میرا جسم، میری مرضی - ڈاکٹر رضوان اسد خان

ٹمبر مارکیٹ میں اسلم کی ترپال کی دکان تھی۔ مہینے میں کوئی دو چار گاہک آ جاتے تو گھر کا چولھا جلتا رہتا۔ ورنہ کبھی کبھی فاقوں کی نوبت بھی آ جاتی۔ ایک ہی بیٹا تھا، اکرم، جو 7 سال کا ہو چکا تھا۔ اکرم کی پیدائش کے وقت اس کی ماں سکینہ کی بچہ دانی کسی پیچیدگی کی وجہ سے نکالنی پڑی تھی۔ اسی وجہ سے اب وہ ہمیشہ کے کیے ان کا اکلوتا بیٹا اور آنکھ کا تارا تھا۔

پھر کرنا خدا کا کہ 2005ء میں شدید زلزلے کی وجہ سے ترپال اور خیموں کی مانگ میں بے تحاشہ اضافہ ہو گیا۔ اسلم میں کاروباری سوجھ بوجھ تو کافی تھی۔ زلزلے کے دوسرے ہی دن اسے کسی ذریعے سے پتہ چل گیا کہ صرف اسلام آباد کا مارگلہ ٹاور ہی نہیں بلکہ پورا شمالی پاکستان ملبے کا ڈھیر بن گیا ہے۔ اس نے فوراً آبائی گھر گروی رکھوا کر قرضہ لیا اور مارکیٹ سے سارے خیمے اٹھوا لیے جو بعد میں دس گنا قیمت پر بکے۔ یوں چند ہی دنوں میں اسلم، "اسلم قینچے" سے چوہدری اسلم بن کر ڈیفنس کی ایک عالی شان کوٹھی میں شفٹ ہو گیا۔

وقت پر لگا کر اڑتا رہا۔ اکرم سکول سے کالج کی منازل طے کرتا یونیورسٹی پہنچ گیا۔ پی ایچ ڈی کے دوران اپنی ایک کلاس فیلو سے محبت ہو گئی تو ماں باپ سے ضد کر کے انہیں "پری وش" کا رشتہ لینے بھیج دیا۔ پری وش کے ابا متوسط آمدنی والے ایک سینئر کلرک تھے، اور سرکاری کلرکوں کے عمومی مزاج کے مطابق ہی انتہائی شاطر۔ انہوں نے جب اتنے امیر گھرانے کا رشتہ دیکھا تو ہاں کرنے میں ایک لمحے کی بھی تاخیر نہ کی، اور یوں چند ہی دنوں میں دھوم دھام سے شادی ہو گئی اور پری وش، مسز اکرم چوہدری بن کر پیا گھر سدھار گئی۔

پری جس پرائیویٹ یونیورسٹی میں جاب کرتی تھی، وہاں اس کی دوستی کچھ ماڈرن قسم کی خواتین سے ہو گئی۔ یہ عورتیں محض بوریت دور کرنے کی غرض سے ملازمت کر رہی تھیں، ورنہ سب کے شوہر کروڑپتی لوگ تھے۔ ان لوگوں نے مل کر ایک این جی او بنا رکھی تھی جسے امریکہ سے فنڈز ملتے تھے۔ ان کا کام عورتوں کے حقوق کی حفاظت کے نام پر فیمنسٹ خیالات کو معاشرے میں عام کرنا تھا۔ پری کو ان کے جدید اقوال و افعال نے بہت متاثر کیا اور اسے پہلی بار اپنی طاقت کا اندازہ ہوا۔

ایک دن اس نے اس طاقت کو آزمانے کا فیصلہ کیا۔ یونیورسٹی میں ایک داڑھی والا ٹیچر تھا جو اکثر طلبہ کو مختلف بہانوں سے جدید تہذیب کے خطرات سے بڑی حکمت سے آگاہ کرتا۔ پری کو یہ "مولوی" ایک آنکھ نہیں بھاتا تھا۔ ایک بار اس نے سنا کہ وہ طلبہ کو اپنی مثال دے کر بتا رہا ہے کہ میری دو بیویاں ہیں اور دونوں آپس میں بہنوں کی طرح رہتی ہیں۔ کبھی کسی نے اپنی حق تلفی کا شکوہ نہیں کیا۔ لہٰذا یہ فیمنسٹ پراپیگنڈہ محض بے بنیاد ہے کہ تعدد ازواج عورت پر ظلم ہے۔ یہ سن کر اس کے تن بدن میں آگ لگ گئی۔ اس نے اس لیکچرر کو اپنے دفتر میں طلب کیا اور چھوٹتے ہی پوچھا کہ،
"مولوی صاحب، کیا آپ کی بیگمات کو بھی آپ کی طرح دوسری شادی کا حق ہے؟"

