"گڈ بائے مسٹر چپس" 30 برس پہلے نکلنا چاہیے تھا - ہمایوں مجاہد تارڑ

"گڈ بائے مسٹر چپس" آج نہیں، 30 برس پہلے نکال دیا جانا چاہیے تھا۔ کوئی بھی ناول ایک دو عدد تعلیمی سیشنز کے بعد نصاب میں ٹکنے نہ پائے، کہ اُس پر نوٹس بن جاتے ہیں، جنھیں رٹا لگا کر پاس کرنا کُل غرض وغایت بن جاتی ہے۔ نوجوان طلبہ کے لیے ہم عصر قلم کاروں کا نیا کام متعارف کرایا جائے۔ مسٹری اور سائنس فکشن پر مبنی مواد جس سے اُن کی imaginative ability کو جِلا ملے اور بچوں کو ریڈنگ کی چاٹ لگے۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ فرسٹ ائیر کے نصاب میں الگ، سیکنڈ ائیر کے نصاب میں الگ کوئی چھوٹی کتاب / ناول پرسکرائب کی جائے۔ پھر ہر سال اُسے بدلا جائے۔ ("مسٹر چپس" ایسی زبان میں لکھی پرانی تحاریر ایم اے انگلش یعنی اوپری سطح کے لٹریچر میں پڑے طلبہ و طالبات کے لیے رکھ چھوڑیں۔) دیکھیں، بیکن ہاؤس و دیگر اچھے ادارے ہر ٹرم میں مختلف کتاب/سٹوری بُک prescribe کیا کرتے ہیں تاکہ کاپی پیسٹ طرزِ عمل پنپنے نہ پائے۔ بچے نئی کتاب استاد کی رہنمائی میں تنقیدی انداز میں پڑھیں، اس پر explore کرنے والے انداز میں سوچیں، اور پھر کچھ نیا لکھیں۔ جبکہ پہلے سے استعمال شدہ کتابیں/ ناولز لائبریری میں دستیاب رکھی جائیں۔

دوسری بات، سیرت پر ایک مضمون تو کیا، ایک عدد پوری کتاب کو اسلامیات کے نصاب میں لازمی مواد کے بطور پرسکرائب کرنا خوب مستحسن ہوگا۔ تاہم، اِسے انگلش لینگویج کے تدریسی مواد میں ایڈجسٹ کرنا غیر مسلم طلبہ و طالبات کے حق میں ناانصافی ہے۔ امتحان میں اُن کی کامیابی کو بہ جبر ایسے مواد سے جوڑ دینا ایک ایسا نفسیاتی پریشر ہوگا جس کے تحت وہ لوگ خود نعوذ باللہ رسالت مآبؐ کو ہی ناپسندیدگی کی نظروں سے دیکھنے لگ جائیں گے۔ ذرا سوچیں، کیا پیغمبر علیہ الصلٰوۃ ولاسلام خود اس بات کی اجازت دیتے؟ اس کے بجائے عمدہ اخلاقی تربیت کا سامان کرتی تحاریر (آرٹیکلز، افسانے) تلاش کر لی جائیں تو زیادہ بہتر ہے۔ نیز، لینگویج سکِلز کے کچھ اپنے مخصوص تقاضے ہیں جنھیں پورا کرنے کو مواد کا انتخاب بہ احتیاط کیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   امکانات، ممکنات اور امتحانات - نثار موسیٰ

آخری بات، نان مسلم طلبہ و طالبات کو سیرت پر مبنی مواد جبراً پڑھائے جانے سے بہتر ہے، انہیں سیرتِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایسے حسنِ سلوک سے متاثر کیا جائے، تاکہ ردّ عمل میں وہ "چُوڑ چکار" لوگ ہمارے پیغمبرؐ کی سیرت پر لکھی کوئی کتاب خود اٹھا کر یا ہم سے مانگ کر پڑھنے پر مجبور ہو جائیں۔

