عسکری تنظیمیں تاریخ کے آئینے میں - رعایت اللہ فاروقی

عسکری تنظیموں کا ایشو اتنا سادہ نہیں کہ یہ لشکر طیبہ سے شروع ہو کر جیش محمد پر ختم ہوجاتا ہو۔ یہ جدید دنیا کی طاقتور انٹیلی جنس ایجنسیز کا زیر زمین رائج کلچر ہے جس کے ذریعے خارجہ پالیسی کے محاذ پر اپنے اہداف حاصل کرنے کی کوششیں کی جاتی ہیں۔ یہ خارجہ پالیسی کی ان کہی حقیقت ہے کہ جارحانہ خارجہ پالیسی چلانے والے یا اس کا سامنا کرنے والے ملک کی انٹیلی جنس ایجنسی لازما عسکری تنظیموں کی تخلیق میں ملوث نظر آئے گی۔ اور جس خطے میں عسکری تنظیمیں وجود میں آئیں گی وہاں ڈرگ مافیا اور ڈکٹیٹر بھی نظر آئیں گے۔ سو انٹیلی جنس ایجنسیز، ڈکٹیٹرز، عسکری تنظیمیں اور ڈرگ مافیا ایک دوسرے کے بہت ہی قریبی رشتیدار ہیں۔ ان کے ہاتھوں نہ صرف یہ کہ دنیا کا امن سکون تہہ و بالا ہوتا ہے بلکہ جب جان ایف کینیڈی، راجیو گاندھی اور محترمہ بینظیر بھٹو جیسے بڑے لیڈر اپنے خون کا غسل کرتے ہیں تو اس کے پیچھے بھی یہی عناصر ہوتے ہیں۔ لہذا اس معاملے کو بہت گہرائی کے ساتھ سمجھنا لازم ہے۔

زیرنظر مسئلے کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے ہم دنیا میں رائج الوقت انٹیلی جنس سروسز کے نظام کی تاریخ کو سمجھ لیں۔ موجودہ یا ماضی قریب کی پرو ایکٹو انٹیلی جنس ایجنسیز میں سب سے قدیمی برطانیہ کی ایم آئی 6 ہے جو 1914ء میں قائم ہوئی اور خود برطانوی حکومت نے اس کی سیکریسی کا اس حد تک بند و بست کیا کہ 1994ء تک آفیشلی اس بات کو تسلیم ہی نہیں کیا کہ اس نام سے اس کی کوئی انٹیلی جنس ایجنسی ہے۔ ایم آئی 6 کی طویل العمری اپنی جگہ لیکن دنیا کی لیڈنگ انٹیلی جنس ایجنسی امریکہ کی سی آئی اے ہے جو دوسری جنگ عظیم کے بعد 1947ء میں قائم ہوئی اور یہ امریکہ کی اس زمانے کی ایجنسی او ایس ایس (آفس آف سٹریٹیجک سروسز) کا متبادل بنی۔ سی آئی اے انٹیلی جنس ایجنسیوں کے سب سے بنیادی کام یعنی خفیہ اطلاعات کا حصول اور ان کا درست تجزیہ کرنے کے حوالے سے اپنی تاریخ کے ہر موڑ پر ایک نکمی ایجنسی ثابت ہوئی ہے۔ جس کا ثبوت یہ ہے کہ یہ ہنگری پر روسی حملے، ایرانی انقلاب، بیروت میں امریکی فوج کی بیرکس پر حملے اور سوویت یونین کے ٹوٹنے جیسے اہم واقعات کی پیشگی خبر دے سکی اور نہ ہی تجزیہ کرکے اس کی پیشنگوئی کرنے میں کامیاب ہوئی۔ اگر ہم یہ مان لیں کہ نائن الیون اسامہ بن لادن نے ہی کیا اور سی آئی اے اس میں ملوث نہیں تو پھر نائن الیون کی سازش نہ پکڑ پانا بھی سی آئی اے کی سب سے بڑی ناکامی ہے۔ سی آئی اے کی شہرت اور دنیا کی لیڈنگ ایجنسی بننے کا سبب اس کی وہ سازشی حکمت عملی ہے جو اس نے عسکری تنظیموں کی صورت خارجہ پالیسی کے اہداف حاصل کرنے کے لئے متعارف کرائی اور اسے اس سے ایک ٹرینڈ سیٹر کی حیثیت مل گئی کیونکہ دنیا کی اکثر معروف ایجنسیوں نے یہ ٹرینڈ اختیار کرنے میں دیر نہ لگائی۔

دوسری جنگ عظیم کے دوران اگرچہ او ایس ایس رو بعمل تھی لیکن امریکیوں کا انٹیلی جنس کے حصول کے حوالے سے زیادہ انحصار ایم آئی 6 پر رہا تھا۔ امریکیوں کی خوش بختی کہ ایم آئی 6 جرمنی کے جو خفیہ عسکری پیغامات پکڑتی تھی اس کا کوڈ ان سے بریک نہیں ہو رہا تھا۔ انہوں نے اس مقصد کے لئے او ایس ایس سے مدد مانگی جس کے نتیجے میں اس کوڈ کو بریک کرنے میں کامیابی حاصل ہو گئی۔ یہیں سے دونوں ملکوں کی انٹیلی جنس نظام میں شراکت کی ایسی گہری بنیاد پڑی جو آگے چل کر دونوں ملکوں کے مابین سیاسی و عسکری میدان میں ایسی مضبوط پارٹنر شپ میں بدل گئی جو تا دم تحریر کامیابی سے جاری ہے اور آج بھی ہر بڑے آپریشن میں سی آئی اے اور ایم آئی 6 شانہ بشانہ ہوتی ہیں۔ دوسری جنگ عظیم کے فورا بعد امریکی صدر ہیری ٹرومین نے وال سٹریٹ کے ایک وکیل ایلن ڈبلیو ڈیلس کو ٹاسک دیا کہ وہ امریکہ کے لئے ایک زیادہ کار آمد انٹیلی جنس ایجنسی تخلیق کرے۔ اس نے چار مزید افراد کو اپنی ٹیم کا حصہ بنا کر اس منصوبے پر کام شروع کیا جن میں سے اکثریت وال سٹریٹ کے وکیلوں کی ہی تھی۔ یہ ایسا ہی تھا جیسے ہم ملک ریاض اور میاں منشاء کے منیجروں کو پاکستان کے لئے انٹیلی جنس ایجنسی تخلیق کرنے کا ٹاسک دیدیں۔ بزنس مینوں کے ان وکلاء نے جو ایجنسی تخلیق کی اس کی پوری تاریخ یہ ثابت کرتی ہے کہ وہ امریکی ریاست سے زیادہ بزنس مینوں کے مفادات کے لئے کام کرتی آئی ہے۔ مثلا آپ سی آئی اے کے آپریشنز کی تاریخ دیکھیں تو یہ سیدھے سیدھے امریکی بزنس مینوں کے مفادات کے تحفظ کے لئے نظر آئیں گے اور ان آپریشنز میں آپ کو دو ہی چیزیں ملیں گی۔ ایک مارشل لاء لگوا کر ڈکٹیٹرشپ مسلط کرنا اور دوسرا عسکری تنظیمیں بنا کر حریف ملکوں کو غیر مستحکم کرنا۔ اور سی آئی اے نے یہ دونوں حرکتیں وجود میں آتے ہی شروع کردی تھیں جو آج تک جاری ہیں۔