احمد صاحب نے بڑی مشکل سے غصے کو ضبط کیا اور کمال حکمت سے صورتحال کو بھانپتے ہوئے کسی جوابی دلیل کی بجائے بس اتنا کہا کہ،
"میری ذاتی زندگی میں دخل اندازی کا آپ کو کوئی اختیار نہیں۔"
پری کو قطعاً امید نہیں تھی کہ لبرل فلسفے کا اپنا ہی وار اسی کے خلاف استعمال ہو سکتا ہے اور وہ بھی شستہ انگریزی میں.

اس نے آؤ دیکھا نہ تاؤ اور چلانا شروع کر دیا۔ احمد صاحب بوکھلا گئے۔ جیسے ہی لوگ اکٹھے ہوئے، اس نے احمد صاحب پر "ہراسمنٹ" کا الزام لگا دیا۔ انتظامیہ پہلے ہی ان کے اسلامی حلیے اور نظریات سے تنگ تھی، لہٰذا انھیں برخواست کرنے میں کوئی خاص دقت نہ ہوئی۔ ثبوت وغیرہ کے چکر میں اب کون پڑے؟ جب ایک خاتون نے الزام لگا دیا ہے تو "کچھ تو کیا ہی ہو گا"۔

کچھ ہی دنوں بعد اس این جی او نے کچھ ماڈرن گھرانوں کی طالبات کو ساتھ ملا کر یونیورسٹی میں تحریک چلائی کہ حیض کو چھپانے اور اس میں شرم محسوس کرنے کی معاشرتی روایت دراصل عورت کے ایک "بائیولوجیکل فنکشن" کو بنیاد بنا کر اس کو مرد سے کمتر ثابت کرنا ہے۔ اور یہ چیز معاشرے کے مولوی کی عورت دشمنی (مِزو گائنی) اور مرد کی استحصالی فطرت (پیٹری آرکی) کی علامت ہے، لہٰذا "فیمنسٹ موومنٹ آف پاکستان" عورت کو تفریق پر مبنی اس معاشرتی رویے سے آزادی دلانے کے لیے ان کے حقوق کی آواز اٹھائے گی۔ ساتھ ہی علامتی طور پر خون آلود پیڈز یونیورسٹی کی دیوار پر چسپاں کر دیے گئے کہ آج کے بعد اس کو چھپانے کی کوئی ضرورت نہیں۔

ابھی پری وش اس تحریک کے سحر میں ہی گرفتار تھی کہ ایک روز بیگم سکینہ کے بھائی اپنی فیملی کے ساتھ ان کے گھر آ گئے۔ پری کو اس بے وقت آمد پر پہلے ہی کافی غصہ تھا جسے پھر ساس کے بلانے اور مہمان نوازی کی خواہش نے دو آتشہ کر دیا۔ پہلے تو اس نے سوچا کہ صاف انکار کر دے کہ یہ میری ذمہ داری نہیں۔ لیکن پھر کچھ سوچ کر جس حلیے میں سو کر اٹھی تھی، اسی حلیے میں ڈرائنگ روم میں چل دی۔ اور جاتے ہی بولی، "اوہ سوری! دراصل مجھے پیریڈز ہو رہے ہیں جس کی وجہ سے بلیڈنگ کے ساتھ پین بھی ہے، اس لیے میں جلدی نہیں آ سکی." ساتھ ہی ملازم کو آواز دے کر بولی، "شرفو، جاؤ جا کر میرے لیے آلویز کا ایک پیک لے آؤ۔"

یہ سن کر سکینہ بیگم تو ہکا بکا رہ گئیں اور مہمانوں کا منہ بھی کھلے کا کھلا رہ گیا۔ ادھر سخت سردی کے باوجود شرفو کے ماتھے پر پسینہ صاف نظر آ رہا تھا۔ پری یہ صورت حال دیکھ کر اندر ہی اندر خوب محظوظ ہوئی۔ ساتھ ہی مصنوعی حیرت کا اظہار کرتے ہوئے بولی: "ارے، لگتا ہے آپ نے ہماری یونیورسٹی کے بارے میں خبریں نہیں پڑھیں۔ میڈیا پر تو دھوم مچی پڑی ہے کہ اب ہم ان فرسودہ روایات کو ٹھوکر مار کر رہیں گے۔ یہ تو ایک نیچرل پراسیس ہے۔ کبھی واش روم جاتے ہوئے بھی کوئی شرماتا ہے یا چھپاتا ہے، جو اس چیز کو چھپایا جائے؟"

