ترکی میں فوجی سیاست کا خاتمہ کیسے ممکن ہوا؟ احسان آکتاش

ادوار سلطنت میں جب کوئی ملک کسی دوسرے ملک کی زمین پر قبضہ کرتا تو ان فتح کی گئی زمینوں پر رہنے والے لوگوں کے ساتھ اکثر رواداری، راست بازی اور انصاف کے ساتھ سلوک کرتے تھے۔ صرف یہی وجہ تھی کہ الیگزینڈ کی عظیم سلطنت؛ رومن سلطنت اور سلطنت عثمانیہ نے مختلف نسلوں اور مذاہبوں کی ایک بڑی تعداد پر طویل عرصے تک حکمرانی کرنے میں کامیابی حاصل کی۔

صنعتی انقلاب اور کامیاب ہو جانے والے نو آبادیاتی نظام کے ادوار نے تاریخ کا رخ ہی بدل دیا۔ پہلی عالمی جنگ کے اختتام تک، دنیا نوآبادیاتی مغربی سلطنت کی بالادستی میں گر چکی تھی۔ برطانوی حکمرانی کے ادوار میں مغربی نوآبادیات کی جانب سے ایشیاء اور افریقہ کے تقریبا تمام ممالک بشمول سلطنت عثمانیہ کی بیش بہار قیمتی زمین پر بھی قبضہ کر لیا گیا۔ بیسوی صدی کے آغاز میں نو آبادیاتی سلطنت نے ہماری زمینوں پر قبضہ کیا، ان طاقتوں کا مقصد ترکی کی دینی اور تاریخی بنیادوں سے لے کر ریاست اور روایات کو مجروح کرنا ہے۔ ترکوں اور ملتِ اسلامیہ میں ان کو بیدار ہونے اور تقویت پانے سے روکنا ہے۔ شاہی ادوار کو مٹانا اور جمہوری ماڈل کو ترقی دینا، مغربی بنیاد پرست پالیسیوں کا مقصد فرانس اور برطانیہ کے ماڈل پر ترکی میں ایک جدید قومی ریاست قائم کرنا تھا جو انہی کے مقاصد پر چلتی رہے۔

ترکی میں جمہوریت کے پہلے دور میں ہی لوگ ون-پارٹی شو کی جیکوبین پالیسیوں میں جکڑے ہوئے تھے۔ جب ایک سے زائد پارٹیوں کا نظام آیا تو جمہور پارٹی(DP) اقتدار میں آئی۔ اس وقت لوگوں نے ریاست عثمانیہ کے خاتمے پر اپنے مطالبات اور عدم اطمینان کی صورتحال کو ریاستی سطع پر اس پارٹی کے ذریعے پہنچانا شروع کیا۔ ملک کا کنٹرول کھو جانے کی پریشانی سے دوچار جمہوریت عوام پارٹی (CHP) کے سربراہ عصمت انونو نے اس وقت 1960ء کی فوجی بغاوت (عسکری مارشل لاء) کی راہ ہموار کی اور وزیراعظم عدنان مندریس کی غیرقانونی پھانسی پر عملدرآمد کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:   کیا جموں و کشمیر کامسئلہ حل ہونے جارہا ہے؟ پروفیسر جمیل چودھری

درحقیقت، دوسری عالمی جنگ کے خاتمے اور سرد جنگ کے آغاز کے ساتھ ترکی کے پاس ملٹی پارٹی الیکشن سسٹم کو اختیار کرنے کے علاوہ کوئی اور دوسرا انتخاب موجود نہ تھا۔ دوسری عالمی جنگ کے فاتحین نے شکست زدہ ممالک کے آئین کو اپنی مرضی کے ساتھ دوبارہ مرتب کرنا شروع کر دیا تھا۔ اگرچہ جنگ میں ترکی خود شامل نہیں ہوا تھا۔ 1960ء کا ترک آئین ترکی کی نیٹو میں رکنیت کے فریم ورک کو مدنظر رکھتے ہوئے بنایا کیاگیاتھا۔ واضع طور پر مغربی ایجنڈا کی بنیاد پر ایک "کٹھ پتلی جمہوریہ”کو متعارف کروایا گیا جس میں مغربی اثر رکھنے والی سول اور ملٹری بیوروکریسی نے حکمرانی کرنا تھی۔ اگلی دہائیوں میں، ترکی پر فوجی مداخلت کے ذریعے قائم ہونے والی حکومتیں قائم کی گئیں جنہیں مغربی نوآبادیاتی طاقتوں کی خفیہ مدد حاصل تھی۔

