سانحہ نیوزی لینڈ میں دہشت گردی کے تین مختلف ٹرینڈز - پیٹر برجن

ویسے تو نیوزی لینڈ میں ماس شوٹنگ اور دہشت گردانہ حملے انتہائی کمیاب ہیں لیکن کرائسٹ چرچ کی دو مساجد میں جمعے کو ہونے والے حملے جیسی چیزیں مغرب میں، جہاں امیگریشن کے خلاف مہم میں عموماً مسلمانوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے، اتنی چھپی ہوئی نہیں ہیں۔

نیوزی لینڈ میں ہونے والے اس ظالمانہ اقدام نے مغرب میں پائے جانے والے تین مختلف ٹرینڈز کو واضح کیا ہے: 1- مسلمانوں پر حملے، 2- سوشل میڈیا کے ذریعے دہشت گردی کی لائیو اسٹریم ویڈیو، 3- عبادت گاہوں کو تشدد آمیز نشانہ بنانا

29 جنوری 2017ء میں مسلم دشمن انتہاپسند Alexandre Bissonnette نے کینیڈا کے شہر کیوبیک کی ایک مسجد میں 6 مسلمانوں کو قتل کیا تھا۔ سی بی سی کے مطابق Bissonnette جسے عمرقید کی سزا سنائی گئی، نے تحقیقات کاروں کو بتایا کہ اس نے یہ کام ان خبروں کو دیکھ کر کیا کہ کینیڈین حکومت مزید پناہ گزینوں کو قبول کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

چھ ماہ کے بعد 19 جون 2017ء کو دائیں بازو کے انتہاپسند Darren Osborne نے شمالی لندن میں فنسبری پارک کی مسجد کے قریب اپنی وین کو مسلمانوں کے ایک گروپ پر چڑھا کر ایک شخص کو قتل کر دیا۔ استغاثہ کے مطابق Darren Osborne نے جسے عمر قید کی سزا ہوئی، یہ حملہ اس لیے کیا تھا کہ وہ مسلمانوں سے نفرت کرتا ہے۔ اس نے حملے سے کئی ہفتوں پہلے انتہا پسند گروپوں کے بارے میں معلومات تلاش کیں، انتہا پسند لیڈروں سے ای میلز کا تبادلہ بھی کیا، اور امریکی سازشی تھیوری کی معروف ویب سائٹ انفو وارز کو کئی مرتبہ وزٹ کیا۔

5 اگست 2017ء کو منی سوٹا (Minnesota) کی ایک مسجد میں بم کا دہماکہ ہوا مگر خوش قسمتی سے کوئی ہلاکت نہیں ہوئی۔ گذشتہ سال تین افراد کنساس کے گارڈن سٹی میں تین افراد بارود سے بھری چار گاڑیوں کے ذریعے ایک رہائشی بلڈنگ کو اڑانے کی کوشش میں گرفتار ہوئے، اس بلڈنگ میں نہ صرف ایک مسجد تھی بلکہ زیادہ تر صومالی پناہ گزین قیام پذیر تھے۔ امریکی پراسیکیوٹر Stephen McAllister کے مطابق ان تینوں نے نہ صرف صومالی پناہ گزینوں بلکہ تمام مسلمانوں سے شدید نفرت کا اظہار کیا اور کسی بھی انتہا تک جانے کا ارادہ ظاہر کیا۔ تینوں کو پچیس سال قید کی سزا سنائی گئی۔

یہ بھی پڑھیں:   نیوزی لینڈ کی وزیراعظم نے ٹرمپ کو لاجواب کردیا

عیر جانبدار تھنک ٹینک نیو امریکہ میں مسلم تارکین وطن کے معاملات کے ڈائریکٹر رابرٹ میکنزی کے مطابق امریکہ میں اسلاموفوبیا چاہے نفرت انگیز جُرائم کی صورت میں ہو یا منتخب افراد کے بیانات کی صورت میں، گذشتہ تین سالوں میں اس میں کئی گنا زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ انھوں نے 2012ء سے ہونے والے سارے واقعات پر اور بیانات اکھٹے کیے ہیں۔

