نیوزی لینڈ میں خون - مجیب الرحمن شامی

جمعے کے روز نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کی دو مساجد میں حملوں کی خبریں آئیں تو ہر شخص دم بخود رہ گیا۔ دُنیا کے پُرامن ترین ممالک میں شمار ہونے والے خطۂ زمین پر نماز جمعہ کے لیے جمع ہونے والے فرزندانِ توحید کو خون میں نہلا دیا گیا۔درجنوں شہید اور زخمی ہو گئے،ان میں کئی پاکستانی بھی شامل تھے۔حملہ آور نے ان مناظر کو براہِ راست فیس بُک پر دکھانے کا اہتمام بھی کر رکھا تھا اور اس کے ہاتھ میں پکڑی ہوئی بندوق پر مختلف افراد اور مقامات کے نام بھی کندہ تھے، جو یورپ میں مسلمانوں اور مسیحی لشکروں کے درمیان تصادم کے حوالے سے یاد کیے جاتے ہیں۔

28سالہ حملہ آور کی بلٹ پروف جیکٹ پر اُس اطالوی کمانڈرکا نام بھی لکھا ہوا تھا،جس نے سلطنت عثمانیہ کے خلاف لڑی جانے والی ایک جنگ میں اطالوی دستے کی قیادت کرتے ہوئے کامیابی حاصل کی تھی۔بتایا گیا ہے کہ یہ پندرہویں صدی عیسوی کے بعد کسی بھی بحری جنگ میں عثمانیوں کی پہلی، لیکن فیصلہ کن شکست تھی، اور اس کے بعد وہ اپنے پورے بحری بیڑے سے محروم ہو گئے تھے۔ سوشل میڈیا کی اطلاعات کے مطابق اس جنگ میں ترکوں کے80 جہاز تباہ ہوئے، اور130 اتحادی فوجوں کے قبضے میں آ گئے تھے۔ اس جنگ میں15ہزار ترک شہید، زخمی یا گرفتار کئے گئے تھے،جبکہ حریف لشکر کے8 ہزار فوجی مارے گئے تھے۔

مرکزی ملزم کے ساتھیوں کے اسلحے پر بھی ایسی عبارتیں اور نام تحریر ہیں، جو مسلمانوں اور مسیحی دُنیا کے درمیان تصادم کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ان سے یہ تو معلوم ہو جاتا ہے کہ یہ کسی ذہنی مریض کا کوئی ہنگامی اقدام نہیں،بلکہ کسی منظم خفیہ گروپ کا کیا دھرا ہے۔ حملہ آور تربیت یافتہ کارندے ہیں، اور ان کی جڑیں دور تک پھیلی ہوئی ہیں۔

نیوزی لینڈ کی پولیس نے چاروں حملہ آوروں کو گرفتار کر لیا ہے۔تحقیقات کے بعدہی قطعیت کے ساتھ کہا جا سکے گا کہ یہ معاشرے کو کس حد تک آلودہ کر چکے ہیں۔نیوزی لینڈ کی وزیراعظم نے انتہائی دُکھ بھرے لہجے میں اظہارِ افسوس کیا،اور اسے اپنی تاریخ کا سیاہ ترین دن قرار دیا۔اس سانحے کے ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچانا نیوزی لینڈ کے اپنے استحکام کے لیے ضروری ہے، کہ دہشت گردی کا نشانہ اِس وقت تک مسلمان ممالک اور معاشرے ہیں، جو بھی نام نہاد گروپ سرگرم عمل ہیں، ان کی بھاری تعداد مسلمان ممالک کو عدم استحکام کا شکار کیے ہوئے ہے۔

نائن الیون کے بعد امریکہ میں تو اس طرح کا کوئی اور واقعہ پیش نہیں آیا، لیکن عالم اسلام میں خون کے دریا بہہ چکے ہیں۔ یورپی ممالک میں اِکا دُکا کوئی نہ کوئی واردات ہوتی ہے، اور ہنگامہ کھڑا ہو جاتا ہے،کہیں نہ کہیں حملہ آور کی مسلمان کے طور پر شناخت بھی ہو جاتی ہے،لیکن عالم اسلام میں جو تباہی مچی یا مچائی گئی ہے، اس کی مثال تلاش نہیں کی جا سکتی۔ افغانستان،عراق اور شام میں لاکھوں افراد ہلاک یا زخمی یا دربدر ہو چکے ہیں۔

شام تو شاید پورے کا پورا ایک کھنڈر بن چکا ہے، اور اس کے لاکھوں شہری پناہ ڈھونڈتے پھر رہے ہیں۔نائن الیون کے بعد دہشت گردی کا رخ بڑی کامیابی سے مسلمان معاشروں کی طرف موڑ دیا گیا۔ اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے نام پر جنم لینے والے مسلح گروپوں نے اپنے ہی ہم وطنوں اور ہم عقیدہ افراد کی زندگی اجیرن بنا دی۔ ظاہر ہے کہ یہ محض اتفاق نہیں۔

امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے دن دیہاڑے لشکر کشی کی،اور کشتوں کے پشتے لگا رکھے ہیں۔ انہوں نے مستحکم مسلمان ممالک کا شیرازہ جس طرح منتشر کیا ہے، اور مختلف گروہوں کو جس طرح ایک دوسرے کے سامنے کھڑا کیا ہے، وہ ان کی بہت بڑی کامیابی تو ہے،لیکن اِس جنگ کو جغرافیائی حدود میں قید کرنا ممکن نہیں رہا۔ اس وقت دُنیا میں کوئی بھی ایسا ملک موجود نہیں ،جس میں سو فیصد آبادی کسی ایک نسل یا مذہب سے تعلق رکھتی ہو۔ دُنیا فی الواقع ایک گلوبل ویلج بن چکی ہے، مغربی معاشروں میں بھی مسلمانوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔

