عوام دشمنی میں بدلتی سیاسی دشمنی- انصار عباسی

سیاست کو دشمنی میں نہیں بدلنا چاہئے اور وہ بھی اس حد تک کہ محض اپنے مخالف کو نیچا دکھانے کے لیے قومی نوعیت کے اہم ترین پروجیکٹس کو نقصان پہنچایا جائے، صرف اس لیے کہ وہ مخالفین نے شروع کیے یا بنائے تھے۔ افسوس کہ حکمران جماعت تحریک انصاف میں ایک ایسا مائنڈ سیٹ موجود ہے جو عوام کی سہولت اور فلاح کے لیے اربوں روپے سے بنائے یا شروع کیے گئے پروجیکٹس کو اس لیے ناکام بنانے کے درپے ہے کیونکہ ان پروجیکٹس کو شہباز شریف نے شروع یا مکمل کیا تھا۔ اس مائنڈ سیٹ کا بدترین شکار خصوصی طور پر پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ پنجاب ہے۔ ان پروجیکٹس پر پیسہ عوام کا لگا اور فائدہ بھی عوام کا ہے لیکن مسئلہ صرف یہ ہے کہ شہاز شریف نے یہ منصوبے شروع کروائے۔

کوئی ان سے پوچھے کہ شہباز شریف نے پیسہ اپنی جیب سے تھوڑا ہی خرچ کیا یا یہ منصوبے اپنے ذاتی نفع کے لیے بنائے؟ یہ تو قوم کا پیسہ ہے جس کی حفاظت سب پر فرض ہے۔ ہاں! اگر شہباز شریف نے کرپشن کی اور جیسا کہ تحریک انصاف دعوے کرتی رہی کہ بڑے منصوبوں سے اربوں کھربوں جیب میں ڈالے گئے تو پھر اُنہیں پکڑیں لیکن ایسا کوئی معاملہ بھی سامنے نہیں آ رہا بلکہ عدالت تو کیا، اب تو تحریک انصاف کی حکومت خود لکھ کر پنجاب اسمبلی میں یہ گواہی دے رہی ہے کہ ان منصوبوں میں کوئی کرپشن نہیں ہوئی لیکن افسوس کہ اس کے باوجود عوامی فلاح کے منصوبوں کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے اور یہ نقصان عوام کا ہے نہ کہ شہباز شریف یا کسی دوسرے کا۔

پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹیٹیوٹ (PKLI) جو پہلے سابق چیف جسٹس کے ذاتی عناد کا شکار بنا اور اُن کے جانے کے بعد سپریم کورٹ کی طرف سے پرانی پوزیشن پر بحال ہوا، اب پنجاب حکومت کے زیرِ عتاب ہے۔ الزام لگایا جاتا ہے کہ ڈاکٹروں کا ایسے مافیا جو پاکستان میں جگر اور گردوں کے ٹرانسپلانٹ اور علاج کے لیے بنائے جانے والے اس سنٹر آف ایکسی لینس کو ناکام بنانا چاہتا ہے، نے پہلے سابق چیف جسٹس کے ذریعے اس ادارے کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی، اب پنجاب حکومت کے ذریعے اس پروجیکٹ کو تہس نہس کرنا چاہتا ہے۔ پنجاب اسمبلی نے گزشتہ ہفتے قانون میں ترمیم کرکے اس پروجیکٹ کو حکومت کے سپرد کر دیا ہے۔ یہ پروجیکٹ بین الاقوامی شہرت یافتہ ماہر اور انتہائی نیک سیرت ڈاکٹر سعید اختر کی سوچ کی بنیاد پر شروع کیا گیا جس کا مقصد پاکستان میں ٹرانسپلانٹ سمیت جگر اور گردوں کا علاج غریبوں اور مستحق افراد کے لیے بالکل مفت مہیا کرنا تھا۔

اس اسپتال کو ایک حکومتی لیکن مکمل خود مختار ٹرسٹ جس کے ڈاکٹر سعید سربراہ تھے، کے تحت چلایا جانا تھا۔ ٹرسٹ نے ابتدائی تین سالوں کے بعد 75فیصد اخراجات عطیات اور اپنے ریونیو سے پورے کرنا تھے اور صرف 25فیصد اخراجات حکومت سے لینا تھے۔ نہ صرف اس ادارے نے ہر غریب اور مستحق پاکستانی کے جگر اور گردوں سے متعلق امراض بشمول ٹرانسپلانٹ جو انتہائی مہنگا علاج ہے، کا فری ٹریٹمنٹ کرنا تھا بلکہ پاکستان میں 2030ء تک ہیپاٹائٹس بی اور سی کے مکمل خاتمے کا ٹارگٹ بھی رکھا ہوا تھا۔ لیکن جیسا کہ سابق چیف جسٹس کی خواہش تھی کہ ڈاکٹر سعید اختر کو نکالا جائے اور اس ادارے کی خود مختاری ختم کرتے ہوئے اسے حکومت کے ماتحت دوسرے اسپتالوں کی طرح چلایا جائے، ایسا ہی پنجاب حکومت نے کیا اور اسمبلی سے ایک قانون بھی پاس کروا دیا۔ اس پروجیکٹ کو حکومت کے سپرد کرنے کا مطلب ہے کہ PKLIکا بھی وہی حال ہو جو عام حکومتی اسپتالوں کا ہے۔