ایران میں محمد مصدق نے برطانوی آئل کمپنی anglo iranian oil company (برٹش پٹرولیم) کو نیشنلائز کیا تو 1953ء میں ایم آئی 6 نے سی آئی اے کی مدد سے مصدق کا تختہ الٹ کر اسے پھانسی پر چڑھوا دیا اور شاہ ایران کی ڈکٹیٹر شپ قائم کروا دی۔ ایران میں ملوث ہونے سے قبل ہی سی آئی اے گوئٹے مالا میں بھی منتخب حکومت کا تختہ الٹ کر ڈکٹیٹرشپ قائم کروانے کے مشن کا آغاز کر چکی تھی اور وہاں بھی اس کی وجہ سیٹھوں کے مفادات کا تحفظ تھا۔ امریکی فروٹ کمپنی یونائٹڈ فروٹس ساٹھ سال سے گوئٹے مالا کے کسانوں اور مزدوروں کا بدترین استحصال کر رہی تھی۔ حکومت نے اسے لگام دینے کے لئے لینڈ ریفارمز، اوقات کار اور تنخواہوں کے قانون پر مشتمل آئنی پیکج متعارف کرایا تو یہ امریکیوں کے لئے ناقابل برداشت ہو گیا۔ چنانچہ 1954ء میں گوئٹے مالا میں بھی ایران کی تاریخ دہرا دی گئی۔ سی آئی اے کا اگلا نشانہ لاؤس بنا اور اس سے اگلا کیوبا۔ لاؤس میں تو مسئلہ کسی امریکی کمپنی کا نہ تھا لیکن کیوبا خالص کار و باری مسئلہ تھا۔ کاسترو اور چی گویرا کی یلغار سے قبل کیوبا کے جائز کار و بار پر امریکی کمپنیوں کا قبضہ تھا جبکہ ناجائز کار و بار پر امریکی مافیا کا۔ اس زمانے میں کیوبا کو امریکی چکلہ کہتے تھے اور ہر ویک اینڈ پر عیاشی کے لئے ہزاروں کی تعداد میں وہاں پہنچتے تھے۔ کیوبا میں بھی سی آئی اے نے ایران اور گوئٹے مالا کی تاریخ دہرانے کی کوشش کی لیکن یہاں اسے منہ کی کھانی پڑی۔ کیوبا میں سی آئی اے کی ناکامی کو قدرے تفصیل سے سمجھنا ضروری ہے کیونکہ یہاں اس کی ڈھائی ہزار نفوس پر مشتمل عسکری تنظیم فیل ہوئی اور یہ فیلئر جان ایف کینیڈی کے قتل پر منتج ہوا۔

امریکی صدر آئزن ہاؤر کاسترو کا تختہ الٹنے کی منظوری دے چکے تھے اور سی آئی اے امریکہ میں کیوبا کے 2506 مہاجرین کو مسلح کرکے بغاوت کی تیاری کا آغاز کر چکی تھی کہ 1961ء میں جان ایف کینیڈی اقتدار میں آگئے۔ کینیڈی نے اس آپریشن پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے منسوخ کرنے کا عندیہ دیا تو سی آئی اے نے یہ کہہ کر انہیں رام کر لیا کہ 2506 افراد کے جس لشکر کو ہم نے تربیت دیی ہے، اسے آپریشن کی منسوخی کا کہیں گے تو وہ ہم پر ہی چڑھ دوڑے گا، لھذا انہیں مشن پر بھیجنا ضروری ہے۔ کینیڈی نے مشن کی کامیابی کی ضمانت مانگی تو سی آئی اے نے 100 فیصد کامیابی کی گارنٹی دیدی۔ سی آئی اے نے یہ آپریشن اس طرح ترتیب دیا تھا کہ امریکی مافیا نے کاسترو کو زہر دے کر قتل کرنا تھا اور ساتھ ہی کیوبا کے ساحل "بے آف پگز" پر 2506 عسکریت پسندوں نے اتر کر حملہ کر دینا تھا۔ کاسترو کے قتل اور ساتھ ہی حملہ کسی کو سنبھلنے ہی نہ دیتا مگر مافیا کاسترو کو زہر دلوانے میں ناکام ہوگئی. زہر دینے کے لئے طریقہ یہ اختیار کیا گیا تھا کہ کاسترو ایک مخصوص دکان پر روز رات کو ملک شیک پینے جاتا تھا۔ مافیا نے ملک شیک بنانے والے کو المونیم کے خول میں سائنائڈ دیا جو اس نے ملک شیک میں ملانا تھا۔ ملک شیک بنانے والے نے یہ خول ریفریجریٹر کے برف والے خانے میں رکھدیا اور جب کاسترو آئے تو اس وقت تک وہ خول برف میں چپک چکا تھا جسے باوجود کوشش کے وہ چھڑا نہ سکا۔ ادھر کاسترو قتل ہونے سے بچ گئے جبکہ ادھر عسکریت پسند (17 اپریل 1961ء) بے آف پگز پر جا اترے اور فورا ہی نظروں میں بھی آگئے۔ کاسترو کی فورسز نے ان کا صرف 72 گھنٹوں میں بھرکس نکال دیا اور امریکہ کو ایک عالمگیر خفت کا سامنا کرنا پڑ گیا۔