انتہاپسندوں کے لیے سوشل میڈیا کے اجتماعات آرگنائز کرنا اور اپنے زہریلے عقائد کی تشہیر کرنا ایک اور مسئلہ ہے جس سے ٹیکنالوجی کمپنیوں کو نمٹنا ہے۔ جمعہ کے نیوزی لینڈ کے حملے سے پہلے ملزم نے اپنا منشور سوشل میڈیا کے ذریعے شیئر کیا اور اس کے بعد پورے حملے کوفیس بک پر لائیو اسٹریم کیا۔ اس کا شیئر کیا گیا منشور تارکین وطن مخالف، مسلمانوں سے نفرت اور سفید فام قوم پرست خیالات پر مشتمل تھا۔ 17 منٹ کی لائیو ویڈیو میں جو ممکنہ طور ہیلمٹ میں نصب کیے ہوئے کیمرے کے ذریعے دکھائی گئی۔ بعد میں اسے فیس بُک نے ہٹا دیا لیکن اس کے کلپس انٹرنیٹ پر بہت زیادہ شیئر کیے گئے ہیں۔

لائیو اسٹریم کا یہ استعمال کوئی نئی چیز نہیں ہے۔ جون 2016ء میں Larossi Abballa نامی دولت اسلامیہ کے ایک دہشت گرد نے فرانس میں ایک پولیس افسر اور اس کی خاتون پارٹنر قتل کرنے کے بعد فوری طور پر فیس بُک پر لائیو جا کر دولت اسلامیہ سے وفاداری کا اعلان کیا جبکہ اس جوڑے کا تین سالہ خوفزدہ بچّہ اس کے پیچھے کھڑا تھا۔

پہلے دہشت گرد اپنے حملوں کی تشہیر اور حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کی خبروں کو پھیلانے کے لیے روایتی طریق کار کے مطابق میڈیا آرگنائزیشنز کو استعمال کرتے تھے، اب یہ سب کچھ وہ سوشل میڈیا کے ذریعے خود ہی کرسکتے ہیں۔ چونکہ یہ سلسلہ اب جاری رہے گا، اس لیے سوشل میڈیا کمپنیوں فیس بُک اور یوٹیوب وغیرہ کے لیے یہ ایک بہت بڑا چیلنج ہے کہ اس قسم کے پریشان کن حادثات کی پوسٹ اور انھیں آگے شیئر کرنے سے کیسے روکا جائے؟

یہ بھی پڑھیں:   کرائسٹ چرچ کا قتل عام - انجنیئر افتخار چودھری

نیوزی لینڈ میں مساجد پر دہشت گردانہ حملہ مغرب کے اس بڑھتے ہوئے رجحان کا حصہ ہے، جس میں دہشت گرد عبادت گاہوں (جنھیں ماضی میں نہیں چھیڑاجاتا تھا) کو ٹارگٹ کر رہے ہیں۔ امریکہ میں اکتوبر 2018ء میں ٹری آف لائف سیناگوگ (یہودیوں کی عبادت گاہ) پر حملے میں 11 افراد ہلاک ہوئے۔ 2015ء میں Charleston Church کے سانحے میں سفید فام انتہا پرست Dylann Roof نے 9 سیاہ فام امریکیوں کو قتل کیا۔ 2012ء میں Wisconsin کے ایک سکھ گردوارے پر حملے میں 6 افراد مارے گئے۔ اس کے علاوہ بھی دنیا بھر میں ایسے کئی واقعات ہو چکے ہیں۔

نیوزی لینڈ کے واقعے میں ملوث حملہ آور نے اپنے منشور میں یہ کہا کہ اس نے کئی مختلف نظریات بشمول کمیونزم، انارکزم، لبرل ازم کا مطالعہ کرنے کے بعد تشدد پسند سفید فام نسل پرستی کو اپنایا۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس سے پہلے کے کئی دہشت گردوں کی طرح اسے بھی کچھ شکایات و مسائل تھے جن کی وجہ سے وہ کوئی ایسی نظریاتی بنیاد لاش کر رہا تھا جو اسے تشدد آمیز طریقے پر عمل کرنے کی اجازت دے سکے۔ جیسا بھی ہو، یہ ایک متلاطم وقت کی پیداوار ہے۔ یقینی طور پر یہ اپنی قسم کا آخری فرد نہیں ہے۔

(مضمون نگار پیٹر برجن سی این این کے سیکیورٹی تجزیہ کار، نیو امریکہ نامی تھنک ٹینک کے نائب صدر اور اریزونا یونیورسٹی کے پروفیسر ہیں۔ United state of jihad: investigating America’s home grown Terrorists نامی کتاب کے مصنف ہیں۔ اس مضمون کا ترجمہ اعظم علی نے کیا ہے۔)