اس کا مطلب یہ ہوا کہ جس وژن کے تحت اس پروجیکٹ کو شروع کیا گیا تھا، وہ ناکام ہو جائے اور ایک طرف پرائیویٹ ڈاکٹروں کی چاندی ہو تو دوسری طرف پاکستانی سالانہ اربوں روپے خرچ کرکے جگر اور گردوں کے علاج کے لیے بھارت اور چین جاتے رہیں۔ ملک کے ساتھ ساتھ اس سے سب سے زیادہ نقصان اُن غریبوں اور مستحق مریضوں کو ہوگا جن کے پاس وسائل نہیں کہ وہ اپنا علاج کروا سکیں۔چند روز قبل پنجاب کی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد کا جیو پر اسی موضوع پر انٹرویو سنا تو افسوس ہوا کہ ڈاکٹر صاحبہ بھی اُس Impressionکے برعکس نکلیں جو اُن کے بارے میں عمومی طور پر قائم تھا۔ اُن کی بات چیت سے یہ ظاہر ہوا کہ حکومت اس پروجیکٹ کو تباہ و برباد کرنے کا تہیہ کر چکی ہے۔ ڈاکٹر صاحبہ نے ڈاکٹر سعید جسیے نیک سیرت انسان پر کچھ طعنہ زنی بھی کی لیکن بھول گئیں کہ دنیا اس شخص کی بحیثیت ڈاکٹر اور بحیثیت انسان معترف ہے۔ جہاں تک سرکاری اسپتالوں کا تعلق ہے، وہ تو ویسے ہی بُری حالت میں ہیں، یہاں تو عمومی طور پر سراہے جانے والے دل کے امراض کے لیے شہباز شریف کے دور میں بنائے گئے کارڈیالوجی انسٹی ٹیوٹس میں بھی مفت ادویات مہیا نہ کیے جانے کی شکایات مل رہی ہیں۔

کہیں PKLIکی طرح ان اداروں کو بھی تباہ کرنے کا تو منصوبہ نہیں کیونکہ یہ بھی شہباز شریف کے نام کے ساتھ جڑے ہیں۔ جب پہلے سے موجود سرکاری اسپتالوں کو حکومت نہیں چلا سکتی تو پھر PKLIجیسے ادارے کے اصل مقاصد کو حاصل کرنا اس کے لیے ناممکن ہی ہوگا کیونکہ اس کے لیے نہ تو حکومت کے پاس مالی وسائل ہیں اور نہ ہی ماہرین۔ جب ڈاکٹر سعید جیسےInternational Reputeکے مالک ماہر ڈاکٹر کے ساتھ پہلے ہمارے سابق چیف جسٹس اور اب موجودہ حکومت یہ سلوک کرے گی تو پھر بھول جائیں کہ کوئی پیسہ، شہرت اور بہترین زندگی چھوڑ کر باہر سے اس ملک میں عوام کی خدمت کے لیے آئے گا۔ ویسے بھی حکومتی اسپتال میں نہ باہر سے کوئی اچھا ڈاکٹر آتا ہے اور نہ ہی کوئی حکومتی اسپتال کو عطیہ دیتا ہے۔لاہور، راولپنڈی اور ملتان میٹرو جو عوام کی سہولت کے لیے بہت بڑے پروجیکٹس ہیں اور جن کی کامیابی کو دیکھتے ہوئے تحریک انصاف نے ایک ایسا ہی پروجیکٹ خیبر پختونخوا میں شروع کر دیا جو ختم ہونے میں ہی نہیں آ رہا، کا مستقبل بھی مجھے کوئی اچھا نظر نہیں آ رہا۔ شروع میں تحریک انصاف کی حکومت سوچتی رہی کہ ان میٹروز کو چلانا بھی ہے کہ نہیں۔ فیصلہ ہوا چلائیں گے لیکن اب ایسے چلائی جا رہی ہیں کہ ناکام ہو جائیں۔ اربوں لگا کر اورنج ٹرین کے مستقبل کا بھی کچھ پتا نہیں کہ کیا ہوگا۔