سکینہ بیگم اس وقت تو اپنا سا منہ لے کر رہ گئیں لیکن دل ہی دل میں ایک منصوبے کے تانے بانے بننے لگیں۔ کچھ روز بعد پری ڈائننگ روم میں ایک ڈنر سیٹ نکال رہی تھی کہ سکینہ بیگم آ گئیں اور بولیں، "بیٹا دھیان سے. بہت مہنگا سیٹ ہے۔" پری کو غصہ آ گیا. بولی، "مہنگا ہے تو کیا ہوا۔ میرے شوہر کا ہی ہے۔ آپ ٹینشن نہ لیں۔"

سکینہ بیگم صوفے پر اطمینان سے بیٹھ کر پورے سکون سے بولیں، "بیٹا، ناراض نہ ہو۔ وہ میں نے تم�یں بتانا تھا کہ تم سے متاثر ہو کر میں نے بھی کچھ فیمنسٹ خواتین کا گروپ جوائن کر لیا ہے۔" پری کو یکدم حیرت کا جھٹکا لگا. فوراً سنبھل کر بولی، "واؤ مام! یہ تو آپ نے بہت اچھا کیا۔"

"ہاں بیٹا! واقعی، اور انہوں نے تو میری زندگی ہی بدل دی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ چوہدری صاحب کی وفات کے بعد قرآن کے مطابق مجھے ان کی جائیداد میں سے صرف چھٹا حصہ ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ مرحوم کی بیوی کے ساتھ بڑی زیادتی ہے کہ سارا کچھ اولاد لے جائے اور وہ بھی مردانہ اولاد، جو پہلے ہی جونک کی طرح باپ کو چمڑی ہوتی ہے۔ ہونہہ.. اور چھوٹا سا حصہ بیوہ کو ملتا ہے جس نے ساری عمر شوہر کی خدمت کی ہوتی ہے، لہٰذا میں نے ان عقل مند خواتین کے کہنے پر چوہدری صاحب سے ساری جائیداد اپنے نام کروا لی ہے۔" اور پری کے چہرے کا رنگ فق ہوتے دیکھ کر دل ہی دل میں مسکراتے پر اوپر سے لہجے کو کرخت کرتے ہوئے بات جاری رکھی، "لہٰذا ان برتنوں کو دھیان سے واپس رکھ دو، یہ تمھارے شوہر کی جاگیر نہیں، میری ملکیت ہیں۔ کیا سمجھیں؟"

اگلے روز اکرم گھر آیا تو سکینہ بی بی نے اس سے پری کے رویے کی شکایت کی۔ اکرم نے جا کر پری کو ڈانٹا تو دونوں میں گرما گرمی ہو گئی۔ بات بڑھی تو پری نے اکرم کو "شاونسٹ پِگ" (عورت کا استحصال کرنے والا سور) کہہ دیا۔ اس پر اکرم نے اسے مارنے کے لیے ہاتھ اٹھایا لیکن پھر کچھ سوچ کر اپنے آپ کو روک لیا۔ اس پر وہ مزید دلیر ہو کر بولی، "ہاں ہاں، مارو مارو، تمھیں تو قرآن نے بھی اجازت دے رکھی ہے کہ بیوی کو مار کر اپنی مردانگی کا اظہار کرو۔"

پھر ایک لمحے کے توقف کے بعد بولی، "کان کھول کر سن لو مسٹر اکرم! اب تم میرے قریب نہیں آؤ گے۔ یہ میرا جسم ہے اور اس پر میری مرضی چلے گی کہ تمھیں چھونے کی اجازت دوں یا نہ دوں۔"

اس پر بجائے اس کے کہ اکرم کو مزید غصہ آتا، الٹا اس کا قہقہہ نکل گیا۔ وہ بولا، "ٹھیک ہے۔ اگر تم قرآن کو بیچ میں لے ہی آئی ہو تو تمہیں یہ بھی پتہ ہوگا کہ اس نے مجھے دوسری شادی کی بھی اجازت دے رکھی ہے۔ تم سنبھال کر رکھو اپنا جسم۔ میں کل ہی دوسری بیوی لا رہا ہوں۔"

