میرے لیے تو آج یومِ سوگ ہے - عمران زاہد

تحریکِ انصاف کی دو شخصیات کی بہت عزت کرتا تھا۔ ایک اسد عمر اور دوسری ڈاکٹر یاسمین راشد۔

اسد عمر کے متعلق میرا خیال تھا کہ وہ ایک پڑھے لکھے شخص ہیں، کارپوریٹ ورلڈ کا تجربہ ہے۔ اپنی یا اپنی پارٹی کی غلطیوں کو تسلیم کرنے میں باک محسوس نہیں کرتے۔ ایک اپ رائٹ قسم کے شخص ہیں۔ ان کے بطور وزیرِ خزانہ انتخاب کو ایک غلط انتخاب سمجھتا ہوں لیکن اسے عمران خان کی نالائقی سمجھتا ہوں کہ صحیح کام کے لیے صحیح بندہ نہ چن سکا۔

ان کی شخصیت کے متعلق تمام تر مثبت تاثر یونہی قائم رہتا لیکن اتفاق سے ان کی قومی اسمبلی میں وہ تقریر سن بیٹھا جس میں انہوں نے بلاول بھٹو کی مذمت کی ہے۔ اسد عمر صاحب وہ تقریر کر کے شیخ رشید، فواد چوہدری اور عابد شیر علی جیسے بھانڈ سیاستدانوں کی فہرست میں شامل ہو چکے ہیں۔ میں ان سے ایسی تقریر کی توقع نہیں کرتا تھا۔ ایسی تقریروں کے لیے ان کی پارٹِی میں ڈھیروں لوگ موجود ہیں۔ انہیں اپنا وقار قائم رکھنا چاہیے تھا۔ اپنے مقام سے گرنا نہیں چاہیے تھا۔ ان کی اس تقریر سے میرے اس خیال کو مزید تقویت ملی ہے کہ تحریک انصاف کا کلچر "نیو جیالا ازم" پر مشتمل ہے، جس میں اوئے توئے، تو تڑاخ کو خوبی سمجھا جاتا ہے۔ بھٹو مرا ہے تو عمران خان نے اس کی جگہ جنم لیا ہے۔ خیر یہ ایک جملہ معترضہ تھا۔ افسوس ہوا کہ جس اسد عمر نے اپنی پارٹی کو نئے انداز سکھانے تھے، وہ خود پارٹی کے عمومی مزاج کی رو میں بہہ گیا۔

مہذب انداز میں سیاسی مخالفت بہت سے لوگ کرتے ہیں۔ قومی اسمبلی میں بھی ایسے لوگ موجود ہیں۔ اسد عمر کو ان سے مخالفت کا سلیقہ سیکھنا چاہیے۔ ورنہ جہاں اتنے لوگ اس طرح کے غیر حقیقی اور شدت پسندانہ رویوں کا شکار ہو کر ضائع ہو گئے، ایک وہ بھی سہی۔

یہ بھی پڑھیں:   حکومتِ وقت اور ملکی سیاست - شیخ خالد زاہد

ڈاکٹر یاسمین راشد کو میں تب سے جانتا ہوں جب یہ ڈاکٹر سعید الٰہی کے ساتھ ڈاکٹروں پیشہ وارانہ تنظیم میں متحرک تھیں۔ ان کے بارے میں میرا خیال تھا کہ ایک پروفیشنل ڈاکٹر ہیں۔ یہ ملک و قوم کے لیے کچھ کریں گی۔ وزیرِ اعلٰی پنجاب کے چناؤ کے وقت بھی ان کا نام بھی ممکنہ وزرائے اعلٰی کی فہرست میں شامل تھا۔ اس وقت میری ہمدردیاں ان کے ساتھ تھیں۔

میری ان سے توقعات اور ہمدردیاں ایسے ہی رہتیں اگر میں ان کا شاہزیب خانزادہ سے انٹرویو نہ سن لیتا۔ موصوفہ پی کے ایل آئی کو ایک سرکاری ہسپتال بنانا چاہتی ہیں۔ یہ بات بارہا کے تجربوں سے ثابت ہو چکی ہے کہ بیوروکریسی کے کنٹرول میں چلنے والا ہسپتال کبھی بھی سنٹر آف ایکسلنس نہیں بن سکتا۔ نہ جانے وہ کیوں ایک غلط قدم اٹھانے جا رہی ہیں۔

سابق چیف جسٹس ثاقب نثار تو ایکسپوز ہو گیا کہ وہ اپنے بھائی کے کاروباری مفادات کو بچانے کے لیے پی کے ایل کو تباہ کرنے کے درپے تھا۔ یاسمین راشد اور ان کی حکومت کس مقصد کے تحت ایک اچھے ادارے کو تباہ کرنے کے درپے ہے؟ سید طلعت حسین نے اس طرف اشارہ کیا ہے جو ممکن ہے درست ہو کہ اسے سرکاری ہسپتال بنانے کے پیچھے پی ٹی آئی کا واحد موٹیو یہ لگتا ہے کہ لاہور میں پی کے ایل آئی ایک سینٹر آف ایکسیلنس بن گیا تو شوکت خانم ہسپتال کا نام اس کے سامنے کہیں گہنا نہ جائے گا۔ ورنہ جو دلائل وہ دے رہی تھیں، ان کے تحت انہیں شوکت خانم ہسپتال اور نمل کالج کو بھی سرکاری تحویل میں لے لینا چاہیے کیونکہ ان کی زمین اور سیڈ منی حکومتِ پنجاب نے دی تھی۔ ایک طرف وہ پی کے ایل آئی کو سرکاری ہسپتال بنانے جا رہی ہیں، دوسری جانب میں ان کی اپنی حکومت سرکاری اداروں کو پرائیویٹائز کرنے کا عندیہ دے چکی ہے۔ خیبرپختونخواہ میں سرکاری ہسپتالوں کو سرکاری کنٹرول سے نکال کر پرائیویٹ بورڈز کے ہاتھوں میں سونپا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   نونکاتی معاہدہ پر عمل درآمد کب ہوگا؟ قادر خان یوسف زئی

پی کے ایل آئی بنتا یا بگڑتا ہے، معیشت مزید نیچے جاتی ہے یا عروج پاتی ہے۔ یہ تو وقت ہی بتائے گا۔ لیکن میرا دکھ مختلف ہے۔ میں جن دو لوگوں کو بھلا انسان سمجھتا تھا، وہ میرے دل سے اتر گئے ہیں۔ کاش کل ان کی گفتگو نہ سنتا اور ان کا مثبت تاثر یونہی قائم رہتا۔ میرے لیے تو آج یومِ سوگ ہے۔