صدر جان ایف کینیڈی کی راتوں کی نیند حرام ہوگئی انہوں نے کہدیا "میں سی آئی اے کے ہزاروں ٹکڑے کرکے ہوا میں اڑا دوں گا" ساتھ ہی کینیڈی نے دو اہم اقدامات بھی اٹھا لئے۔ پہلا یہ کہ سی آئی اے کے سربراہ ایلن ڈیلس اور اس کے ڈپٹی کو گھر بھیج دیا۔ دوسرا یہ کہ نیشنل سیکیورٹی ایکشن میمورینڈم نمبر 55 جاری کیا جس میں کینیڈی نے کہا "آج کے بعد حالت امن میں بھی مجھے سیکیورٹی ایشوز پر مشاورت مہیا کرنا جوائنٹ چیفس آف سٹاف کی ذمہ داری ہوگی" ان دو اقدامات کے ساتھ ہی نئے سی آئی اے چیف کو کینیڈی نے حکم دیا کہ وہ سی آئی اے کو "کٹ ٹو سائز" کرے۔ اب یہ وہ عرصہ تھا جب سی آئی اے لاؤس سے ویتنام کی جانب اپنے آپریشنز شفٹ کر رہی تھی اور اگلے چند سالوں میں وہ ویتنام کے پانچ لاکھ شہریوں کو مسلح کرکے اس دور کی سب سے بڑی عسکریت پسندی کو وجود بخشنے جا رہی تھی اور کینیڈی اس کے لئے بھی آمادہ نہ تھے۔ نتیجہ یہ کہ کینیڈی قتل کردیئے گئے اور قتل کے ساتھ ہی نئے صدر لنڈن جانسن نے میمورینڈم آڈر نمبر 55 کو بھی منسوخ کردیا اور معنی خیز بات یہ ہے کہ کینیڈی 22 نومبر 1963ء کو قتل ہوئے جب کہ منسوخی کے اس آڈر پر جانسن کے دستخط 21 نومبر کے ہیں۔ جانسن نے کینیڈی کے قتل کی تحقیقات کے لئے جو "وارن کمیشن" بنایا اس میں سی آئی اے کے اسی سابق دائریکٹر ایلن ڈیلس کو بھی شامل کرلیا جسے کینیڈی نے برطرف کیا تھا۔ سو اندازہ لگا لیجیے کہ کس قسم کی تحقیقات مطلوب تھیں اور یہ تحقیقات اس درجے کی شرمناک ہیں کہ جس دن رپورٹ صدر کو پیش ہوئی ہے اس دن سے ٹھیک پچھتر سال بعد اس کی دستاویزات عوام کے لئے کھولنے کا حکم ہے۔ یعنی 2039ء میں۔

سی آئی اے سے صرف جان ایف کینیڈی کو ہی شکایت نہ تھی بلکہ سی آئی اے کی تخلیق کا حکم دینے والے صدر ہیری ٹرومین بھی ساٹھ کی دہائی میں اس کے کرتوتوں سے پریشان تھے۔ چنانچہ کینیڈی کے قتل سے ٹھیک ایک ماہ قبل انہوں نے واشنگٹن پوسٹ میں شائع ہونے والے اپنے ایک مختصر نوٹ میں لکھا "یہ ایجنسی جس طرح کی بن گئی ہے اس طرح کی میں نے ہرگز نہیں چاہی تھی" یہ پڑھتے ہی سی آئی اے کو بنانے والا ایلن ڈیلس ہیری ٹرومین کے پاس پہنچا اور ان سے یہ نوٹ واپس لینے کا کہا جس سے ٹرومین نے انکار کردیا۔ سی آئی اے نے نہ صرف صدر کینیڈی کو مروایا بلکہ کٹ ٹو سائز کے خطرے کو کم کرنے کے لئے اس نے متبادل مالیاتی ذرائع بھی تلاش کر لئے کیونکہ کٹ ٹو سائز کا سب سے آسان طریقہ بجٹ میں کمی ہوتا ہے۔ سی آئی اے کا متبادل مالیاتی ذریعہ لاؤس سے ہیروئین کی سمگلنگ کی صورت شروع ہوا۔ اور صرف وہی نہیں بلکہ آج کے ایل پاچو گوزمان کا میکسیکن ڈرگ کارٹیل بھی سی آئی اے کا ہی مانا جاتا ہے۔ جس کی ایک اہم دلیل یہ ہے کہ کچھ عرصہ قبل ایل پاچو گوزمان کے ایک پارٹنر پر شکاگو کی عدالت میں مقدمہ شروع ہوا تو اس کے وکیل نے عدالت سے کہا "آپ یہ مقدمہ نہیں سن سکتے کیونکہ اس کارٹیل کو استثناء حاصل ہے" اور صرف یہی نہیں بلکہ افغانستان میں طالبان ڈرگز کی پیداوار ختم کرچکے تھے۔ نائن الیون کے بعد امریکیوں کے آتے ہی یہ دوبارہ شروع ہوگئی۔

