پاکستان اور ترکی نے نیوزی لینڈ واقعے کے بعد او آئی سی کا ہنگامی اجلاس طلب کرلیا

پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ ’اسلامو فوبیا` کے سدباب کے لیے او آئی سی کا ہنگامی اجلاس 22 مارچ کو طلب کرلیا گیا ہے جس کا مقصد نیوزی لینڈ کے سانحے کے بعد مسلم امہ کو اکھٹا کرنا ہے۔ اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کے دوران شاہ محمود قریشی نے کہا کہ انھوں نے ترکی کے وزیر خارجہ سے بات کی اور فیصلہ کیا کہ اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی کا ہنگامی اجلاس بلایا جائے۔ انھوں نے بتایا کہ او آئی سی کا ہنگامی اجلاس 22 مارچ کو استنبول میں ہوگا، اجلاس کا مقصد مسلم امہ کو واقعے کے بعد اکٹھا کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلامو فوبیا کے سدباب کے لیے مسلمان ممالک کے کردار پر بات ہو گی۔

وزیر خارجہ نے بتایا کہ نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں مساجد پر حملوں میں 50 افراد ہلاک ہوئے ہیں اور دونوں مساجد میں 5 کلومیٹر کا فاصلہ ہے۔ انھوں نہ بتایا کہ کرائسٹ چرچ حملے میں 10 پاکستانی متاثر ہوئے جن میں نو ہلاک ہوئے ہیں جب کہ ایک پاکستانی، شدید زخمی حالت میں اسپتال میں زیر علاج ہے۔

شاہ محمود قریشی نے بتایا کہ وزیراعظم نے فیصلہ کیا کہ واقعے پر پیر کو سوگ کے طور پر پاکستان کا پرچم سرنگوں رہے گا۔ انھوں نے بتایا کہ پاکستانی شہری نعیم رشید کی والدہ اُن کی تدفین میں شرکت کے لیے نیوزی لینڈ جانا چاہتی ہیں جس کے لیے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ لاشوں کی شناخت مشکل مرحلہ تھا جو مکمل ہو گیا ہے اور چھ ہلاک پاکستانیوں کی تدفین ان کے اہل خانہ نیوزی لینڈ میں ہی کرنا چاہتے ہیں جب کہ 3 خاندانوں نے میتیں پاکستان لانے کی درخواست کی ہے۔

کرائسٹ چرچ حملے میں ہلاک ہونے والے پاکستانی نعیم رشید نے حملہ آور کا مقابلہ کیا اور اسی دوران وہ اور اُن کا بیٹا ہلاک ہو گئے۔ وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ نعیم راشد کو یوم پاکستان کے موقع پر قومی اعزاز سے نوازا جائے گا، جس کا اعلان بعد میں وزیراعظم عمران خان نے اپنی ٹویٹ میں بھی کیا۔

یہ بھی پڑھیں:   کوٹا سسٹم اور پاکستان - حبیب الرحمن

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان پر قومی اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کریں گے اور اس سلسلے میں تمام پارلیمانی رہنماؤں کو خط لکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ تمام پارلیمانی رہنماؤں کو 28 مارچ کو اجلاس کی دعوت دوں گا۔

نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں دو مساجد پر نماز جمعہ کے دوران فائرنگ کے نتیجہ میں 50 افراد ہلاک ہو گئے تھے، اس واقعہ کی دنیا بھر میں مذمت کی گئی تھی اور نیوزی لینڈ کی وزیراعظم نے اس کو نیوزی لینڈ کی تاریخ کا سیاہ دن قرار دیا تھا۔