واقعی انسانیت سب سے بڑا مذہب ہے؟ عادل فیاض

نیوزی لینڈ کی مسجد میں نمازیوں کو قتل کیا گیا۔ یہ سنتے ہی ہمارے لوکل سرخ اور سفید دانشور شرق سے غرب کی جانب کوچ کر گئے۔ عالمی سطح پر اس کی مذمت ہوئی لیکن ایک فرق جو روا رکھا گیا ہے۔ وہ قاتل اور اس کے قبیل کو دہشت گرد کہنے میں ہے۔

یہی واقعہ اگر مسلم معاشرے میں ہو تو مسلمان دہشت گرد اور دہشت گردی نے مذہب کی کوکھ سے جنم لینے والے فلسفے دھڑا دھڑ مارکیٹ میں آتے ہیں۔ اب انسانیت کے علمبردار کے دیس میں یہ واقعی وقوع پذیر ہوا ہے تو وہ سماج کے سارے دانشور جو سماج کی ہر بیماری کی تشخیص کرتے نظر آتے، وہ ایسے خاموش ہیں۔ جیسے کچھ ہوا ہی نہیں یا پھر وہ موجود ہی نہیں۔

کومے کی کیفیت سے دوچار مغرب زدوں نے جب سنا کہ ایک لڑکے نے سینیٹر کو انڈے مارا تو فورا سے ان کو پھر یاد مذہب منافرت پیدا کرتا ہے اور انسانیت ہی سب سے بڑا مذہب ہے۔ دوسری طرف مغرب زہ لوگوں کو مسلمانوں کی لاکھوں قربانیاں نظروں سے اوجھل ہوجاتی ہے اور فورا مسلمان دہشت گرد اور دہشت گردی نے مذہب کی کوکھ سے جنم لیا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ مسلمان ہر جگہ مغربی ریاستی اور غیر ریاستی دہشت گردی کا شکار ہیں۔ امریکہ نے افغانستان اور عراق کو تباہ و برباد کر دیا۔ اسرائیل نے فلسطین کو اور بھارت نے کشمیر کو۔ عالمی دہشت گرد کے ردعمل میں اٹھنے والی چند لوگوں کو دہشت گرد تو کہا گیا لیکن جارحیت کرنے والوں کو امن کا داعی اعظم برقرار رکھا گیا۔

یہ مذہب ہی ہے جو انسان کے دل میں خوف خدا پیدا کر کے اس کو اصولوں پر کاربند رکھتا ہے۔ یہ مذہب ہی ہے جو ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل عام کہتا ہے۔ دوسری طرف انسانیت ہے جو افغانستان، برما، کشمیر ،فلسطین، عراق اور شام میں عالمی دہشت گردوں کی جارحیت دیکھ کر کومے میں چلی جاتی ہے اور ان کے ردعمل میں کمزور سے اٹھنے والی آواز فورا ان کو کومے سے نکال کسی چوک چوبارے میں ایک عدد پلے کارڈ اٹھائے زندہ کر دیتا ہے کہ مذہب انتہائی پسندی نامنظور۔

Comments

عادل فیاض

عادل فیاض

عادل فیاض اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد سے میڈیا سیکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سیاست، مذہب، کرکٹ، بحث و مباحثہ سے شغف رکھتے ہیں. مستقبل میں میڈیا کو اسلامائز کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.