یہ بھی پڑھیں:   یہ ماب لچنگ نہیں پولیٹکل لچنگ ہے - غازی سہیل خان

اب آئے کے جی بی کی جانب. پچاس کی دہائی میں سی آئی اے نے ڈکٹیٹرشپ اور عسکری تنظیموں کے قیام کے آپریشنز اوپر تلے اس کامیابی کے ساتھ کئے کہ یہ ایک ٹرینڈ بن گیا اور دیگر ایجنسیوں نے بھی یہی راہ اختیار کر لی لیکن ان میں سے ڈکٹیٹر شپ قائم کروانے میں سی آئی اے کے علاوہ صرف کے جی بی ہی کامیاب ہوئی کیونکہ اس کے لئے جس درجے کی قدرت چاہئے ہوتی ہے وہ ایک سپر طاقت کے پاس ہی ہوتی ہے۔ کے جی بی نے صرف دکٹیٹرشپس ہی قائم نہیں کروائیں بلکہ حریفوں کے ہاں عسکریت کو بھی فروغ دیا۔ چنانچہ جرمنی اور اٹلی میں ریڈ بریگیڈ جیسے گینگ بنوانے، ویتنام میں کمیونسٹوں کو مسلح کرنے کے ساتھ ساتھ فلسطین کی عسکری تنظیموں کو بھی نہ صرف یہ کہ وہ ہتھیار فراہم کرتی رہی بلکہ ان تنظیموں کو ماڈرن ٹیک ٹکس بھی سکھائیں جن میں سب سے مشہور "طیارہ ہائی جیکنگ" ہے۔ ساٹھ اور ستر کی دہائی میں فلسطینی تنظیموں نے درجنوں طیارے اغوا کئے۔ طیارہ ہائی جیکنگ کی یہ وارداتیں ایسی موثر اور حیران کن تھیں کہ 1971ء میں کی جی بی کے پہلے سربراہ Aleksandr Sakharovsky نے فخر کے ساتھ اعلان بھی کردیا کہ طیارہ ہائی جیکنگ کا تصور میرا کارنامہ ہے۔ کے جی بی کی خاص بات یہ تھی کہ یہ انٹیلی جنس ایجنسیوں کے سب سے بنیادی مقصد یعنی خفیہ رازوں کے حصول اور درست تجزیئے میں اس درجے کی بے مثال تھی کہ 1983ء میں ٹائم میگزین نے اس کا اعتراف کیا۔ امریکہ کا پہلا ایٹم بم بنانے والی ٹیم سے لے کر ایف بی آئی، سی آئی اے اور ایم آئی 6 کے ہیڈ کوارٹرز تک کوئی بھی جگہ ایسی نہ تھی جہاں اس کی آنکھیں اور کان موجود نہ ہوں۔ حد تو یہ ہے کہ سی آئی اے کا کاؤنٹر انٹیلی جنس چیف ایک موقع پر ایسا افسر رہا جو کے جی بی کا ہی ایجنٹ تھا۔ اس حوالے سے سی آئی اے اور ایم آئی 6 کی سب سے بڑی نالائقی دیکھنی ہو تو "برلن ٹنل" کا وہ سکینڈل کہیں سے ڈھونڈ کر پڑھ لیجئے جب یہ دونوں ایجنسیاں خوش تھیں کہ ہم رشیا کے سارے راز حاصل کر رہے ہیں اور کے جی بی پیشگی ہی اس ٹنل سے واقف تھی اور وہ مزے سے انہیں ماموں بناتی رہی۔

عسکری تنظیمیں قائم کروا کر حریف ممالک کو غیر مستحکم یا برباد کرنا ان ممالک کے لئے بھی ایک آسان کام ثابت ہوا جو سپر طاقت نہ تھے۔ چنانچہ دنیا کی دیگر بہت سی ایجنسیوں کے ساتھ ساتھ بھارت کی "را" اور ہماری آئی ایس آئی نے بھی یہ تنظیمیں قائم کیں. لیکن سمجھنے کی بات یہ ہے کہ آئی ایس آئی اس جانب سب سے آخر میں آئی، جب اس نے دیکھا کہ خفیہ ایجنسیوں کی دنیا میں اب یہی سکہ رائج الوقت ہے اور وہ سمجھ گئی کہ ہماری آج کی اس دنیا میں خارجہ پالیسی کے حوالے سے مشکل اہداف حاصل کرنے کا اب طریقہ ہی یہ طے ہوگیا ہے کہ حریف کو عسکری تنظیموں کے ذریعے کمزور یا تباہ کیا جائے۔

قیام پاکستان کے وقت ایک اہم مسئلہ اس وقت کے این ڈبلیو ایف پی (خیبر پختون خواہ) صوبے کا تھا افغانستان اسے ڈیورنڈ لائن معاہدے کے تحت اپنا حصہ مانتا تھا لیکن خود اس صوبے کے لوگوں میں افغانستان کے ساتھ شمولیت کا سوال ہی زیر بحث نہ تھا بلکہ سوال یہ تھا کہ اس صوبے بھارت کا حصہ بننا ہے یا پاکستان کا ؟ چنانچہ یہاں اسی سوال پر 2 جولائی 1947ء کو ریفرینڈم کرا لیا گیا جس میں 572798 رجسٹرڈ ووٹوں میں سے 289244 ووٹ جو کاسٹ ہونے والے ووٹوں کا 99.2 بنتے ہیں پاکستان کے حق میں آئے جبکہ صرف 2874 بھارت کے حق میں آئے یوں یہ صوبہ پاکستان کا حصہ بن گیا۔ 1948ء میں اقوام متحدہ میں پاکستان کی رکنیت کے لئے قرارداد آئی تو افغانستان واحد ملک تھا جس نے پاکستان کے خلاف ووٹ دیا کہ اسے اقوام متحدہ کا ممبر نہیں ہونا چاہئے۔ اسی سال افغانستان نے بلوچ عسکریت پسندوں کا پہلا کیمپ افغانستان میں قائم کرکے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوششیں شروع کردیں۔ پختونستان کی تحریک کو بھی عسکری تربیت دینی شروع کردی گئی۔ جبکہ اسی دوران بھارت کی قائم کردہ عسکری تنظیم "مکتی باہنی" کی مدد سے پاکستان دو لخت بھی ہوگیا. لیکن بھارت کے حوالے سے ایک بے پناہ اہم نکتہ یہ ہے کہ اس کے ساتھ ہمارے تنازعات محض اتنی سی بات نہیں کہ یہ دو پڑوسیوں کا وقتی جھگڑا ہے بلکہ اس کی گھمبیرتا یہ ہے کہ ہندوستان کی خارجہ پالیسی کی بنیاد "اکھنڈ بھارت" پر ہے. جس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ جارحانہ خارجہ پالیسی والا ملک ہے. اور یہ اسی جارحانہ خارجہ پالیسی شاخسانہ ہے کہ وہ مکتی باہنی، تامل ٹائیگرز اور ٹی ٹی پی جیسی عسکری تنظمیں چلاتا نظر آتا ہے.

