کیا اب گوروں پر بھی شک کیا جائے گا؟ یاسر پیر زادہ

ہم پاکستانی مسلمان جب بھی کسی مغربی ملک کی سیر کا پروگرام بناتے ہیں تو دل میں تین دعائیں مانگتے ہیں، یااللہ ویزا لگ جائے، ہوائی اڈے پر امیگریشن والے تنگ نہ کریں اور ہم خیر خیریت سے واپس آجائیں۔ یورپ، امریکہ، کینیڈا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ وغیرہ ایسی جگہوں پر جانے سے پہلے ہمیں یہ ثابت کرنا پڑتا ہے کہ ہم دہشت گرد نہیں ہیں اور ہمارا ان کے ملک میں رہائش اختیار کرنے کا کوئی ارادہ نہیں۔ ان ممالک کے ویزا فارم پُر کرنا کسی عذاب سے کم نہیں ہوتا، آپ کہاں جانا چاہتے ہیں، کیوں جانا چاہتے ہیں، کہاں رہیں گے، کیا کھائیں گے، خرچہ کون اٹھائے گا، بیوی بچے کیا کرتے ہیں، والدین کہاں پیدا ہوئے، بھائی بہن کیا کرتے ہیں، آگے سے ان کے بچے کیا کرتے ہیں، ساس سسر کہاں رہتے ہیں، کاروبار کی تفصیل، بنک اسٹیٹمنٹ، ٹیکس گوشوارے اور نہ جانے کون کون سے کاغذوں پر دستخط کروا کے ویزے کی درخواست جمع کرتے ہیں اور پھر ہر قسم کی دہشت گردی کی فہرست کھنگالنے کے بعد روپیٹ کر ویزا لگاتے ہیں اور اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ بغیر کسی وجہ کے ویزا درخواست مسترد کر دیتے ہیں جس سے محض یہ ثابت کرنا مقصود ہوتا ہے کہ ہم جو چاہیں کر سکتے ہیں، تم لوگ اپنی اوقات میں رہا کرو۔

ویزے کا دریا پار کرنے کے بعد اگلا مرحلہ امیگریشن کا ہوتا ہے جہاں ایک مرتبہ پھر ہمیں غور سے دیکھا جاتا ہے مگر عموماً دو چار سوال کرکے جانے دیا جاتا ہے بشرطیکہ کوئی بندہ اپنی کسی حماقت کی وجہ سے انہیں اشتعال نہ دلا دے، مگر یہ مغربی ممالک اپنے پیٹی بند بھائیوں کے لیے بہت مہربان ہیں، آپس میں ان ملکوں نے معاہدے کر رکھے ہیں جن کی رو سے یہ باآسانی ایک دوسر ے کے ملک میں بغیر ویز ے کے آجا سکتے ہیں اور اگر ویزا لینا پڑ بھی جائے تو طریقہ کار اس طرح سے کٹھن نہیں ہوتا جو ہم غریبوں کے لیے ہے، اکثر ممالک میں یہ سہولت ہوائی اڈے پر ہی فراہم کر دی جاتی ہے۔ اس متعصبانہ سوچ کے پیچھے دو بنیادی وجوہات ہیں، ایک تو ان تمام ممالک کے سسٹم ہم سے بہتر ہیں، یہ ملک ثقافتی اور مذہبی طور پر ایک دوسرے سے جڑے ہیں، ان کی تاریخ اور تہذیب ایک ہے، سو اگر کوئی شخص ناروے سے سویڈن جانا چاہتا ہے یا آسٹریلیا سے اٹھ کر نیوزی لینڈ میں بسنا چاہتا ہے یا جرمنی سے اڑ کر امریکہ کی سیر کے لیے آنا چاہتا ہے تو سو بسم اللہ، اسے کوئی مسئلہ نہیں کیونکہ ان کے خیال میں کسی مغربی ملک کے سفید فام کرسچن شہری کا دوسرے مغربی ملک میں جا کر دہشت گردی کرنے کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے۔ دوسری وجہ گوروں کا یہ مفروضہ ہے(جس کا وہ ببانگِ دہل اظہار نہیں کرتے) کہ دہشت گرد تو مسلمان ملک سے ان کے ملک میں داخل ہوگا نہ کہ یورپ سے افغانستان جائے گا لہٰذا اصل چھان پھٹک ہم ایسے مسلمانوں کی ہونی چاہیے نہ کہ یورپین، امریکیوں اور گوری چمڑی والوں کی۔

