یہ نظم نہیں نوحہ ہے- حسن نثار

زیادہ تر کرپٹ پاکستانی بیوروکریسی کا پس منظر جاننا بلکہ سمجھنا بہت ضروری ہے۔ قیام پاکستان کے وقت جو سیاسی اشرافیہ، بیوروکریسی وغیرہ پاکستان کے حصہ میں آئی وہ ہر اعتبار سے برٹش ٹرینڈ تھی۔ فی الحال ہم صرف اس سول بیوروکریسی پر ہی فوکس کریں گے کیونکہ آج صرف انہی کے کرتوت ہمارا موضوع ہیں۔ یہ برٹش ٹرینڈ بیوروکریسی کوالٹی کے اعتبار سے بہترین تھی۔ پھر آہستہ آہستہ یہ فیڈ آئوٹ یعنی ریٹائر ہوتے گئے تو ان کی جگہ ان کی تربیت یافتہ بیوروکریسی نے انتظام سنبھالا جو اپنے سینئرز کی طرح بہترین تو نہیں تھے لیکن خاصے بہتر تھے۔ پھر ان کے صحبت و تربیت یافتہ لوگ آئے جو اپنے سینئرز سے کمتر درجہ کے تھے اور پھر وہ آئے جو ان کے سایہ میں پروان چڑھے تو وہ ان سے بھی ماٹھے تھے یعنی معیار کردار بتدریج گرتا گیا اور گرتے گرتے وہاں تک پہنچ گیا جہاں آج انہیںوہ نوزائیدہ قوم بری طرح بھگت رہی ہے جو اب نوزائیدہ نہیں ستر اکہتر برس پرانی ہو چکی ہے ۔اس مختصر سی تمہید کے بعد چلتے ہیں اس خبر کی طرف کے چشم بدور آج کی ’’خالص پاکستانی‘‘ بیوروکریسی مال کمانے، بیرون ملک جائیدادیں بنانے، مختلف ملکوں کی نیشنیلٹی حاصل کرنے، اپنے بچوں کو بیرون ملک تعلیم دلوانے اور وہاں کاروبار کرانے میں ’’محب وطن جمہوری‘‘ سیاستدانوں کو بھی بہت پیچھے

چھوڑ چکی ہے۔ایک تازہ ترین خبر کے مطابق 1325بڑے بیوروکریٹس اور تیرہ ہزار 27دیگر موجودہ و سابق سرکاری ملازمین نے نہ صرف بیرون ملک جائیدادیں بنا رکھی ہیں بلکہ ان کی اولادیں بھی لوٹ مار سے حاصل کی گئی حرام کمائی پر نہ صرف وہاں اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہی ہیں بلکہ مختلف قسم کے کاروبار بھی کر رہی ہیں۔ ان 1325 بیوروکریٹس میں پولیس کے دو موجودہ اور 107سابق افسران بھی شامل ہیں۔ کینیڈا میں 6سابق بیوروکریٹس نے تو دوران ملازمت ہی نیشنیلٹی حاصل کر لی تھی اور اب خوشحال گھرانوں سمیت وہاں رہائش پذیر ہیں۔ ان افسران نے دوران ملازمت ہی بیرون ملک اثاثے بنانے شروع کر دیئے تھے۔ رپورٹ کے مطابق محکمہ ریونیو، پولیس، فوڈ اور سیکریٹریٹ کے ایسے ملازمین کے نام بھی سامنے آئے ہیں جنہوں نے اختیارات کا ناجائز استعمال کر کے بیرون ملک بیش قیمت جائیدادیں بنائیں۔ 52ایسے معززین کے نام بھی سامنے آئے ہیں جو مختلف ادوار میں مختلف وزراء کے ساتھ فرائض انجام دیتے رہے اور اپنے ’’حصہ‘‘ سے باہر جائیدادیں خریدتے رہے (یہاں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ ان وزراء نے کیسی کیسی وارداتیں ڈالی ہوں گی اور کس کس طرح جمہوریت کو مستحکم کیا ہوگا)107 ایس پیز، ڈی ایس پیز اور معروف انسپکٹرز کے نام بھی سامنے آئے ہیں جن کی اربوں روپے کی جائیدادیں پرتگال، سپین، برطانیہ، کینیڈا اور امریکہ میں ہیں اور وہ وہاں کی نیشنیلٹی بھی حاصل کرچکے ہیں۔ اس بری خبر کے بطن میں ایک اچھی خبر یہ ہے کہ ان کرپٹ ملازمین کے خلاف اہم ثبوت حاصل کر لئے گئے ہیں۔