1975ء تک افغانستان اور بھارت کی قائم کردہ عسکری تنظیموں کی دہشت گردی کا شکار ہوتے ہوئے پاکستان کو 27 سال ہو چکے تھے اور پاکستان میں اعلیٰ سطح پر یہ سوچ پیدا ہونی شروع ہوگئی تھی کہ افغانستان کسی طور بھی ہماری جان چھوڑنے پر آمادہ نہیں حالانکہ نہ تو پاکستان نے اس کا ایک انچ قبضہ کیا ہے اور نہ ہی صوبہ سرحد کے عوام کو افغانستان کے ساتھ شامل ہونے میں رتی برابر دلچسپی ہے۔ صرف یہی نہیں کہ بلکہ ڈیورنڈ لائن کے آس پاس رہنے والے تو اتنے کٹر پاکستانی ہیں کہ قائداعظم کے حکم پر کشمیر یعنی پاکستان کی شہہ رگ آزاد کرانے بھی پہنچ گئے تھے. اور مزے کی بات یہ کہ خود افغانستان کو بھی اس بات کا احساس ہے کہ پاکستان کے پختون اس کے ساتھ شامل ہونے کا تصور بھی کرنے کو تیار نہیں جس کا ثبوت یہ ہے کہ وہ پختونستان کی تحریک تو چلوا سکا لیکن اپنے ساتھ شمولیت کی ایک بھی آواز نہ اٹھوا سکا۔ ان حالات میں افغانستان کے چودہ طبق روشن کرنے ضروری ہوگئے تھے۔ چنانچہ یہ ذولفقار علی بھٹو تھے جنہوں نے پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار عسکری تنظیمیں قائم کرکے افغانستان کو اسی کی زبان میں جواب دینے کا فیصلہ کیا اور اس مقصد کے لئے افغان یونیورسٹیز کے سٹوڈنٹس پاکستان لائے گئے۔

افغانستان کے 1921ء سے سوویت یونین سے تعلقات چلے آ رہے تھے جو بیسویں صدی کے آخری نصف میں تیزی سے مضبوط ہوتے چلے گئے تھے۔ دسمبر 1979ء میں روسی فوجیں افغانستان میں داخل ہوئیں تو بھٹو جا چکے تھے اور ان کے تیار کردہ افغان عسکریت پسند ضیاء الحق کے ہاتھ میں تھے۔ اس دوران افغان حکومت کو ایک اہم کامیابی یہ حاصل ہوگئی تھی کہ جس ذوالفقار علی بھٹو نے افغانستان کو سبق سکھانے کے لئے افغان مجاہدین کی بنیاد ڈالی تھی اسی بھٹو کا بیٹا مرتضیٰ بھٹو الذوالفقار کے نام سے عسکری تنظیم بنا کر افغان حکومت کی گود میں جا بیٹھا تھا۔ اور یہ اتنی خطرناک تنظیم بن سکتی تھی جس کی کوئی حد ہی نہ تھی کیونکہ اسے سوویت یونین، افغانستان، شام اور لیبیا جیسے کئی ممالک کی مدد حاصل تھی لیکن جنرل ضیاء نے ڈپلومیسی اور خفیہ آپریشنز کی مدد سے ایک سال میں ہی اس کی کمر توڑ دی اور افغان جہاد پر فوکسڈ ہوگئے۔ مرتضیٰ بھٹو کی ناکامی میں اس بات کا بھی اہم کردار تھا کہ محترمہ بینظیر بھٹو بھی الذوالفقار کے خلاف تھیں اور وہ سیاسی جدوجہد پر یقین رکھتی تھیں۔ بھٹو کے جانے کے بعد افغان عسکریت پسند اب براہ راست ہماری فوج کے ہاتھ میں تھے اور کھل کر کھیلا جا سکتا تھا جو اس درجے تک کھیلا گیا کہ سوویت یونین ہی تاریخ میں دفن ہوگیا۔ بعض حلقوں کی جانب سے کہا جاتا ہے کہ افغان مجاہدین سی آئی اے کی پیداوار تھے مگر یہ بات دو ٹھوس حوالوں سے غلط ہے۔ پہلا یہ کہ افغان مجاہدین بھٹو کا آئڈیا تھا اور بھٹو صاحب کی تو سی آئی اے جان لینے کے منصوبے بنا رہی تھی۔ دوسرا یہ کہ روسی فوج 1979ء میں افغانستان میں داخل ہوئی اور افغان مجاہدین اس سے جنگ کا آغاز کرچکے تھے جبکہ امریکہ نے 1981ء میں اس جنگ کی سپورٹ کا فیصلہ کیا اور اس کی پہلی امداد 1982ء میں آئی۔ روسی فوجوں کے انخلاء کے بعد افغان عسکریت پسند آپس میں الجھ پڑے جو ہمارے لئے خطرناک بات تھی۔ چنانچہ محترمہ بینظیر بھٹو نے طالبان کو ایک بڑی قوت کے طور پر تیار کرکے افغان جنگجو گروپوں کو غیر مسلح کروادیا اور ہمیں افغانستان سے گرم ہوائیں آنی بند ہوگئیں۔ نائن الیون کے بعد صورتحال ہمارے خلاف ہوگئی اور ایک بار پھر افغانستان کو پاکستان میں عسکریت کے بھرپور فروغ کا موقع مل گیا اور اس بار افغانستان کو امریکہ اور بھارت کی مدد بھی حاصل ہوگئی۔

قابل غور بات یہ ہے کہ 1975ء میں افغان مجاہدین کے وجود میں آنے کے بعد بھی چھ سال تک افغانستان ہمارے ہاں اپنے تیار کردہ عسکریت پسندوں سے کام لیتا رہا۔ 1982ء میں اس میں بہت حد تک کمی آ گئی اور مجبورا افغان حکومت کو خاد کے ذریعے بم دھماکوں تک محدود ہونا پڑا جبکہ نواب خیربخش مری، اجمل خٹک اور افراسیاب خٹک وغیرہ 90 کی دہائی کے آغاز تک کابل میں ہی بیٹھے مفت کی روٹیاں توڑتے رہے۔ چنانچہ 1948ء سے لے کر 1982ء تک کے 33 سال اور نائن الیون کے بعد کے 18 سال ملا کر مجموعی طور پر افغانستان نے ہمارے ہاں عسکری تنظیموں کے ذریعے 51 سال دہشت گردی کرائی ہے جبکہ ہم نے افغانستان میں صرف بیس سال عسکریت آزمائی ہے اور ہم یہ جانتے ہیں کہ آپشن دو ہی ہیں۔ یا تو وہاں ہماری حمایت یافتہ حکومت ہو تاکہ ہم پرسکون رہیں یا پھر ہم ہاتھ کھینچ لیں اور بھارت اس خلا کو پر رکھے. نتیجتا ہم آئے روز لاشیں اٹھائیں۔ ایک تیسرا آپشن بھی ہے لیکن وہ ناممکنات میں سے ہے۔ وہ آپشن یہ ہے کہ اقوام متحدہ کے ذریعے دنیا کے تمام ممالک اس بات پر اتفاق کرلیں کہ کوئی بھی ملک کسی دوسرے ملک میں عسکریت کو فروغ نہیں دے گا۔ اگر یہ خوبصورت خواب شرمندہ تعبیر ہوجائے تو سی آئی اے کیا کرے گی ؟ سوسجز بیچے گی ؟ اس کا تو دھندہ ہی عسکریت کو فروغ دینا ہے۔

