کرائسٹ چرچ کی مساجد میں ہونے والے حملوں پر انڈین جشن کیوں منا رہے ہیں؟

کرائسٹ چرچ کی دو مساجد میں قتل عام کے واقعے کی جہاں ساری دنیا میں مذمت کی جا رہی ہے، وہیں انڈیا کے بعض سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر جشن منایا جا رہا ہے۔

اس بات کا اعتراف 'انتہا پسندی' اور 'دہشت گردی' کے لیے مسلمانوں کو ہمیشہ مورد الزام ٹھیرانے والے پاکستانی نژاد کینیڈا کی معروف شخصیت طارق فتح نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر بھی کیا ہے۔ انھوں نے لکھا: 'جس ظالمانہ انداز میں بعض ہندوستانی نیوزی لینڈ میں ہونے والے قتل عام کا جشن منا رہے ہیں وہ قابل نفرت ہے۔ 'میں ان تمام لوگوں کو بلاک کر دوں گا جو 49 معصوم نمازیوں کے قتل عام کو دل خوش امر سمجھتے ہوئے اپنے کمنٹس کے ساتھ مجھےبھی ٹیگ کرنے کی جسارت دکھا رہے ہیں۔'

ان کی اس پوسٹ کو ڈیڑھ ہزار بار ری ٹویٹ کیا گیا ہے سات ہزار سے زیادہ لوگوں نے لائک کیا ہے جبکہ ایک ہزار سے زیادہ لوگوں نے اس پر تبصرہ کیا ہے۔

مصنف روپا سبرامنیا نے اس کے جواب میں لکھا: 'دوسروں کے رویے کو آپ کنٹرول نہیں کر سکتے لیکن یہ وہی لوگ ہیں جو آپ کی تعریف کرتے ہیں۔ ہر بار جب آپ 1946 انتخابات کے گمراہ کن اعدادوشمار کی بنیاد ہندوستان کے مسلمانوں کی وطن پرستی پر سوال کرتے ہیں یا انھیں ان کے آبا کے گناہوں کے لیے ذمہ دار ٹھہراتے ہیں تو ان کے چہرے خوشی سے روشن ہو جاتے ہیں۔'

رورو یا روزی نام کی ایک دوسری صارف نے 'نیوزی لینڈ ٹریرسٹ اٹیک' نامی ہیش ٹیگ کے ساتھ لکھا: 'جو کچھ ہوا اس پر اسلام فوبیا زدہ جاہل لوگ بہت زیادہ خوش ہیں۔ ذرا تو انسانیت کا مظاہرہ کریں۔ آپ کو شرم آنی چاہیے۔ وہ معصوم تھے۔ انتہا پسندوں کو عام مسلمانوں کا مترادف قرار دینا بند کریں۔ دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں۔' ایک زمانہ وہ تھا جب لوگ اس طرح کا شعر لکھا، پڑھا اور سنایا کرتے تھے۔


جبکہ اسی وقت کے پنجابی کے شاعر میاں محمد بخش نے کہا تھا: 'دشمن مرے تے خوشی نہ کیجیے، کہ سجناں وی مرجانا'

کرائسٹ چرچ مساجد میں ہونے والے حملے اور اس پر بعض جگہ خوشی منانے کے معاملے پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انڈیا کے دارالحکومت دہلی میں واقع جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں استاد اور ماہر عمرانیات ڈاکٹر تنویر فضل نے کہا کہ سوشل میڈیا کا مسئلہ ذرا پیچیدہ ہے۔ 'اول تو سارے اکاؤنٹس ویریفائڈ نہیں ہیں اور بہت سی باتیں فیک اکاؤنٹس سے پھیلائی جاتی ہیں لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ بعض حلقے میں اس پر خوشی پائی جاتی ہے اور وہ اس کے اظہار سے گریز بھی نہیں کرتے۔'

