ساہیوال نیوزی لینڈ سے دور تو نہیں - حافظ یوسف سراج

بحران میں قیادت کس طور بروئے کار آتی ہے ، یہ ہمیں نیوزی لینڈ نے بتایا، طوفانوں سے قومیں کس طور نبرد آزما ہو کے اور نکھر کے ظہور کرتی ہیں، یہ بھی نیوزی لینڈرز نے آشکار کر دکھایا، دراصل نیوزی لینڈ آگ میں آ گرا تھا، قیادت اور قوم نے مل کر مگر اس آگ کو گلزار میں بدل ڈالا۔ جناب عمران خان کا معاملہ یہ ہے کہ انھوں نے مغرب کی مثالیں دیں اور ہمارے طرزِ حکومت کے خلاف تنقید کی ایک دیوار کھڑی کر دی۔ خدشہ اب یہ ہے کہ کہیں وہ خود اس دیوار تلے دفن نہ ہو جائیں۔ وقت میسر اور مہلت ان کے پاس موجود ہے، انتخاب اور عمل کا فیصلہ مگر انھوں نے خود کرنا ہے۔ وہ ابھی تک مگر محض بات کرتے ہیں ، جبکہ زندگی صرف عمل کی زبان جانتی ہے۔ کاش زندگی اتنی سہل ہوتی کہ یہ سوشل میڈیا پر کی گئی باتوں اور بیانات سے نکھر سکتی ، یہ مگر لہو مانگتی ہے، عمل اور ریاضت کا لہو۔ وہ لہو جو نیوزی لینڈ کی وزیرِ اعظم جیسنڈرا نے کرائسٹ چرچ نامی شہر کی مساجد میں لگی آگ پر ڈال کے نیوزی لینڈ کا وقار اور اعتبار بچا لیا۔ آپ سوچیے، اک عام پاکستانی نیوزی لینڈ کے بارے کتنا جانتا تھا؟ سوائے وہاں کی کرکٹ ٹیم اور کرکٹ کے سٹیڈیمز کے حوالے سے معروف ہو جانے والے شہروں کے؟ پھر کرائسٹ چرچ نامی شہر میں ایسا طوفان اٹھا کہ پچاس سے زیادہ مسلم ممالک کی نفرت کا نیوزی لینڈ کو سامنا تھا۔ وہاں جو کچھ ہوا، وہ کبھی پہلے نہ ہوا تھا، جسے سہنا ہی نہیں، سننا بھی آسان نہ تھا۔ ایسا بہیمانہ قتل عام موویز میں بھی ہر شخص نہیں دیکھ سکتا، اعصاب چٹخ جاتے ہیں اور انسانی نالیوں میں بہتے لہو میں ہیجان پیدا ہو جاتا ہے۔ یہ مگر کوئی ہارر مووی نہ تھی ، سفاک جذبات کی تسکین کا سامان کرتی کوئی ویڈیو گیم بھی نہ تھی۔ یہ ایک شیطان تھا، جو آسٹریلوی باشندے کے روپ میں نیوزی لینڈ کی مساجد، النور اور لن وڈ میں اتر آیا تھا۔ عین اس وقت جب لوگ باوضو ہو کے رب کے حضور رکوع و سجود میں تھے، بندگی کے جذب و کیف میں تھے اور حالتِ راز و نیاز میں تھے۔

قاتل کی گن کے نعرے، ترک ٹی وی چینل نے جو سب کے لیے ترجمہ کر دیے، قاتل کے ذہن، ماضی اور ارادوں کی ترجمانی کرتے تھے، یہ گوری چمڑی کی برتری کے نشے سے چور اک جانور تھا۔ نہیں معلوم کس قصاب خانے میں رکھ کر، اس کے ذہن میں ماضی کی صلیبی جنگوں کا خمار مشتعل کر دیا گیا تھا۔ اب یہ چلتا پھرتا بارود خانہ تھا، وہ کہ جس کو بوسیدہ افکار کی آگ دکھا دی گئی تھی ۔ا س کے ہیرو وہ تھے جنھوں نے مہاجرین کے خون سے ہاتھ رنگے تھے۔ یہ قاتل اس دن تہتر ممالک سے نیوزی لینڈ آئے ساٹھ ہزار سے زائد مسلمانوں میں سے بعض کو قتل نہ کر رہا تھا، یہ نیوزی لینڈ کے چہرے کو، اس کے ماضی کی فضا، امن کی ردا اور رواداری پر گولیاں برسا رہا تھا۔