سوویت یونین جیسی سپر طاقت کو اپنی تیار کردہ عسکری تنظیموں کی مدد سے توڑ دینا اتنی بڑی کامیابی تھی کہ اسے پیش نظر رکھ کر کوئی بھی آرام سے یہ سوچ سکتا تھا کہ یہ تجربہ کشمیر میں بھی کیوں نہ کر لیا جائے۔ 1984ء میں پاکستانیوں پر مشتمل پہلی عسکری تنظیم بن چکی تھی جو اگلے تین سالوں میں تین ٹکڑوں میں بٹ کر تین الگ الگ تنظیموں کی شکل اختیار کر چکی تھی۔ پھر جماعت اسلامی کی البدر وغیرہ ملا کر سوویت افواج کے انخلاء تک پاکستانیوں کی پانچ تنظیمیں وجود میں آ چکی تھیں۔ اس زمانے میں میری ان تنظیموں میں سے حرکت المجاہدین کے شعبہ اطلاعات و نشریات سے وابستگی رہی. میں نے 1988ء سے قبل افغانستان یا پاکستان میں ان تنظیموں کی سطح پر کبھی "جہاد کشمیر" کا ذکر نہیں سنا۔ ہر طرف صرف افغان جہاد کی ہی بات ہوتی تھی لیکن قابل غور بات یہ ہے کہ ان تنظیموں کی افغان مجاہدین کو کوئی ضرورت تھی نہیں۔ افغان جہاد پر آئی ایس آئی کا مکمل کنٹرول تھا، اس کی مرضی کے بغیر وہاں مچھر بھی پر نہیں مار سکتا تھا چہ جائیکہ پاکستانی اس کی منشاء کے بغیر ہی کوئی عسکری تنظیم بنا لیتے۔ یہ تنظیمیں بنی بھی اور امریکہ سمیت کسی کو ان پر اعتراض بھی نہ تھا. ان تنظیموں کے وجود میں آنے سے یہ بات آسانی سے سمجھی جا سکتی ہے کہ "کشمیر جہاد" کا آئڈیا پنڈی میں کم از کم بھی 1984ء میں پکنا شروع ہو چکا تھا اور یہ پاکستانی تنظیمیں اسی کے لئے تیار کی جا رہی تھیں۔ اور میری نظر میں یہ کوئی برا آئڈیا نہیں تھا۔ کشمیر جہاد شروع کرنا ہرگز غلطی نہ تھی غلطی اور وہ بھی پہاڑ جیسی غلطی کچھ اور تھی جس کی جانب کسی کی آج بھی توجہ نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   بڑی تصویر کے چند ٹکڑے - محمد عامر خاکوانی

ہماری بدترین غلطی یہ تھی کہ ہم نے جہاد کشمیر کے لئے کشمیریوں کو ہی نہیں بلکہ پاکستانیوں کو بھی عسکری تربیت دے کر ان کی تنظیمیں بنائیں اور پاکستانی تنظیمی و افرادی قوت کشمیریوں سے زیادہ رکھی۔ عسکری تنظیموں کی ماں سی آئی اے جو اپنی تاریخ میں دنیا بھر میں 100 کے کے لگ بھگ عسکری تنظیموں کو جنم دے چکی ہے۔ اس نے بھی کبھی یہ غلطی نہ کی کہ کسی ملک میں عسکری مداخلت کے لئے امریکیوں کو ہی تربیت دے کر ان پر مشتمل عسکری تنظیمیں بنائی ہوں۔ امریکی عسکریت جب کسی ملک میں قدم رکھتی ہے تو وہ اس کی فوج ہی ہوتی ہے امریکی عسکریت پسندوں پر مشتمل کوئی تنظیم نہیں۔ نائن الیون کے بعد والے عرصے میں بلیک واٹر جیسی تنظیمیں ضرور نظر آتی ہیں یہ نظریاتی نہیں بلکہ "سیکیورٹی بزنس" کی کمپنیاں ہیں جو سی آئی اے کی معاونت کرتی ہیں. اسی طرح جرمنی، اٹلی، ویت نام اور فلسطین میں کے جی بی نے روسیوں پر مشتمل کوئی عسکری تنظیم نہیں بھیجی بلکہ مقامی لوگوں کو بھرتی کرکے ان سے کام لیا۔ ہم واحد ملک ہیں جس نے اپنے ہی شہریوں کو عسکری تربیت دے کر ان کی تنظیمیں بنا ڈالیں۔ ہماری اس غلطی کا سفارتی اور قانونی محاذ پر تحریک آزدی کشمیر کو جو بے انتہاء نقصان ہوا وہی دیکھ لیں۔ اقوام متحدہ کا چارٹر اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ اگر کسی علاقے کے لوگ اپنے ملک کے ساتھ نہ رہنا چاہیں یا کوئی قابض فوج آ گئی ہو اور وہ اس کی غلامی سے انکار کرتے ہوئے ہتھیار اٹھا کر آزادی کی منزل کا سفر شروع کرنا چاہیں تو ایسا کر سکتے ہیں اور اس کی عسکری کارروائیاں بین الاقوامی برادری کی نظر میں عین قانونی ہوں گی۔ اس قانون کے مطابق سید صلاح الدین کی حزب المجاہدین کشمیر کی ایک قانونی عسکری تنظیم تھی اور دنیا کا کوئی بھی قانون اس کی عسکری کارروائیوں کو چیلنج نہیں کرتا۔