یہ سن کر پری کے چہرے پر بھی ایک طنزیہ مسکراہٹ پھیل گئی اور بولی، "مسٹر اکرم! شاید تم بھول رہے ہو کہ قانون کے مطابق دوسری شادی کے لیے تم میری مرضی کے محتاج ہو۔ ہم نے بڑی محنت سے یہ قانونی حق حاصل کیا ہے تاکہ تم مرد لوگ ہمیں اس طرح سے بلیک میل نہ کر سکو۔ دوسری شادی کے بعد ہنی مون جیل میں منانا۔"

اکرم نے بھی آج ہار نہ ماننے کا فیصلہ کیا ہوا تھا۔ فوراً بولا، ''ٹھیک ہے، میں تمہیں طلاق دے دوں گا۔" لیکن اب کی بار بھی اس دھمکی کے جواب میں رونے کے بجائے اسے ایک مکروہ ہنسی کی آواز سنائی دی۔ اس نے حیرت سے پری وش کو دیکھا تو وہ طنز اور حقارت سے بھرپور لہجے میں بول رہی تھی،
"چوہدری اکرم صاحب! میرے والد نے آپ سے حق مہر میں پچاس لاکھ روپیہ ایسے ہی نہیں لکھوایا تھا۔ وہ آج جیسے ہی کسی دن کے لیے میری انشورنس تھی۔ اور یہ سوچ لو کہ طلاق کی صورت میں تم جیسا باپ کی کمائی پر عیش کرنے والا کنگلا اتنی رقم کیسے ادا کرے گا۔" چوہدری کا لفظ اس نے خاص زور دے کر ادا کیا تھا۔

اس پر اکرم کے ضبط کے سارے بندھن ٹوٹ گئے۔ اس نے آؤ دیکھا نہ تاؤ؛ پری کی جانب لپکا اور بستر پر گرا کر اس کے کپڑے پھاڑ ڈالے اور اس کی چیخ و پکار کی پرواہ کیے بغیر زبردستی اپنا حق حاصل کر لیا۔ اس کے بعد پری چلاتی رہی کہ میں تم جیسے دردندے پر ریپ کا کیس کروں گی، پر اکرم ہنستا ہوا دوسرے کمرے میں جا کر سو گیا۔

اگلے روز پری وش واقعی تھانے پہنچ گئی اور اپنے شوہر کے خلاف ریپ کی ایف آئی آر درج کرانے کی ضد کی۔ اس پر ایس ایچ او اور سارا عملہ، جو پہلے اس کی بہت آؤ بھگت کر رہے تھے، بےاختیار ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو گئے۔ پری جیسی نخوت زدہ خاتون سے یہ تذلیل کہاں برداشت ہوتی؟ وہ لگی انھیں وکیلوں اور آئی جی اور میڈیا کی دھمکیاں دینے، ایس ایچ او پڑھا لکھا سمجھدار بندہ تھا۔ بالآخر بولا، "جاؤ بی بی! اپنا کام کرو۔ اگر ہماری بیویاں بھی ہم پر پابندیاں لگا دیں۔ اوپر سے دوسری شادی کے لیے اجازت کا اختیار بھی انھی کے پاس ہو تو ہم تو شکر ہی کرتے ہیں کہ پاکستان میں شوہر کے خلاف ریپ کا کوئی قانون نہیں۔ ورنہ یہاں بھی امریکہ کی طرح اول تو کوئی مرد شادی ہی نہ کرتا۔ اور کرتا بھی تو اپنی ضرورت کے لیے گھر سے باہر ہی منہ کالا کرتا۔ جاؤ بھاگ جاؤ اور میرا سر نہ کھاؤ۔ مجھے تو الٹا تمھارے شوہر سے ہمدردی ہونے لگی ہے۔"

