عورت، صبر و استقامت کا کوہ ہمالیہ - محمد نورالہدی

خواتین کے عالمی دن کواس مرتبہ ایک گروہ نے اسے نہایت مختلف انداز سے منایا۔ یہ ڈھٹائی ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا پر بہت ڈسکس ہو چکی ہے اور ٹاک شوز، ٹیبل ٹاک، کالم، اداریے اور سوشل میڈیائی ٹرائل کے ذریعے اس گروہ کو خوب آڑے ہاتھوں لیا گیا ہے۔ اس مخصوص طبقہ نے اس دن کو جن متضاد نعروں کے ساتھ منایا، زبان زد عام ہونے کی وجہ سے انہیں دہرانے کی ضرورت نہیں۔

مادر پدر آزادی کی کوششیں اگرچہ گذشتہ چند دھائیوں سے معاشرے میں بڑھتی جا رہی ہیں۔ برگر خواتین کا مارچ اس کوشش کی انتہا تھا ۔ انتظار کی گھڑیاں طویل ہونے اور صبر کا پیمانہ لبریز ہونے کے بعد منتظر کی جو حالت ہوتی ہے، ایسی ہی کیفیت لئے یہ خواتین میدان میں نکلی تھیں۔ وہ مخصوص آزادی کے حصول کی جانب اپنے سفر کو مختصر کرنا چاہتی ہیں ۔ جلد از جلد ”منزل“ پر پہنچنے کی ”لگن“ انہیں سڑکوں پر لے آئی ۔ حقوق اور برابری کے شوق میں وہ یہ بات بھول گئی تھیں کہ ہماری سوسائٹی میں خواتین کو پہلے ہی مرد پر اوسطاً برتری حاصل ہے ۔ گو ، کہ ہم انہیں تمام حقوق دینے کے معاملے میں کنجوس واقع ہوئے ہیں، لیکن اس کے باوجود فرائض کی انجام دہی حوالے سے وہ ہم سے کئی درجہ اوپر ہیں۔ اگرچہ وہ سسرالیوں کے ظلم کا بھی شکار ہوتی ہے .... شوہر کے تشدد کا بھی نشانہ بنتی ہے .... اسے ہراساں بھی کیا جاتا ہے .... چولہا پھٹتا ہے تو خاتون پر .... تیزاب گردی کا بھی شکار ہوتی ہے .... ونی بھی ہوتی ہے .... جائیداد کے حوالے سے بھی اس کی حق تلفی ہوتی ہے .... قدم قدم پر اپنے استحصال کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے .... ملازمتوں میں بھی اس کاکوٹہ محض پانچ فیصد ہے .... ایسے ہی مزید کئی مسائل کا بھی شکار رہتی ہے .... ہماری تضحیک کا نشانہ بنتی ہے .... مگر اس کے باوجود وہ صبر اور استقامت کا کوہ ہمالیہ ہے ۔ دھتکاری بھی جاتی ہے مگر سب سے زیادہ قوت برداشت رکھتی ہے ۔ اپنی ہتک کے باوجود روز و شب کے معاملے میں وہ مجھے مرد کو مات دیتے ہوئے ملتی ہے۔

ہم صبح بیدار ہوتے ہیں تو خاتون ، چاہے ماں ہو ، بہن ، بیوی یا بیٹی ، ہم سے پہلے اٹھی ہوتی ہے .... ہم آنکھیں مل رہے ہوتے ہیں تو ناشتہ ٹیبل پر لگا ہوتا ہے .... بیک وقت سکول جانے والوں کیلئے بھی ناشتہ تیار ہو رہا ہوتا ہے اور دوپہر اور رات کیلئے بھی سوچنا اور انتظام کرنا ہوتا ہے .... ملازمت پیشہ خواتین گھر داری کے ساتھ ساتھ پیشہ ورانہ امور کی انجام دہی پر بھی توجہ مرکوز کئے ہوتی ہیں .... آپ رات کو گھر جاتے ہیں تو آمد کے ساتھ ہی عشائیہ پیش کیا جاتا ہے .... گھر صاف ملتا ہے اور کپڑے بھی دھلے ہوئے اور استری شدہ .... بچوں کی ذمہ داری بھی خود لے رکھی ہوتی ہے .... غرض خاتون کولہو کے بیل کی طرح دن بھر مختلف کاموں میں جتی رہتی ہے .... ہم سے قبل بیدار ہوتی ہے اور ہمارے بعد سوتی ہے .... ہم اٹھ کر پانی کا گلاس نہیں پی سکتے مگر وہ تھکن سے چور ہونے کے باوجود ہماری ہر فرمائش کو تعظیم دیتی ہے .... ہمارے کام ختم ہو جاتے ہیں ، لیکن ان کے ختم نہیں ہوتے .... عورت کی یہ مصروفیات تو ماہ رمضان میں مزید بڑھ جاتی ہیں .... جب ہمارے سوتے میں یہ سحری بنا رہی ہوتی ہیں .... ہم آخری وقت میں اٹھ کر اس سحری سے اپنا پیٹ بھر چکے ہوتے ہیں تو یہ اخیری چند منٹوں میں لقمے حلق سے اتار رہی ہوتی ہیں .... ہم دفاتر میں اے سی کے مزے لے رہے ہوتے ہیں یا گھروں میں گرمی سے دبکے پنکھے تلے آرام فرما ہوتے ہیں ، تو وہ اپنی تھکاوٹ اور بوجھل طبیعت کے باوجود تپتے کچن میں ، روزے ، بھوک ، پیاس سے بے نیاز ہمارے لئے افطار کی تیاری میں مصروف ہوتی ہیں .... گھریلو کے ساتھ ساتھ اپنی سماجی سرگرمیوں اور پیشہ ورانہ ذمہ داریوں سے بھی عہدہ برآءہو رہی ہوتی ہیں .... کم آرام ، زیادہ کام والا فارمولا ہر دم اپنائے رکھتی ہے .... بلاشبہ یہ انہی کی ہمت اور استقامت ہے کہ نہ تھکن محسوس کرتی ہیں ، نہ ماتھے پر شکن لاتی ہیں .... شکوہ زبان پر آتا ہے اور نہ ہی صلے کی کوئی آرزو ہوتی ہے .... ہر حال میں مسرور اور بے غرض ان خواتین کے اظہار تشکر کیلئے الفاظ دنیا کی کسی ڈکشنری میں دستیاب نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   عورت کا گھر کوئی نہیں - منزہ ذوالفقار

