وہ مسلمانوں سے کبھی راضی نہ ہوں گے - ابومحمد مصعب

آصف لقمان قاضی صاحب نے اپنی فیس بک وال پر اپنے کسی بوسنیائی دوست کی ایک بات نقل کی ہے، جن کے بقول: ’’سرب افواج جب بوسنیائی مسلمانوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹ رہی تھیں، ان کی عورتوں کی آبروریزی کر رہی تھیں اور ان کا اجتماعی قتل کر رہی تھیں، اس وقت وہ (بوسنیائی مسلمان) دہشت گرد یا انتہا پسند ہرگز نہیں تھے۔ وہ تو نماز تک نہیں پڑھتے تھے، مساجد میں بھی نہیں جاتے تھے۔ شراب پیتے تھے، نیو ایئر اور کرسمس کی خوشیاں مناتے تھے، یہاں تک کہ ان کے اور عیسائیوں کے درمیان رشتہ داریاں اور شادیاں بھی ہوئیں، اس کے باوجود وہ قتلِ انبوہ (holocaust) کا شکار ہوئے۔

راؤل ہل برک، جنہیں ہولوکاسٹ کا عالم سمجھا جاتا ہے، نے ہولوکاسٹ کی بڑی واضح اور جامع تشریح کر دی ہے۔ ان کے بقول، پہلے انہوں نے (یعنی جرمن نازیوں نے) ہمیں کہا کہ: آپ ہمارے درمیان یہودی بن کر نہیں جی سکتے۔ پھر انہوں نے کہا آپ ہمارے درمیان نہیں جی سکتے۔ اور بالآخر وہ اس بات پر آ گئے کہ آپ جی نہیں سکتے۔ " first they told us you cannot live among us as jews. Second you cannot live among us. Third you cannot live."

تو یورپ اور مغرب کے دوسرے ملکوں میں رہنے والے مسلمان چاہے شرابیں پیئیں، نائٹ کلبز میں حرام کاریاں کریں، ان کی عورتوں کی طرح اپنی خواتین کو بےلباس کر دیں، حتیٰ کہ سور بھی کھائیں، تو رہیں گے وہ مسلم کے مسلم ہی اور پھر وہ کسی وقت بھی زیرعتاب آ سکتے ہیں۔

میرے دوست منیر، کینیڈا میں رہتے ہیں، اور اب انہیں وہاں تقریباََ اٹھارہ سال ہو چکے ہیں۔ بچے وہیں پیدا ہوئے۔ خود سرکاری جاب کرتے ہیں۔ جب دبئی آئے تو میں نے پوچھا: مسلمانوں کے ساتھ مقامی لوگوں کا رویہ کیسا ہے؟ کیا آپ کو کینیڈا میں، مسلم ہوتے ہوئے خوف محسوس ہوتا ہے؟ تو کہنے لگے کہ پہلے تو بالکل بھی ڈر نہیں لگتا تھا لیکن اب لگتا ہے۔ جس کی ایک وجہ یہ بیان کی کہ کئی بار ڈاڑھی والے افراد، مار دھاڑ، قتل و غارت جیسے جرائم میں پکڑے گئے ہیں، پھر چاہے پکڑے جانے والوں میں کبھی کبھار سِکھ بھی شامل کیوں نہ ہوں لیکن وہاں کے لوگ ان کو بھی مسلمانوں کے کھاتے میں ڈال دیتے ہیں۔ اس لیے عوام کا رویہ اب مسلمانوں کے حوالہ سے اور خاص کر ڈاڑھی والوں کے ساتھ فی الحال جارحانہ نہیں تو بھی کسی حد تک نفرت انگیز ضرور ہونے لگا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   نیوزی لینڈ میں کیا اور پاکستان میں کیا ہو رہا ہے! انصار عباسی

ایک جاننے والے، قریباََ دو دہائیوں سے آسٹریلیا میں رہتے ہیں۔ وہ جس مسلمان اسکول میں پڑھاتے تھے، وہاں کے بیرونی دیوار کو کئی بار متشدد عیسائی، آگ لگا چکے ہیں۔ آئے روز وہاں مسلمانوں کے ساتھ نفرت انگیز واقعات ہوتے رہتے ہیں۔ جن کا مقصد صرف ایک ہوتا ہے کہ مسلمان وہاں سے چلے جائیں۔

بہت پہلے جب ان سے دبئی میں ملاقات ہوئی تھی تو عرض کیا تھا: کہ کیا وجہ ہے کہ آسٹریلیا کے عیسائی، یورپ کے نصرانیوں سے زیادہ متشدد اور انتہاپسند ہیں؟َ تو انہوں نے جواب دیا تھا کہ ''آج کے آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے لوگ، ان لوگوں کی اولادیں ہیں جو جرائم پیشہ تھے اور لائقِ گردن زنی تھے، لیکن بجائے سزائے موت کے، یورپ والوں نے انہیں اس خطے میں بھیج دیا جسے آج آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کہا جاتا ہے۔ ان کی خون میں اب بھی جوش اور جارحیت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب نائن الیون ہوا تو سب سے زیادہ پرتشدد ردعمل کا سامنا آسٹریلیا کے مسلمانوں کو کرنا پڑا تھا۔''

خلاصہ کلام یہ کہ، یہ دو تہذیبوں کی لڑائی ہرگز نہیں، بلکہ یہ دراصل دو ادیان اور دو نظریات کی لڑائی ہے۔ پھر چاہے کوئی عملی طور پر کتنا ہی کمزور مسلمان کیوں نہ ہو، انہیں ہرگز قبول نہیں۔ ہاں، اگر وہ دین اسلام ترک کر کے ان کا دین قبول کر لیں تو پھر گنجائش نکل سکتی ہے۔

سچ کہا قرآن عظیم الشان نے: وَلَن تَرْضَىٰ عَنكَ الْيَهُودُ وَلَا النَّصَارَىٰ حَتَّىٰ تَتَّبِعَ مِلَّتَهُمْ ۗ ''یہودی اور عیسائی آپ سے ہرگز راضی نہیں ہوں گے جب تک کہ آپ ان کی ملت میں شامل نہ ہوجائیں۔'' (یعنی دین اسلام ترک کرکے یہودی یا عیسائی نہ بن جائیں)۔