اِس صورتحال کا آئیڈیل اور حتمی حل یہ ہے کہ کیمبرج اور آکسفورڈ کی طرز پر آپ سلیبس آبجیکٹوز دیں، ٹارگٹس دیں، نہ کہ کوئی لگا بندھا کتابی مواد جسے ہر ادارے کے تمام طلبہ پڑھنے اور" یاد کرنے" پر مجبور کیے جائیں۔ کیسے؟

زبان میں دسترس کا امتحان عام طور پر دو سکِلز یعنی زبان فہمی (reading through comprehension passages) اور زبان دانی (writing skill through composition) پر لیا جاتا ہے۔ اگرچہ کیمبرج بورڈ اور آکسفورڈ بورڈ کے امتحانات کے دوسرے ورژنز versions باقی کی دو سکِلز بھی شامل کیے ہوئے ہیں ـــــ یعنی سپیکنگ اور لِسننگ سکِلز کے پیپرز بھی رکھے گئے ہیں۔

اب ہوتا کیا ہے، اگرچہ کیمبرج بورڈ یا آکسفورڈ کتابیں تجویز تو کرتے ہیں، تاہم پابندی کوئی نہیں۔ آپ جس پبلیکیشن یا رائٹر کی جو کتاب بھی پڑھنا پڑھانا چاہیں، امتحان صرف سکِل مانگتا ہے، اور پیپرز میں طلبہ کو اَن سِین مواد سے واسطہ ہوگا۔

انگریزی میں لکھی سیرت کی کتاب بمعہ دیگر دو چار کتب کے آپ تجویز کر دیں، تاہم کلاس رُوم میں نیوٹرل طرز کا مواد ڈِسکس کیا جائے خواہ وہ ڈان ایسے کسی اخبار سے لیا کوئی آرٹیکل ہو۔ جبکہ سیرت کی کتاب پڑھنا مسلم اور نان مسلم طلبہ دونوں کی رینج میں بطور آپشن موجود رہے۔ امتحان سکِل کا لیا جائے، اور اس مقصد کے لیے رٹے رٹائے مواد پر تیار ہو کر آنے، اُسے اُگلنے یعنی regurgitate کرنے کی کہنہ سال، گلی سڑی رُوٹین ہی ختم کر دی جائے۔ تب آپ دیکھیے گا، طلبہ کیسا زور لگاتے، اور اصل والی قابلیت سے لیس ہوتے ہیں۔ 🙂

یہ بھی پڑھیں:   امکانات، ممکنات اور امتحانات - نثار موسیٰ

کیمبرج کی طرز پر پہلے پیپر میں طلبہ دو عدد مضامین لکھیں گے۔ پہلا مضمون گھنٹہ بھر دورانیہ کا جس کے لیے انہیں سات سے آٹھ اَن سِین ٹاپِکس دیے جائیں گے۔ جبکہ دوسرا مضمون نصف گھنٹہ دورانیہ کا ہوگا۔ دوسرے پیپر میں چار عدد اَن سِین اقتباسات passages ہوں گے جن میں سے تین attempt کرنا ہوں گے۔ اِن اقتباسات پر اٹھائے سوالات زبان و محاورہ، تحریری خوبیاں یعنی [english] language tools کی برت اور content پر دانشورانہ نوعیت کے ہوں گے۔

بچے سال بھر اِن لیگویج ٹولز سے لڑ بھڑ کر انہیں ماسٹر کرتے گذاریں گے۔ نیز، کتاب اندر سے مواد بھی خوب دل وجان سے پڑھیں گے تا کہ فکری گہرائی پیدا ہو۔

Comments

ہمایوں مجاہد تارڑ

ہمایوں مجاہد تارڑ

ہمایوں مجاہد تارڑ شعبہ تدریس سے وابستہ ہیں۔ اولیول سسٹم آف ایجوکیشن میں انگریزی مضمون کے استاد ہیں۔ بیکن ہاؤس، سٹی سکول ایسے متعدّد پرائیویٹ اداروں سے منسلک رہ چکے۔ ان دنوں پاک ترک انٹرنیشنل سکول، اسلام آباد کے کیمبرج سیکشن میں تدریسی فرائض انجام دے رہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.