تنویر فضل نے مزید کہا کہ 'انتہا پسندی یا دہشت گردی کے حوالے سے اب تک جو بیانیہ تھا وہ مغربی بیانیہ تھا اور ہم سب کہیں نہ کہیں اسے من و عن اٹھا چکے ہیں۔ لیکن حالیہ دنوں میں انڈیا میں جو ایک ڈسکورس چل نکلا ہے وہ یہ ہے کہ دہشت گردی کے واقعے سے مسلمانوں کو جوڑا جائے اور اس کا مرکز پاکستان کو بنایا جائے۔' انھوں نے مزید کہا: 'میں اس ضمن میں کسی کا نام لینا مناسب نہیں سمجھتا لیکن ہمارے بعض صحافی اور دانشور ایسے ہیں جو اس خیال کو ظاہر کرنے میں ذرا بھی گریز نہیں کرتے کہ دہشت گردی اور اسلام میں فرق نہیں کیا جانا چاہیے۔'

تنویر فضل نے اس جانب بھی اشارہ کیا کہ جب یورپی ممالک یا کسی اور جگہ حملہ ہوتا ہے اور اس میں مسلمان شامل ہوتے ہیں تو اسے دہشت گردانہ حملہ کہا جاتا ہے لیکن جب کوئی دوسرے مذہب کا ہوتا ہے تو اسے مخبوط الحواس یا جنونی شخص کہا جاتا ہے۔ 'یہ لون وولف (تنہا بھیڑیا بھی ہوسکتا ہے یا پھر اس کے پس پشت کوئی منظم گرہ بھی ہو سکتا ہے۔' انھوں نے کہا کہ اسی بیانیے کا نتیجہ ہے کہ 'ہمارے سامنے اس قسم کی چیز آئے دن آتی رہتی ہے لیکن اس معاملے میں یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ دہشت گردی کا کسی مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی اس کو اس طرح دیکھا یا بیان کیا جانا چاہیے۔'

یہ بھی پڑھیں:   کشمیر کا بحران عالمی ضمیر کا امتحان - چوہدری محمد الطاف شاہد

کولکتہ کے محمد حسیب نے اپنے فیس بک صفحے پر گھنشیام لودھی نامی صارف کی پوسٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا:


'خوشی کے آنکھ میں آنسو کی بھی جگہ رکھنا

برے زمانے کبھی پوچھ کر نہیں آتے'


گھنشیام لودھی نے لکھا: 'نیوزی لینڈ کی مسجد پر حملہ، سوچا خبر کر دوں کہ خوشی اکیلے نہیں سنبھلتی۔'

ترک وزیراعظم رجب طیب اردغان نے بھی ٹوئٹ میں لکھا کہ یہ حملہ نسل پرستی اور اسلام مخالف جذبات کی تازہ مثال ہے۔انھوں نے لکھا کہ وہ النور مسجد میں ہونے والے حملے کی سختی سے مذمت کرتے ہیں۔

دہلی کی جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی میں تاریخ کے پروفیسر رضوان قیصر نے کہا کہ 'انگریزی میں اس کے لیے ایک لفظ وکیریئس پلیزر ( vicarious pleasure) ہے۔ یعنی ہندوستان میں ایسے لوگ ہیں جو اس بات سے خوش ہیں کہ دنیا میں ان کے ہم نوا افراد ہیں اور ان پر کوئی آنچ آئے بغیر وہ ان کا کام کر رہے ہیں۔ یہاں پر پچھلے دنوں جس طرح سے ’بیف لنچنگ‘ اور دوسرے طرح کا مسلم مخالف تشدد کا ماحول بنا یہ اس کا مظہر ہے۔'

رضوان قیصر نے مزید کہا کہ 'ہندوستان میں اسلام فوبیا کا ماحول نہیں بننا چاہیے کیونکہ یہاں مسلمان ہزاروں سال سے آباد ہیں۔ یہاں جو تشدد کا ماحول بنا ہے تو ان کو لگتا ہے کہ ان کا کام کسی اور نے کردیا اس لیے وہ اس کا جشن منا رہے ہیں۔' انھوں نے مزید کہا کہ 'ساری دنیا میں ایک نفرت کا ماحول نظر آتا ہے۔ آئے دن ہم سنتے ہیں کہ امریکہ میں کسی یونیورسٹی میں کسی سکول میں کسی نے معصوموں کو گولی کا نشانہ بنایا۔ نیوزی لینڈ واقعے کے حملہ آور آسٹریلیا سے تعلق رکھتے ہیں اور وہاں حالیہ برسوں میں مذہبی اور نسلی رجحان پروان چڑھتا نظر آیا ہے جس میں یہ دیکھا گيا ہے کہ انھوں نے ہندوستانی نژاد کے لوگوں پر حملہ کیا ہے۔‘