ان کی مددگار منی ایکسچینج کمپنیوں، حوالہ کا کام کرنے والوں کے کوائف بھی حاصل کر لئے گئے ہیں۔مسئلہ ہے ’’مال مسروقہ‘‘ کی ریکوری کا کہ اس کے بغیر کرپشن کلچر کا خاتمہ یا سکڑاؤ ممکن نہیں۔ ریکوری اس لئے ہی ضروری نہیں کہ ملکی معیشت کو پائی پائی کی اشد ضرورت ہے بلکہ اس کی اصل ضرورت اس لئے ہے کہ جب تک مجرم بے نقاب ہوکر اپنے اپنے منطقی انجام کو نہیں پہنچتے، اس دیمک اور کینسر کا علاج ممکن نہیں۔وزیراعظم عمران خان نے درست کہا کہ مودی سے بات ہو سکتی ہے، ان لوگوں سے مکالمہ ممکن نہیں۔ مودی کھلا دشمن ہے اور اس دشمنی کی تاریخ پرانی بھی ہے اور جانی پہچانی بھی، اس لیے خطرہ ہونے کے باوجود کوئی خطرہ نہیں۔ اس ملک معاشرہ کے خوفناک ترین دشمن آستین کے وہ سانپ ہیں جو دودھ بھی پیتے ہیں اور مسلسل ڈستے رہنے سے باز بھی نہیں آتے۔ باہر کے زخم سے اندر کی بیماری زیادہ جان لیوا ہوتی ہے جس کی بروقت خبر نہیں ملتی اور ملتی ہے تو اکثر اوقات اس وقت جب مرض لاعلاج ہو چکا ہوتا ہے۔ افسوس یہ کہ کرپشن کے خلاف محاذ اس وقت کھولا گیا جب پانی سر تک پہنچ گیا اور ملک پنجوں کے بل کھڑا ہونے پر مجبور ہو گیا جو ہماری اجتماعی کجی اور کمزوری ہے کہ ہم لوگ کسی بھی مسئلہ پر شاید ہی کبھی بروقت ری ایکٹ کرتے ہوں۔

منیر نیازی کی ’’ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں‘‘ والی شہرہ آفاق لازوال نظم، نظم سے کہیں زیادہ دراصل ہمارے اسی بیمار، غیر ذمہ دار رویہ کا نوحہ ہے۔ کرپشن کے علاوہ اور چند انتہائی سنگین مسائل پر بھی ہم نے ’’ہمیشہ دیر کر دینے والی‘‘ اس ناپسندیدہ ترین عادت کا دبیز پردہ ڈال رکھا ہے جن میں بے لگام بڑھتی ہوئی خودکشیانہ آبادی سرفہرست ہے۔ کاش کوئی اس وحشی بدمست سانڈ کو بھی سینگوں سے پکڑ کر اس کی گردن توڑ سکے کہ ملکی معیشت کسی بھی قیمت پر آبادی میں اس اضافہ کی متحمل نہیں ہوسکتی۔ٹیکنالوجی کی وجہ سے آنے والے سالوں میں بیروزگاری ایک گلوبل ایشو بننے والی ہے جو ترقی یافتہ ملکوں کو بھی تگنی کا ناچ نچا دے گی، ہم تو ابھی ’’ترقی پذیر‘‘ بھی نہیں تو ہمارا کیا بنے گا؟ لیکن اس پر پھر کبھی کہ فی الحال تو فوکس کرپشن کے خلاف جہاد پر ہی ہونا چاہیے۔خدا جانے کب تک اور کہاں کہاں منیر نیازی کی یہ نظم ہمیں ہانٹ کرتی رہے گی،’’ہمیشہ دیر کردیتا ہوں میں۔