اگر حزب المجاہدین کے ساتھ دیگر تنظیمیں بھی کشمیریوں پر ہی مشتمل ہوتیں تو ان کا بھی یہی سٹیٹس ہوتا لیکن ہم نے پاکستانی تنظیموں کو کشمیر میں داخل کرکے اپنے ہی پیروں پر کلہاڑی مار لی اور بھارت کو مضبوط قانونی سوال اٹھانے کا موقع دے کر بین الاقوامی برادری میں اپنا کیس ہی کمزور کر ڈالا۔ بھارت کا "گھس بیٹھیے" والا ڈائیلاگ ایک جائز ڈائیلاگ تھا کیونکہ بین الاقوامی قانون جہاں کشمیریوں کو عسکری تنظیم بنانے کی اجازت دیتا ہے وہیں بیرونی عسکریت کو مسترد بھی کرتا ہے۔ قانونی طور پر بین الاقوامی برادری کی نظر میں لشکر طیبہ اور حرکت الانصار وغیرہ کی کوئی حیثیت نہیں تھی اور یہ سب کی نظر میں گھس بیٹھیے ہی تھے۔ بھارت کا انہیں گھس بیٹھیے کہنا اور بین الاقوامی برادری کا گھس بیٹھیے سمجھنا بالکل درست تھا۔ صرف حزب المجاہدین اور جے کے ایل ایف ہی ایسی تنظیمیں تھیں جنہیں گھس بیٹھیے نہیں کہا جا سکتا تھا اور جو بالکل جائز عسکری تنظیمیں تھیں۔ میں جانتا ہوں کہ پاکستان سے کوئی لانچنگ نہیں ہو رہی اور یہاں سے کوئی جہادی کشمیر میں داخل نہیں ہو رہے بلکہ اس وقت وہاں ان کی اپنی انتفاضہ جاری ہے جس میں ہمارا ہاتھ نہ ہونے کا فائدہ یہ ہے کہ بین الاقوامی برادری بھارت سے کہہ رہی ہے کہ موجودہ تحریک میں تو پاکستان کا ہاتھ نہیں لھذا یہ کشمیریوں کی جائز آواز ہے۔ لیکن بھارت کوئی بھی واردات کرکے اس کی ذمہ داری پاکستان کے سر ڈالنے کی پالیسی پر گامزن ہے. وہ ہر بار اس مقصد کے لئے حافظ سعید اور مسعود اظہر کا نام استعمال کرتا ہے. اسے اس کا موقع اس لئے ملتا ہے کہ مذکورہ شخصیات کا جہادی بیان بازیوں کا شوق ختم ختم ہونے کا نام نہیں لیتا. یہ اب عسکریت میں ملوث نہیں ہیں لیکن دنیا کو باور یہی کراتے ہیں جیسے ان کی پرانی سرگرمیاں بدستور جاری ہوں. ماضی کے جہاد کشمیر میں تو مولانا فاروق کشمیری اور گل زمین سمیت اور بھی کئی شخصیات شریک تھیں، بھارت ان کا کوئی ذکر نہیں کرتا. وجہ اس کی یہی ہے کہ وہ دیگر شخصیات کسی بیان بازی کے ذریعے اپنی موجودگی کا احساس نہیں دلاتیں. سو لازم ہے کہ حافظ سعید اور مسعود اظہر وغیرہ کو سائلنٹ موڈ پر ڈالا جائے. یہ جتنا بولیں گے اتنا ہی بھارت فائدہ اٹھانے کا موقع ملتا رہے گا.

عسکریت کے موضوع سے میرا تعلق تقریبا 32 برس پر محیط ہے. ان 32 برسوں کے ابتدائی دس سال میں حرکت المجاہدین اور حرکت الانصار کا حصہ رہا ہوں. پھر خاص طور پر حرکت الانصار کا میں نومبر 1994ء سے اکتوبر 1997ء تک ناظم اطلاعات و نشریات بھی رہا. اکتوبر 1997ء میں عسکریت سے راہیں الگ کیں تو تب سے تادم تحریر ایک تجزیہ کار کے طور پر اس موضوع پر غور فکر ہی میرا خصوصی میدان چلا آرہا ہے. اپنے اس غوروفکر کے نتیجے میں میں نے ایک ہولناک حقیقت دریافت کی ہے جس کی جانب پیشہ ور عسکری ماہرین کی بھی توجہ نہیں گئی. اس طویل سیریز کے آخری حصے میں عسکریت کے اس سب سے تباہ کن پہلو کی جانب متوجہ کرانا ضروری سمجھتا ہوں کیونکہ میں نے آج تک کسی جرنیل سے بھی اس کا تذکرہ نہیں سنا. سو لازم ہے کہ نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی یا اس جیسے دیگر ادارے اس پہلو پر اکیڈمک سطح کا غور فکر کرکے اسے مزید گہرائی میں جاکر اس کے رموز و اسرار کو دریافت کریں. میرا مطالعہ و مشاہدہ یہ بتاتا ہے کہ جب دنیا کے کسی خطے میں کسی کاز کے لئے عسکری تنظیم وجود میں آتی ہے تو یہ فرسٹ جنریشن عسکریت پسند اپنے کاز پر ہی فوکسڈ ہوتے ہیں اور ان کی سب سے زیادہ کوشش یہی ہوتی ہے کہ معصوم شہری نقصان سے دوچار نہ ہوں۔ کیوبا میں فیڈل کاسترو کی عسکریت، فلسطین میں حماس وغیرہ اور افغانستان میں افغان مجاہدین اس کا ثبوت ہیں۔ اگر یہ فرسٹ جنریشن اپنا کاز حاصل ہوتے ہی غیر مسلح نہ ہوجائے تو آس پاس ہی کہیں ایک سیکنڈ جنریشن عسکریت جنریٹ ہوکر سر اٹھا لیتی ہے جو عام آدمی کے لئے بھی مہلک ثابت ہوتی ہے اور پھر اس کے بعد ایک تھرڈ جنریشن عسکریت بھی آتی ہے جو مہلک ترین ہوتی ہے کیونکہ ارتقا کے نتیجے میں ان کا ہر رکن ایک قصائی ہوتا ہے۔ آپ دنیا کے تین مختلف خطوں میں اس کی نظیریں دیکھ سکتے ہیں۔ اور یہ نظیریں ثابت کریں گی کہ یہ عمل دین اور لادین کی پروا کئے بغیر عین فطرت کے اصولوں کو اختیار کرتا ہے۔