مغرب کے بارے میں ہمارا علم ہمیشہ ادھورا رہتا ہے، محرومی نے بھی ہمارے اندر بدگمانی کے کئی سنپولیے پیدا کر دیے ہیں۔ یہ نہیں کہ مغرب میں بس انسانیت ہے اور امن کا سفید پرچم لہراتا ہے اور چونچ میں شاخِ زیتون لیے فاختائیں اڑا کرتی ہیں۔ وہاں آسٹریلیا کے روبوٹک قاتل اور سفاک سینیٹر ہیں، وہاں ٹرمپ ہے اور وہاں عراق و افغانستان سمیت متعدد ممالک کو تاراج کر دینے کے منصوبے بنتے ہیں۔ نیوزی لینڈ مگر ایسا نہ تھا۔ یہ سب میں کبھی نہ جان سکتا اگر میں نیوزی لینڈ کے اس مردِ درویش سے بات نہ کر چکا ہوتا ،وہ حیدر لون کہ جس کے لہجے میں شہد کی مٹھاس اور ہمالیہ کا عزم بولتا ہے۔ حیدر لون صاحب جو گلگت بلتستان کے سپوت ہیں، اور اب نیوزی لینڈ کے شہری بھی۔ وہ وہاں پاکستانی کمیونٹی کے صدر ہیں، عیسائی مسلم مشترکہ تنظیم کے رکن ہیں، نیوزی لینڈ پاکستان چیمبر آف کامرس کے ممبر ہیں، رابطہ عالمِ اسلامی میں جن کے لیے دستر خوان چنا جاتا ہے اور جو نیوزی لینڈ کی پارلیمنٹ میں کشمیر پر قرار دادیں پیش کیا کرتے ہیں۔ وہ کہ جنھوں نے نیوزی لینڈ میں اپنے گھر کا نام پاکستان رکھ چھوڑا ہے۔ حیدر صاحب نے میرے سلگتے دل پر حقائق کا تریاق یوں رکھا، قطرہ قطرہ، کہ دل شانت ہو گیا۔ انھوں نے نیوزی لینڈ کے باشندگان کا رویہ منکشف کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج کے دن نیوزی لینڈ میں کہیں ایک پھول بھی میسر نہیں آ سکتا، کہ سارے پھول وہ ہم پاکستانیوں کی دل جوئی اور تعزیت کے لیے خرید کر پیش کر چکے۔ انھوں نے بتایا کہ تعزیتی کالز کا اس قدر تانتا بندھا کہ یکے بعد دیگرے موبائل کی بیٹریاں جواب دے جاتی ہیں۔

یہ سب ہوا کیسے؟ دراصل سیکیورٹی کا سامان ابھی نیوزی لینڈ کا رخ نہ کر سکا تھا۔ جیسا کہ اپنے ٹویٹ میں وہاں کی کرکٹ کے لیے بہت جانے والے پاکستانی کرکٹر شاہد آفریدی نے بھی اپنے ٹویٹ میں بتایا، وہ ایک بہت پرامن ملک ہے۔ مساجد ہی نہیں، وہاں سرکار دربار میں بھی کوئی سیکیورٹی کا تصور موجود نہ تھا۔ شب دو بجے ہم نکل جاتے، بیگم ساتھ ہوتیں، سکارف انھوں نے پہنا ہوتا اور ہمیں کچھ خدشہ نہ ہوتا، وہ بتاتے تھے، لوگوں پر یہاں اعتبار کیا جاتا ہے۔ لون صاحب بتا رہے تھے۔ انھی نرم حالات اور نرم قوانین کا قاتل نے فائدہ اٹھایا، اس کا سرکل بھی بہت محدود رہا تھا، اور یہ کسی اعتبار سے مشکوک بھی نہ تھا، چنانچہ یہ اپنا کھیل کھیل گیا۔

