایسا علاقہ ہے جہاں بھانت بھانت کی بولیاں بولی جاتی ہیں۔ ہر سردار کی اپنی پارٹی اور اپنا منشور ہے۔ مولانا عبدالحق بلوچ ایسی مرنجاں مرنج شخصیت کے حامل تھے کہ سب کے ساتھ ان کے تعلقات اور میل ملاپ تھا۔ سیکولر اور قومیت پرست بخوبی جانتے تھے کہ مولانا کو ان کے خیالات و عقائد سے مکمل اختلاف ہے ‘مگر اس کے باوجود مولانا کے ذاتی اخلاق اور وسیع الظرفی کی بدولت وہ سب ان کا احترام کرتے اور ان کی دعوت پر شریک محفل ہو جایا کرتے تھے۔

اسلام آباد میں قیام کے دوران مولانا مارگلہ کی پہاڑیوں میں خرگوش اور تیتر کے شکار کے لیے نکل جایا کرتے تھے۔ کئی مرتبہ ان کے ساتھ بعض قوم پرست بلوچ راہ نما بھی اس مہم پر اکٹھے نکلتے تھے۔ میں نے ایک دن مولانا سے از راہِ مذاق کہا: ''مولانا بیچارے تیتر اور مسکین خرگوش کے شکار سے کیا حاصل؟ مزا تو یہ ہے کہ ان ''گرگوں‘‘ کو شکار کریں ‘جو آپ کے ساتھ شکار کھیلتے ہیں۔‘‘ اس پر بہت ہنسے اور کہنے لگے: ''ان کا شکار خاصا مشکل ہے‘ مگر ان کو ڈھب پہ لانے کے لیے پاپڑ تو بیل رہا ہوں‘‘۔ تھوڑی دیر بعد فرمایا ''شاید آپ کو معلوم نہیں کہ یہ گرگ بڑے کایاں ہیں۔ یہ شکار ہونے کی بجائے شکار کرنے کے عادی ہیں۔ خدا ان کے شر سے بچائے۔‘‘