آپ صرف ایک دن اپنے گھر میں موجود ماں ، بہن ، بیوی ، بیٹی کے دن بھر کے امور کا مشاہدہ کیجئے تو اپنی ہی کمتری اور ان کے معتبر ہونے کا احساس ہوگا ۔ اسے تو وقفہ بھی میسر نہیں آتا ۔ بے اختیار ان کا احسان مند ہونے کو جی چاہے گا .... یہ جو چند خواتین نام نہاد حقوق کا مطالبہ لئے سڑکوں پر نکلی ہیں ، مجھے یقین ہے کہ روزانہ کی بنیاد پر وہ مذکورہ تمام عوامل سے گزرتی ہیں ۔ یہ تو مرد سے زیادہ مقدم حیثیت کی حامل ہیں ۔ شدید بیماری کی حالت یا بچے کی پیدائش کے مراحل سے گزرنے کے دوران بھی آخری دن تک روٹین کے کاموں کی انجام دہی میں کوئی لغزش نہیں آنے دیتی ۔ اسے تو بنایا ہی اس مٹی سے گیا ہے جس میں مسلسل محنت اور برداشت جیسے عناصر شامل ہیں ۔ مذکورہ تمام امور پر غور کیا جائے تو عورت تو پہلے ہی مرد سے برتر معلوم ہوتی ہے .... تو پھر یہ مٹھی بھر خواتین کونسی برابری اور کس قسم کی آزادی چاہتی ہیں؟

ہماری سوسائٹی میں عورتوں کی تعداد مردوں سے کئی گنا زیادہ ہے ۔ اوسطاً دیکھا جائے تو مرد جلد وفات پا رہے ہیں اور بیواﺅں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ ایسے میں یہ عورت ہی ہے جو بیوگی کے روگ کے باوجود خود کو بھی سنبھالتی ہے اور محنت مزدوری کرکے بچوں کی بھی پرورش کر رہی ہے .... تو ، موصوفاﺅں ! آپ ٹائر بدلنا چاہیں ، ضرور بدلیں ، اپنی مرضی کے سٹائل سے بیٹھنا چاہیں ، ضرور بیٹھیں ، سماج سے بغاوت کرکے اپنے پاﺅں پر کلہاڑی بھی مار لیجئے ، مگر اپنی تکریم کو مت ٹھکرائیے ، آپ معاشرتی بندھنوں سے آزادی چاہتی ہیں لیکن مت بھولئے کہ گھروں کی رونقیں آپ ہی کے دم سے تو ہیں .... آپ گھر کا مرکز ہیں ، خاندانوں کے استحکام کی ضامن ہیں .... عورت کے بغیر گھر ویران ہے ۔ جو لوگ گھروں سے دور ، دوسرے شہروں یا ملکوں میں رہتے ہیں ، وہ اس درد کو بہتر محسوس کر سکتے ہیں ، عورت کی اہمیت ان سے بڑھ کر کون جان سکتا ہے ۔ جس مرد سے آپ خائف ہیں ، اس پر تو آپ پہلے ہی حاوی اور بااختیار ہیں ۔ آپ کی تو حیثیت ہی مثبت ہے .... عزم و ہمت ، محنت مشقت اور ذمہ داریاں نبھانے کا جتنا سٹیمنا آپ کا ہے ، اتنا تو مرد کا بھی نہیں ہے .... کہنے کو آپ نصف آبادی ہیں لیکن اصلاً آپ ایک مکمل روایات اور مساوات کی امین ہیں ، زمانے میں شعور آپ ہی کے طفیل ہے .... آپ نہ رہےں تو پسماندگان کو خاندان والے بھی بھول جاتے ہیں .... پبلک مقامات ، ٹرانسپورٹ ، بینک ، مارکیٹس ، ہر جگہ آپ کو مقدم جان کر لیڈیز فرسٹ والا قانون اپنایا جاتا ہے .... آپ ائیر یا بس ہوسٹس ہیں تو بھی حاوی ، کھیتوں میں یا دفتر میں کام کریں تو بھی آپ کو فوقیت حاصل ، سبزی بیچیں ، پنکچر لگائیں یا سیلز گرل بنیں ، دوپٹہ لیں ، نہ لیں ، بہرحال آپ محترم ہیں ، ہر لحاظ سے ہمت اور جرات کی داستان ہیں اور ہم آپ کی زندگی کے ہر پہلو کے معترف اور قدردان .... اسلام میں اگرچہ مرد کو عورت پر فوقیت دی گئی ہے ، لیکن عمومی مزاج دیکھا جائے تو ہر جگہ آپ ہی برتر ہیں .... مگر اس کے باوجود اگر آپ سورج کو چراغ دکھانا چاہتی ہیں تو یہ آپ کا اپنا فیصلہ ہوگا ۔