یہ سن کر وہ پیر پٹختی تھانے سے نکل آئی۔ جب اور کچھ نہ سوجھا تو اپنے والد کو فون کیا کہ مجھے لے جائیں۔ میں اب ایک پل بھی اس ظالم مرد کے ساتھ نہیں رہ سکتی۔ کچھ ہی دیر بعد اس کے ماں باپ اپنے بیٹے کے ساتھ اس کے گھر پہنچ گئے۔ ابھی سکینہ بیگم سے سلام دعا ہی ہو رہی تھی کہ پری وش روتی شکل لیے ڈرائنگ روم میں داخل ہوئی۔ اس سے قبل کہ کوئی کچھ کہتا سکینہ بیگم فوراً بولیں، "وہ دراصل آج کل اس کے پیریڈز چل رہے ہیں، اسی لیے کچھ بے چین سی لگتی ہے۔" ساتھ ہی شرفو کو آواز دے کر بولیں، "ارے شرفو، تم پری بی بی کے لیے آلویز کا پیکٹ لائے یا نہیں؟ جلدی کرو، ان کے کپڑے خراب ہو رہے ہیں. اور ہاں جیسا انہوں نے کہا تھا ویسے ہی بغیر خاکی لفافے کے عام شاپر میں لانا۔"

یہ سن کر پری کے گھر والے تو سکتے میں آ گئے۔ اس کے بھائی کی تو یہ حالت تھی کہ کاٹو تو بدن میں لہو نہیں۔ سکینہ بی بی ان کے چہروں کو دیکھ کر معنی خیز انداز میں بولیں، "آپ لوگ پریشان نہ ہوں۔ پری بیٹی نے ہی ہمیں سکھایا ہے کہ یہ کوئی شرم وغیرہ کی بات نہیں۔ ہمیں ان فرسودہ روایات سے ایسے ہی جان چھڑانی پڑے گی، اپنے گھر سے شروع کر کے.... میں آپ کے لیے چائے لاتی ہوں کیونکہ شرفو تو...." اور جملہ دانستہ طور پر ادھورا چھوڑ کر سکینہ بیگم باورچی خانے کی طرف چل دیں۔

پری اپنے میکے سدھار گئی۔ اگلے ماہ اکرم کو کسی طریقے سے خبر ہو گئی کہ وہ حاملہ ہو چکی ہے۔ دراصل جس کلینک پر وہ ابارشن کے لیے گئی تھی، وہاں کا مینیجر اکرم کا گہرا دوست تھا۔ اس نے اکرم کے کہنے پر ابارشن کے سارے دستاویزی ثبوت اکٹھے کر کے اس کے حوالے کر دیے۔ اگلے ہی روز اکرم نے پری کو فون کیا اور لگی لپٹی رکھے بغیر بولا، "ہیلو ڈارلنگ، سنا ہے تم نے صفائی مہم شروع کر رکھی ہے۔" پری تلملا کر بولی: "کیا بکواس کر رہے ہو۔ میرے پاس تمہاری بک بک سننے کے لیے فالتو وقت نہیں ہے پری تلملا کر بولی۔"

"ارے ارے، غصہ نہ کرو جان من۔ میں تو بچہ دانی کی صفائی کی بات کر رہا ہوں۔ مجھے پتہ ہے کہ تمہارے فیمن ازم میں یہ 'میرا جسم، میری مرضی' کے بےہودہ فلسفے کے مطابق تمہارا حق ہے... باوجود اس کے کہ جسے تم نے ٹکڑے ٹکڑے کر کے کوڑے میں پھینک دیا، وہ تمھارا نہیں بلکہ 'ہمارے' بچے کا جسم تھا.... لیکن خیر، آئی ہیٹ ٹو بریک اٹ ٹو یو مائی ڈارلنگ، کہ پاکستان کے قانون کے مطابق یہ ابھی تک ایک جرم ہے، لہٰذا اگر تم چاہتی ہو کہ اس کے ثبوت عدالت تک نہ پہنچیں تو کل تک حق مہر سے دستبرداری کا اقرار نامہ مجھے بھجوا دینا... بہت شکریہ.... اینڈ ٹیک کئیر آف یور پراپرٹی... آئی مین، یور باڈی..." اور ساتھ ہی لائن کاٹ دی.

ٹھیک دو دن بعد ایک مکروہ شکل والا شطونگڑا اپنے باس کو تفصیلی رپورٹ پیش کر رہا تھا کہ کیسے اس نے فیمن ازم کے فلسفے کو خوبصورتی سے پیش کیا اور اس کے ذریعے ایک اور خاندان کو توڑنے اور میاں بیوی میں جدائی ڈالنے میں کامیاب رہا۔ اور ابلیس اسے گلے لگا کر اس کا ماتھا چوم کر کہہ رہا تھا: "یہ باقی چیلے تو بیکار ہیں. اصل کام تو تُو نے کیا ہے۔"