نیوزی لینڈ کا واقعہ یہ خبر دے رہا ہے کہ جس طرح مسلمان ممالک کو دہشت گردی نے اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے، اسی طرح کی صورتِ حال مغربی معاشروں میں بھی پیدا ہو سکتی ہے۔وہاں بھی مذہب کے نام پر جتھے منظم ہو رہے ہیں۔اس سے قطع نظر کہ حملہ آور کون ہے، اور نشانہ کون بن رہا ہے؟دیکھنے اور سوچنے کی بات یہ ہے کہ قانون شکن گروہوں کے جرثومے افزائش پا رہے ہیں۔

عالم اسلام میں دہشت گردی کو فروغ دینے والوں کو حالات پر نئے سرے سے غور کرنا ہو گا۔مسلمان معاشرے تو دہشت گردی کے بم کا صدمہ برداشت کر گئے ہیں،اور انہوں نے کسی نہ کسی حد تک اپنے آپ کو سنبھال لیا ہے یا یہ کہیے کہ سنبھالنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن مغربی معاشروں کے لیے یہ چیلنج کہیں زیادہ تباہی لے کر آئے گا۔

ان کا طرزِ زندگی اس کا متحمل نہیں ہو سکتا،اس لیے یہ ان کے اپنے مفاد میں ہے کہ اپنے اس جن کو اپنی بوتل ہی میں بند کر لیں۔ دُنیا بھر میں پھیلے ہوئے مسلمانوں کو بھی انسان سمجھیں، فلسطین سے کشمیر تک بلند ہونے والی چیخوں کا نوٹس لیں، مذہب کے نام پر دُنیا کو تقسیم کرنے والوں کو ناکام بنانے کے لیے ضروری ہے کہ انسان کو انسان سمجھ کر اس سے انسانی سلوک کیا جائے۔ ہر ملک اور ہر خطے کے انسانوں کو ایک دوسرے سے کندھا ملانا ہو گا، اور ہاتھ بھی۔

اس خبر نے پورے پاکستان کو اُداس کر دیا کہ بریگیڈیئر اسد منیر نے مبینہ طور پر نیب کے ہاتھوں دِل گرفتہ ہو کر اپنے آپ کو ہلاک کر ڈالا ہے۔بریگیڈیئر صاحب ایک سنجیدہ دفاعی تجزیہ کار کے طور پر جانے جاتے تھے،اور نیب سمیت کئی فوجی اور سول اداروں میں اہم عہدوں پر فائزرہ چکے تھے۔ برسوں پہلے ریٹائرمنٹ کے بعد انہیں سی ڈی اے(ادارہ ترقیات دارالحکومت) میں ایک اعلیٰ عہدے پر فائز کیا گیا تھا۔

ان دِنوں انہوں نے ایک شخص کا منسوخ شدہ پلاٹ بحال کرنے کی سفارش کی تھی۔اس سفارش کو ’’کرپشن‘‘ کا نام دے کر نیب ان کے در پے تھا اور گزشتہ کئی سال سے ان کی زندگی عذاب میں تھی۔ ان کا نام بھی ای سی ایل پر ڈالا گیا، اور اب ان کے خلاف ریفرنس دائر کیا جا رہا تھا۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے نام لکھے جانے والے ایک خط میں انہوں نے اس زیادتی کی تفصیل لکھی ہے۔

بریگیڈیئر صاحب (خود اپنے بقول) آئندہ چند روز میں ہونے والی رسوائی کے خوف میں یوں مبتلا ہوئے کہ انہوں نے دُنیا ہی سے کنارہ کر لیا۔ چیف جسٹس سپریم کورٹ اس معاملے کا کس طرح نوٹس لیتے ہیں،اور کس طرح کی تحقیقات کا حکم جاری کرتے ہیں، اس کے لیے تو انتظار کرنا پڑے گا،لیکن یہ بہرحال واضح ہے کہ نیب کے قانون اور اس کے دائرہ کار میں تبدیلی کی اشد ضرورت ہے۔ہر انتظامی فیصلے میں سے کرپشن برآمد کرنے کی روش نے اِس وقت سرکاری دفاتر کے نظم و نسق میں خلل ڈال رکھا ہے، سرکاری افسر فیصلہ کرتے ہوئے ڈرتے ہیں،اور ہر کام میں ’’نیب‘‘ کی مداخلت کا خوف اُنہیں کچھ کرنے نہیں دے رہا۔

کرپشن کی جو سیاست ہمارے ملک میں گزشتہ کئی برسوں سے جاری ہے،اب وقت آ گیا ہے کہ اس کے راستے میں قانون کی رکاوٹیں کھڑی کی جائیں۔ سیاست دانوں سے شروع ہو کر معاملہ صنعت کاروں اور افسروں تک پہنچا دیا گیا ہے، اس کے منفی اثرات ملکی ترقی کا خواب دیکھنے والوں کو پریشان کرتے جا رہے ہیں۔ بریگیڈیئر اسد منیر کی ہلاکت اگر ہمارے نظام عدل ہی کو جھنجھوڑنے میں کامیاب ہو جائے تو ان کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