1980ء کی فوجی مداخلت کے بعد، سول اور بیوروکریٹک اشرافیہ نے”استحکام” کا نعرہ لگایا۔ تاہم، لیکن استحکام قائم کرنے کے بجائے ترقی پسندی، آزاد خیالی اور دین سے آزاد جمہوریت کو ترجیح دی۔ پھر صدر ترگوت اوزال نے اک نئے ترکی کی بنیاد رکھی اورایسا لگنے لگا جیسے فوجی اثرورسوخ کی حکومتوں کا دور کبھی آیا ہی نہ تھا۔

1997ء میں ترکی کے مرحوم وزیراعظم نجم الدین اربکان کی سیاسی و جمہوری جدوجہد پر فوجی اشرافیہ قابو پانے میں کامیاب تو گئی لیکن 2002ء کےدور میں اسی تاریخی نقطہ نظر کی حامل اور مضبوط سیاسی طاقت رجب طیب ایردوان کو روکنے میں اسے ناکامی ہوئی۔ جب 1997ء میں رفاہ پارٹی (RP) اقتدار میں آئی تو ترکی کے ایسے بےشمار مسائل کو میز پر لایا گیا جنہیں کبھی اجاگر نہیں کیا گیا تھا۔ خاص طور پر دین پسند ترک قوم کو جس جبری طریقے سے اسلام کے مطابق زندگی گزارنے سے روکا گیا اور ان پر ریاستی سہولیات کے دروازے بند کیے گئے، انہیں باقاعدہ زیر بحث لایا جانے لگا۔ صرف یہی نہیں وزیراعظم نجم الدین اربکان نے مغربی طاقتوں کے جمہوریت کے متعلق منافقانہ کردار اور نوآبادیاتی پالیسیوں کے تسلسل اور نئی شکلوں پر کھل کر تنقید کی اور ترکی میں ان جڑوں کو اکھاڑنے کا عزم کیا۔ نجم الدین اربکان نے عثمانی میراث کو بطور رہنما بناتے ہوئے ہمارے اجتماعی شعور میں ترکی کے تاریخی کردار کو پھر سے زندہ کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے اپنے مضمون ”اسلام اور سائنس” میں سائنسی لحاظ سے مغربی تہذیب پر اسلامی تہذیب کی تاریخی عظمت پر توجہ مرکوز کروائی۔ بطور ایک انجینئر، انہوں نے بڑھتی ہوئی جدت اور ٹیکنالوجی کی حوصلہ افزائی کی اور ترکی کی معیشت میں مسلسل اضافہ ہونا شروع ہو گیا۔ اس کے علاوہ، اربکان نے ترکی کو ایک علاقائی طاقت کے طور پر بین الاقوامی میدان پر دوبارہ متعارف کرانے میں کامیابی بھی حاصل کی۔

یہ بھی پڑھیں:   ترکی مسئلہ کشمیر حل کرنے میں مددگار ہوسکتا ہے - سفیر پاکستان

یہ ترقی ایک ایسے ملک کے لیے نہیں تھی جو مغربی طاقتوں کے ذریعے نیم نو آبادیاتی ملک کے طور پر بنایا گیا ہو۔ مغربی نو آبادیاتی نظام کی نئی شکلوں میں پیدا ہونے والی کٹھ پتلی حکومتوں کا خاتمہ پر ترکی نجم الدین اربکان کا شکریہ ادا کرتا ہے۔ اگرچہ نو آبادیاتی فوج، سول بیوروکریٹک اشرافیہ کے ساتھ مل کر رفاہ پارٹی کی سیاسی طاقت پر 28 فروری1997ء میں فوجی بغاوت کے ذریعے قابو پانے میں کامیاب ہوگئی، لیکن اس کے نتیجے میں 2002ء میں نجم الدین اربکان کے شاگرد رجب طیب ایردوان کی قیادت میں جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی (AKP) اسی تاریخی نقطہ نظر کی حامل اور طاقت ور ترین سیاسی اکائی بن کر سامنے آئی جس نے ترکی کا رخ موڑ کر رکھ دیا۔

تحریر: احسان آکتاش
ترجمہ: سعدیہ عزیز