فیڈل کاسترو کی فرسٹ جنریشن عسکریت سے مہمیز پا کر سات سال بعد اسی خطے کے ایک ملک کولمبیا میں اس مارکسی عسکریت نے دوبارہ سر اٹھایا جسے حکومت ختم کر چکی تھی۔ اس عسکریت نے کولمبیا میں دہشت گرد حملے کرکے ملک کے امن کو تباہ کرنا شروع کیا تو ان کے اہداف سرکاری ہی تھے۔ لیکن یہ بازاروں کے قریب بھی سرکاری اہداف کو نشانہ بنانے لگے جو کاسترو نے کبھی نہیں کیا تھا۔ اس بدامنی کا فائدہ اٹھا کر پبلو ایسکوبار "میڈئین ڈرگ کارٹیل" بنانے میں کامیاب ہوا تو مارکسی عسکریت پسندوں نے مختلف مواقع پر انہیں بھی نشانہ بنایا۔ نتیجتا پبلو ایسکوبار نے اپنی پرائیویٹ آرمی کھڑی کردی جو مارکسی عسکریت پسندوں اور حکومت دونوں کو نشانہ بنانے لگی۔ کولمبیا نے امریکہ کی مدد سے ایسکوبار کے خلاف کار روائی شروع کی تو ایسکوبار نے پانچ پانچ سو کلوگرام کے بس اور ٹرک بم حملے شروع کردئے اور ایک ایک دن میں وہ سینکڑوں لوگوں کی جانیں لینے لگا۔ سپریم کورٹ میں کیس شروع ہوا تو پوری سپریم کورٹ کو یرغمال بنا کر 90 یرغمالی قتل کردیئے جن میں سپریم کورٹ کے 20 میں سے گیارہ جج بھی شامل تھے۔ ایسکوبار کی اس ہلاکت خیزی میں 70 ہزار افراد لقمہ اجل بنے جو اس خطے میں تھرڈ جنریشن عسکریت تھی.

اگر آپ اسی نظر سے افغانستان اور پاکستان کو دیکھیں تو یہاں فرسٹ جنریشن یعنی افغان مجاہدین بہت ذمہ داری کے ساتھ جہاد کرتے رہے اور عام افراد کو ان سے نقصان نہ پہنچنے کے برابر تھا۔ سیکنڈ جنریشن میں کشمیری عسکریت پسند آئے جو اتنے ذمہ دارانہ رویے کے مالک نہ تھے اور ان سے شکایات سامنے آتی تھیں جن کے ذکر کا اب کوئی فائدہ نہیں کیونکہ یہ تنظیمیں اب کشمیر میں وجود نہیں رکھتیں۔ تھرڈ جنریشن میں ٹی ٹی پی آئی جو قصائیوں کا غول ثابت ہوئی اور اس نے پاکستان میں وہی کیا جو پبلو ایسکوبار کولمبیا میں کر چکا تھا۔ نہ انہوں نے سرکاری اہداف چھوڑے، نہ مسجدیں چھوڑیں، نہ بازار چھوڑے، نہ سکول چھوڑے اور نہ ہی پبلک پارک چھوڑے۔ ان کی جانب سے ہر اس مقام کو نشانہ بنایا گیا جہاں انسان بڑی تعداد میں جمع نظر آئے۔ ہزارہا انسان اس تھرڈ جنریشن عسکریت کے بے رحم حملوں کا نشانہ بنے۔

اسی پہلو سے مشرق وسطی کو دیکھیں تو افغان جہاد میں آنے والے عرب فلسطینی تنظیموں سے انسپائر تھے اور وہ افغانستان میں بھی مسلسل انہی کا تذکرہ کرتے تھے اور صاف کہتے تھے کہ ہم فلسطین جائیں گے۔ اگر فلسطینی حریت پسند نہ ہوتے تو افغان جہاد ہونے کے باوجود بھی نہ کوئی ڈاکٹر عبداللہ عزام کو جانتا اور نہ ہی اسامہ بن لادن کو کیونکہ یہ افغانستان آتے ہی نہیں۔ مشرق وسطیٰ میں فلسطینی تنظیمیں فرسٹ جنریشن تھیں اور ان سے پبلک محفوظ چلی آ رہی تھی، وہ پوری احتیاط کے ساتھ اسرائیل کے سرکاری اہداف کو نشانہ بناتے رہے ہیں۔ القاعدہ سیکنڈ جنریشن کی صورت میں سامنے آئی جس نے سعودی عرب اور افریقہ میں امریکی اہداف کو نشانہ بناتے وقت عام شہریوں کی ہلاکت کی زیادہ پروا نہیں کی لیکن یہ حدود و قیود میں بہرحال رہی۔ اب مشرق وسطیٰ میں تھرڈ جنریشن عسکریت پسندی داعش کی صورت سامنے آ چکی ہے اور یہ پبلو ایسکوبار اور ٹی ٹی پی کی طرح قصائیوں کا ہی ٹولہ ہے جسے عام شہری کی کوئی پروا نہیں اور داعش عام شہریوں کو بھی باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت نشانہ بناتی ہے۔

اس تباہ کن مسئلے کا حل یہی ہے کہ حافظ سعید اور مسعود اظہر سمیت تمام پرانے جہادیوں کو خاموش کرا کر ملک سے عسکریت کا ماحول ختم کیا جائے کیونکہ یہ ماحول ہی ہوتا ہے جس سے نیکسٹ جنریشن عسکریت وجود میں آتی ہے۔ ٹی ٹی پی کو اس کے منطقی انجام تک پہنچایا جائے اور آئندہ پاکستان کی مسلح افواج کے علاوہ کسی کو بھی عسکری تربیت نہ دی جائے۔ افغانستان میں امن معاہدے کو ہر حال میں یقینی بنایا جائے۔ افغانستان نے پاکستان سے اس کے وجود میں آتے ہی ایک بے سبب دشمنی شروع کر رکھی ہے. اس کا فائدہ اٹھا کر بھارت مغربی سرحد سے ہمارے لئے مسائل پیدا کرتا ہے. حالیہ امریکہ طالبان مذاکرات میں یہ نکتہ پہلے ہی زیر بحث ہے کہ افغان سرزمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردی کے لئے استعمال ہونے سے روکا جائے. اس نکتے کو خصوصی اہمیت دے کر بین الاقوامی معاہدے کی مدد سے 70 سالہ خونریزی کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے.

Comments

رعایت اللہ فاروقی

رعایت اللہ فاروقی

رعایت اللہ فاروقی سوشل میڈیا کا جانا پہچانا نام ہیں۔ 1990ء سے شعبہ صحافت سے وابستگی ہے۔ نصف درجن روزناموں میں کالم لکھے۔ دنیا ٹی وی کے پروگرام "حسبِ حال" سے بطور ریسرچر بھی وابستہ رہے۔ سیاست اور دفاعی امور پر ان کے تجزیے دلچسپی سے پڑھے جاتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.