15مارچ 2019کو مگر یہ مفروضہ غلط ثابت ہو گیا۔ اس روز نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں ایک انتہا پسند آسٹریلوی دہشت گرد نے دو مساجد میں گھس کر اندھا دھند فائرنگ سے پچاس کے قریب نمازیوں کو شہید کر دیا، واقعے سے پہلے اس دہشت گرد نے مسلمانوں کے خلاف نفرت پر مبنی منشور فیس بک پر چڑھایا اور اس کے بعد اپنی دہشت گردی کی پوری کارروائی براہ راست فیس بک سے نشر کی۔ اتفاق سے چونکہ اس دہشت گرد کی داڑھی نہیں تھی، اس نے خود کش جیکٹ بھی نہیں پہن رکھی تھی، اس کا مذہب بھی اسلام نہیں تھا اور چمڑی کی رنگت گندمی نہیں تھی، اس لیے برطانیہ کے اخبار میل آن لائن نے اس کی بچپن کی تصویر ڈھونڈ کر لگائی جب وہ تین چار سال کا ’’بلونڈ‘‘ بچہ تھا اور اپنے باپ کی گود میں تھا، تصویر کے اوپر سرخی جمائی کہ’’یہ وہ لڑکا ہے جو بڑے پیمانے پر مسلمانوں سے نفرت کرنے والا ایسا قاتل بن چکا ہے جس نے 49افراد کا قتل کیا، اپنے باپ کی کینسر سے موت کے بعد وہ آسٹریلیا سے دنیا کے سفر پر نکل کھڑا ہوا اور شمالی کوریا اور پاکستان بھی گیا، اس سفر کے دوران ہی اسے کچھ ہوا۔‘‘ اس سرخی سے اخبار کیا تاثر دینا چاہتا ہے معلوم نہیں، مگر جس پیار سے اس قاتل کا ذکر کیا گیا ہے وہ پیار ایک گورا ہی دوسرے گورے کو دے سکتا ہے۔ قاتل سے محبت کا اظہار آسٹریلیا کے ایک حاضر سینیٹر فریسرایننگ نے بھی کیا، کوئینز لینڈ سے منتخب ہونے والے اس سینیٹر نے اپنے سرکاری بیان میں کہا کہ ویسے تو وہ اس قسم کے تشدد کے خلاف ہیں اور اس کی مذمت کرتے ہیں’’مگر آج نیوزی لینڈ کی سڑکوں پر خوں ریزی کی اصل وجہ وہ امیگریشن پلان ہے جو مسلمان جنونیوں کو نیوزی لینڈ میں ہجرت کرکے بسنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ ہم پر یہ بات واضح ہونی چاہیے کہ گو آج شاید مسلمان نشانہ بنے ہیں مگر عموماً یہ(ایسی وارداتوں کے) منصوبہ ساز ہوتے ہیں۔ دنیا بھر میں مسلمان ایک نہایت وسیع پیمانے پر لوگوں کو اپنے ایمان کے نام پر قتل کرتے ہیں۔‘‘بلاشبہ یہ ایک رونگٹے کھڑے کر دینے والا بیان ہے جو یہ ثابت کرتا ہے کہ جنونی اور پاگل صرف ہمارے ہاں ہی نہیں پائے جاتے بلکہ مغرب میں بھی دستیاب ہیں ۔

کرائسٹ چرچ حملہ پہلا ایسا بڑا واقعہ ہے جس میں ایک سفید فام کرسچن نے مسلمانوں کو سوچے سمجھے منصوبے کے تحت شہید کیا ہے، اس دہشت گرد کو ’’تنہا بھیڑیا‘‘ کہا جاسکتا ہے اور نہ ہی ذہنی معذور کہہ کر ہمدردی پیدا کی جاسکتی ہے۔ دہشت گردی کی اس واردات کے نتیجے میں مغربی ممالک کی سوچ میں شاید تبدیلی آجائے اور وہ جو اس واقعے سے پہلے سوا ارب مسلمانوں کو شک کی نگاہ سے دیکھتے تھے اب انہیں ایک دوسرے سے یہ سوال پوچھنا چاہیے کہ کیا اب ہر سفید فام کرسچن بھی مشکوک ہو جائے گا، اگر نہیں تو پھر ہر مسلمان بھی مشکوک نہیں ہونا چاہیے۔ یہ اسی تعصب کا نتیجہ تھا کہ مذکورہ دہشت گرد اپنے انتہا پسندانہ اور جنونی خیالات کے باوجود کسی قسم کی ’’ٹیرر واچ لسٹ‘‘ پر نہیں تھا جبکہ آسٹریلیا نیوزی لینڈ میں سیاحت کی غرض سے داخل ہونے والے مسلمانوں کی امیگریشن حکام نہ صرف خصوصی تلاشی لیتے ہیں بلکہ ان کے سوشل میڈیا اور ای میل کھاتوں کے پاس ورڈ لے کر بھی کھنگالتے ہیں(ایسا ہمارے ایک دوست کے ساتھ سڈنی ہوائی اڈے پر ہوا)،
نسل پرستانہ چھانٹی(Racial Profiling) شاید اسی کو کہتے ہیں اور اسی ان کہے فارمولے کے تحت ہم پاکستانی/ مسلمانوں کے ویزے کی خوردبین سے چھان پھٹک ہوتی ہے جبکہ گورا ہوائی اڈے پر صرف اپنا پاسپورٹ لہرا کر نکل جاتا ہے۔ کرائسٹ چرچ واقعہ سوشل میڈیا کے کردار پر بھی سوال اٹھا گیا ہے، جس طریقے سے دہشت گردی کی واردات کو براہ راست نشر کیا گیا اور پھر کئی گھنٹے تک فیس بک نے اس ویڈیو کو نہیں ہٹایا، یہ بات بےحد خطرناک ہے۔ مستقبل میں ٹیکنالوجی کیا روپ دھارے گی کچھ کہا نہیں جا سکتا مگر یہ بات طے ہے کہ آنے والے وقت میں دنیا مزید گنجلک اور خطرناک ہوتی چلی جائے گی، بظاہر سائنس کے کمالات نے ہماری زندگیاں سہل بنا دی ہیں مگر ٹیکنالوجی کے اندر چھپی ہوئی شیطانیت ہم ابھی تک جان نہیں پائے، کرائسٹ چرچ واقعے نے اس کی فقط ایک جھلک ہمیں دکھلائی ہے۔