نیوزی لینڈ کی وزیراعظم کا چہرہ - ابو محمد مصعب

کہتے ہیں، چہرہ دل کا ترجمان ہوتا ہے۔ قافیہ شناس لوگ، آدمی کو اس کے چہرے ہی سے پہچان لیتے ہیں کہ چہرے کے پیچھے کیسی شخصیت چھپی ہے۔ نبوت کے ابتدائی ایام میں، جب مکہ مکرمہ کے سرداروں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب کی اور آپ صہ کو طرح طرح کے القاب سے نوازا، تو ایک اجنبی قیافہ شناس، جس نے حضور کو زندگی میں پہلی بار دیکھا تھا، اولین نظر ڈالتے ہی پکار اٹھا: “یہ چہرا جھوٹا نہیں ہو سکتا”۔

آپ نے نائن الیون کے بعد، بُش کا چہرہ دیکھا تھا اور پلوامہ واقعے کے بعد مودی کا چہرہ بھی دیکھا ہوگا۔ ان دونوں چہروں پر مجھے تو کوئی رنج و الم نظر نہیں آیا۔ الٹا، مکاری جھلک رہی تھی۔

ایک چہرہ یہ بھی ہے۔ یہ، نیوزی لینڈ کی وزیراعظم کا چہرہ ہے۔ اس چہرے پر آپ کو رنج و ملال صاف نظر آئے گا۔ چہرہ خود، حالِ دل بتا رہا ہے۔ انہوں نے محض ٹویٹ کرنا اور رسمی بیان جاری کر دینا کافی نہیں سمجھا، بلکہ خود چل کر زخمیوں اور شہید ہونے والوں کے لواحقین کے پاس آئیں۔ سر پر دوپٹہ رکھا اور جب، پیارے رشتے کھونے والوں کی آنکھوں سے آنسو نکل نکل کر زمین پر گر رہے تھے، وہیں اس خاتون کی آنکھیں بھی برس رہی تھیں۔

واللہ! کوئی قوم ساری کی ساری بری نہیں ہوتی۔ سلیم الفطرت روحیں ہر جگہ پائی جاتی ہیں۔ ہر جگہ اور ہر ملک میں، کچھ شیطان صفت قوتیں ہوتی ہیں جو انسانوں کے دل، نفرت سے بھر دیتی ہیں۔ میرا یقین ہے کہ اگر یورپ میں بسنے والے مسلمان، اپنے پیاری پیغمبر، رحمت للعٰلمین صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کرتے ہوئے مقامی آبادیوں کے دل جیتنا شروع کر دیں تو کایا پلٹ جائے گی۔

عملی طور پر کچھ کام ابھی سے شروع کر دیجیے۔

اوّل ۔۔ مقامی آبادیوں کے ساتھ میل جول بڑھائیں، بجائے اس کے کہ بس اپنی کمیونٹی والوں، اپنی زبان بولنے والوں اور اپنے ملک کے لوگوں کے ساتھ ہی اٹھتے بیٹھتے ہوں۔ ہر گزرتے شخص کو مسکراتے چہرے کے ساتھ، مقامی زبان میں “تسلیمات” پیش کریں۔ ہیلو، ہائے کے الفاظ سب سمجھتے ہیں۔

اگر آپ، مقامی زبان سے نابلد ہیں تو فوراً اسے سیکھنے کی کوشش کریں۔ مقامی آبادی کی زبان سے واقفیت، دین اور دنیا کی کامیابیوں کے حوالہ سے بہت سے دروازے کھولتی ہے۔ عربی میں مقولہ ہے کہ جس نے کسی قوم کی زبان سیکھ لی، وہ اس قوم کے شر سے محفوظ ہو گیا۔

اگر آپ کو دین کی بنیادی تعلیمات کا علم نہیں تو فوراً حاصل کریں کہ اس کے بغیر ایک طرف آپ کے اپنے بہکنے کا قوی امکان رہے گا دوسری طرف، آپ، اپنے انتہائی اعلیٰ تعلیم یافتہ مخاطبین کو مطمئن نہ کر سکیں گے۔

جس ملک میں آپ رہتے ہیں، وہاں کی سیاست، وہاں کے مسائل، وہاں کے امکانات اور خطرات کا بھی آپ کو علم ہونا چاہیے اور وہاں کے مین اشیوز کا آپ کے پاس کم از کم نظری حل تو ہونا چاہیے۔

آپ جہاں رہتے ہیں وہاں کا قانون اگر اجازت دیتا ہے تو وہاں کی سیاست میں آپ کو عملاً حصہ لینا چاہیے۔ برطانیہ، امریکہ اور یورپ کے کئی ملکوں میں اب مسلمان پارلیمنٹ یا بلدیات میں نمایاں مقام پر ہیں۔

آپ جس ملک میں رہتے ہیں اس کے لیے کسی قسم کا خطرہ (Threat) نہ بنیں۔ نہ اس کی سلامتی کے لیے، نہ اس کے کلچر کے لیے، نہ اس کے سیاسی و معاشی نظام کے لیے۔ البتہ، اللہ کی حرام کی ہوئی چیزوں (سود، زنا، شراب، سور کے گوشت وغیرہ) سے بچیں۔ آپ تن تنہا اور یک لخت پورے نظام کو تبدیل نہیں کر سکتے۔ تبدیلی کے لیے تدریج کو ملحوظ رکھیں۔

یقین جانیں، یہی وہ تھریٹ ہے جو وہاں کی مقامی آبادیوں کو مسلمانوں سے ہے۔ آپ خاموشی اور دھیرج سے، دلوں میں یوں سرایت کر جائیے، جیسے پانی پوری گھاس میں پھر جاتا ہے۔ شکار چاہے مچھلی کا ہو یا شیر کا، حکمت، صبر اور تدبیر چاہتا ہے۔ اور آپ تو دِلوں کا شکار کرنے نکلے ہیں۔ دعوت اور اس کے نتیجہ میں واقع ہونے والے بڑی اور مکمل تبدیلی، ایک تفصیل طلب موضوع ہے۔ اس پر ان شاءاللہ پھر کبھی بات ہوگی۔