اس ایک واقعہ نے نیوزی لینڈ مگر بدل ڈالا۔ جیسے نائن الیون نے دنیا۔ لون صاحب بتا رہے تھے، آپ نیوزی لینڈ کی مہربان فضا کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ ہم عید کی نماز پارلیمنٹ میں پڑھا کرتے ہیں۔ دراصل نیوزی لینڈ کے لوگ شرافت کی تاریخ اور نجابت کا حوالہ رکھتے ہیں ، اس کے مقابل آسٹریلوی وہ ہیں ،جنھیں بطور سزا اس براعظم میں بھیجا گیا۔ نیوزی لینڈ کے متعدد شہر ان نجیب شہریوں کے نام پر ہیں ، جو وائسرائے ہند رہے۔ یہ حکمران لوگ ہیں، اور حکمرانی کے تیور جانتے ہیں۔ اس کا پہلا عکس نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسنڈرا کی پہلی ہی تقریر میں مل گیا۔ انھوں نے اس حملے کو دہشت گردی قرار دیا اور مساجد یا مسلمانو ں پر نہیں، نیوزی لینڈ پر حملہ۔ اس کے چہرے پر وہی کرب ہلکورے لیتا تھا جو بچے کی اذیت پر کسی ماں کے انگ انگ سے پھوٹتا ہے۔ اس نے سر پر دوپٹہ اوڑھا، اس نے شلوار اور قمیص زیبِ تن کی اور یہ مسلمان خواتین کے سینے سے جا لگی۔ اس کے ہاتھ ظلم اور درد میں ڈوبے ہوؤں کی پشت سہلانے لگے۔ ایک ہی دن میں اس نے اسلحہ میں نرمی کا قانون بدل ڈالا۔ اس نے ان تمام لوگوں کو سامنے لا کھڑا کیا، جو اپنے لفظ اور لہجے سے ، اپنی حیثیت اور ساکھ سے مسلمانوں کے لیے باعث اطمینان ہو سکتے تھے۔ چنانچہ آج عالم یہ ہے کہ بجائے ان واقعات کے دہرائے جانے کے، مغرب میں ایسے سانحات کے بعد جو تارکین وطن مسلمانوں کا مقدر بن جاتے ہیں اور جہاں مسلمان ہی نہیں، سکھ بھی اپنی داڑھیوں کی پاداش میں دھر لیے جاتے ہیں، اس سب کے بجائے آج نیوزی لینڈ میں سینے فراخ ہیں اور ہاتھوں میں پھول۔ جی ہاں طوفان آیا کرتے ہیں، وقت آتا ہے کہ معاشرے آگ میں جا گرتے ہیں، یہ مگر قیادت ہوتی ہے جو قوم کو سرخرو کر دیتی ہے، خان صاحب کے دل میں نیوزی لینڈ کے مقتولین کا درد جاگا، کوئی ڈاکٹر جا کے تشخیص کرے، کہیں خان صاحب کی قریب کی نظر کمزور تو نہیں، ورنہ ساہیوال نیوزی لینڈ سے دور تو نہیں۔

Comments

حافظ یوسف سراج

حافظ یوسف سراج

ادب اور دین دلچسپی کے میدان ہیں۔ کیرئیر کا آغاز ایک اشاعتی ادارے میں کتب کی ایڈیٹنگ سے کیا۔ ایک ہفت روزہ اخبار کے ایڈیٹوریل ایڈیٹر رہے۔ پیغام ٹی وی کے ریسرچ ہیڈ ہیں۔ روزنامہ ’نئی بات ‘اورروزنامہ ’پاکستان‘ میں کالم لکھا۔ ان دنوں روزنامہ 92 نیوز میں مستقل کالم لکھ رہے ہیں۔ دلیل کےاولین لکھاریوں میں سے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.